شریعت

جواب :مروجہ تبلیغی جماعت میں جانا نہ تو فرض ہے نہ واجب نہ سنت، بلکہ یہ عمل مْباح ہے اگر کوئی جائے اور دینی محنت کرے وہ اجر وثواب کا مستحق ہوگا، اور اگر کوئی نہیں گیا تو اللہ کے یہاں اس کی کوئی پکڑ نہ ہوگی، جو شخص یہ کہتا ہے کہ مروجہ تبلیغی جماعت میں چلنا جنت میں داخل ہونے کی ضمانت ہے یہ صحیح نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص پوری زندگی جماعت میں نہیں نکلا تووہ گنہ گار نہ ہوگا۔
 

(دارلافتاہ دوبند)

جواب :آپ کا سوال مکمل واضح نہیں ہے، بظاہر جو مفہوم سمجھ میںآ تا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے چند باتیں لکھی جاتی ہیں:
(۱) اللہ تعالیٰ کا ہرچز پر قادر ہونا ایک مستقل عقیدہ ہے؛ لیکن کسی چیز پر قدرت ہونے کے لیے اس کا صادر ہونا لازم نہیں ہے، قدرت اللہ کی صفت کمال ہے،اس کے بغیر عجز لازم آتا ہے، جو الوہیت کے منافی ہے اور کسی ایسی چیز کا اللہ تعالیٰ کی ذات سے صادر ہونا جو اس کی شایانِ شان نہ ہو، یہ عیب اور نقص ہے، اس لیے اجمالاً بس اتنا عقیدہ رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے؛ لیکن قدرت کے لیے فعل کا صادر ہونا ضروری نہیں ہوتا، لہٰذا قدرت کی نفی جیسے کفر ہے، اسی طرح عیب اور اس کی شان کے خلاف کسی فعل کے صدور کا عقیدہ رکھنا بھی کفر ہے، لہٰذا جو شخص صدورِ کذب کا قائل ہوگا وہ کافر ہوگا۔
(۲) اللہ تعالیٰ جگہ اورمکان سے منزہ وبالاتر ہے وہ کسی مکان میں محدود نہیں ہے، اس کو کسی مکان کے ساتھ مختص کرنا کفر ہے۔ اور نصوص میں جو عرش کی بات آئی ہے، اس سے مراد عرش پر اس کا خاص تسلط اور استیلاء ہے جس کی کیفیت وہی خوب جانتا ہے وہ اپنے علم کے اعتبار سے ہرچیز کو محیط ہے۔
(۳) نصوص میں اللہ تعالیٰ کے لیے جو اعضا وغیرہ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں یا تو ان کو مخلوق جیسے اعضاء سے تشبیہ کی نفی کرتے ہوئے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے گا اور اس کی حقیقت کا علم اللہ کے حوالے کیا جائے گا اور یا ان کی تاویل کی جائے گی، مثلاً ید سے مراد اللہ کی قدرت ہوگی۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب:(1) انبیا علیہم الصلاۃ والسلام کی عصمت پر اجماع امت ہے۔ تمام انبیا 4 کفر و شرک، کبائر و صغائر سے پاک ہیں۔
(2) جی ہاں صحابہ کرام معیار حق ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اقوال و افعال حق و باطل کی کسوٹی ہیں، ان حضرات نے جو فرمایا یا جو دینی کام کیا وہ ہمارے لیے مشعل راہ، حجت اور ذریعہ فلاح ہیں۔ 
(3) انبیا علیہم السلام کی عصمت اور صحابہ کرام کا معیارِ حق ہونا اہل سنت والجماعت کے اجماعی مسائل میں سے ہے، ان میں سے کسی ایک چیز کا منکر اہل سنت والجماعت سے خارج ہے۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب: استواعلی العرش اور دیگر صفات متشابہات کے بارے میں ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم ان پر ایمان لاتے ہیں اور کیفیت سے بحث نہیں کرتے، یقیناً جانتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی مخلوق کے اوصاف سے منزہ اور نقص وحدوث کی علامات سے مبرا ہے جیسا کہ ہمارے متقدمین کی رائے ہے اور ہمارے متاخرین اماموں نے ان آیات میں جو صحیح اور لغت اور شرع کے اعتبار سے جائز تاویلیں فرمائی ہیں تاکہ کم فہم سمجھ لیں مثلاً یہ کہ ممکن ہے استواء سے مراد غلبہ ہو اور ہاتھ سے مراد قدرت، تو یہ بھی ہمارے نزدیک حق ہے ؛ البتہ جہت ومکان کا اللہ تعالی کے لیے ثابت کرنا ہم جائز نہیں سمجھتے اور یوں کہتے ہیں کہ وہ جہت ومکانیت اور جملہ علامات حدوث سے منزہ وعالی ہے‘‘۔
***

(دارلافتاہ دوبند)

جواب:اللہ تعالیٰ نے نبوت کا ادارہ ایک خاص مقصد کے لیے بنایا ہے۔ وہ مقصد یہ ہے کہ خدا کا پیغام خدا کے بندوں تک بے کم و کاست پہنچ جائے۔ یہ پیغام عام طور پر وہ ہوتا ہے جو لوگوں کی مرضی اور خواہش کے مطابق نہیں ہوتا اور وہ اسے سننا ہی نہیں چاہتے۔ اب اللہ تعالیٰ کو اس کار عظیم کے لیے انسانوں میں سے ہی افراد کا انتخاب کرنا تھا۔ دوسری طرف عام انسانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے جو دنیا بنائی ہے اس میں ان طبقات کو (جن کا ذکر سوال میں کیا گیا ہے) ہمیشہ کمزور سمجھا گیا ہے۔ چنانچہ اس پس منظر میں یہ ضروری تھا کہ نبی اس شخص کو بنایا جائے جس کے مقام اور حیثیت کی بنا پر لوگ اس کی بات سننے پر آمادہ تو ہو جائیں۔ اگر یہ منصب کسی کمزور طبقے کے فرد کو دیا جاتا تو کوئی اس کی بات ہی نہ سنتا۔ جس کے نتیجے میں وہ اس مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہی نہ ہو پاتا جس کے لیے نبوت کا ادارہ بنایا گیا ہے۔
اس کو مثال سے یوں سمجھیں کہ فوجیوں کو جنگوں میں حصہ لینا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے جسمانی طور پر بہترین فٹنس کے لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اب ایک شخص یہ اعتراض کرے کہ فوج میں معذوروں کو نہ لینا عدل کے خلاف یا معذوری کے خلاف امتیازی سلوک ہے تو یہ اعتراض درست نہیں ہوگا۔ فوج کا میرٹ اور عدل ہی یہ ہے کہ وہاں جسمانی طور پر فٹ لوگ لیے جائیں۔
مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی سماج میں رائج انھی امتیازات کے خاتمے کے لیے انبیاء کو بھیجا ہے۔ ان کی تعلیم ہی یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔ کل قیامت کی اصل زندگی میں یہ لوگ ہی ہیں جو سب سے زیادہ مقام پائیں گے۔ ہاں آج کی امتحان کی دنیا میں کوئی چھوٹا ہے اور کوئی بڑا، کوئی طاقتور ہے کوئی کمزور، کوئی مرد ہے اور کوئی عورت۔ لیکن یہ سب امتحان کے لیے ہے نہ کہ خدا کا ابدی فیصلہ۔ اس کا ابدی فیصلہ کل قیامت کے دن ظاہر ہو گا اور وہاں وہ عزت پائے گا جو تقوی والا ہوگا۔امید ہے بات واضح ہوگئی ہوگی۔
عورتوں کو ماہواری کی تکلیف کیوں
آپ کے طویل ای میل میں مرکزی سوال ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو ہر ماہ ما ہواری کے ایام اور زچگی کی تکلیف میں کیوں ڈالا۔ پھر یہ کہ اس تکلیف میں جسمانی طور پر ڈالنے کے ساتھ نماز روزہ نہ کرنے کا حکم دے کر اسے ایک روحانی اذیت میں بھی ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا کیوں کیا۔ جبکہ وہ اس کے بغیر بھی پورا نظام بنا سکتے تھے۔
اس بات کے جواب میں پہلی اور اصولی بات یہ سمجھ لیجیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عورتوں کو دی گئی کوئی سزا نہیں ہے۔جس طرح کہ آپ کے سوال سے ظاہر ہورہا ہے۔ نہ ہی یہ بات ہے کہ اللہ نے صرف عورتوں پر مشقت ڈالی ہے اور مرد کوئی ان کے لاڈلے ہیں ان کو ہر طرح کی مشقت سے بری رکھا ہے۔دیکھیے یہ نسوانی تکالیف اس مجموعی خدائی ا سکیم کا حصہ ہیں جس کے تحت امتحان کی اس دنیا میں کوئی نہ کوئی تکلیف ہر کسی کو لاحق ہوتی ہے۔ عورتوں کو اگر ایام و زچگی کی تکلیف لگی ہے تو مردوں کو ہر دور میں اپنے خاندان کی کفالت اور ان کی حفاظت کے لیے زبردست جسمانی اور ذہنی مشقت جھیلنے کی مشقت لگادی گئی ہے انھی مشقتوں کی وجہ سے مجموعی طور پر ان کی اوسط عمر عورتوں سے ہمیشہ کم رہی ہے۔ ساتھ ساتھ وہ جان جانے ، زخمی ہوجانے ، حادثات کا شکار ہوجانے جیسے اندیشوں سے نہ صرف دوچار رہتے ہیں بلکہ تازیست عورتوں کے مقابلے میں زیادہ خطرہ، زیادہ درد اور زیادہ اسٹریس برداشت کرنے پر بھی مجبور ہوتے ہیں۔ جو مرد اس مشقت کو مشقت سمجھتے ہیں ، ان کی زندگی عذاب بنی رہتی ہے مگر جو مرد اسے خدائی اسکیم کا حصہ سمجھ کر قبول کرتے ہیں انھیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔اس لیے اصل مسئلہ انداز فکر کا ہے ، خدائی نظا م میں کسی خامی یا کمزوری کا نہیں۔ اگر حیض و زچگی کے مراحل ایسے ہی ناقابل برداشت اور تکلیف دہ ہوتے تو اس دنیا میں کوئی خاتون زندہ نہ ہوتی اور سب اس تکلیف کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہو چکی ہوتیں۔تاہم اس کے باوجود ہم یہ مانتے ہیں کہ یہ ایک تکلیف دہ صورتحال ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے ؟ کیا ساری تکالیف ختم کر دی جائیں ؟ایسا ہوا تو پھرآپ کا امتحان بھی نہیں رہے گا۔ اور امتحان نہیں تو پھر جنت ملنے کا امکان بھی نہیں رہے گا۔
آپ کے سوال سے دوسری بات یہ عیاں ہے کہ آپ انسانی سماج میں عورتوں کے ساتھ ہونے والے غیرمساویانہ سلوک پر ناخوش ہیں۔ آپ کی یہ بات ٹھیک ہے کہ یہاں بارہا خواتین کے ساتھ زیادتی ہوجاتی ہے۔ مگر اس میں اصل قصور انسانوں کا ہے۔ انسان ہر کمزور کے ساتھ یہی کرتے ہیں۔خود خواتین بھی جب طاقت کے مقام پر آتی ہیں تو دوسرے کمزوروں کے ساتھ اکثر یہی سلوک کرتی ہیں۔ یہی اس دنیا کا امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ دنیا بنا کر ایسے ہی لوگوں کو ڈھونڈرہے ہیں جو اختیار کے باوجود زیادتی نہ کریں اور جن پر زیادتی ہو وہ منفی سوچ کا شکار ہونے کے بجائے صبر سے کام لیں۔ چنانچہ دنیا کی اس خرابی میں بھی یہی حکمت ہے کہ اس خرابی کے بغیر وہ اعلیٰ انسان نہیں مل سکتے جو جنت میں بسائے
جائیں جہاں کوئی حیض ہو گا نہ دیگر تکالیف۔ آپ کے سوال کا یہ پہلو بھی جواب طلب ہے کہ خواتین کو اس میں نماز روزہ سے کیوں منع کیا گیا ہے۔دیکھیے یہ ہدایت ایک ڈسپلن کا حصہ ہے۔ لیکن اس ڈسپلن کی پابندی کرتے ہوئے بھی خواتین خود کو روحانی طور پر اللہ سے قریب کرسکتی ہیں۔ سب سے بڑ ی اور بنیادی عبادت اللہ کی یادہے۔ اس پران دنوں میں کس نے پابندی لگارکھی ہے۔ اللہ کو یاد کرتی رہیں آپ کی روحانیت بالکل اسی سطح پر رہے گی۔خلاصہ یہ ہے کہ ہم جس امتحان میں ہیں اس میں ہر طرح کے حالات میں ہم کو اپنے انداز فکر کو درست رکھنا ہے۔ ایسا کریں گے تو ہمیں کوئی چیز خراب نہیں لگے گی۔ انداز فکر منفی کر لیں گے تو کوئی چیز بھی ہمیں ٹھیک نہیں لگے گی۔
آخر میں ایک واقعہ سن لیجیے جس میں اس طرح کے سارے سوالات کا جواب اللہ کے ایک جلیل القدر نبی حضرت عیسیٰ نے دے دیا تھا۔ ان سے ایک دفعہ شیطان نے اسی نوعیت کا ایک سوال کیا تھا۔ یعنی خدا تو جو چاہے کرسکتا ہے آپ خدا سے بات کر کے اس سے اپنی مرضی کا معاملہ کیوں نہیں کراتے۔ آنجناب نے جو جواب دیا اسے یاد کر لیجیے۔ یہ ہر مسئلے کی کنجی ہے۔ انھوں نے فرمایا تھا کہ خدا نے یہ دنیا ہمارے امتحان کے لیے بنائی ہے۔ اس لیے نہیں بنائی کہ ہم خدا کی حکمت اور قدرت کو چیلنج کر کے خداکا امتحان لینا شروع کر دیں۔

(ابو یحییٰ)

عزت و شرف کا معیار اور بزرگوں کے ہاتھ چومنا
سوال:سر مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کیا کوئی صرف بزرگ ہستیوں کے گھر میں پیدا ہو جانے سے لوگوں کے لیے عزت و شرف کا باعث بن جاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی بچہ سید گھرانے میں پیدا ہو جائے تو وہ بچہ دوسرے مسلمانوں سے کسی برتر درجے پر فائز ہو گا؟ اسی طرح اگر کوئی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خاندان سے نسبت رکھتا ہو تو کیا صرف نسبت کی بنا پر اسے دوسرے مسلمانوں پر کوئی درجہ و فضیلت حاصل ہو گی؟اگر ہاں، تو یہ برہمنیت سے کیسے مختلف ہو گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیث بیان کی جاتی ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ’’ اے فاطمہ! خود کو جہنم کی آگ سے بچانا، اگر اللہ پاک نے پکڑ لیا تو میں کچھ کام نہ آ سکوں گا‘‘تو اس کا کیا مطلب ہو گا ؟ اور اسی طرح:’’ اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اس کے بھی ہاتھ کاٹے جاتے۔‘‘کا کیا مطلب ہو گا؟اور اگر نہیں تو پھر قرآن پاک میں سورۃ الاحزاب آیت 32 میں نبی کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کے بارے میں جو کہا گیا ہے کہ
’’ لستن کاحد من النسا‘‘
یعنی تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اس کا کیا مطلب ہے۔ براہِ کرم ذرا وضاحت فرما دیجیے۔اور ازراہِ کرم اس بات کی بھی وضاحت فرما دیں کہ کسی حقیقی فضیلت کی بنا پر جیسے والدین یا عام لوگوں میں مشہور متقی لوگ مثلاً عرف عام میں پیر صاحبان وغیرہ کے ہاتھوں یا پاؤں کو عقیدت سے چومنا کیسا ہے۔

جواب:ہمارے دین میں کسی شخص کو اللہ کے نزدیک کیا مقام حاصل ہے اس کا فیصلہ قرآن کریم اپنے نزول کے وقت ہی کر چکا ارشاد باری تعالیٰ ہے۔’’اللہ کے نزدیک تم میں سب سے عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو‘‘ (الحجرات 13:49)
اس بات کو مزید سمجھنا ہو تو قرآن مجید میں بیان ہونے والی بنی اسرائیل کی داستان پڑھیے۔ وہ حضرت ابراہیم اور ان کے بعد آنے والے متعدد جلیل القدر انبیا کی اولاد تھے۔ مگر کیا اس سے کوئی فرق پڑا۔ ہرگز نہیں اللہ نے ان سے ان کے اعمال کے مطابق معاملہ کیا اور جب ان کے اعمال بگڑے تو ان پر لعنت کر دی گئی۔خود حضور کو دیکھ لیجیے۔ ابو لہب کا رشتہ حضور سے سگے چچا کا تھا، مگر وہ بھی اس کے کام نہ آیا۔ اس کا انجام سورہ لہب میں پڑھ لیں۔قرآن کی طرح حدیث میں بھی کوئی ایسی بات ہرگز نہیں بیان ہوئی ہے جس سے یہ تاثر ملے کہ کسی خاندان سے نسبت انسان کو دوسروں پر شرف اور برتری دے دیتی ہے۔ کچھ احادیث آپ ہی نے نقل کر دی ہیں، ان کے علاوہ خطبہ حجۃ الوداع سے متعلق ایک روایت میں اس بات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ کسی عربی کو عجمی اور کسی عجمی کو عربی پر، اسی طرح کسی گورے کو کالے پر کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔
رہی سورہ احزاب کی آیت کی بات تو یہ فضیلت کا نہیں ذمہ داری کا معاملہ تھا۔ یعنی حضور کی ازواج کا معاملہ اور ان کی ذات کی حساسیت عام خواتین کی طرح نہ تھی۔ بلکہ ان کے حوالے سے کوئی الزام لگایا جاتا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا تھا تو اس سے خود حضور کی ذات اور شخصیت کا متاثر ہونا لازمی امر تھا۔ اس لیے ان کو کچھ خصوصی احکام دیے گئے تاکہ منافقین کو کسی طرح کی فتنہ انگیزی کا ذریعہ نہ مل سکے۔ آپ کا نقل کردہ جملہ اسی پس منظر کا ہے۔ قرآن مجید کے سیاق و سباق سے بالکل واضح ہے کہ یہ کسی خاندانی فضیلت کا بیان نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منصب کی بنا پر عام لوگوں کی طرح نہیں ہیں، اسی طرح ان کی ازواج بحیثیت اہل خانہ عام لوگوں کی طرح نہیں بلکہ ان پر لگی ہوئی کسی بھی تہمت سے آپ کا متاثر ہونا لازمی ہے۔
باقی ہاتھ پاؤں چومنے کا جو معاملہ ہے تو سمجھ لیجیے کہ یہ اظہار عقیدت کا ایک ذریعہ ہے۔ انسان محبت میں اپنے فطری جذبات کے اظہار کے لیے ماں یا باپ کے ہاتھ چوم لیتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ مگر مذہبی لوگوں سے اس طرح کی عقیدت اکثرخرابی کا سبب بنتی ہے۔ اس سے بچنا بہتر ہے۔

(ابو یحییٰ)

جواب:اللہ تعالیٰ اصلاً ایک رحمان و رحیم ہستی ہیں۔ ان کا یہی تعارف قرآن مجید کراتا ہے۔ یہی تعارف سورہ فاتحہ میں ہے جو ہر نماز کا لازمی جز ہے۔ یہی ہر سورت کے آغاز پر اللہ کا تعارف لکھا ہے کہ وہ رحمن و رحیم ہے۔ باقی رہا وہ سوال جو آپ نے اٹھایا تو اللہ کا یہ منفی تصور کہ وہ صرف لوگوں کو جہنم میں بھیجے گا اس وجہ سے عام ہو گیا ہے کہ لوگ قرآن مجید کو درست پیرائے میں نہیں پڑھتے۔ جہنم کفر اور سرکشی کی سزا ہے۔ قرآن مجید میں جو لوگ زیر بحث ہیں وہ عرب کے مشرکین اور یہود و نصاریٰ میں سے وہ کفار اور سرکش لوگ ہیں جنھوں نے حق کو جھٹلا دیا تھا۔ جس کے بعد ان پر سزا لازم ہوگئی تھی۔ جہنم کا جو ذکر قرآن مجید میں ہے وہ انھی لوگوں کے حوالے سے ہے۔ باقی لوگوں کا فیصلہ اللہ قیامت کے دن کریں گے۔ اگر کوئی شخص آج بھی سرکش، متکبر اور بڑے جرائم کا مرتکب ہے تو وہ یہ سزا پائے گا لیکن عام لوگ بالعموم ایسے نہیں ہوتے۔ ان کے بارے میں قرآن مجید اس طرح کی سزا کا تصور نہیں دیتا۔ یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ بڑ ے کریم و حلیم ہیں۔ خاص کر جو لوگ اپنے گنا ہوں کے احساس میں جیتے ہوں ان کے لیے تو وہ بہت کریم غفور اور ودود ثابت ہوتے ہیں۔ 

(ابو یحییٰ)

بغیرغسل کے میت کی تدفین
سوال (۱): ہمارے یہاں ایک صاحب شوگر کے مریض تھے، جس کی وجہ سے ان کا ایک پیر پوری طرح سڑگیا تھا اوراس میں کیڑے پڑگئے تھے۔ ان کاانتقال ہوا تو ڈاکٹروں نے تاکید کی کہ نہلاتے وقت ان کا پیر نہ کھولا جائے اوراس پر پلاسٹک کی تھیلی باندھ کر غسل دیا جائے۔جب میت کوغسل دیا جانے لگا تولوگوں میں اختلاف ہوگیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ پورے بدن پر پانی پہنچانا فرض ہے۔ میت پر پانی ڈالنے سے کیا نقصان ہوگا۔ لیکن گھر والوں نے ڈاکٹروں کی بات مانتے ہوئے پیر میں جہاں زخم تھا اس پر پلاسٹک کی تھیلی باندھ دی اوربدن کے بقیہ حصے پر پانی بہایا گیا جس طرح غسل دیا جاتا ہے۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا میت کے کسی عضومیں زخم ہونے کی وجہ سے اگراس حصے پر پانی نہ بہایا جائے توغسل ہوجائیگا؟
سوال (۲): ایک صاحب کا بری طرح ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ ان کا سر بالکل کچل گیا اوربدن کے دوسرے حصوں پر بھی شدید چوٹیں آئیں۔ ان کا پوسٹ مارٹم ہوا۔ اس کے بعد نعش کو ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ میت کوغسل دینے میں زحمت محسوس ہورہی ہے۔ کیا بغیر غسل دیے تکفین وتدفین کی جاسکتی ہے؟ سنا ہے کہ شہداء کوبغیر غسل دیے دفنایا جاسکتا تھا۔ کیا ایکسیڈنٹ میں مرنے والے کوشہید مان کراسے بغیر غسل دیے نہیں دفن کیا جاسکتا؟

جواب: اصطلاح شریعت میں’ شہید‘اس شخص کو کہا جاتا ہے جوراہِ خدا میں جنگ کرتے ہوئے مارا جائے۔ اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اسے غسل نہیں دیا جائے گا۔ غزو ہ احد کے موقع پر جو مسلمان شہید ہوگئے تھے، اللہ کے رسولﷺ نے ان کے بارے میں ہدایت دی تھی: اْدفْنْوہْم فِی دِ مَاءِہِم بخاری: ۳۶۴ا، (انہیں بغیر غسل دیے دفن کردو)
احادیث میں کچھ دوسرے افراد کے لیے بھی شہید کا لفظ آیاہے۔ مثلاً جوشخص پیٹ کے کسی مرض میں وفات پائے، جسے طاعون ہوجائے، یا جوڈوب کر مرے۔ (بخاری :۶۵۳) ایک حدیث میں ہے:’’ جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔‘‘ (بخاری :۲۴۸۰، مسلم :۱۴۱) ان افراد پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوگا۔ تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ انہیں غسل دیا جائیگا۔
ایکسیڈنٹ میں مرنے والے کسی شخص کا جسم بری طرح ٹوٹ پھوٹ جائے، نعش مسخ ہوجائے اور کچھ اعضاء ضائع ہوجائیں تواس صورت میں غسل کا کیا حکم ہے؟ احناف اورمالکیہ کہتے ہیں کہ اگر بدن کے اکثر اعضاموجود ہیں توغسل دیا جائے گا، ورنہ نہیں۔ شوافع اورحنابلہ کے نزدیک جسم کا کچھ بھی حصہ موجود ہوتو اسے غسل دیا جائے گا۔ اس کی دلیل وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ جنگ جمل کے موقع پر ایک پرندہ کسی میت کا ایک ہاتھ اڑا لایا تھا اوراسے مکہ میں گرادیا تھا۔تب اہل مکہ نے اسے غسل دیا تھا اوراس موقع پر انہوں نے نماز جنازہ بھی ادا کی تھی۔بسا اوقات میت کا کوئی عضو سڑجاتا ہے، اسے دھونے سے انفیکشن پھیل جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں اگرکسی ڈاکٹر کی تاکید ہے کہ اس عضو کونہ دھویا جائے تواس پر عمل کرنا چاہے اوراس عضو کو چھوڑ کر بدن کے بقیہ حصوں پر پانی بہادینا چاہیے۔ اس طرح غسل ہوجائے گا۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجئے: الموسوعۃ الفقہیۃ، کویت، ۳ا۴۲۴۲ (تغسیل المیت) ۷۷۲۲۴(شہید)

(ابو یحییٰ)

جواب: عہدِ جاہلیت میں نکاح کا ایک طریقہ یہ رائج تھا کہ آدمی دوسرے سے کہتا تھا : تم اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح مجھ سے کردو ، میں اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح تم سے کردوں گا اور دونوں کا مہر معاف ہوجائے گا۔ اسے ’نکاحِ شغار‘ کہاجاتا تھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقہ نکاح سے منع فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرفرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’شغار سے منع کیا ہے۔‘‘
دوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :’’اسلام میں ’شغار ‘ جائز نہیں ہے۔‘‘
بعض روایات میں ’ شغار‘ کا مطلب بھی بتایا گیا ہے:
’شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی سے دوسرے آدمی کا نکاح (اس شرط پر ) کردے کہ دوسرا اپنی بیٹی سے اس کا نکاح کردے اوران میں سے کسی کے ذمے اپنی بیوی کا مہر نہ ہو۔‘‘
علامہ شوکانی نے’ نکاح شغار‘ کی دو علّتیں قرار دی ہیں: ایک یہ کہ اس میں ہر لڑکی کوحقِ مہر سے محروم کردیا جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ اس میں ہر نکاح دوسرے نکاح سے مشروط اوراس پر موقوف ہوتا ہے۔ (نیل الاوطار)
اگراس طریقہ نکاح میں دونوں لڑکیوں کا مہر تو مقرر کیا گیا ہو، لیکن دونوں نکاح ایک دوسرے سے مشروط اورمعلّق ہوں توبھی وہ ناجائز ہوں گے۔روایات میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس کے بیٹے عباس نے عبدالرحمن بن الحکم کی لڑکی سے اورعبدالرحمن نے عباس بن عبداللہ کی لڑکی سے نکاح کیا اور دونوں لڑکیوں کا مہر بھی مقرر کیا گیا ، لیکن حضرت معاویہ کواس نکاح کی خبر پہنچی توانہوں نے مدینہ کے گورنر حضرت مروان کولکھا کہ اس نکاح کوفسخ کردیا جائے ، اس لیے کہ یہ وہی نکاحِ شغار ہے ، جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے نکاح شغار کی تین صورتیں بتائی ہیں اورتینوں کو ناجائز قرار دیا ہے : ایک یہ کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو اس شرط پر اپنی لڑکی دے کہ وہ اس کوبدلے میں اپنی لڑکی دے گا اوران میں سے ہر ایک لڑکی دوسری لڑکی کا مہر قرار پائے۔دوسرے یہ کہ شرط تووہی ادلے بدلے کی ہو، مگر دونوں کے برابر مہر(مثلاً پچاس پچاس ہزار روپیہ )مقرر کیے جائیں اورمحض فرضی طورپر فریقین میں ان مساوی رقموں کا تبادلہ کیا جائے،دونوں لڑکیوں کوعملاً ایک پیسہ بھی نہ ملے۔ تیسرے یہ کہ ادلے بدلے کا معاملہ فریقین میں صرف زبانی طور پر ہی طے نہ ہو ، بلکہ ایک لڑکی کے نکاح میں دوسری لڑکی کا نکاح شرط کے طور پر شامل ہو۔‘‘
بدلے کی شادیوں میں عموماً تلخی اورناخوش گواری کا اندیشہ رہتا ہے اوردونوں خاندانوں پر خانہ بربادی کی تلوار ہمیشہ لٹکتی رہتی ہے۔ مثلاً اگرایک خاندان میں شوہر نے جایا بے جابیوی کی پٹائی کردی یا دونوں کے درمیان تعلق میں خوش گواری باقی نہیں رہی یا اس نے طلاق دے دی تو دوسرے خاندان میں لڑکے پر اس کے والدین یا دوسرے رشتے دار دباؤ ڈالیں گے کہ وہ بھی لازماً وہی طرزِ عمل اپنی بیوی کے ساتھ اختیار کرے۔لیکن اگر دونوں رشتوں کی مستقل حیثیت ہو، دونوں لڑکیوں کا مہر طے کیا جائے اوران کوادا کیا جائے اورایک رشتہ کسی بھی حیثیت میں دوسرے رشتے کومتاثر کرنے والا نہ ہو تو ایسے رشتوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔

(ابو یحییٰ)

جواب: سلام اسلام کا شعار ہے۔ حدیث میں اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’’تم لوگ جنت میں نہیں جاؤگے جب تک ایمان نہ لے آؤ اورتمہارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں کہ اگر اسے کرنے لگو توتمہارے درمیان آپس میں محبت پیدا ہوجائے گی۔ اپنے درمیان سلام کوعام کرو۔‘‘
علمانے بعض ایسے مواقع کی نشان دہی کی ہے جب سلام کرنا مناسب نہیں۔ مثلاً موذن ، نمازی، حالتِ احرام میں تلبیہ کہنے والے، تلاوتِ قرآن یا ذکر ودعا میں مشغول شخص کو سلام نہیں کرنا چاہیے۔ خطبہ جمعہ کے دوران جوشخص مسجد پہنچے اس کوبھی سلام کرنے سے احتراز کرنا چاہیے، اس لیے کہ خطبے کوخاموشی سے سننے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص کھانا کھانے میں مصروف ہویا رفع حاجت کررہا ہوتواسے بھی سلام کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ان مواقع پر اگر کوئی شخص سلام کرلے توجس کوسلام کیا گیا ہے اس کا جواب دینا ضروری نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گز ر ا۔ اس وقت آپ پیشاب کررہے تھے۔ اس نے آپ کو سلام کیا ، مگر آپ نے جواب نہیں دیا۔ 
کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تواس کوسلام کرنا چاہیے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ کوئی شخص کسی مجلس میں جائے توسلام کرے۔‘‘
البتہ احتیاط کرنی چاہیے کہ اگر پروگرام شروع ہوگیا ہو تواتنی زور سے سلام نہ کرے کہ تمام حاضرین کے انہماک میں داخل پڑے اور خطیب کاذہن بٹ جائے، بلکہ اتنے دھیرے سے سلام کرے کہ پیچھے بیٹھے ہوئے چند لوگ سن لیں۔ سب کا جواب دینا بھی ضروری نہیں، بلکہ ان میں سے کوئی ایک بھی جواب دے دے تو سب کی طرف سے کفایت کرے گا۔
مجلس میں انگلیاں چٹخانے کی ممانعت میں کوئی حدیث مروی نہیں ہے ، لیکن اسے آدابِ مجلس کے خلاف سمجھا گیا ہے۔ خاص طور سے مسجد میں دورانِ نمازیا نماز سے باہر اسے مکروہ کہا گیا ہے ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس کے پہلومیں نماز ادا کی۔ دورانِ نماز میں نے انگلیاں چٹخائیں تو انہوں نے نماز کے بعد مجھے ڈانٹا۔
لفظ ’قلب‘ اوراس کے مترادفات

(ابو یحییٰ)

جواب:
ذات باری تعالیٰ حقیقی متصرف اور مسبب الاسباب ہے۔ ظاہری اسباب میں اثرانگیزی پیدا کرنے والی ذات بھی وہی ہے۔کسی چیز، دن، یا مہینے کو منحوس سمجھنا اور اس میں کام کرنے کو بْرے انجام کا سبب قرار دینا غلط، بدشگونی، توہم پرستی اور قابل مذمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی بھی چیز انسان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ نفع ونقصان کے اختیار کا سو فی صد یقین اللہ کی ذات سے ہونا چاہیے کہ جب وہ خیر پہنچانا چاہے تو کوئی شر نہیں پہنچا سکتا اور اگر وہ کوئی مصیبت نازل کر دے تو کوئی اس سے رہائی نہیں دے سکتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف اللہ الا ہو ، وان یردک بخیر فلا رآد لفضلہ یصیب بہ مں یشاء من عبادہ وہو الغفور الرحیم 
اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو کوئی اس کے فضل کو ردّ کرنے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے، اور وہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
(سورۃ یونس، 10: 107)
سورۃشوریٰ میں ارشاد ہے:
وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر 
اور جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو اْس (بد اعمالی) کے سبب سے ہی (پہنچتی ہے) جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی ہوتی ہے حالانکہ بہت سی(کوتاہیوں) سے تو وہ درگزر بھی فرما دیتا ہے۔
الشّْورٰی، 42: 30
درج بالا آیات سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی وَقت، دن اور مہینہ بَرَکت و عظمت اور فضل والا تو ہوسکتا ہے، مگر کوئی مہینہ یا دن منحوس نہیں ہوسکتا۔ کسی دن کو نحوست کے ساتھ خاص کردینا درست نہیں، اس لیے کہ تمام دن اللہ نے پیدا کیے ہیں اور انسان ان دنوں میں افعال و اعمال کرتا ہے، سو ہر وہ دن مبارک ہے جس میں اللہ کی اطاعت کی جائے اور ہروہ زمانہ انسان پر منحوس ہے جس میں وہ اللہ کی نافرمانی کرے۔ اللہ کی معصیت اور گناہوں کی کثرت اللہ کو ناراض کرنے کاسبب ہے اور اس طرح گناہگار فی نفسہ منحوس ہوتا ہے، کیونکہ گناہ کے سبب وہ اللہ کی امان سے نکل جاتا ہے اور مصائب و مشاکل سے مامون و محفوظ نہیں رہتا۔ درحقیقت اصل نْحوست گناہوں اور بداعمالیوں میں ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
لاَ عَدوَی، وَلاَ طیَرَۃَ، وَیْعجِبْنی الفَالْ، قَالْوا: وَمَا الفَالْ؟ قَالَ: کَلِمَۃ طیِّبَۃ
صحیح البخاری، کتاب الطب، باب الطیر: 5776
’’چھوت لگناکوئی چیزنہیں اور بدشگونی (کی کوئی حقیقت) نہیں ہے، البتہ نیک فال مجھے پسندہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نیعرض کیا: نیک فال کیا ہے؟ حضوراکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھی بات منہ سے نکالنا یا کسی سے اچھی بات سن لینا۔‘‘
اگر کوئی شخص گھر سے کہیں جانے کے لئے نکلا اور کالی بلی نے اس کا راستہ کاٹ لیا، جسے اس نے اپنے حق میں منحوس جانا اور واپس پَلَٹ گیا یا یہ ذہن بنا لیا کہ اب مجھے کوئی نہ کوئی نقصان پہنچ کر ہی رہے گا، تو یہ بدشگونی ہے جس کی اسلام میں مْمَانَعَت ہے۔ اگرگھر سے نکلتے ہی کسی نیک شخص سے ملاقات ہوگئی جسے اْس نے اپنے لئے باعث خیر سمجھا تو یہ نیک فالی کہلاتاہے اور یہ جائزہے۔
آپ اپنی سہولت کے ساتھ جس دن چاہیں کپڑے کاٹ سکتے ہیں۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

(مفتی شبیر قادری ، طالب محسن)

جواب:دین کا حکم یہ ہے کہ صلہ رحمی کرو۔ میری سمجھ کے مطابق یہ حکم اس اصرار کے ساتھ اور اس اہتمام کے ساتھ اس لیے دیا گیا ہے کہ اس پر عمل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ بعض اوقات ناشکری اور حق تلفی کے رویے کے باعث اور بعض اوقات ظلم اور زیادتی کے سبب سے۔
آپ نے جو احوال لکھے ہیں کسی نہ کسی رنگ انداز اور سطح پر تقریبا تمام لوگ ہی اس تجربے سے گزرتے ہیں۔ جن کے ساتھ ہمارا تعلق ہوتا ہے ان سے ہماری بہت سی اچھی توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔ اس لیے ان کا رویہ ہمارے لیے بہت تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ مزید برآں اگر ان سے کوئی زیادتی سامنے آرہی ہو تو ہماری تکلیف بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
اصولی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے رشتے داروں کے ساتھ ہر حال میں حسن سلوک کرنا ہے۔ ان کی بے اعتنائی، نا شکری اور زیادتی کے باوجود۔ لیکن قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے تین درجے ہو سکتے ہیں۔
پہلا یہ کہ آپ جس حد تک زیادتی ہوئی ہے اس کا بدلہ لے لیں اور تعلقات کو منقطع نہ کریں لیکن میل جول بھی نہ رکھیں۔ مطلب یہ کہ اگر کہیں ملاقات ہو جائے تو بس سلام دعا کے بعد ایک دوسرے سے دور رہیں۔
دوسرا یہ کہ آپ اس طرح کے رشتے داروں کے ساتھ صرف غمی اور خوشی کا تعلق رکھیں اور عام حالات میں ان سے میل ملاقات نہ کریں۔ لیکن اگر کوئی شدید ضرورت سامنے آجائے تو آپ مدد کرنے سے گریز نہ کریں۔
تیسرا یہ کہ آپ زیادتیوں کو نظر انداز کریں اور حسن سلوک اور مہربانی کا برتاؤ بھی جاری رکھیں۔
پہلا درجہ اختیار کرنے پر آپ گناہ گار نہیں ہوں گے۔
دوسرا درجہ اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ نیکی کے مواقع ضائع نہیں ہوں گے۔
تیسرا درجہ فضیلت کا درجہ ہے۔ اللہ کی رضا زیادہ زیادہ حاصل کرنا پیش نظر ہو تو اسی کو اختیار کرنا چاہیے۔
علامہ طالب محسن

(مفتی شبیر قادری ، طالب محسن)

کج133 نمازِ عید کی نیت اس طرح کی جاتی ہے کہ میں دو رکعت نماز عیدالفطر یا عیدالاضحی واجب مع تکبیرات زائد کی نیت کرتا ہوں۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 بغیر عذر کے عید کی نماز مسجد میں پڑھنا مکروہ ہے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

جواب :اگر کوئی شخص نماز عید کی جماعت میں نہ پہنچ سکا تو اکیلے اس کی قضاء نہیں پڑھ سکتا، البتہ اگر گھر لوٹ کر چار رکعت نفل پڑھ لے تو بہتر ہے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج۔۔عید کی نماز میں نہ اذان ہوتی ہے اور نہ اقامت۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
شَھِدتْ مَعَ رَسْولِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الصَّلَاۃَ یَومَ العِیدِ، فَبَدَاَ بِالصَّلَاۃِ قَبل الخْطبَۃ بِغَیرِ اَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ.
’’میں عید کے دن نماز میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا۔ پس آپ نے اذان اور تکبیر کے بغیر خطبہ سے قبل عید کی نماز پڑھی

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 اگر امام تکبیرات سے فارغ ہوچکا ہو، خواہ قرآت شروع کی ہو یا نہ کی ہو، بعد میں آنے والا مقتدی تکبیرِ تحریمہ کے بعد زائد تکبیریں بھی کہہ لے اور اگر امام رْکوع میں جاچکا ہے اور یہ گمان ہو کہ تکبیرات کہہ کر امام کے ساتھ رْکوع میں شامل ہوجائے گا تو تکبیرِ تحریمہ کے بعد کھڑے کھڑے تین تکبیریں کہہ کر رْکوع میں جائے، اور اگر یہ خیال ہو کہ اتنے عرصے میں امام رْکوع سے اْٹھ جائے گا تو تکبیرِ تحریمہ کہہ کر رْکوع میں چلا جائے، اور رْکوع میں رْکوع کی تسبیحات کے بجائے تکبیرات کہہ لے، ہاتھ اْٹھائے بغیر، اور اگر اس کی تکبیریں پوری نہیں ہوئی تھیں کہ امام رْکوع سے اْٹھ گیا تو تکبیریں چھوڑ دے امام کی پیروی کرے، اور اگر رکعت نکل گئی تو جب امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی رکعت پوری کرے گا تو پہلے قر?ت کرے، پھر تکبیریں کہے، اس کے بعد رْکوع کی تکبیر کہہ کر رْکوع میں جائے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 اگر غلطی ایسی ہو کہ جس سے نماز فاسد نہیں ہوتی تو نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں، اور فقہاء نے لکھا ہے کہ عیدین میں اگر مجمع زیادہ ہو تو سجدہ سہو نہ کیا جائے کہ اس سے نماز میں گڑبڑ ہوگی۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرلیا جائے، بشرطیکہ پیچھے مقتدیوں کو معلوم ہوسکے کہ سجدہ سہو ہو رہا ہے، اور اگر مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے گڑبڑ کا اندیشہ ہو تو سجدہ سہو بھی چھوڑ دیا جائے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج۔۔ نیت باندھ کر پہلے زائد تکبیرات کہہ لے۔ امام کو رکوع میں پایا تو اگر رکوع نکل جانے کا اندیشہ نہ ہو تو پہلے زائد تکبیرات کہے، پھر رکوع میں جائے اور اگر رکوع نکل جانے کا اندیشہ ہو تو تکبیرہ تحریم کہہ کر رکوع میں چلا جائے
اور ہاتھ اٹھائے بغیر رکوع ہی میں تینوں تکبیرات کہہ لے اور رکوع کی تسبیح ’’سبحان ربی العظیم‘‘ بھی پڑھ لے، دونوں کا جمع کرنا ممکن نہ ہو تو صرف تکبیرات کہے، تسبیحات چھوڑ دے، تکبیرات واجب اور تسبیحات سنت ہیں، اگر تکبیرات پوری کہنے سے پہلے ہی امام نے رکوع سے سر اٹھا لیا تو بقیہ تکبیرات چھوڑ کر امام کا اتباع کرے۔
اگر امام کو دوسری رکعت میں پایا تو بعینہ وہی تفصیل ہے جو اوپر درج کی گئی۔ البتہ امام کے سلام کے بعد جب فوت شدہ رکعت ادا کرے گا تو پہلے قراء ت کرے، پھر تکبیرات کہے۔ 
اگر کسی کی دونوں رکعتیں نکل گئیں، سلام سے پہلے پہلے امام کے ساتھ شامل ہوگیا تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد اٹھ کر حسب قاعدہ دونوں رکعتیں پڑھے اور تکبیرات اپنے اپنے مقام پر یعنی پہلی رکعت میں ثناء کے بعد قراء ت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قراء ت کے بعد رکوع سے پہلے کہے۔ 
دوسری رکعت میں تکبیرات کو قراء ت سے موخر کرنا واجب نہیں: 
دوسری رکعت میں تکبیرات زائدہ کو قراء ت سے موخر کرنا اولی ہے، واجب نہیں۔

 

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 یہ سنت نہیں، محض لوگوں کی بنائی ہوئی ایک رسم ہے، اس کو دین کی بات سمجھنا، اور نہ کرنے والے کو لائقِ ملامت سمجھنا بدعت ہے۔
 

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 عید کا خطبہ نماز کے بعد ہوتا ہے، دْعا بعض حضرات نماز کے بعد کرتے ہیں اور بعض خطبہ کے بعد، دونوں کی گنجائش ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور فقہائے اْمت سے اس سلسلے میں کچھ منقول نہیں۔
 

(مولانا یوسف لدھانی)

ج 133 133 اگر کئی آدمیوں کی نماز عید رہ گئی تو وہ کسی دوسری مسجد یا عید گاہ میں جہاں پہلے عید کی نماز نہ ہوئی ہو اپنی الگ جماعت کر کے نماز عید پڑھ سکتے ہیں، ایسی مسجد یا عید گاہ نہ ملے تو کسی دوسری جگہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 ذی الحجہ کی نویں تاریخ کی صبح سے تیرہویں تاریخ کی عصر تک ہر نماز فرض کے بعد ہر بالغ مرد اور عورت پر تکبیراتِ تشریق واجب ہیں، تکبیرِ تشریق یہ ہے کہ ہلکی بلند آواز سے یہ کلمات پڑھے: ’’اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر وللہ الحمد۔‘

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 عید کے روز اگر عیدی کو اسلامی عبادت یا سنت نہیں سمجھا جاتا، محض خوشی کے اظہار کے لئے ایسا کیا جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج۔۔جی نہیں! عیدکے دن روزہ رکھنا جائز نہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
نَہی رَسْولْ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَن صِیَامِ یَومَینِ : یَومِ الفِطرِ وَ یَومِ الَضحَی.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو دنوں عید الفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔‘‘

 

(مولانا یوسف لدھانی)

جواب :سلام کہنا سنت ہے، اور اس کا جواب دینا واجب ہے، جو پہلے سلام کرے اس کو بیس نیکیاں ملتی ہیں اور جواب دینے والے کو دس۔ غیرمسلم کو ابتدا میں سلام نہ کہا جائے اور اگر وہ سلام کہے تو جواب میں صرف ‘‘وعلیکم’’ کہہ دیا جائے۔
 

(مولانا یوسف لدھیانوی)

جواب: صحیح بخاری (ج:۲ ص:۶۲۹) میں حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
‘‘علمنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم التشھد وکفّی بین کفّیہ‘‘ 
ترجمہ:مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے التحیات سکھائی، اور اس طرح سکھائی کہ میرا ہاتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا۔’’
اِمام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث ‘‘باب المصافحۃ’’ کے تحت ذکر فرمائی ہے، اور اس کے متصل ‘‘باب الاخذ بالیدین’’ کا عنوان قائم کرکے اس حدیث کو مکرّر ذکر فرمایا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا سنتِ نبوی ہے، علاوہ ازیں مصافحہ کی رْوح، جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے تحریر فرمایا ہے:
اپنے مسلمان بھائی سے بشاشت سے پیش آنا، باہمی اْلفت و محبت کا اظہار ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ ص:۸۹۱)
اور فطرتِ سلیمہ سے رْجوع کیا جائے تو صاف محسوس ہوگا کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں اپنے مسلمان بھائی کے سامنے تواضع، انکسار، اْلفت و محبت اور بشاشت کی جو کیفیت پائی جاتی ہے، وہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں نہیں پائی جاتی۔

(مولانا یوسف لدھیانوی)


جواب:سلام اور مصافحہ ان لوگوں کے لئے مسنون ہے جو باہر سے مجلس میں آئیں۔ فجر و عصر کے بعد سلام اور مصافحہ کا جو رواج آپ نے لکھا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے یہاں اس کا معمول نہیں تھا، لہٰذا یہ رواج بدعت ہے۔

(مولانا یوسف لدھیانوی)

سوال:میں کئی مرتبہ اخبار ‘‘جنگ’’ میں ‘‘فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم’’ کے عنوان کے تحت شائع ہونے والی حدیثوں میں ایک حدیث پڑھ چکا ہوں، جس کا لب لباب کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی محفل میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو صحابہ کرامؓ ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے، جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سخت ناپسند فرمایا اور اپنے احترام کے لئے کھڑے ہونے کو منع فرمایا۔
اب صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ آج کل کافی افراد اساتذہ یا بزرگوں یا پھر بڑے عہدوں پر فائز حکمراں افراد کے احترام میں کھڑے ہوکر استقبال کرتے ہیں، حدیث مبارکہ کی حقیقت سے انکار تو ممکن نہیں لیکن شاید ہم کم فہم لوگ اس کی تشریح صحیح نہ کرسکے ہیں۔ لہٰذا مہربانی فرماکر اس بات کی مکمل وضاحت فرمائیں کہ آیا کسی بھی شخص (چاہے وہ والدین ہوں یا ملک کا صدر ہی کیوں نہ ہو) کے لئے (اس حدیث کی روشنی میں) کھڑا ہونا جائز نہیں؟ یا پھر اس حدیث شریف کا مفہوم کچھ اور ہے؟

جواب:یہاں دو چیزیں الگ الگ ہیں، ایک یہ کہ کسی کا یہ خواہش رکھنا کہ لوگ اس کے آنے پر کھڑے ہوا کریں، یہ متکبرین کا شیوہ ہے، اور حدیث میں اس کی شدید مذمت آئی ہے، چنانچہ ارشاد ہے: ‘‘جس شخص کو اس بات سے مسرّت ہو کہ لوگ اس کے لئے سیدھے کھڑے ہوا کریں، اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے۔’’
بعض متکبر افسران اپنے ماتحتوں کے لئے قانون بنادیتے ہیں کہ وہ ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوا کریں، اور اگر کوئی ایسا نہ کرے تو اس کی شکایت ہوتی ہے، اس پر عتاب ہوتا ہے اور اس کی ترقی روک لی جاتی ہے، ایسے افسران بلاشبہ اس ارشادِ نبوی کا مصداق ہیں کہ: ‘‘انہیں چاہئے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائیں۔’’
اور ایک یہ کہ کسی دوست، محبوب، بزرگ اور اپنے سے بڑے کے اکرام و محبت کے لئے لوگوں کا ازخود کھڑا ہونا، یہ جائز بلکہ مستحب ہے۔ حدیث میں ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاتیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آمد پر کھڑے ہوجاتے تھے، ان کا ہاتھ پکڑ کر چومتے تھے اور ان کو اپنی جگہ بٹھاتے تھے، اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر کھڑی ہوجاتیں، آپ کا دست مبارک پکڑ کر چومتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جگہ بٹھاتیں۔ (مشکوٰۃ ص:۲۰۴) یہ قیام، قیامِ محبت تھا۔ ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضراتِ انصار رضی اللہ عنہم سے فرمایاتھا۔
‘‘قوموا الٰی سیّدکم! متفق علیہ۔’’ 
یعنی اپنے سردار کی طرف کھڑے ہوجاو۔ یہ قیام اِکرام کے لئے تھا۔
ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہمارے ساتھ بیٹھے ہم سے گفتگو فرماتے تھے، پھر جب آپ کھڑے ہوجاتے تو ہم بھی کھڑے ہوجاتے اور اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواجِ مطہراتؓ میں سے کسی کے دولت کدے میں داخل نہ ہوجاتے۔ 
یہ قیام تعظیم و اِجلال کے لئے تھا، اس لئے مریدین کا مشائخ کے لئے، تلامذہ کا اساتذہ کے لئے اور ماتحتوں کا حکامِ بالا کے لئے کھڑا ہونا، اگر اس سے مقصود تعظیم و اِجلال یا محبت و اِکرام ہو تو مستحب ہے، مگر جس کے لئے لوگ کھڑے ہوتے ہوں اس کے دِل میں یہ خواہش نہیں ہونی چاہئے کہ لوگ کھڑے ہوں۔

(مولانا یوسف لدھیانوی)

جواب: آپ کی ٹریننگ کا یہ اْصول کہ سینٹر میں داخل ہوتے وقت یا باہر سے آنے والے اساتذہ وغیرہ کے سامنے رْکوع کی طرح جھکنا پڑتا ہے، شرعی نقطۂ نظر سے صحیح نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کرتے وقت جھکنے کی ممانعت فرمائی ہے، چہ جائیکہ مستقل طور پر اساتذہ کی تعظیم کے لئے ان کے سامنے جھکنا اور رْکوع کرنا جائز ہو۔ حدیث شریف میں ہے، جس کا مفہوم ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ‘‘ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملے تو اس کے سامنے جھکنا جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں!
مجوسیوں کے یہاں یہی طریقہ تھا کہ وہ بادشاہوں، امیروں اور افسروں کے سامنے جھکتے تھے، اسلام میں اس فعل کو ناجائز قرار دیا گیا۔ ٹریننگ کا مذکورہ اْصول اسلامی اَحکام کے منافی ہے، لہٰذا ذمہ دار حضرات کو چاہئے کہ وہ فوراً اس قانون کو ختم کریں۔ اگر وہ اسے ختم نہیں کرتے تو طلباء کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس سے انکار کریں، اس لئے کہ خدا کی ناراضی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔

(مولانا یوسف لدھانی)

جواب: وعلیکم السلام کہنے میں عار نہیں بلکہ جو شخص السلام علیکم کہنے میں پہل کرے، اس کے جواب میں ‘‘وعلیکم السلام’’ کہنا واجب ہے۔ غلط رواج کی اصلاح یوں ہوسکتی ہے کہ اگر دونوں ایک ساتھ سلام کہہ دیں تو دونوں ایک دْوسرے کے جواب میں ‘‘وعلیکم السلام’’ کہا کریں، اور اگر ایک پہلے ‘‘السلام علیکم’’ کہہ دے تو دْوسرا صرف ‘‘وعلیکم السلام’’ کہے۔

()

جواب: عیدین کا معانقہ کوئی دِینی، شرعی چیز تو ہے نہیں، محض اظہارِ خوشی کی ایک رسم ہے، اس کو سنت سمجھنا صحیح نہیں، اگر کوئی شخص اس کو کارِ ثواب سمجھے تو بلاشبہ بدعت ہے، لیکن اگر کارِ ثواب یا ضروری نہ سمجھا جائے محض ایک مسلمان کی دِلجوئی کے لئے یہ رسم ادا کی جائے تو اْمید ہے گناہ نہ ہوگا۔

(مولانا یوسف لدھیانوی)

جواب:عید کے بعد مصافحہ یا معانقہ کرنا محض ایک رواجی چیز ہے، شرعاً اس کی کوئی اصل نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں، اس لئے اس کو دِین کی بات سمجھنا بدعت ہے، لوگ اس دن گلے ملنے کو ایسا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی اس رواج پر عمل نہ کرے تو اس کو بْرا سمجھتے ہیں، اس لئے یہ رسم لائقِ ترک ہے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

جواب:بڑے کی تعظیم کے لئے کھڑے ہونا جائز ہے، مگر بڑے کو دِل میں یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ لوگ اس کے لئے کھڑے ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ذاتی طور پر اس کو پسند نہیں فرماتے تھے کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوں، اس حدیثِ پاک کا یہی محمل ہے۔
 

(مولانا یوسف لدھیانوی)

ج : آپ کے والد نے اپنی زندگی میں آپ کی شادی پر جو کچھ روپیہ پیسہ اپنی مرضی سے خرچ کیاتھا، بطور ادھار یا قرض نہیں دیا تھا،اس کا لوٹانا آپ کے ذمے نہیں ہے، اسی طرح جو زیور بنا کر آپ کو ان کا مالک بنا دیا ہے، آپ ان کے مالک ہیں اور ان میں آپ کی والدہ یا آپ کی بہن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

(رضی الاسلام ندوی)

ج : مذکورہ معاملے کاتعلق باہمی معاہدے سے ہے اس لیے جو معاہدہ ہواہو اسی کے مطابق عمل درآمدکرنا چاہیے۔اگر کوئی معاہدہ نہ ہوتو اسکولوں کے رواج کے مطابق اگر فیس لی جاتی ہے تو ادائیگی واجب ہے۔فقط واللہ اعلم

(سید رضی الاسلام ندوی)

جواب :صورت مسؤلہ میں کمرشل پلاٹ چونکہ حکومت کی ملکیت میں ہے لہٰذاآپ کے لیے صرف اپنا مکان بیچنا جائز ہے، کمرشل پلاٹ کو فروخت کرنا درست نہیں ہے۔ اور جو رقم بچوں نے کمرشل پلاٹ کی تعمیر میں لگائی ہے وہ چونکہ حکومت کی اجازت کے بغیر لگائی ہے ،لہٰذا اب وہ اس رقم کا تقاضا اور مطالبہ کسی سے نہیں کرسکتے۔
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب:۔ نماز میں تشھد پڑھتے ہوئے انگلی اٹھا نا متعدد شرعی نصوص سے ثابت ہے،اسی وجہ سے اس پر امت کا تسلسل کے ساتھ عمل چلا آرہا ہے ، حدیث اور فقہ کی تقریباً ہر کتاب میں اس کا ثبوت اور سنت ہونا واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔اس سلسلے میں اگر کسی قسم کا شک وشبہ بھی اگر کبھی پیدا ہوا ہو تو اس کا جواب بھی تفصیلی طور پر دیا گیا ہے،علامہ مخدوم ہاشم ٹھٹھوی سندھی رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر ٹھوس وقیع رسالہ بھی تحریر فرمایا ہے،جس کا نام’’نورالعینین فی اثبات الاشارۃ فی التشھدین‘‘رکھا ہے،یہ رسالہ اگرچہ تاحال طبع نہیں ہوا مگر ہمارے پاس اس کا مخطوطہ موجود ہے،اور اس پر تحقیق و تخریج ہو چکی ہے ،رسالہ عربی زبان میں ہے، اہل علم کے فائدے کے لیے طباعت کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ہم یہاں پر ترمذی شریف کی ایک رویت نقل کرنے پر اکتفاکرتے ہیں ’’حضرت عباس بن سہل الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوحمید،ابواسید،سہل بن سعداور محمد بن مسلم رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا ،تو ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں،بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے (یعنی تشھد کے لیے) اور انہوں نے اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور دائیں پاؤں کا اگلا حصہ قبلہ رخ فرمایا اور اپنی داہنی ہتھیلی داہنے گھٹنے پر رکھی اور بائیں ہتھیلی بائیں گھٹنے پر،اور اپنی انگلی سے اشارہ کیا (یعنی شھادت والی انگلی سے اشارہ کیا)۔امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔(ترمذی شریف :38۔1)
مزید تفصیل کے لیے اہل علم حضرات اعلاالسنن،سنن ابی داؤد،سنن نسائی،سنن ابن ماجہ،بدائع الصنائع اور فتاویٰ شامی کی متعلقہ مباحث میں تفصیلات ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
ا

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب:1۔ صورت مسؤلہ میں دفتر میں اکیلے نماز پڑھے تواذان و اقامت مستحب ہے البتہ دونوں کے بغیر بھی نماز جائز ہوجائے گی۔
2۔ وقت داخل ہوتے ہی نماز پڑھی جاسکتی ہے ۔ سوائے مغرب کے اور نمازوں میں کچھ تاخیرکرنامستحب ہے۔
3۔خواتین اذان ہوتے ہی نماز پڑھ لیا کریں، جماعت ہوجانے کا انتظارکرنا ضروری نہیں۔
4۔ فوت شدہ نمازوں کی تعداد معلوم نہیں تو غالب گمان پر عمل کریں اگر کوئی غالب رائے نہ بنتی ہوتوپھر اتنی قضا نمازیں پڑھیں کہ یقین ہوجائے کہ اب کو ئی نماز ذمے باقی نہیں ہوگی۔
5۔عین طلوع،عین غروب اور دن کے بالکل بیچ کے وقت میں جس کو نصف النھار کہتے ہیں کوئی نماز،سجدہ تلاوت ،نماز جنازہ وغیرہ جائز نہیں سوائے اس دن کی عصرکی نمازکے،وہ غروب کے وقت بھی پڑھی جاسکتی ہے۔

 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب :مسجد میں نماز کے لیے بیٹھے ہوئے لوگوں پر جمعہ کی دوسری اذان کا جواب دینا ضروری نہیں ہے۔ اگر دینا چاہیں تو بغیر آواز کے جواب دے سکتے ہیں
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب:حدیث شریف میں ان دعاؤں کا پڑھنا ثابت ہے لہٰذا صورت مسؤلہ میں نماز میں سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ کے الفاظ پڑھ سکتے ہیں ،اسی طرح سجدے میں سبحان ربی الاعلیٰ کے بعد اور تشہد کے آخر میں کوئی بھی دعایا ایک سے زائد دعائیں عربی زبان میں مانگ سکتے ہیں،البتہ اگر امام ہوتو پھر مقتدیوں کی رعایت کرتے ہوئے مذکورہ دعائیں نہ مانگے تو کوئی حرج نہیں۔
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب :صورت مسؤلہ میں مشترکہ غسل خانہ اوربیت الخلاجس میں داخل ہونیکے لیے ایک ہی دروازہ ہوتاہے اس قسم کے غسل خانوں میں وضو کے دوران جودعائیں پڑھی جاتی ہیں وہ نہ پڑھی جائے کیونکہ یہ بیت الخلامیں پڑھنا شمارہوگااوربیت الخلا میں اذکار پڑھنے سے شریعت نے منع کیا ہے۔
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب:واضح رہے کہ احادیث میں دعاؤں کی جو برکات اور فضائل وارد ہوئے ہیں وہ ہر شخص کو بقدر یقین حاصل ہوتے ہیں۔ جتنا اس شخص کا ان کے صحیح ہونے پر یقین ہوگا اتنے ہی فضائل اس کو حاصل ہوں گے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم دعاؤں کے ذریعے حفاظت کا اہتمام فرمایا کرتے تھے، جس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا دعاؤں اور معوذات کے موثر ہونے میں پختہ یقین تھا۔ لہذا جن دعاؤں سے آپ کو مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے دکھائی نہیں دیتے اس میں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پڑھنے میں اور اس پر یقین و اعتقاد رکھنے میں کوتاہی ہوتی ہے۔ باقی دعاؤں کے بارے میں جو فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے وہ سو فیصد درست اور سچ ہے۔ 
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

سنت اور حدیث میں فرق
سوال :میں نے ایک دیوبندی اہلسنت عالم ڈاکٹر علامہ خالد محمود حفظہ اللہ صاحب کا درس سنا، انہوں نے فرمایا کہ" ہر حدیث قابل اتباع یا قابل عمل نہیں ہوتی جو حدیث سنت کے درجے کو نہ پہنچے اس پر عمل جائز نہیں"۔انہوں نے کہا کہ" حدیث کبھی ضعیف بھی ہوتی ہے مگر سنت کبھی ضعیف نہیں ہوتی"۔ نیز فرمایا کہ "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث علم کا ذخیرہ ہیں اور ان کے اندر "سنت" کی تلاش یہ علم اور فقہ کا کام ہے"۔کیا مذکورہ عالم صاحب کا حدیث اور سنت میں یہ فرق کرنا درست ہے ؟ مجھے چند مثالوں سے سمجھا دیجیے۔ کیا أئمہ سلف یعنی حضرات صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین وغیرہ بھی حدیث اور سنت میں اس طرح کا فرق کیا کرتے تھے۔کیا صرف اہلسنت دیوبندی ہی حدیث اور سنت میں مذکورہ فرق کرتے ہیں یا تمام متقدمین محدثین اور ائمہ اہلسنت اور عصر حاضر میں اہل سنت کے دوسرے مسالک بھی اس فرق کو تسلیم کرتے اور بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم کی کونسی بات سنت ہے یہ حدیث مبارکہ ہی سے پتہ چلے گی۔ ایک عمل کو نبی اکرم کی سنت کہا جائے مگر وہ حدیث سے ثابت نہ ہو ، یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے ؟

جواب:۔ مذکورہ عالم دین کا حدیث اور سنت کے درمیان فرق کرنا درست ہے۔ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور بچہ اٹھایا ہواتھا،اسی طرح ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ (کسی وجہ سے) کھڑے ہو کرپیشاب فرمایا،مگریہ دونوں باتیں حدیث سے ثابت ہونے کے باوجود سنت نہیں کہلاتیں، کیونکہ سنت کا معنیٰ ہے "چلنے کا راستہ" اورچلنے کا راستہ وہی ہوتا ہے جس پر بار بار چلا جائے، اس پر آنا جانا معمول کا حصہ ہو، مذکورہ دونوں عمل معمول کا حصہ نہیں تھے اسی لیے انہیں سنت نہیں کہا گیا۔
یہ فرق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور سے لے کر عصرِحاضر کے علماء تک ملحوظ رہا ہے ۔ہمارے علم کے مطابق اس فرق کو تمام مسالک کے حضرات تسلیم کرتے ہیں، اس قسم کے فرق کو سمجھنے کے لیے جو فطری فہم اور ایمانی فراست درکارہوتی ہے اسی کا نام علم اور فقہ ہے۔قرأن ،حدیث اور علم فقہ کا منبع ایک ہی ہے ،الگ الگ تقسیم کرنا اور سمجھنا غلط ہے ان کی باہمی نسبت بالکل ایسی ہے جیسے دودھ، دھی اور مکھن ، اگر ایک حقیقت سے نکلی ہوئی ان مختلف چیزوں میں تضاد نہیں سمجھا جاسکتا تو قران، حدیث اور فقہ میں بھی تضاد سمجھنا سنگین غلطی ہوگی۔ پس ہر سنت کا حدیث سے ثابت ہونا ضروری ہے مگر ہر حدیث کا سنت ہونا ضروری نہیں۔

 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب : لوگوں کا یہ کہنا درست نہیں ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ طلوعِ فجر تک عشا کا آخری وقت باقی رہتا ہے اگر کسی شخص نے عشا کی نماز نہیں پڑھی اور سوگیا پھر طلوعِ فجر سے پہلے پہلے عشاکی نماز پڑھ لے تو وہ نمازادا شمارہوگی ،قضا شمار نہیں ہوگی اس لیے کہ یہ عشاکا آخری وقت ہے۔البتہ آدھی رات سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے اس لیے آدھی رات سے پہلے عشاکی نماز پڑھ لیا کرے تاکہ کراہت نہ ہو۔
 

()

جواب :جو نام خلاف شرع ہوں مثلاً معنی اس کا نامناسب ہو جیسے عاصیہ(گناہ گار) یا عجب اور خودرائی وغیرہ کا اظہار اس سے ہوتا ہو، جیسے برّہ (نیکوکار) تو اس طرح کے ناموں کا بدلنا احادیث سے ثابت ہے۔ اس کے علاوہ وہ نام جن کا معنی اچھا ہو تو کشیدگی اور بیماریوں سے بچنے کے لیے ان کا بدلنا درست نہیں، بلکہ توہم پرستی میں داخل ہے۔ صورت مسؤلہ میں سائل کے بچوں کے نام محمد عبد الرحمٰن اور آمنہ بھی اچھے اور پسندیدہ نام ہیں ان کو بدلنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بعد کے تجویز کردہ دونوں نام صحیح اور بابرکت ہیں لیکن اس تبدیلی کا جو مقصد ہے وہ توھم پرستی معلوم ہوتا ہے، اس پر توبہ و استغفار کیا جائے اور آئندہ کے لیے اس قسم کے فیصلے کرنے سے پہلے استفسار کیا جائے، نہ کہ بعد میں۔***

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب: شریعت اسلامی مقامی عادات و اطوار، علاقائی ثقافت اور رسوم و رواج کو ہر گز ختم نہیں کرتی وہ ان سب کو ایک شرط کے ساتھ اپنے نظام اجتماعی اور اپنے تہذیبی مثالیہ یا پیراڈائم میں سمو لیتی ہے وہ شرط یہ ہے کہ ان میں سے کوئی چیز شریعت کے احکام سے متعارض اور غیر اخلاقی نہ ہو۔ 
 

(ڈاکٹر محمود غازی)

جواب: علم لدنی سے مراد یہ ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کا خاص انعام کسی انسان کے اوپر ہوتا ہے اور اس کو خصوصی علم حاصل ہوجاتا ہے ہم خود دیکھتے ہیں ایسے بڑے بڑے اکابر ہمارے زمانے میں بھی ہوئے ہیں کہ انہوں نے وہی تعلیم پائی جو ہم سب نے پائی لیکن ان میں سے بعض کو اللہ نے بڑا علم دے دیا۔ مولانا انور شاہ کشمیر ی اسی درس نظامی کے پڑے ہوئے ہیں لیکن ان کو اللہ نے جو علم دیا وہ باقی درس نظامی کے فضلا کو نہیں ملا۔ اس طر ح کا علم ، علم لدنی کہلاتا ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی خصوصی مہربانی سے کسی انسان کو سمجھ یا فہم کے ذریعہ دے دے اسکی حدیث سے بھی تائید ہو تی ہے حضرت علیؓ سے کسی نے پوچھا تھا کہ کیا رسولﷺ نے آپؓ کو کوئی خاص تعلیم بھی دی ہے انھوں نے کہا نہیں کوئی خاص تعلیم نہیں دی ہے کتاب اللہ سنت رسولﷺ اور یہ دستاویز جو میری تلوار کی نیام میں رکھی ہیں یا پھر وہ فہم جو اللہ تعالیٰ اپنے کسی خاص بندے کو دے دے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کسی خاص بندے کو اگرخاص فہم دے جو اکثر دے دیتا ہے تواس فہم سے اس بندے کو ایک خاص علم حاصل ہو جاتا ہے اس کو علم لدنی کہہ دیتے ہیں۔یہ خاص فہم اگر شریعت کے مطابق ہے تو اللہ کی طرف سے ہے ورنہ محض انسان کے نفسانی خیالات یا ذہنی ژولیدگی کا نتیجہ ہے۔ 
 

(ڈاکٹر محمود غازی)

جواب: غسل کی ضرورت ہو اور پانی موجود نہ ہو توغسل کے لیے بھی وضو والا تیمم ہی کیا جاتا ہے ۔

(ڈاکٹر محمود غازی)

جواب: قرآن پاک میں آیا ہے کہ اتمواالصیام الی للیل، کہ روزے کو مکمل کر رات تک ۔ یہاں دو لفظ آئے ہیں لیل اور الیٰ یعنی رات اور تک ۔ اس کا مفہوم فقہا کی بڑی تعداد نے یہی سمجھا ہے کہ جب تک رات داخل نہ ہوجائے اس وقت روزہ رکھا جائے۔ جب لیل کا دخول شروع ہو جائے تو سمجھا جائے کہ نہا ر کا وقت ختم ہو گیا ہے اس وقت روزہ کھول دیا جائے گا لیکن لیل کیا ہوتی ہے اور کب شروع ہوتی ہے فقہا کی غالب اکثریت کا یہ کہنا ہے کہ جب سورج کی ٹکیا نظروں سے اوجھل ہو جائے اور ڈوب جائے تو رات یعنی لیل شروع ہو جاتی ہے۔ سورج کے لئے ٹکیا کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ اگر آپ ریگستان یا میدانی علاقے میں کھڑے ہو جائیں تو غروب ہو تا سورج ایک گیند کی طرح نظر آتا ہے جیسے فٹ بال ہو تا ہے اس گیند کو فقہا ٹکیہ کے لفظ سے یاد کرتے ہیں۔ تو فقہا کہتے ہیں کہ جب سورج کی ٹکیا ڈوبتے ڈوبتے اس کاآخری حصہ بھی ڈوب جائے تو اس وقت سمجھا جائے گا کہ دن ختم ہو گیا ہے اور رات شروع ہو گئی ہے اس وقت روزہ کھول لیا جائے گا۔ بعض فقہا جن میں شیعہ فقہا بھی شامل ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ محض ٹکیا کا ڈوبنا کا فی نہیں ہے بلکہ شفق کا غائب ہونا بھی ضروری ہے ۔شفق وہ سرخی ہے جو سورج کی ٹکیا غائب ہونے کے بعد بھی قائم رہتی ہے۔جب تک یہ سرخی غائب نہیں ہوتی اس وقت تک گویا یہ سمجھا جائے گا کہ ٹکیا پوری طرح نہیں ڈوبی۔ شفق ٹکیا کے تابع ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ایک چیز کسی دوسری چیز کے تابع ہو تی ہے تو تابع کا بھی وہ ہی حکم ہوتا ہے جو اصل کا حکم ہوتا ہے لہٰذا اصل اور تابع دونوں ڈوب جائیں تب رات شروع ہو گی۔ اس عمل میں دس بارہ منٹ مزید وقت لگتا ہے اس لئے وہ بارہ منٹ مزید انتظار کرتے ہیں۔ یہ محض لیل کی تعبیر میں اختلاف ہے کوئی قرآن یا سنت میں اختلاف نہیں۔ اکثریت کے خیال میں سورج کی ٹکیا کے غائب ہو نے سے رات شروع ہو جاتی ہے دوسرا فریق کہتا ہے کہ جب ٹکیا کے اثرات بھی ڈوب جائیں گے تو تب لیل شروع ہوگی ۔میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ فقہا کی غالب اکثریت کا کہنا درست ہے اس لئے کہ دن اس وقت شروع ہو تا ہے جب سورج نکلنے لگتا ہے۔ سورج کی ٹکیا کے ظہور سے قبل جب اس کی سرخی یا شفق ظاہر ہوتی ہے اس کو دن کا آغاز قرار نہیں دیا جاتا اس سے پہلے کے وقت کو نہار کہتے ہیں اور اس وقت تک فجر کی نماز پڑھی جاسکتی ہے یہی اصول ٹکیا کے غائب ہو نے کے وقت بھی پیش نظر رکھنا چاہئے بہرحال یہ دو مختلف آرا ہیں ۔ 
 

(ڈاکٹر محمود غازی)

جواب:یہ عمل شروع سے ہو رہا ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اس پر عمل پہلے بھی ہوتا تھا آج بھی ہو رہا ہے اور آئندہ بھی ہو گا 
شریعت نے نہ امام ابوحنیفہ کی تقلید کا حکم دیا ہے اور نہ امام شافعی ؒ کی نہ امام احمد ؒ کی شریعت تو رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد مکمل ہوگئی الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتینعمت تمام ہو گئی ہے دین مکمل ہوگیا شریعت مکمل ہوگئی ،اس لئے حضور ﷺکے بعد آنے والے کسی بھی آدمی کا کوئی قول فی نفسہ واجب التعمیل نہیں ہے حتیٰ کہ کسی صحابیؓ کی رائے بھی as such واجب اتعمیل نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص خود صاحب علم ہے اور اللہ نے اسے علم دیا ہے اور وہ دلائل سے یہ جان سکتا ہے کہ کسی امام کا قول قوی ہے یا بہتر ہے تو ا س کو اس رائے یا قول کو اختیا ر کرنے کی اجازت ہے لیکن ایک ایسے آدمی کو جس کے پاس شریعت کا علم نہ ہو یہ راستہ اختیار کرنے کی اجازت دی جائے تو بہت ساری قباحتیں پیدا ہو ں گی جن سے بچنا بہت دشوار ہے۔ اس کی ایک مثال فقہ کی سب کتابوں میں ملتی ہے میں آپ کو دیتا ہوں اکثر لوگوں نے یہ مثال بیان کی ہے شریعت کا حکم یہ ہے کہ انسانی معاشرہ میں تعلقات حیا کی بنیاد پر استوار ہوں خاص طور پر دو جنسوں کے درمیان میل جول شریعت کی حدود کے اندر ہو اور حیا کے احکام کے مطابق ہو۔ جب دو افرادرشتہ ازدواجی میں منسلک ہوں تو یہ کام اللہ کے احکام اور شریعت کے مطابق ہو یہ تعلق انسانوں کے علم میں ہو تمام لوگوں میں اس کا اعلان کیا گیا ہو کہ فلاں دو افراد آج سے رشتہ ازدواجی میں منسلک ہو رہے ہیں۔ یہ شریعت کے احکام ہیں ۔
اب شریعت کے ان احکام کے ضمن میں قرآن پاک میں بعض نصوص آئی ہیں احادیث میں کچھ نصوص آئی ہیں ان کو سامنے رکھ کر اور ان کامقصد سمجھ کر فقہا نے کچھ تفصیلی ضوابط مرتب کئے ہیں امام مالک ؒ نے اپنی فہم کے مطابق یہ ضابطہ مقرر فرمایا کہ جب نکاح ہو رہا ہو تو اس کے لئے کسی کو با قاعدہ گواہ بنانے کی ضرورت تو نہیں البتہ عام اعلان کرنے کی ضرورت ہے چنانچہ اگر نکاح اس طرح ہو کہ معاشرہ میں عام لوگوں کو معلوم ہو جائے ،محلہ میں سب کو پتہ چل جائے کہ فلاں اور فلاں کی شادی ہو رہی ہے تو یہ کافی ہے چاہے دو آدمی بطور خاص گواہ بننے کے لیے موجود نہ ہوں۔ یہ امام مالکؒ کا نقطہ نظر ہے۔امام ابوحنیفہ ؒ یہ فرماتے ہیں کہ کم از کم دو متعین گواہ ضروری ہیں جو عقدہ نکاح میں موجود ہوں جو ایجاب ور قبول کو ہوتے دیکھیں یہ کم سے کم تقاضا ہے اور اس سے کم پر نہیں ہوگا یہ امام ابوحنیفہ ؒ کا نقطہ نظر ہے۔ امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ اصل عقد میں تو دو گواہوں کی موجودگی ضروری نہیں ہے لیکن جب لڑکی رخصت ہو اور شوہر کے گھر جائے اس وقت کم از کم دو گواہ ہونے چاہئیں اور یہ ضروری ہے ۔
اب یہ تین مختلف نقطہ نظر ہیں مقصد سب کا ایک ہی ہے اب اگر کوئی شخص ایسا کرے کہ ایک لڑکا اور لڑکی آپس میں رہنے لگیں اور یہ کہیں کہ امام مالک کے نزدیک دو گواہ ضروری نہیں تھے اور لوگوں کو بتانا بھی ضروری نہیں تھا اور صرف چراغاں اور دعوت کھلانا کافی ہے امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک چراغاں اور دعوت بھی ضروری نہیں تھی لہذا ہم نے چراغاں اور دعوت بھی نہیں کی عقد نکاح کے وقت امام شافعی ؒ کے نزدیک دو گواہ ضروری نہیں تھے وہ بھی نہیں کئے۔ رخصتی کے وقت امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک ضروری نہیں تھے وہ بھی نہیں کئے یہ تو شریعت کے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے اور محض بدکاری ہے یہ تو پرلے درجہ کی بداخلاقی اور بے حیائی ہے یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہو گا کہ اگر کسی شخص کو اپنے نفس کی پیروی کی اجازت دی جائے تو ا س کے نتائج اس طرح کے نکل سکتے ہیں ۔
اس لئے دو شرائط کا خیال رکھیں ۔ آپ جس فقیہ کے نقطہ نظر سے دلائل کے ساتھ اتفاق کریں ایک شرط یہ کہ واقعی اللہ کے حضور جوابدہی کے احساس کے ساتھ یہ اردہ ہو کہ اللہ کے حکم پرچلنا اور اللہ کی شریعت پر عمل کرنا ہے اور اس کو سمجھنا ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ارادہ ہے کہ نہیں ہے ۔دوسرا یہ کہ اتنا علم ہو کہ یہ معلوم ہو سکے کہ شریعت کا اصل مقصد کیا ہے شریعت کی تعلیمات اس بارے میں کیا ہیں اور ان کو کس انداز سے سمجھ کر اس فقیہ نے یہ رائے قائم کی ہے اس رائے سے یہ فقیہہ شریعت کے کس مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے یہ اگر حاصل ہے تو پھر دوسرے کسی فقیہہ کی رائے اختیار کر لینے کا عمل قابل قبول ہے ۔

 

(ڈاکٹر محمود غازی)

جواب : وہ ملت ابراہیمی کے طریقے کے مطابق حج کرتے تھے ملت ابراہیمی کے بہت سے آثارعرب میں موجو د تھے کچھ چیزیں اس میں غلط شامل ہوگئی تھیں بعض قبائل غلط چیزوں میں مبتلا تھے بعض کم مبتلا تھے لیکن حج کے اکثر و بیشتر مراسم ملت ابراہیمی کے مطابق ادا ہوتے تھے۔
 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

جواب:نبی ﷺ کو معصوم کلی تو ہر مسلمان مانتا ہے ہر پیغمبر کو معصوم کلی ماننا ایمان کا تقاضا ہے اس میں اہل سنت اور کسی اور میں کو ئی فرق نہیں ۔
 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

جواب:کم سے کم میری یہ حیثیت نہیں کہ میں حضور ﷺ کے علم کا وزن کر کے اس کی مقدار بیان کر سکوں حضور ﷺ کا علم بہت وسیع اور غیر معمولی تھا تمام انسانوں سے زیادہ اور تمام انبیاء ؑ کے علم سے بڑھ کر تھا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اولین اور آخرین کا علم دیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں حضور ﷺ کا علم محدود علم تھا اس لئے جب اللہ تعالیٰ اور رسول کے علم کا تقابل ہو گا ( اگرچہ یہ ایک غیر ضروری اور بے فائدہ مشغلہ ہے ) تو اور بات کہی جائے گی اور جب حضور ﷺ کے علم کا موازنہ بقیہ انسانوں کے علم سے ہوگا ( جو کوئی فضول شخص ہی کرے گا ) تو پھر یہی کہا جائے گا کہ حضور ﷺ کے علم کی کو ئی انتہا نہیں ہے۔ 
 

(ڈاکٹر محمود غازی)

جواب:میرے خیال میں تو ضرورت کے وقت جائز ہے اگر بیٹھنے کا صحیح انتظام نہ ہو توکھڑے ہو کرکھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے ترمذی میں راویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پانی پیا شرب قائماً اسی شمائل ترمذی میں جس کا میں نے کئی بار ذکر کیا ہے اس میں ذکر ہے کہ حضورﷺ نے کھڑے ہو کر پانی پیا ؛جہاں جگہ نہ ہو یا زیادہ لوگ ہوں اور بیٹھنے کا بندوبست نہ ہو سکتا ہو تو وہاں کھڑے ہو کر کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

جواب : میرے نزدیک تویہ عمل درست ہے میں تو جب بھی موقع ملتا ہے، ایسے بابرکت اور تاریخی مقامات پر نوافل ادا کرتا ہوں ۔ دوسرے ممالک مثلاً مصر ،اردن اور شام وغیرہ میں ایسے مقامات پر نوافل ادا کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیںآتی ؛لیکن چونکہ ہمارے سعودی بھائی اس کو بدعت سمجھتے ہیں اسلئے سعودی عرب میں ایسا کرتے وقت شرطہ سے بھی اپنی حفاظت کرنی پڑتی ہے یہ ذرا مشکل کام ہے کہ آپ نوافل بھی ادا کریں اور شرطہ سے بھی اپنی حفاظت کریں اگر آپ کو موقع ملے تو اس احتیاط کے ساتھ ضرور نوافل ادا کریں ۔
 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

جواب: جی ہاں ،حضور ﷺ کبھی کبھی خاص طور پر گرمی کے شدید موسم میں سر اور داڑھی کے بالوں پر مہندی لگایا کرتے تھے رہی یہ بات کہ آپ کی داڑھی کی مقدار کتنی تھی اس کا کسی روایت میں کوئی متعین سائز نہیں ملتا صحابہؓ صرف اتنی روایت کرتے ہیں کہ کان کث اللحیۃ یعنی آپ کی داڑھی گھنی تھی ۔
 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

جواب : ایک صحابیؓ نے اس یقین سے کہ اللہ کی کتاب میں شفا ہے( قرآن پاک میں اس کو شفا کہا گیا کہ فیہ شفاء لما فی الصدور )، پڑھ کر پھونک دیا اور اس قبیلہ کے سردار نے ہدیہ کے طور پر کچھ پیسے بھی دے دیئے اور انہوں نے لے لئے۔ یہ معاوضہ کی بات نہیں تھی کہ انہوں نے پہلے فیس مقرر کی ہو کہ پانچ سو روپے لیں گے اور پانچ سو روپے لیکر پھونک دیا یہ کسی صحابیؓ یا تابعی نے نہیں کیا ۔ اس لیے تحفتاً کوئی دے دے تو حرج نہیں لیکن معاوضہ طے کرنا ثابت نہیں۔
 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

جواب : کچھ احادیث ایسی ہیں جن میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ اپنی اولاد سے پوچھئے بغیر اس کا نکاح نہ کرو الفاظ مجھے یاد نہیں لیکن مفہوم یہ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ جب تم کسی بیٹی کی شادی کرو تو اس سے اجازت لے لو ۔ اس کی خاموشی اسکی اجازت ہے اور ایک ایسی مثال ہے کہ کسی صاحب نے اپنی زیر کفایت خاتون یا لڑکی کا نکاح کر دیا اور اس نے اعتراض کیا تو حضورﷺ نے اس نکاح کو ختم کروایا اور ان سے پوچھ کر ان کا نکاح کروایا اور ایسی بھی مثالیں ہیں کہ ایھا امرت نکحت بغیر اذن ولیھا فنکا حھا باطل باطلکہ جوخاتون اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو وہ باطل ہے باطل ہے باطل ،اب بظاہر یہ دو احادیث ہیں اور ان دونوں میں تعارض ہے میں نے اس سے پہلے بتایا تھا کہ علماء نے تعارض کو حل کرنے کے کم سے کم پچاس اصول مقرر کئے ہیں ان اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ جن احادیث میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہ کرنے کا ذکر ہے ان احادیث کو ترجیح دی جائے گی اور ولی کی اجازت کے بغیر نکاح جو ہوگا وہ باطل ہوگا ؛
امام ابوحنیفہ ؒ نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے تطبیق دینے کی کوشش کی ہے وہ کہتے ہیں کہ جہاں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہ کرنے کا ذکر ہے وہاں اس کے اخلاقی پہلو کوحضورﷺ نے بیان کیا ہے کہ اخلاقی طور پر ایک خاتون کو یہ حق نہیں دیتا کہ باپ سے پوچھے بغیر جہاں چاہیے نکاح کر لے اور باپ کو بعد میں پتا چلے وہ بیچارہ پریشان ہو اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بہت مضبوط اخلاقی ہدایت ہے لیکن کیااگر کوئی خاتون نکاح کرے تو کیا وہ نکاح legally valid ہوا کہ نہیں ہوا؟یہ بڑا نازک سا معاملہ ہے فرض کریں ایک خاتون نے نکاح کرلیا اور گھروالوں کو اطلاع نہیں دی ان کو دس سال بعد پتا چلا میں ایک مثال دیتا ہوں ایک لڑکی یہاں سے پڑھنے کے لئے انگلستان گئی وہاں اپنے کلاس فیلو سے شادی کر لی ماں باپ کو پتہ نہیں چلا دس سال بعد آئی تو شوہر صاحب بھی ساتھ آئے اور تین بچے بھی ساتھ تھے اب بتایئے کہ جو فقہا کہتے ہیں کہ نکاح جائز نہیں ہے ان بچوں کو کیا کہیں گے ؟امام ابو حنیفہ ؒ کہتے ہیں کہ یہ نکاح قانوناًجائز ہے لیکن ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ان کو سزا دیں جرمانہ کریں قید میں بھی ڈالیں تھپڑ بھی لگائیں اس لئے کہ اس نے ایک ایسا کام کیا ہے جس کی اجازت حدیث میں نہیں دی گئی ہے لیکن قانوناً آپ اس کو منسوخ نہیں کر سکتے یہ ایک لمبی بحث ہے لیکن دونوں بیانات کا خلاصہ یہ ہے۔پاکستان میں عدالتیں اکثر امام ابوحنفیہ ؒ کے نقطہ نظر کے مطابق فیصلہ کرتی ہیں اس میں بھی عدالتیں کے بعض فیصلوں کے بارے میں مجھے بھی تامل ہے اس میں فیصلہ اس طرح نہیں ہوا جس طرح ہونا چاہیے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ اس موضوع پر ایک مفصل مرتب قانون ہونا چاہیے جب میں اسلامی کونسل کا رکن تھا تو وہاں میں نے یہ مسئلہ اٹھا یا تھا اور اس ضرورت کا اظہار کیا تھا کہ ایک مکمل اور جامع مسلم فیملی لا پاکستان میں تیار ہونا چاہیے جس میں اس طرح کے سارے مسائل کو مکمل طریقے سے بیان کردیا جائے اور جوکمزور پہلوہیں چھوٹے چھوٹے راستے ہیں ،ان کو بند کر دیا جائے ۔

 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

جواب : جی ہاں ؛ امام ابو حنیفہ ؒ نے حضرت انسؓ کو دیکھا تھا ۔امام صاحب اپنے والد کے ساتھ حج کیلئے گئے تھے اس وقت ان کی عمر 14;13سال تھی حضرت انسؓ مکہ مکرمہ میں تشریف لائے ہوئے تھے اور امام ابوحنیفہؒ بیان کرتے ہیں کہ جب میں حج کیلئے گیا تو مسجد حرام کے باہر ہجوم تھا بہت لوگ جمع تھے ۔ہر شخص لپک کر اس ہجوم کے مرکز تک پہنچنا چاہتاتھا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟انہوں نے کسی سے پو چھ کر بتایا کہ صحابی رسولﷺ حضرت انسؓ آئے ہیں اور لوگ ان کو دیکھنے کیلئے جمع ہو رہے ہیں۔ تو امام ابو حنیفہؓ کہتے ہیں کہ میں بھی لوگوں کے درمیان سے نکل کر ان تک پہنچ گیا اور میں نے ان کی زیارت کی ۔
ا

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

جواب: دیکھئے چہرے کے پردے کے بارے میں شروع سے ایک گفتگو چلی آرہی ہے جس میں صحابہ اور تابعین کے زمانے سے بحث ہورہی ہے قرآن پاک کی جس آیت میں آیا ہے کہ پردہ کرو اس میں آیا ہے کہ الا ماظھر منھا سوائے اس کے کہ جوظاہر ہو ۔ فقہا، محدثین، صحابہ،تابعین ، اور تبع تابعین کی ایک بہت بڑی کا کہنا ہے کہ الا ماظھر منھا یعنی سوائے اس کے جو ظاہر ہو جائے اس میں جسم کی ساخت اور قدوقامت شامل ہے جس کو نہیں چھپایا جاسکتا۔جب ایک خاتون نکل کر کہیں جائے گی تو لوگ دیکھ لیں گے کہ دبلی ہے پتلی ہے موٹی ہے بھاری ہے تو یہ ظاہر ہوجائے گا اور جسم کی ساخت کا بھی اندازہ ہوجائے گا تو یہ تو نہیں چھپایا جاسکتا اس لئے اس میں یہ شامل ہے باقی سب چیزیں چھپانی چاہیں ۔کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ اس میں جسم کے وہ اعضاء بھی شامل ہیں جن کا بعض اوقات کھولناضروری ہو تا ہے ۔ 
مثلاًکسی کام کے لئے خاتون جارہی ہے سفر پر جارہی ہے تو ہاتھ کھلا ہوگا پاؤں کھلے ہوں گے کسی مزدوری کے لیے ضرورت پڑی تو ہاتھ کھولنا پڑے گا اس میں کچھ لوگ چہرے کھولنے کو شامل سمجھتے ہیں اس لئے کہ چہرے کا پردہ واجب ہے کہ اس میں اختلاف شروع سے چلا آرہا ہے اس لئے کچھ لوگ جو چہرے کے پردے کھولنے کو بھی شامل سمجھتے ہیں ان میں امام احمد بن حنبل ؒ اورسعودی علماء شامل ہیں وہ ہر حال میں چہرے کے پردے کو لازمی سمجھتے ہیں ۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چہرے کا پردہ عام حالات میں تو کرنا چاہیے لیکن اگر کسی خاتون کو کوئی ناگزیر ضرورت ایسی پیش آجائے جس میں وہ وقتی یا مستقل طور پر چہرے کھولنے پر مجبور ہو تو چہرہ ہاتھ اور پاؤں کھولنے کی اجازت ہے ۔
تیسرا نقطہ نظریہ ہے جو مجھے بھی ذاتی طور پر دلائل وغیرہ دیکھ کر درست معلوم ہوتاہے لیکن آپ کا جو جی چاہیے وہ آپ اختیار کریں وہ ہے کہ چہرے کا ڈھکنا تو افضل اور عزیمت ہے لیکن کھولنا کی اجازت ہے چہرہ کھولنا رخصت ہے اگر وہ خاتون یہ سمجھتی ہیں کہ چہرہ نہ کھولنا سے اس کے لئے مشکلات ہیں تو وہ کھول سکتی ہیں ۔
اور یہ مسائل بعض اوقات یورپ اور دیگر مغربی ممالک میں پیش آتے ہیں جہاں ہماری بہت سی بہنوں کو نوکری کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور باہر جانا پڑتا ہے وہاں کے ماحول میں ان کو سر ڈھانکنے کی اجازت بھی بڑی مشکل سے ملتی ہے تو چہرے کے ڈھانکنے کی پابندی بھی اگر لازم کر دی جائے تو ان کے لئے شاید مشکل ہو جائے اس لئے جہاں حالات ناگزیر یا مشکل ہوں تو میرے خیال میں چہرہ کھول سکتی ہیں ۔

 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

جواب : آپ نے شاید میری پوری بات نہیں سنی میں نے کہا تھا کہ طیبات کو حلال قرار دیا گیا ہے اور خبیثات کو حرام قرار دیا گیا ہے حلال کی حدود بتا دی گئی ہیں جن کی روشنی میں کسی چیز کے طیب ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔قواعد کی نشاندہی کر دی گئی ہے بعض طیبات کی مثال دے کر بیان کر دیا گیا ہے کہ یہ اور اس طر ح کی چیزیں طیبات ہیں۔ خبیثات کے ساتھ بھی اسی طرح ہو ا وہاں بھی ضرور ی قواعد کی نشاندہی کر دی گئی لیکن اس سب تفصیل کے باوجود بعض نئی صورتیں ایسی پیش آسکتی ہیں کہ Grey Areaوہ ہو طبیات اور خبیثات کے درمیان کا علاقہ ہو جس میں رائے کا اختلاف پیدا ہو نے کا خاصا امکان ہے۔ ایک شخص کا ذوق اور رائے اس کو طیبات کی ایک قسم قرار دے اور دوسرے کا ذوق اور رائے اس کو خبیثات میں سے قرار دے۔ اس طرح کے معا ملا ت کو جو بہت مستثنیات میں سے اور بہت شاذونادر ہوں گے سلیم الطبع لوگوں کے ذوق اور صواب دید پر چھوڑ دیا گیا ۔مثال کے طور پر ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ ہر ،، ذی مخلب ،، یعنی جو پنجے والا جانور ہے جو شکار کر کے گوشت کھا تا ہے یا جانور کو پکڑ کر کھا تا ہے وہ حرام ہے ۔اس طرح سے چوپائیوں میں ہر وہ جانور جو شکار کر کے گوشت کھاتا ہے وہ حرام ہے چنانچہ بھیڑیا شیر چیتا یہ سب حرام ہیں وہ جانور جو پنجے والے نہیں یا وہ جاندار جو شکار کر کے نہیں کھاتے جن کی اصل غذا نبا تا تی ہے اور انسانوں میں ان کا دودھ استعمال کرنے کا رواج شروع سے چلا آرہا ہے وہ جائز ہیں۔ اب کچھ جانور جو متعین ہیں یعنی بکری بھیڑ گائے بیل بھینس و غیرہ یہ تو معلوم ہیں ان دونوں کے درمیان ہو سکتا ہے کہ ایسے کئی جانور بعض علاقو ں میں پائے جاتے ہوں جن کے بارے میں قطعیت کے ساتھ یہ تعین دشوار ہو کہ اس کا تعلق کون سی قسم سے ہے۔ یہ جانور بعض علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور بعض علا قو ں میں نہیں پائے جاتے مثال کے طور پر زیبرے کے بارے میں یہ اختلاف پید ا ہو ا کہ زیبرے کا تعلق کس گرہ سے ہے زیبرے کو خالص جنگی جانور مانے جائے گا جیسا کہ مثلا گدھا ہے یا اس کو اس طرح کا جانور مانا جائے جس طرح مثا ل کے طور پر بیل یا ہرن یا نیل گائے ہے۔ اس کے بارے میں اختلاف ہو سکتا ہے اس طرح کا اختلاف شریعت نے ذوق پرچھوڑ دیا کہ آپ کا ذوق اور شریعت کا فہم جو فیصلہ کرے اس کے مطابق آپ عمل کریں۔ اسی طرح سے مثال کے طور پر قرآن مجیدمیں کہا گیا ہے ،، احل لکم صید البحر و طعامہ ،، کہ سمندر کا شکار اور سمند ر کا کھانا تمہارے لیے حلا ل قرا ردیا گیا ہے اب سمندر کے کھانے اور سمندر کے شکار سے کیا مراد ہے ؟ 
کچھ فقہاء کا مثلاً امام ابو حنیفہ ؒ کا خیال ہے کہ اس سے مراد صرف مچھلی ہے اس لیے کہ مچھلی ہی وہ غذا ہے جسے طبع سلیم ہر دور میں پسند کرتی چلی آرہی ہے اور رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں، صحابہ کرامؓ کے زمانے میں اور تابعین کے زمانے میں مچھلی کھانے کا عام طور پر عربوں میں رواج تھا اور وہ مچھلی کھایا کرتے تھے۔ وہ جانور جن کو عرب کا سلیم الطبع انسان فطری طور پر ناپسند کرتا تھا وہ اگر سمندر سے پکڑے جائیں تو کیا وہ جائز ہوں گے مثلا کیکڑا یا اس طرح کے دوسرے جانور انکو امام ابو حنیفہ ؒ ناجائز کہتے ہیں جب کہ بعض دوسرے فقہا ء جائز قرار دیتے ہیں ۔

 

(ڈاکٹر محمود غازی)

جواب: اسلام کی تعلیم کے مختلف حصے ہیں ایک حصہ وہ ہے جس کا تعلق انسان کے عقائد سے ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جس کا تعلق انسان کے جذبات و احساسات سے ہے۔ تیسر ا حصہ وہ ہے جس کاتعلق انسان کے ظاہری اعمال اور جوارح سے ہے۔ پہلے دو حصو ں کا ریاست سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے اس میں فرد خود ہی بڑی حد تک شریعت پر عمل درآمد کا پابند ہے۔ معاشرہ اپنے اثرو رسوخ سے، خاندان اپنے دباؤ سے،اور نظام تعلیم اپنی تعلیم وتربیت سے ان دونوں چیزوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گا ۔
شریعت کا تیسرا حصہ جس کا تعلق انسان کے ظاہری اعمال سے ہے اس میں بھی کچھ احکام تو وہ ہیں جو فرد کی براہ راست ذمہ داری ہے اور فرد ہی ان پر عمل درآمد کا مکف ہے۔ عبادات کے معاملات ہوں،اسی طرح سے نکاح و طلاق ،گھر کے اندر کے معا ملات ہوں ان میں بھی عمومی طور پر عام حالات میں ریاست کو مداخلت کرنے کا حق نہیں ہے۔ اسی طرح معاشرت اور آداب ہیں جن کے بارے میں قرآن پاک اور سنت نے ہدایت دی ہے ۔ان معاشرتی آداب پر عمل درآمد میں بھی چند مستثنیات کے علاوہ ریاست کا کوئی رول اور کوئی کردار نہیں ہے البتہ جہاں تک تعلق ہے ان قوانین کا جن کے مخا طین اصحاب حکومت ہیں جن کے مخاطبین اولو الامر ہیں وہ براہ راست ریاست کی ذمہ داری ہیں اور ریاست بہرحال انکو نافذ کرے گی اور انکو توڑنے والوں کو سزا بھی دے گی ۔اگر اسلام کوئی معاشرہ قائم کرتا ہے کوئی تہذیب قائم کرتا ہے تو اس تہذیب کے تحفظ کے لئے ریاست بھی قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔اور وہ ریاست اسلامی قوانین کے مطابق کام کرتی ہے تو وہاں یہ کہنا انتہائی لغو اور مہمل بات ہے کہ ریاست قا نون پر عمل درآمد کے معاملہ میں مداخلت نہ کرے اس لغو اور مہمل بات کے معنی یہ ہیں کہ مثلاً چور کو کچھ نہ کہا جائے اس لئے کہ شریعت نے انسانوں کو آزادی دی ہے۔ یہ بات دنیا کا کوئی بھی نظام یا نظریہ قبول نہیں کرتا۔ نہ یہ کوئی معقول عذر ہو گا کہ چونکہ شریعت نے آزادی دی ہے لہذا چوری کی آزادی ہو نی چاہئے بد اخلاقی کی آزادی بھی ہو نی چاہئے مخدرات کے استعمال کی آزادی بھی ہو نی چاہئے۔ ان امور کا تعلق اسلام کے قوانین فوجداری سے ہے اوریہ وہ چیزیں ہیں جن پر عمل در�آمدکرانا لازماً ریاست کے فرائض میں شامل ہے۔ دنیا کی ہر ریاست کی طرح اسلامی ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فوجداری قوانین کو نافذ کرے۔ دنیا کی ہر ریاست اپنے قوانین کو نافذکرتی ہے اسی طرح اسلام کی ریاست بھی قوانین کو نافذ کرے گی۔
اسلام کے قوانین کی اساس اخلاقی ضوابط اور رو حانی اصولوں پر ہے اس لئے اسلام میں بعض او قات قانون اور اخلاقیات کی حدودمل جاتی ہیں۔ کہیں کہیں ایک ہو جاتی ہیں اور وہاں تعیین دشوار ہو تاہے کہ کس حد تک قانون کی ذمہ داری ہے اورکہاں قانون کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ شریعت نے اس معاملہ میں واضح ہدایات دی ہیں۔ اس ضمن میں کہیں کہیں دو ر جدید کے قانونی تصورات سے اسلامی قانون کا اختلاف پیدا ہو تا ہے۔اسلامی قانون بنیادی طور پر ایک اخلاقی قانون ہے اور وہ اسلام کی دینی تعلیم اور اخلاقی اصو لوں سے ہی اپنی سند جواز حاصل کرتا ہے۔ وہ اپنی قوت نافذہ قانونی اصول سے اخذ کرتا ہے لہذٰ ا اسلام میں قانونی اصو ل کا اصل مقصد اخلاقی اصول پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور اخلاقی معاشرہ قائم کرنا ہے ۔لہذا یہاں قانون اور اخلاق میں اس نو عیت کی علیحدگی ممکن ہی نہیں جواہل مغرب نے پید اکر دی ہے تاہم ریاست کی مداخلت کا دائرہ عام طور پر صرف قانونی معاملات ہیں اخلاقی امور عام طور پر ریاست کی مداخلت کے بغیر ہی انجام پانے چاہییں ۔
اسلامی تاریخ میں ایسی ہزاروں مثالیں ہیں کہ حکومت وقت نے کوئی فیصلہ کرنا چاہا اورریاست کے کسی شہری نے اس کو ذاتی آزادی کے خلاف سمجھا سیدنا عمر فاروقؓ نے ایک مرتبہ یہ فیصلہ کیا کہ مہر کی رقم کو محدود کر دیا جائے، لوگ مقابلہ کرنے لگے ہیں کہ زیادہ کون مہر رکھتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے سوچ کر یہ طے کیا کہ اس کی ایک حد بندی ہونی چاہئے اور پابند کیا جائے کہ لوگ ایک خاص حد سے زیادہ مہر ادا نہ کریں انہوں نے اس کا اعلان کیا جب وہ خطبہ دے کر نماز کے بعد مسجدسے باہر نکل رہے تھے تو دیکھا کہ ایک خاتون کھڑی ہوگئیں بوڑھی خاتون تھیں انہوں نے خلیفہ راشد کو مخاطب کر کے کہا کہ تمہیں یہ حق کس نے دیا ہے قرآن پاک تو کہتا ہے ’’ واٰتیتم احداھن قنطارا فلا تأ خذوا منہ شیئا ،،( اگر تم نے اسے سونے کا ایک ڈھیر بھی دیا ہوا ہو تو واپس نہ لو )لہذا جہاں سونے کا ڈھیر دیا جاسکتا ہے تو وہاں آپ کی حد بندی کیا معنی رکھتی ہے حضرت عمرؓ نے کہا کہ اصابت امرأۃ و اخطأعمر ،، (عورت نے صحیح کہا اور عمر نے غلطی کی ) دوبارہ لوگوں کو جمع کرنے کا حکم دیا لوگ دوبارہ جمع ہوئے فرمایا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی تھی میں اس کو واپس لیتا ہوں ۔اس لیے کہ انہوں نے فوراً احساس کر لیا کہ یہ فرد کا معاملہ ہے اور خاندان کے افراد آپس میں مشورے سے جو طے کرنا چاہتے ہیں وہ کر یں اس طرح کے معاملا ت میں ریاست کو مدا خلت نہیں کرنی چاہئے لہذا اخلاقی ہدایات اور قانونی احکام کے درمیان میر اخیال ہے حدوو ہیں وہ بہت واضح ہیں ان میں کوئی التباس اسلامی شریعت کے اعتبار سے نہیں ہے ۔
*

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

جواب: جنازے کے ساتھ چلنا اور میت کی چارپائی اٹھانے کو اسلام نے میت کے حقوق میں شامل کیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ تَبِعَ جَنَازَۃً، وَحَمَلَہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَدْ قَضَی مَا عَلَیْہِ مِنْ حَقِّہَا.جو شخص جنازہ کے پیچھے چلا اور اسے تین مرتبہ اٹھایا اس نے جنازہ کا وہ حق ادا کر دیا جو اس کے ذمہ تھا۔اور جنازے کے چاروں پائیوں کو باری باری کندھا دینا سنت ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے:
مَنِ اتَّبَعَ جِنَازَۃً فَلْیَحْمِلْ بِجَوَانِبِ السَّرِیرِ کُلِّہَا؛ فَإِنَّہُ مِنَ السُّنَّۃِ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ فَلْیَتَطَوَّعْ، وَإِنْ شَاءَ فَلْیَدَعْ.
جو شخص جنازہ کے پیچھے چلے، اُسے چارپائی کے پورے (چاروں) پائے پکڑنے چاہئیں کیونکہ یہ سنت ہے پھر اس کے بعد چاہے پکڑے اور چاہے چھوڑ دے۔

 

(منہاج القرآن)

جواب: میت کو غسل دینا فرض کفایہ ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے:
”حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحب زادی (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا) کو غسل دے رہے تھے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ طاق غسل دو یعنی تین یا پانچ بار، اور آخر میں کافور
ملا لیں۔ غسل کا سلسلہ اپنی جانب سے اور وضو کے اعضا سے شروع کریں۔“میت کو غسل دینے کا طریقہ یہ ہے کہ جس تخت پر میت کو نہلانے کا ارادہ ہو اس کو تین، پانچ یا سات مرتبہ دھونی دیں۔ پھر اس پر میت کو لٹا کر تمام کپڑے اتار دیئے جائیں سوائے لباس ستر کے، پھر نہلانے والا اپنے ہاتھ پہ کپڑا لپیٹ کر پہلے استنجا کرائے پھر نماز جیسا وضو کرائے لیکن میت کے وضو میں پہلے گٹوں تک ہاتھ دھونا اور کلی کرنا اورناک میں پانی چڑھانا نہیں ہے کیونکہ ہاتھ دھونے سے وضو کی ابتدا زندوں کے لیے ہے۔ چونکہ میت کو دوسرا شخص غسل کراتا ہے، اس لیے کوئی کپڑا بھگو کر دانتوں اور مسوڑھوں اور ناک کو صاف کیا جائے پھر سر اور داڑھی کے بال ہو تو پاک صابن سے دھوئیں ورنہ خالی پانی بھی کافی ہے۔ پھر بائیں کروٹ پر لٹا کر دائیں طرف سر سے پاؤں تک بیری کے پتوں کا جوش دیا ہوا پانی بہائیں کہ تخت تک پانی پہنچ جائے۔ پھر دائیں کروٹ لٹا کر بائیں طرف اسی طرح پانی بہائیں۔ اگر بیری کے پتوں کا اُبلا ہوا پانی نہ ہو تو سادہ نیم گرم پانی کافی ہے۔ پھر ٹیک لگا کر بٹھائیں اور نرمی سے پیٹ پر ہاتھ پھیریں اگر کچھ خارج ہو تو دھو ڈالیں۔ پھر پورے جسم پر پانی بہائے۔ اس طرح کرنے سے فرض کفایہ ادا ہوگیا۔ اس کے بعد اگر دو غسل اور دیئے تو سنت ادا ہو جائے گی ان کا طریقہ یہ ہے کہ میت کو دوسری بار بائیں کروٹ لٹایا جائے اور پھر دائیں پہلو پر تین بار اسی طرح پانی ڈالا جائے جیسا کہ پہلے بتایا گیا۔ پھر نہلانے والے کو چاہیے کہ میت کو بٹھائے اور اس کو اپنے سہارے پر رکھ کر آہستہ آہستہ اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرے۔ اگر کچھ خارج ہو تو اس کو دھو ڈالے یہ دوسرا غسل ہوگیا۔ اسی طرح میت کو تیسری بار غسل دیا جائے تو سنت ادا ہو جائے گی۔ابتدائی دو غسل نیم گرم پانی بیری کے پتے/ صابن کے ساتھ دیئے جائیں۔ تیسرے غسل میں پانی میں کافور استعمال کی جائے۔ اس کے بعد میت کے جسم کو پونچھ کر خشک کر لیا جائے اور اس پر خوشبو مل دی جائے۔
 

(منہاج القرآن)


جواب:عورت جنازے کو کندھا نہیں دے سکتی اور نہ ہی جنازے کے ساتھ چل سکتی ہے، لیکن نماز جنازہ ادا کر سکتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:نُہِینَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَاءِزِ وَلَمْ یُعْزَمْ عَلَیْنَا.ہمیں (عورتوں کو) جنازوں کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا‘ مگر تاکید سے منع نہیں ہوا۔مراد یہ ہے کہ عورت جنازے کو کندھا دے یا جنازے کے ساتھ چلے تو مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہو گا جس کی اسلام میں اجازت نہیں ہے، لہٰذا عورتیں باپردہ ہو کر الگ سے جناز گاہ پہنچ جائیں تو وہاں اُن کے لیے نماز جنازہ میں شریک ہونے کا باپردہ الگ تھلگ انتظام ہو تو وہ نماز جنازہ ادا کر سکتی ہیں کیونکہ حدیث مبارکہ سے ثبوت ملتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ جنازہ ادا کی تھی جیسا کہ حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:ادْخُلُوا بِہِ الْمَسْجِدَ حَتَّی اُصَلِّیَ عَلَیْہِ.ان کی میت کو مسجد میں لاؤتاکہ میں اس پر نماز جنازہ پڑھوں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ جنازہ باقی مسلمانوں کی طرح دعائے مغفرت کی صورت میں نہیں ہوئی تھی بلکہ تمام مرد وخواتین اور بچوں نے باری باری گروہوں کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درودو سلام بھیجا تھا یعنی عورتیں بھی شامل تھیں۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصال فرما گئے تو مردوں کو داخل کیا تو انہوں نے بغیر امام کے اکیلے اکیلے صلاۃ و سلام پڑھا پھر عورتوں کو داخل کیا گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھا پھر بچوں کو داخل کیا گیا تو انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھا۔ پھر غلاموں کو داخل کیا گیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ پڑھا اکیلے اکیلے کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر امامت نہ کروائی۔
اگر مرد موجود نہ ہوں تو عورتوں کا نمازِ جنازہ ادا کرنا بھی جائز ہے:جان لو کہ نماز جنازہ میں عورتوں کی جماعت مکروہ نہیں کیونکہ یہ نماز فرض ہے۔اگر عورت اکیلی نماز جنازہ پڑھ لے تو فرض ساقط ہوجاتا ہے۔
درج بالا تمام اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ عورتیں نمازِ جنازہ میں شریک ہو سکتی ہیں‘

(منہاج القرآن)

جواب:بیوی کا اپنے نام کے ساتھ بطورِ نسبت شوہر کا نام جوڑنا اور کسی کا اپنی ولدیت تبدیل کرنا دو الگ الگ مسئلے ہیں جبکہ کچھ لوگ مسئلہ کی نوعیت سمجھے بغیر دونوں پر ایک ہی حکم جاری کر دیتے ہیں جو عوام الناس کے لئے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ لہٰذا ہم ذیل میں دونوں موضوعات پر الگ الگ دلائل پیش کر رہے ہیں تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آ جائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اُدْعُوْہُمْ لِاٰبَآءِہِمْ ہُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللہ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَآءَہُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْتم اُن (مُنہ بولے بیٹوں) کو ان کے باپ (ہی کے نام) سے پکارا کرو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ عدل ہے، پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو (وہ) دین میں تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔(الاحزاب، 33: 5)
آیت مبارکہ میں منہ بولے بیٹوں کو منہ بولے باپ کے نام سے پکارنے کی بجائے اُن کے والد کے نام سے پکارنے کا حکم دیا کیا گیا ہے۔ اور احادیث مبارکہ میں ولدیت تبدیل کرنے والے کے لئے سخت وعیدیں سنائی گئی ہیں:
عَنْ اَبِی ذَرٍّ اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ یَقُولُ: لَیْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَی لِغَیْرِ اَبِیہِ وَہُوَ یَعْلَمُہُ إِلَّا

کَفَرَ وَمَنِ ادَّعَی قَوْمًا لَیْسَ لَہُ فِیہِمْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ.
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص جان بوجھ کر اپنے آپ کو باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی جانب منسوب کرے تو اس نے کفر کیا اور جو ایسی قوم میں سے ہونے کا دعویٰ کرے جس میں سے نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔
جان بوجھ کر ولدیت تبدیل کرنے کا حکم:
عَنْ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ یَقُولُ: مَنِ ادَّعَی إِلَی غَیْرِ اَبِیہِ وَہُوَ یَعْلَمُ اَنَّہُ غَیْرُ اَبِیہِ فَالْجَنَّۃُ عَلَیْہِ حَرَامٌ.
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو اپنے باپ کے سوا کسی اور کے متعلق دعویٰ کرے اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے۔
باپ کی بجائے غیر کی طرف نسب ظاہر کرنا بھی باعث لعنت ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ: مَنْ انْتَسَبَ إِلَی غَیْرِ اَبِیہِ اَوْ تَوَلَّی غَیْرَ مَوَالِیہِ، فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللہِ وَالْمَلَاءِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِینَ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے باپ کے غیر سے نسب ظاہر کیا یا اپنے آقا کے غیر کو اپنا آقا بنایا تو اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
مذکورہ بالا قرآن وحدیث کے واضح دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ نسب کا اظہار کرنے کے لئے اپنی نسبت والد کی بجائے کسی اور کی طرف بطور والد منسوب کرنا حرام ہے جبکہ ولدیت تبدیل کئے بغیر خاص پہچان کے لئے اپنی نسبت کسی ملک، شہر، مسلک، سلسلے، جماعت، ادارے کی طرف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مثلاً پاکستانی، عربی، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، قادری، نقشبندی،سلفی، دیوبندی وغیرہ سب نسبتیں ہیں جو پہچان کے لئے نام کے ساتھ لگائی جاتی ہیں لیکن ولدیت تبدیل نہیں ہوتی، لہٰذا بیوی کی نسبت بھی پہچان کے لئے اس کے شوہر کی طرف کی جائے تو کوئی حرج نہیں ہوتا جس کی مثالیں قرآن وحدیث سے ملتی ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ضَرَبَ اللہ مَثلًا لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا امْرَاَت نوحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْط
اللہ نے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا ہے نوح (علیہ السلام) کی عورت اور لوط (علیہ السلام) کی عورت کی مثال بیان فرمائی ہے۔التحریم، 66: 10
مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی بیویوں کی نسبت شوہروں کی طرف کی گئی ہے۔ اور درج ذیل آیت مبارکہ میں بھی حضرت آسیہ سلام اللہ علیہا کی نسبت ان کے شوہر فرعون کی طرف کی گئی ہے:
وَضَرَبَ اللہ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْن اور اللہ نے اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں زوجہ فرعون کی مثال بیان فرمائی ہے۔التحریم، 66: 11
اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ نے حاضر ہو کر اجازت مانگی۔ عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! زینب آنا چاہتی ہیں۔ فرمایا کہ کونسی زینب؟ عرض کی گئی:امْرَاَۃُ ابْنِ مَسْعُودٍ.
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں۔
اس موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی پہچان کے لئے نسبت ان کے والد کی بجائے شوہرعبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع نہیں فرمایا کیونکہ یہ نسبت پہچان کے لئے تھی نہ کہ ولدیت تبدیل کرنے لئے تھی۔ اور حضرت عطاء کا بیان ہے کہ ہم حضرت ابن عباس کے ہمراہ سرف کے مقام پر حضرت میمونہ کے جنازے پر حاضر ہوئے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا:
ہَذِہِ زَوْجَۃُ النَّبِیِّ.یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں۔
جلیل القدر صحابی حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی پہچان کے لئے اُن کے والد کی بجائے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نسبت کی، اسی طرح احادیث مبارکہ کی اسناد میں ازواج مطہرات کی نسبت متعدد بار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کی گئی ہے۔
لہٰذا عورت اپنی پہچان کے لیے اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام جوڑ سکتی ہے۔ مذکورہ بالا میں ہم نے واضح کر دیا ہے کہ نسب کے اظہار کے لیے اپنی ولدیت تبدیل کرنا حرام

ہے جبکہ کسی عورت کی پہچان کے لیے اس کی نسبت شوہر کی طرف کرنا جائز ہے۔ تحقیق کئے بغیر قرآن وحدیث کی نصوص سے غلط استدلال کرنا اور اسے کفار کا طریقہ قرار دینا علمی خیانت ہے کیونکہ قرآن وحدیث میں اپنے والد کی بجائے کسی اور کو والد ظاہر کرنے کی ممانعت ہے جبکہ بیوی کی نسبت شوہر کی طرف کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔
(مفتی: محمد شبیر قادری)

(منہاج القرآن)

جواب:علماء وآئمہ میں سے کوئی بھی مردوں کے سر ڈھانپنے کے وجوب کا قائل نہیں ہے، لیکن کچھ علماء کرام نے اسے مستحبات میں شمار کیا ہے، اور انہوں نے لوگوں کے سامنے سر ننگا کرنے کو خلاف مروت قرار دیا ہے۔ مردوں کا سر ڈھانپنا، سر پر عمامہ رکھنا اور ٹوپی پہننا علاقائی رواج یا آب ہوا کے پیش نظر ایک ضرورت ہو سکتی ہے، مگر اسے فرض، واجب یا ایسی سنت قرار نہیں دیا گیا جس کے نہ کرنے سے مرد گنہگار ہوں۔
(مفتی: محمد شبیر قادری)

(منہاج القرآن)

جواب:ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لَا یَنْہٰکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْہِمْ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَo
اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے (یعنی وطن سے) نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور اُن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو، بے شک اللہ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔اور مزید فرمایا:
اِنَّمَا یَنْہٰکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ وَظٰہَرُوْا عَلٰٓی اِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَo
اللہ تو محض تمہیں ایسے لوگوں سے دوستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ کی اور
تمہیں تمہارے گھروں (یعنی وطن) سے نکالا اور تمہارے باہر نکالے جانے پر

(تمہارے دشمنوں کی) مدد کی۔ اور جو شخص اُن سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔(الممتحنۃ، 60: 8-9)
مذکورہ بالا آیات کی روشنی میں ہم ان لوگوں سے بھلائی کر سکتے ہیں جو ہمارے ساتھ جنگ نہیں کرتے اور نہ ہی ہمیں گھروں سے نکالتے ہیں یعنی فتنہ فساد نہیں کرتے۔ یہ بھلائی مالی حوالے سے تعاون کرنا بھی ہو سکتی ہے اور دیگر معاملات میں مدد کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے۔ اور فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا
جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد انگیزی (کی سزا) کے بغیر (ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو زندہ رکھا (یعنی اس نے حیاتِ انسانی کا اجتماعی نظام بچا لیا)۔(المائدۃ، 5: 32)
مذکورہ بالا آیت مقدسہ میں مسلم وغیر مسلم کی تقسیم کئے بغیر ناحق انسانی جان کو قتل کرنا، تمام انسانیت کو قتل کرنے اور اس کو بچانا، تمام حیاتِ انسانی کو بچانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا فتنہ پرور غیر مسلموں کے علاوہ باقی کفار کے ساتھ بطورِ انسان بھلائی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
مَرَّتْ بِنَا جَنَازَۃٌ فَقَامَ لَہَا النَّبِیُّ وَقُمْنَا لَہٗ، فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللہِ، إِنَّہَا جِنَازَۃُ یَہُودِیٍّ قَالَ: إِذَا رَاَیْتُمْ الْجِنَازَۃَ فَقُومُوا.
ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ ہم عرض گزار ہوئے: یا رسول اللہ! یہ تو کسی یہودی کا جنازہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو (خواہ مرنے والے کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو)۔
مذکورہ بالا تصریحات کی رو سے امن پسند غیر مسلم کی جان بچانے کی خاطر خون کا عطیہ دینا جائز ہے۔(مفتی: عبدالقیوم ہزاروی)

 

(منہاج القرآن)

جواب:لڑکی آرائش و زیبائش کے لیے بال کاٹ سکتی ہے مگر اس کا انداز ایسا نہ ہو جس سے مَردوں کی مشابہت ہو۔
فتاوی دارالعلوم دیو بند 

(دارلافتاہ دوبند)

جواب: دریائی جانوروں میں صرف مچھلی حلال ہے اور کیکڑا مچھلی میں داخل نہیں، لہٰذا کیکڑا حلال نہیں، جھینگے کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ مچھلی ہے یا نہیں؟ جن حضرات کے نزدیک اس کا مچھلی ہونا محقق ہے وہ جائز کہتے ہیں۔ اور جن کے نزدیک مچھلی کی تعریف اس پر صادق نہیں آتی وہ اسے ناجائز کہتے ہیں، بہرحال یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے کسی جانب تشدد اختیار کرنا ٹھیک نہیں، اورجھینگا کھانے سے اجتناب کرنا زیادہ مناسب اور احوط ہے: جھینگے کی شرعی حیثیت کے عنوان سے ایک مفصل اور محقق مقالہ فقہی مقالات مولفہ حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب میں موجود ہے اس کا مطالعہ فرمالیں۔
 

(دارلافتاہ دوبند)

جواب:جی رات میں ناخن کاٹ سکتے ہیں، بالوں میں کنگھا بھی کرسکتے ہیں اور پہنے ہوئے کپڑے کی سلائی بھی کرسکتے ہیں،شرعااس میں کوءی مضاءقہ نہیں

 

(دارلافتاہ دوبند)

جواب:مندرجہ ذیل اشخاص کو سلام کرنا مکروہ ہے: ایسے شخص کو جو نماز میں یا تلاوت میں یا کھانے پینے میں مشغول ہویا وعظ ودرس میں مشغول ہو اسی طرح ایسے شخص کو جو اذان دے رہا ہو یا خطبہ دے رہا ہو یا فریقین کے درمیان فیصلے کے لیے بیٹھا ہو یا شطرنج وغیرہ کھل رہا ہو یا بول وبراز (پیشاب، پاخانہ) کے لیے بیٹھا ہو یا کشف عورت کی حالت میں ہو وغیرہ۔

(دارلافتاہ دوبند)

واب:جی ہاں ان کے حق میں دعا کرے اور حسن سلوک ترک نہ کرے کیونکہ پھر بیٹا بھی حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے ظالم ہوجائے گا اور بیٹے کا ظالم ہونا باپ کی نسبت زیادہ سنگین ہے۔

(دارلافتاہ دوبند)

جواب:بہتر یہ ہے کہ آپ خود ان سے نہ کہا کریں کہ ہروقت مت آیا کرو بلکہ کسی دوسرے ایسے شخص سے کہ جو بااثر نیک معاملہ فہم سنجیدہ مزاج ہو۔ آپ سے اور آپ کے گھر والوں سے ہمدردی کا تعلق رکھتا ہو اس سے کہلوادیں وہ موقع محل دیکھ کر حکمت سے ان کو سمجھادے کہ بیٹی کے سسرال والے گھر میں زیادہ آمد ورفت اچھی نہیں ہوتی اس سے بسا اوقات بیٹی کی سسرال والوں کی نظر میں قدر ومنزلت باقی نہیں رہتی، بیٹی کے میکہ والوں کا یہ جواب بھی اچھا نہیں کہ ہم نے بیٹی دی ہے‘ ہروقت آیا کریں گے، اس قسم کی باتوں سے وقار اور بھرم گھٹ جاتا ہے اور بیٹی بھی شوہر اور اس کے گھر والوں کی نظروں سے گرجاتی ہے۔ اللہ پاک دونوں طرف کے لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائے، حسنِ اخلاق حُسنِ انداز اور حُسن معاملہ برتنے کی توفیق دے، آپسی منافرت سے محفوظ رکھے۔ آمین
٭٭٭

(دارلافتاہ دوبند)

تعمیر مسجد سے متعلق بعض مسائل

 


سوال: (۱) ایک صاحب نے مسجد کی تعمیر کے لئے ایک پلاٹ وقف کیا تھا۔ اس پر مسجد کی تعمیر کی گئی تو کچھ جگہ باقی بچ گئی۔ کیا اس جگہ پیش امام صاحب یا موذن صاحب کے لیے رہائش گاہ بنائی جاسکتی ہے جس میں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہ سکیں، جبکہ یہ جگہ مسجد سے متصل مغربی جانب ہے۔
(۲) مسجد کے لیے جو پلاٹ وقف کیا گیا تھا اس سے متصل مشرق کی جانب کچھ کھلی جگہ اہل محلہ کے لیے چھوڑی گئی تھی۔ مسجد کی تعمیر کے وقت اس میں سے کچھ حصہ مسجد میں شامل کرلیاگیا۔ اس وقت کچھ لوگوں نے اس کی مخالفت بھی کی تھی اور کہا تھا کہ مسجد صرف اتنی جگہ پر تعمیر کی جائے جو اس کے لیے وقف ہے، لیکن تعمیری کام کے ذمے داروں نے ان کی بات کو نظرانداز کردیا اور کچھ زائد جگہ شامل کرکے اس پر مسجد تعمیر کرلی۔ کیا اس زائد جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے؟
(۳)مسجد کے سامنے مشرق کی جانب کالونی کی کھلی جگہ ہے۔ مسجد نمازیوں سے بھر جاتی ہے تو لوگ اس کھلی جگہ بھی نماز پڑھتے ہیں۔ کیا نمازیوں کی آسانی کے لیے وہاں چبوترہ بنایا جاسکتا ہے؟

جواب:(۱) مسجد کے لیے کوئی اراضی خریدی گئی ہو یا کسی نے وقف کی ہو، اس پر مسجد کی اصل عمارت کے ساتھ دیگر متعلقہ تعمیرات (مثلاً وضو خانہ، طہارت خانہ، موذن کا کمرہ، امام کا کمرہ وغیرہ) کی جاسکتی ہیں۔ اس کے لیے نہ اس صراحت کی ضرورت ہے کہ اسے مسجد کی اصل عمارت کے لیے دیا گیا ہے یا دیگر کاموں کے لیے اور نہ کسی وقف کرنے والے کے لیے مسجد کی اصل عمارت کے لیے خاص کرکے وقف کرنا مناسب ہے۔ وہ اسے مسجد کے لیے وقف کرے اور حسب ضرورت اسے مسجد سے متعلق کسی کام میں استعمال کیا جائے۔
(۲) مسجد کی تعمیر کسی مشتبہ یا نامعلوم جگہ پر کرنا شرعی و دینی اعتبار سے بھی درست نہیں ہے اور سماجی اور حکومتی طور پر بھی۔ ایسا کرنے سے بعد میں تنازعات پیدا ہوتے ہیں اور بسااوقات حکومت کی طرف سے ناجائز قبضہ ہٹانے کے لیے توڑ پھوڑ کی جاتی ہے تو مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے مسجد کی تعمیر صرف اس جگہ پر اور اتنی ہی جگہ پر کی جائے جتنی مسجد کے لیے خریدی گئی ہے، یا اسے کسی نے وقف کیا ہے۔ کسی مشتبہ زمین پر اگر مسجد کا کوئی حصہ تعمیر کرلیاگیا ہے تو یاتو اسے جلد ازجلد  Legalizeکرلیا جائے یا اس سے دستبردار ہوجایا جائے۔
(۳) مسجد بھر جائے اور اس میں نمازیوں کے لیے جگہ باقی نہ رہے تو مسجد کے باہر سڑکوں، راستوں پر نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ ایسی جگہوں پر، جو مسجد کی ملکیت میں نہ ہو، پڑھی گئی نماز درست ہے، لیکن اس جگہ چبوترہ بنانا مناسب نہیں ہے، اس لیے کہ یہ چیزبعد میں تنازع کا باعث بن سکتی ہے۔

(سید رضی الاسلام ندوی)

جواب:اسلام میں نکاح کی ترغیب دی گئی ہے اور اسے آسان تر بنایاگیا ہے اور زنا و بدکاری کے بارے میں سخت وعید سنائی گئی ہے اور ایسے قوانین وضع کیے گئے ہیں کہ اس کاارتکاب دشوار تر ہوجائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نکاح کو بہت بابرکت قرار دیا ہے جس کے مصارف کم سے کم ہوں۔ قرآنی ہدایات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پرعمل کے نتیجے میں عہد نبوی میں نکاح بہت آسان تھا۔ کنواری لڑکیاں ہی نہیں، بلکہ شوہر دیدہ عورتیں بھی اگر نکاح کرناچاہتیں تو اس میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی۔ کسی خاتون کی طلاق ہوجاتی یا اس کا شوہر کسی غزوہ میں شہید ہوجاتا یا اس کی طبیعی موت ہوجاتی تو عدّت پوری ہوتے ہی اس کے پاس نکاح کے متعدد پیغامات آجاتے اور اسے فیصلہ کرناپڑتاکہ وہ کس کے ساتھ نکاح کرے؟
اسلام میں نکاح کے مصارف برداشت کرنا مرد کے ذمے کیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے:”اے نوجوانوں کے گروہ! تم میں سے جو نکاح کرسکتا ہو اسے ضروراس کی کوشش کرنی چاہئے۔“
لڑکی اور اس کے خاندان پر نکاح کے مصارف کا کوئی بارنہیں ڈالا گیا ہے، بلکہ اسلامی احکام و تعلیمات پر عمل ہو تو اس موقع پر لڑکی خاطرخواہ رقم پاتی ہے۔ اسے مہر ملتا ہے، شوہر اس کے نان ونفقہ کی ذمہ داری لیتا ہے، رشتے داروں کی طرف سے اسے تحائف دیے جاتے ہیں۔
غیراسلامی اثرات کے نتیجے میں اب لڑکیوں کی شادیاں دشوار ہوگئی ہیں۔ منگنی، بارات، جہیز،تلک اور دیگر بے بنیاد رسموں کی مارلڑکیوں کے خاندان والوں پر پڑتی ہے۔ خاطرخواہ رقم جمع نہ ہونے کے سبب شادیوں میں تاخیر ہوتی ہے،بہت سی لڑکیاں کنواری بیٹھی رہ جاتی ہے اور نتیجے میں معاشرہ فتنہ وفساد کی آماج گاہ بن جاتا ہے۔اس صورت حال میں معاشرہ کے سنجیدہ اور باشعور طبقہ کو اس سماجی مسئلے کے حل کے لیے فکرمند ہوناچاہئے۔ ایسے میں اگر کچھ لوگ کسی ادارے کے تحت غریب مسلم بچیوں کے نکاح کا انتظام کررہے ہیں تویہ ایک بڑا کارِ خیر ہے، جس پر وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اجر وثواب کے مستحق ہوں گے۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”بیوہ اور مسکین کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ (یا فرمایا کہ) رات میں مسلسل عبادت کرنے والے اور دن میں مسلسل روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔“
دوڑ دھوپ میں ان کی خبرگیری کرنا، ان کی ضروریات پوری کرنا، ان کی پریشانیاں دْور کرنا اور وقتِ ضرورت ان کے نکاح کے انتظامات کرنا سب شامل ہے۔
ایک مجلس میں نکاح خواہ ایک جوڑے کا ہو، یا بہت سے جوڑوں کی اجتماعی طور سے شادی کردی جائے، دونوں صورتیں شرعی اعتبار سے جائز ہیں۔ بس ضروری ہے کہ نکاح کے تمام ضابطے پورے کرلیے گئے ہوں۔ مثلاً دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول ہو، مہر طے کیا گیا ہو۔ وغیرہ۔ اس موقع پراگر کوئی ایک فردیا چند افراد مل کر یاکوئی ادارہ نکاح کے مصارف برداشت کرلے، گھریلو ضروریات کی کچھ چیزیں فراہم کردے تو اس میں نہ صرف یہ کہ کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ یہ پسندیدہ کام ہے۔ محض یہ بات کہ عہد نبوی میں اس انداز سے شادیاں نہیں ہوتی تھیں، اس کام کے غیر شرعی ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔

 

(سید رضی الاسلام ندوی)

جواب:کوئی چیز ہبہ کرکے اسے واپس لینے کے سلسلے میں متعدد احادیث مروی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روا یت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”ہمارے پاس اس سے بری کوئی اور مثال نہیں۔ جو شخص کوئی چیز ہبہ کرکے واپس لیتا ہے وہ کتے کی طرح ہے، جو قے کرکے اسی کو چاٹ لے۔“
دوسری روایت میں، جو حضرت ابن عباس اور ابن عمر سے مروی ہے، کچھ تفصیل ہے۔ اس میں ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی عطیہ دے یا کوئی چیز ہبہ کرے، پھر اسے واپس لے لے، صرف باپ کو اجازت ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو دی ہوئی کوئی چیز واپس لے سکتا ہے۔ جو شخص ایسا کرتا ہے اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ وہ بھرپیٹ کھائے، یہاں تک کہ اسے قے ہوجائے، پھر وہ اسی کو چاٹ لے۔“
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز ہبہ کرکے اسے واپس لینا جائز نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سخت ناپسندیدہ قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والے کو کتے سے تشبیہ دی ہے، جو قے کرکے دوبارہ اسے چاٹ لے۔ حدیث میں باپ کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے کہ وہ اگر اپنے بیٹے کوکوئی چیز ہبہ کردے تو اسے واپس لے سکتا ہے۔ بعض احادیث میں اس کی تفصیل مذکور ہے۔ ایک صحابی اپنے ایک بیٹے کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر پہنچے اور عرض کی: میں نے اپنے اس بیٹے کو فلاں چیزدی ہے۔ آپ نے دریافت فرمایا: کیا تم نے وہ چیز اپنے تمام بیٹوں کو دی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔تب آپ نے فرمایا: یہ غلط ہے۔ یا تو اپنے تمام بیٹوں کو وہ چیز دو یا اِس سے بھی واپس لے لو۔ اس سے معلوم ہوا کہ باپ کے اپنے بیٹے کو دی ہوئی چیز واپس لینے کی اجازت کا تعلق ظلم وزیادتی سے ہے کہ اگر اس نے دوسرے بیٹوں کی حق تلفی کرتے ہوئے کوئی چیز کسی ایک بیٹے کو دی ہے تو اسے واپس لے لے۔
فقہاء کرام میں سے مالکیہ، شافعیہ، اور حنابلہ کامسلک درج بالااحادیث کے مطابق ہے، یعنی کوئی چیز ہبہ کرکے اسے واپس لیناجائز نہیں ہے۔
لیکن احناف کہتے ہیں کہ بعض دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہبہ واپس لیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ہبہ کرنے والا اپنے ہبہ کا زیادہ مستحق ہے،اگر اس نے اس کا کوئی بدلہ نہ حاصل کرلیا ہو۔“
اس سے معلوم ہوا کہ ہبہ دینے والے کواسے واپس لینے کا قانونی طور پر حق ہے۔ جن احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے ان کا تعلق اخلاقیات سے ہے۔ ان کا استدلال اس سے بھی ہے کہ حضرات صحابہ میں سے عمر، عثمان، علی، ابن عمر، ابودرداء اور فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہم ہبہ دے کر اسے واپس لے لینے کو جائز سمجھتے تھے اور دیگر صحابہ سے اس کے خلاف مروی نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس مسئلے میں تمام صحابہ کا اجماع ہے۔
احناف کے نزدیک ہبہ کی واپسی کاعمل اس وقت صحیح ہوگا جب دونوں فریق راضی ہوں یا ہبہ واپس چاہنے والا اپنا معاملہ عدالت میں لے جائے اور قاضی اس کی واپسی کا حکم دے۔ لیکن بعض صورتیں ایسی ہیں جب احناف کے نزدیک بھی ہبہ کی ہوئی چیز واپس نہیں کی جائے گی۔
(۱) وہ چیز پورے طور پر تلف ہوگئی ہے۔ اگر کچھ حصہ تلف ہوگیا ہو اور کچھ باقی ہو اور ہبہ دینے والا اس باقی حصے کو وا پس مانگ رہاہو تو اسے واپس کرنا ہوگا۔
(۲)وہ چیز جس کو ہبہ کی گئی ہو اس کی ملکیت سے نکل گئی ہو۔ مثلاً اس نے اسے بیچ دیا ہو یا کسی اور کو ہبہ کردیا ہو۔
(۳)اس میں کوئی ایسا اضافہ کردیاگیا ہو، جو اس سے الگ نہ ہوسکے، مثلاً کوئی زمین ہو اور اس میں گھر بنالیاگیا ہو، یا درخت لگادیے گئے ہوں۔
(۴)ہبہ کرنے والے کو اس کے ہبہ کے بدلے میں کوئی چیز دی گئی ہو اور اسے اس نے قبول کرلیاہو۔
(۵)اس چیز کی ماہیت بدل گئی ہو۔ مثلاً گیہوں کو پیس لیاگیا ہو، یا آٹا کو گوندھ لیاگیا ہو۔
(۶)دونوں فریقوں میں سے کسی ایک کا انتقال ہوگیا ہو۔

(سید رضی الاسلام ندوی)

ج:عورتیں قبرستان جا سکتی ہیں۔اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔ البتہ قبرستان، چونکہ عام طور پر آبادیوں سے ہٹ کر نسبتاً ویران جگہوں پر ہوتے ہیں، اس لیے خواتین کا وہاں تنہا جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس پہلو سے ضرور احتیاط کرنی چاہیے۔عورت طہر اور حیض دونوں زمانوں میں قبرستان میں جا سکتی ہے۔ قبرستان کا معاملہ مسجد کی طرح کا نہیں ہے۔ وہ کسی قبر پر کھڑے ہو کر دعائے مغفرت بھی کر سکتی ہے۔

(محمد رفیع مفتی)

ج: حرام رزق کے ساتھ جو نماز پڑھی جاتی ہے، وہ اللہ کے ہاں مقبولیت نہیں پاتی، لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے، بلکہ انسان کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے جس عمل کے ساتھ بھی دل کی گہرائی کے ساتھ چپکا ہوتا ہے، وہی عمل بالآخر دوسرے اعمال پر غلبہ پا لیتا ہے۔یہ بات تو ظاہر ہے کہ اس وقت اس شخص کی نماز سچے عابد کی نماز نہیں ہے، کیونکہ خدا کا سچا بندہ اپنے دل سے خدا کا فرماں بردار بھی ہوتا ہے، لیکن اگر یہ شخص اپنے جرائم کو آج یا آیندہ کسی وقت دل سے ناگوار جانتا، خود کو غلط قرار دیتا اور اللہ کے سامنے شرمندہ ہوتا رہتا ہے، گو یہ ابھی ان سے باز نہیں بھی آ رہا تو یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کی نماز اس کی بد اعمالیوں پر غلبہ پا لے، یہ توبہ کر لے اور اپنے اچھے انجام کو پہنچے۔ البتہ، اگر معاملہ برعکس ہوا تو پھر توقع بھی برعکس ہی کی ہے،کیونکہ ارشاد باری ہے:''البتہ جس نے کمائی کوئی بدی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیاتو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔'' (بقرہ2: 81)
یعنی انسان خواہ کیسا ہی نمازی یا روزے رکھنے اور حج کرنے والا کیوں نہ ہو، اگر اس نے کسی ایک برائی کو سچے دل کے ساتھ اس طرح سے چمٹ کر اختیار کر لیا کہ وہ برائی اس پر چھا گئی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیا تو اب اس کی سب نیکیاں برباد ہو جائیں گی اور وہ جہنم میں جائے گا۔

(محمد رفیع مفتی)

ج: اگر آپ کے شوہر کا یہ بیان کہ "میں نے طلاق کے الفاظ ارادۃً ادا نہیں کیے تھے، بلکہ صرف تمھیں ڈرانے کے لیے بولے تھے" بالکل درست اور ہر شک و شبہ سے بالا ہے، یعنی وہ حلفاً ایسا کہہ سکتے ہیں تو پھر صحیح بات یہ ہے کہ یہ طلاق واقع ہی نہیں ہوئی۔ چنانچہ آپ تسلی سے ان کے ساتھ زندگی بسر کریں۔البتہ اگر دوسروں کی باتوں یا کسی اور وجہ سے آپ خود کسی تردد میں مبتلا ہیں تو پھر آپ کے لیے یہ بات شاید بہتر ہو گی کہ آپ ایک طلاق واقع ہونے والا فتوی تسلیم کرتے ہوئے احتیاطاً اپنے شوہر سے دوبارہ نکاح کر لیں۔ تاہم یہ واضح رہے کہ یہ کوئی فقہی و شرعی حل نہیں ہے، بلکہ اس تجویز کا مقصد محض آپ کے تردد کو دور کرنا ہے۔

(محمد رفیع مفتی)

ج:موسیقی میں سے ہر اس چیز کی نفی کی ضرورت ہے جو اخلاقی اور دینی اعتبار سے ممنوع ہے۔ مثلاًموسیقی کی وہ دھنیں جو سفلی جذبات کو ابھارتی ہیں، ان سب کی نفی ہونی چاہیے۔موسیقی کے ساتھ جو کلام پیش کیا جاتا ہے، اس میں سے شرکیہ، فحش اور انسان میں فتنہ یا کوئی دینی و اخلاقی خرابی پیدا کرنے والے سب مضامین کی نفی ہونی چاہیے۔محافل موسیقی میں ہر اس مغنی یا مغنیہ کی نفی ہونی چاہیے جو اپنے چہرے، جسم یا انداز و ادا ہی سے فتنے کا باعث ہو۔بعض محافل موسیقی میں شراب و کباب کا وجود بھی پایا جاتا ہے، چنانچہ ظاہر ہے ایسی سب حرام چیزوں کی نفی ہونی چاہیے۔سننے والا اگر محسوس کرے کہ موسیقی اس کے تزکیہ نفس کے راستے میں رکاوٹ ہے تو اس کے لیے جائز موسیقی بھی ممنوع ہے۔

(محمد رفیع مفتی)

ج:عورتوں کا اپنی زیب و زینت کے لیے مختلف طریقے اختیار کرنا خالصتاً معاشرتی مسئلہ ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مختلف تہذیبیں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہمیں دوسری تہذیب سے غیر شرعی رسوم لینے سے منع کرتا ہے اور جو رسوم غیر شرعی نہیں ہیں، ان کو اپنا لینے پر اسے کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ناک میں سوراخ کرا کر لونگ پہننا مسلمانوں نے خواہ ہندووں ہی سے لیا ہو، لیکن اب یہ خود بعض علاقوں کے مسلمانوں میں رائج ہو گیا ہے۔ ہمارے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کوئی اسے اختیار کرنا چاہتا ہے تو کر سکتا ہے۔

(محمد رفیع مفتی)

ج:آپ نے نکاح کے حوالے سے خدا کی گواہی کی جو بات سنی ہے، وہ درست نہیں ہے اور اس پرآپ کا تردد بالکل صحیح ہے.
شریعت نے نکاح کیلیے جن باتوں کو لازم قرار دیا ہے. وہ درج ذیل ہیں:
1.    حق مہر
2.    پاک دامنی
3.    علانیہ ایجاب و قبول(کم از کم دوگواہوں کا موجود ہونا)
4.    مستقل رفاقت کی نیت

 

(محمد رفیع مفتی)

جواب :  شریعت میں وراثت اور وصیت دونوں کے احکام کھول کھول کر بیان کردیے گئے ہیں، اس لیے وصیت کی بنیاد پر وراثت کے احکام کو معطل نہیں کیاجاسکتا۔ وصیت کسی وارث کے حق میں جائز نہیں اور غیروارث کے لیے کل ترکہ کے ایک تہائی سے زائد مال کی وصیت نہیں کی جاسکتی۔
صورتِ مسؤلہ میں گود لی ہوئی لڑکی اور اس کے شوہر کے حق میں صرف ایک تہائی مال و جائداد (پراپرٹی) کی وصیت کی جاسکتی ہے۔ سائل کا انتقال ہونے کی صورت میں ان کی اہلیہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے ایک چوتھائی ترکہ کی حق دار ہوں گی     (النساء:۱۲) بقیہ ترکہ عصبہ ہونے کی وجہ سے ان کے بھائیوں کو ملے گا۔

 

(رضی الاسلام ندوی)

جواب: غیرمسلموں سے تعلقات کے ضمن میں یہ اصول ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ان کے مشرکانہ کاموں میں شرکت اور تعاون کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے، البتہ ان کے غیرشرکیہ کاموں اور تہواروں میں شرکت کی جاسکتی ہے اور انھیں تعاون بھی دیا جاسکتا ہے۔جہاں تک پرساد کا معاملہ ہے، اگر وہ بتوں کا چڑھاوا ہو تو کسی مسلمان کے لیے اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔ بسم اللہ پڑھ کر بھی وہ جائز نہیں ہوسکتا۔ قرآن کریم میں حرام ماکولات کی جو فہرست بیان کی گئی ہے ان میں یہ بھی ہے:
وَمَا اْہِلَّ بِہ لِغَیرِ اللہِ                             (البقرۃ:)
”وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیاگیا ہو۔“
غیرمسلم اس طرح کی کوئی چیز دیں تو ان سے دریافت کیاجاسکتاہے اور اگر وہ بتوں کا چڑھاوا ہو تو اسے لینے سے معذرت کی جاسکتی ہے۔ انھیں بات سمجھادی جائے تو وہ اسے دینے پر اصرار نہیں کریں گے، آئندہ احتیاط کریں گے اور اس کا بْرابھی نہیں مانیں گے۔

 

(رضی الاسلام ندوی)

جواب: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال ودولت سے نوازا ہو اسے چاہئے کہ وہ شکرانے کے طور پر دوسرے غریب اور ضرورت مند انسانوں پر خرچ کرے۔ قرآن میں ہے:
وَفِی اَموَالِہِم حَقّ لِّلسَّاءِلِ وَالمَحرْومِ۔ (الذاریات: ۱۹)
”اور ان کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لئے“
مال خرچ کرنے کو ’انفاق‘ کہا جاتا ہے۔ قرآن وحدیث میں انفاق کی ترغیب دی گئی ہے اور اللہ کی خوش نودی کے لئے زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ اس کی انتہا یہ ہے کہ آدمی کے پاس اس کی اپنی بنیادی ضروریات سے زیادہ جتنا مال ہو، سب خرچ کردے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:”پوچھتے ہیں: ہم راہِ خدا میں کیا خرچ کریں؟ کہو: جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو“۔
انفاق کی ایک مخصوص صورت زکوٰۃ کی ہے۔جس شخص کے پاس کم از کم مال کی ایک متعین مقدار ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ان میں سے کسی ایک کی مالیت کے بقدر نقد رقم ہو اور وہ سال بھر اس کے پاس محفوظ رہے تو اس میں سے ڈھائی فیصد نکالنا اور اس کی مخصوص مدات میں اسے خرچ کرنا اس پر فرض ہے۔ اسے زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔
جس شخص پر جتنی رقم بطور زکوٰۃ عائد ہوتی ہے وہ اس سے زیادہ خرچ کرسکتا ہے۔ اس پر وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اجر وثواب کا مستحق ہوگا، لیکن ڈھائی فیصد سے اوپر کی رقم کو زکوٰۃ نہیں کہا جاسکتا۔ اسے صدقہ، خیرات، عطیہ، ہبہ، اعانت، کچھ بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں اور ہرفرض کی رکعتیں بھی متعین کردی ہیں۔ اب کوئی شخص ان اوقات میں مزید نمازیں پڑھ سکتا ہے، لیکن ان کی حیثیت نوافل کی ہوگی، وہ فرض رکعتوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کرسکتا۔
زکوٰۃ اور صدقات کو الگ الگ رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے، کیوں کہ زکوٰۃصرف مخصوص  مدات میں خرچ کی جاسکتی ہے، جن کی صراحت قرآن کریم (التوبۃ:) میں کردی گئی ہے۔ جبکہ صدقات کی رقمیں ہر کارِ خیر میں صرف کی جاسکتی ہیں۔ جو تنظیمیں یا ادارے زکوٰۃ وصول کرتے ہیں وہ بھی زکوٰۃ اور صدقات کا الگ الگ حساب رکھتے ہیں، اس لئے انھیں کوئی رقم حوالے کرتے وقت یہ صراحت مناسب، بلکہ ضروری ہے کہ اس میں سے اتنی رقم زکوٰۃ کی ہے اور اتنی عطیہ ہے۔

(رضی الاسلام ندوی)

جواب: زکوٰۃکی جو مدات قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ ان میں سے ایک ’وفی الرقاب‘ (التوبۃ) ہے،یعنی گردنوں کو چھڑانے میں۔ نزولِ قرآن کے عہد میں غلامی کا رواج تھا۔ انسانوں کی گردنیں اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی تھیں۔ قرآن نے ان کی گلوخلاصی کو کارثواب قرار دیا۔ جمہور علماء و مفسرین کا خیال ہے کہ ’فی الرقاب‘ سے مراد غلام ہیں۔ چوں کہ غلامی کی یہ رسم الحمد للہ اب ختم ہوگئی ہے،اس لیے زکوٰۃ کا یہ مصرف اب باقی نہیں رہا۔اْس زمانے میں ایسے قیدی بھی پائے جاتے تھے، جو مختلف جنگوں میں گرفتار کرلیے جاتے تھے، اس لئے کتبِ فقہ میں ایک بحث یہ ملتی ہے کہ کیا زکوٰۃ قیدیوں کو چھڑانے میں صرف کی جاسکتی ہے؟ جمہور فقہاء کہتے ہیں کہ قیدی کو چھڑانے میں زکوٰۃ کی رقم خرچ نہیں کی جاسکتی، لیکن بعض علماء، جن میں ابن عبدالحکم مالکی، قاضی ابن العربی مالکی، امام احمد(ایک روایت کے مطابق) اور علامہ ابن تیمیہ قابل ذکر ہیں، اس کی اجازت دیتے ہیں۔ادھرکچھ عرصے سے ہندوستانی مسلمان جس صورت حال سے دوچار ہیں اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کے نوجوانوں کو بلاکسی قصور کے جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہے۔ ان پر اتنے مقدمات لا ددیے جاتے ہیں کہ ان کی پیروی میں برسوں گزر جاتے ہیں اورجیلوں سے ان کی رہائی ممکن نہیں ہوپاتی۔ ان کی رہائی کے لئے قانونی چارہ جوئی کرنا، ان کے مقدمات کی پیروی کرنا، انھیں قید وبند سے چھٹکارا  دلانا اور ان کی فلاح وبہبود کے دیگر کام انجام دینا وقت کااہم تقاضا ہے۔ امت کے سربرآوردہ طبقے کو اس کی فکر کرنی چاہیے اوراس کے لیے ہرممکن تدبیر اختیار کرنی چاہیے۔کیا  ریاستی  دہشت گردی کے شکار ان اسیران کے مقدمات کی پیروی اور ان کو رہائی دلانے کی کوششوں میں زکوٰۃکی رقم خرچ کی جاسکتی ہے؟فقہائے کرام کو اس موضوع پر غور کرنا چاہئے۔ راقم کی رائے ہے کہ مذکورہ معاملہ زکوٰۃ کا مصرف بن سکتا ہے۔ قرآن نے ’وفی الرقاب‘ (گردنیں  چھڑانے میں) کی جامع تعبیر اختیار کی ہے۔ زمانہ قدیم میں اس کا انطباق غلاموں پر ہوتا تھا۔ موجودہ دور میں ہندوستان کے اسیرانِ بلا کی حالت ان سے مختلف نہیں ہے۔ان مظلومین کے سلسلے میں کرنے کے دو کام اور ہیں، جو شاید ان کے مقدمات کی پیروی سے زیادہ اہم ہیں:اول یہ کہ یہ نوجوان عام طور پر اپنے گھروں کا سہارا ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعہ معاش پر ان کے پورے خاندان کا انحصار ہوتا ہے۔ قیدوبند کی بنا پر ان کا سلسلہ معاش منقطع ہوجانے کی وجہ سے ان کے خاندان بڑی آزمائش میں مبتلاہوجاتے ہیں۔ بسا اوقات ان کے افراد خانہ دانے دانے کو محتاج ہوجاتے ہیں۔ ایسے موقع پر ضروری ہے کہ متمول حضرات ان خاندانوں کی خبر گیری کریں اور ان کی معاشی کفالت کی ذمے داری لیں۔ دوم یہ کہ جیلوں میں ان نوجوانوں کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے، ان کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کی جاتیں اور ان کو جسمانی اور نفسیاتی اذیتیں دی جاتی ہیں۔ ایسے میں ان نوجوانوں کی راحت رسانی کی بھی کوشش کرنی چاہئے، ممکن ہوتو انھیں کچھ سہولیات مثلاً پہننے کے کپڑے اور غذائی اشیاء وغیرہ پہنچائی جائیں۔ دینی لٹریچر، کتب ورسائل بھی پہنچائے جائیں، تاکہ ان کی دینی معلومات میں اضافہ ہو اور ذہنی ونفسیاتی سکون بھی مل سکے۔

(رضی الاسلام ندوی)

جواب:کوشش کرنی چاہیے کہ زکوٰۃ کی رقم صحیح طریقے سے مستحقین تک پہنچے۔ اسے فوراً خرچ کرنا ضروری نہیں ہے۔ مولانامجیب اللہ ندوی نے لکھاہے:
”اگر کسی نے زکوٰۃ کی نیت سے روپیہ نکال کر علیٰحدہ کردیا اور یہ ارادہ کیاکہ سال بھر کے اندر تھوڑا تھوڑا غریبوں پر خرچ کردے گا تو یہ جائز ہے۔“ 
یہی معاملہ اداروں اور جماعتوں کا ہے۔ ان کی حیثیت مستحقین کے نمائندہ اور وکیل کی ہوتی ہے۔ زکوٰۃ کی جو رقم ان کے پاس جمع ہو، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایمان داری کے ساتھ اور صحیح طریقے سے ان تک پہنچائیں۔ مالِ زکوٰۃ کو تقسیم کرنے کے لیے کسی ادارہ یا جماعت کے حوالے کرنے سے صاحبِ نصاب کا فرض ادا ہوجاتا ہے اور وہ بری الذمہ ہوجاتاہے۔ اب ادارہ یا جماعت کی ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ وہ ایک نظم بناکر اسے مستحقین تک پہنچائے۔ ایک رمضان میں جمع کی گئی رقم اگلے رمضان سے قبل خرچ کردی جائے تو بہتر ہے، لیکن اگر اس میں سے کچھ بچ رہے اور اسے بعد میں خرچ کرنے کی نوبت آئے تو اس میں بھی کوئی مضایقہ نہیں ہے۔

(رضی الاسلام ندوی)

عورت کو مار پیٹ کرنے والے پڑھے لکھے پاگل کے متعلق شرعی حکم
س-85 ایک آدمی پڑھا لکھا ہے، اسلامیات میں ایم اے کیا ہوا ہے، بیوی کو کوئی عزت نہیں دیتا، بیوی پر طرح طرح کے الزامات لگاتا ہے، ہر کام میں نقص نکالتا ہے، ہر نقصان کا ذمہ دار بیوی کو ٹھہراتا ہے، گندی گندی گالیاں بکتا ہے، بیوی کی پاک دامنی پر الزامات لگاتا ہے، بیوی کے رشتہ داروں کی پاک دامنی پر بھی الزامات لگاتا ہے، بیوی کو اس کے رشہ داروں کے گھر جانے نہیں دیتا۔ بیوی کا دِل اگر چاہتا ہے کہ وہ بھی اپنے میکے میں کہیں جائے تو ڈَر کی وجہ سے اجازت طلب نہیں کرتی، کیونکہ شوہر اس کے گھر والوں کا نام سنتے ہی آگ بگولہ ہوجاتا ہے اور چِلَّا چِلَّاکر اس کے گھر والوں کو گندی گندی گالیاں بکتا ہے، بیوی بے چاری مہینوں مہینوں اپنے گھر والوں کی صورت کو بھی ترس جاتی ہے، بے بس ہے، جب زیادہ یاد آتی ہے تو چپکے چپکے رو لیتی ہے، اور صبر و شکر کرکے خاموش ہوجاتی ہے۔ بیوی کے گھر والے اگر بلائیں تو (شوہر جو کہ شکی مزاج ہے) بیوی اور اس کے میکے والوں پر گندے گندے الزامات لگاتا ہے۔ زیادہ غصہ آئے تو چہرے پر تھپڑوں کی بھرمار کردیتا ہے۔کچھ عرصے کی بات ہے کہ شوہر نے اپنی بیوی کو گالیاں دیں اور بہت سے مردوں کے نام لے کر اس کی پاک دامنی پر الزام لگایا، یہاں تک کہ بیوی کے بھانجوں اور بھتیجوں تک کے ساتھ الزام لگانے سے باز نہ آیا، اس کے میکے والوں پر بھی گندے گندے الزامات لگائے، تین چار روز بعد بیوی سے کہا کہ: مجھے معاف کردو بیوی نے کہا کہ: ’’اب تو میں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی، کیونکہ آپ ہر بار معافی مانگنے کے بعد بھی یہی کرتے ہیں لیکن شوہر بارہا معافی مانگتا رہا اور اس نے یہاں تک وعدہ کیا کہ: ‘‘دیکھو میں کعبۃ اللہ کی طرف ہاتھ اْٹھاکر حلفیہ تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ اب میں کبھی بھی تم پر اور تمہارے گھر والوں پر کوئی الزام نہیں لگاؤں گا’’ بیوی نے معاف کردیا، مگر ابھی اس معافی کو بمشکل دو ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ شوہر صاحب پھر وعدہ بھلاکر اپنی پْرانی رَوِش پر اْتر آئے، اب تو بیوی بالکل بھی معاف نہیں کرتی، شوہر جب بھی اس کی پاک دامنی پر الزامات لگاتا ہے تو بیوی چار بار آسمان کی طرف اْنگلی اْٹھاکر چار گواہوں کی طرف سے اللہ کو گواہ بناتی ہے اور پانچویں بار اللہ کو گواہ بناکر اپنی پاک دامنی پر لگائے ہوئے الزامات کا بدلہ اللہ کو سونپ دیتی ہے، کیونکہ کہتے ہیں کہ عورت کی پاک دامنی پر الزام کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے الزام لگانے والے پر ۸۰ دْرّوں کی سزا رکھی ہے، اب بیوی اپنے شوہر کی ہر بات صبر اور شکر سے سنتی ہے، اور خاموش رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو کہتی ہے کہ: ‘‘اے اللہ! تو ہی انصاف سے میرے ساتھ کی جانے والی تمام حق تلفیوں کا بدلہ دْنیا اور آخرت میں لے لینا’’ مولانا صاحب ایسے مرد کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

ج-85 اس شخص کے جو حالات آپ نے لکھے ہیں، ان کے نفسیاتی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص ‘‘پڑھا لکھا پاگل’’ ہے، گالیاں بکنا، تہمتیں دھرنا، مارپیٹ کرنا، وعدوں سے پھرجانا، اور قسمیں کھاکھاکر توڑ دینا، کسی شریف آدمی کا کام نہیں ہوسکتا۔ جو شخص کسی پاک دامن پر بدکاری کا الزام لگائے اور اس پر چار گواہ پیش نہ کرسکے، اس کی سزا قرآنِ کریم نے ۸۰ دْرّے تجویز فرمائی ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بڑے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے، اور جو شخص اپنی بیوی پر تہمت لگائے، بیوی اس کے خلاف عدالت میں لعان کا دعویٰ کرسکتی ہے، نکاح ختم کرنے کا دعویٰ کرسکتی ہے، جس کی تفصیل یہاں ذکر کرنا غیرضروری ہے۔ اب اگر آپ اپنا معاملہ یوم الحساب پر چھوڑتی ہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آپ کو ان تمام زیادتیوں کا بدلہ دِلائیں گے، اور اگر آپ دْنیا میں اس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہیں تو آپ کو عدالت سے رْجوع کرنا ہوگا کہ مظلوم لوگوں کے حقوق دِلانا عدالت کا فرض ہے۔ اس کے علاوہ آپ یہ بھی کرسکتی ہیں کہ دو چار شریف آدمیوں کو درمیان میں ڈال کر اس سے طلاق لے لیں اور کسی دْوسری جگہ عقد کرکے باعزت زندگی بسر کریں۔ حضور ؐ نے فرمایا ‘‘خیرکم خیرکم لاھلہ وانا خیرکم لاھلی۔’’(مشکوٰۃ ص:۱۸۲)
‘‘تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سب سے بڑھ کر اچھا ہوں۔’’
 لڑکیوں سے قطع تعلق اور حصے سے محروم کرنا

(محمد یوسف لدھیانوی)

ج- اگر زیور بیوی کی ملکیت ہے تو وہ جس طرح چاہے اور جہاں چاہے خیرات کرسکتی ہے، شوہر کا اس پر کوئی حق نہیں۔ لیکن حدیثِ پاک میں ہے کہ عورت کے لئے بہتر صدقہ یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر اور بال بچوں پر خرچ کرے۔ اس لئے میں اس نیک بی بی کو جو پندرہ سو روپے خرچ کرنا چاہتی ہے، مشورہ دْوں گا کہ وہ اپنے زیور سے اپنے شوہر کا قرضہ ادا کردے، اس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوجائیں گے اور اس کو جنت میں بہترین زیور عطا کریں گے۔

(محمد یوسف لدھیانوی)

ج- حضرت خدیجہ والی بات صحیح ہے آج بھی یہ بات برائی نہیں لیکن اس کی صورت یہ ہے کہ خود یا اپنی سہیلیوں کے ذریعے اپنی والدہ تک اپنی خواہش پہنچادے، اور یہ بھی کہہ دے کہ میں کسی بے دِین سے شادی کرنے کے بجائے شادی نہ کرنے کو ترجیح دْوں گی، اور اللہ تعالیٰ سے دْعا بھی کرتی رہے۔

(محمد یوسف لدھیانوی)

اسلامی اَحکامات میں والدین کی نافرمانی کس حد تک؟
س-85 آج کل کے ماحول میں اگر اسلامی تعلیمات پر کوئی شخص پوری طرح عمل کرنا چاہے تو باقی دْنیا اس کے پیچھے پڑجاتی ہے، اور اگر وہ شخص اپنی ہمت اور قوّتِ برداشت سے ان کا مقابلہ کر بھی لیتا ہے تو اس کے گھر والے خصوصاً والدین اس کے راستے میں سب سے بڑی رْکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مثلاً: میں کئی لوگوں کو جانتا ہوں جنھوں نے اپنے ماں باپ کی وجہ سے تنگ آکر اپنی داڑھیاں تک کٹوادیں، اور اگر والدین کو سمجھاؤ تو کہتے ہیں کہ:‘‘اسلام میں تو باپ اور ماں کا بہت مقام ہے، ماں کی اجازت کے بغیر جہاد پر بھی نہیں جاسکتے، لہٰذا کوئی عمل بھی ہماری مرضی اور اجازت کے بغیر نہیں کرسکتا۔’’ خصوصاً جب کوئی شخص اپنا لباس اور چہرہ سنت کے مطابق بنالیتا ہے تو پھر اس کے گھر والے اس کا جینا حرام کردیتے ہیں، یا کوئی شخص ٹی وی دیکھنا چھوڑ دے، گانے سننا چھوڑ دے، بینک میں نوکری نہ کرے، نامحرَم سے بات چیت نہ کرے، اور حتی الامکان اپنے آپ کو منکرات سے بچائے تو والدین کہتے ہیں کہ: ’’جناب! یہ کونسا اسلام ہے کہ آدمی باقی دْنیا سے الگ تھلگ ہوکر بیٹھ جائے‘‘ اسلام کے اندر کیا حدود ہیں، کسی سنت کو اگر والدین منع کریں تو ہم اس کو چھوڑ دیں؟

ج-85 یہ اْصول سمجھ لینا چاہئے کہ جس کام میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہو، اس میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ نہ ماں باپ کی، نہ پیر اور اْستاد کی، نہ کسی حاکم کی۔ 
والدین کے کہنے سے ٹی وی دیکھنا، گانے سننا اور نامحرَموں سے ملنا بھی حرام ہے، جب ان گناہوں پر قہرِ اِلٰہی نازل ہوگا تو نہ والدین بچاسکیں گے اور نہ عزیز و اقارب اور دوست احباب۔
والدین کا بڑا درجہ ہے اور ان کی فرمانبرداری اولاد پر فرض ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ والدین کسی جائز کام کا حکم کریں، لیکن اگر بگڑے ہوئے والدین اپنی اولاد کو جہنم کا ایندھن بنانے کے لئے گناہوں کا حکم کریں تو ان کی فرمانبرداری فرض کیا، جائز بھی نہیں، بلکہ ایسی صورت میں ان کی نافرمانی فرض ہے۔ ظاہر ہے کہ والدین کا حق اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر نہیں۔ اور یہ دلیل جو پیش کی گئی کہ والدین کی اجازت کے بغیر جہاد پر جانا بھی جائز نہیں، یہ دلیل غلط ہے، اس لئے کہ یہ تو شریعت کا حکم ہے کہ اگر جہاد فرضِ عین نہ ہو اور والدین خدمت کے محتاج ہوں تو والدین کی خدمت کو فرضِ کفایہ سے مقدّم سمجھا جائے، اس سے یہ اْصول کیسے نکل آیا کہ والدین کے کہنے پر فرائضِ شرعیہ کو بھی چھوڑ دیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی کھلی نافرمانیوں کا بھی ارتکاب کیا جائے۔اور یہ کہنا کہ ‘‘یہ کونسا اسلام ہے کہ آدمی باقی دْنیا سے الگ تھلگ ہوکر بیٹھ جائے؟’’ نہایت لچر اور بے ہودہ بات ہے، اسلام تو نام ہی اس کا ہے کہ ایک کے لئے سب کو چھوڑ دیا جائے قرآنِ کریم میں ہے:‘‘آپ فرمادیجئے کہ یقینا میری نماز اور میری ساری عبادات اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے، جو مالک ہے سارے جہان کا، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں سے پہلا ہوں۔’’(سورہ اَنعام)کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، اللہ تعالیٰ کے اَحکام کی تعمیل کے لئے باقی ساری دْنیا سے الگ تھلگ نہیں ہوگئے تھے؟
 اگر دْنیا بگڑی ہوئی ہو تو ان سے الگ تھلگ ہونا ہی آدمی کو تباہی و بربادی سے بچاسکتا ہے۔

(محمد یوسف لدھیانوی)

ج- وہاں جمعہ اگر نہیں ہوتا تو کسی اور جامع مسجد میں چلے جایا کیجئے، جمعہ چھوڑنا تو بہت بڑا گناہ ہے، تین جمعے چھوڑ دینے سے دِل پر منافقت کی مہر لگ جاتی ہے۔ محض معمولی لالچ کی خاطر اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کرنا ضعفِ ایمان کی علامت اور بے عقلی کی بات ہے۔ کمپنی کے اربابِ حل و عقد کو چاہئے کہ جمعہ کی نماز کے لئے چھٹی کردیا کریں۔
بڑے گاؤں میں جمعہ فرض ہے، پولیس تھانہ ہو یا نہ ہو

 

(محمد یوسف لدھیانوی)

ج-8 جمعہ کی نماز تو صحیح ہے، لیکن اگر امام پنج گانہ نمازیں نہ پڑھائے تو اہلِ محلہ کا فرض ہے کہ ایسے امام کو برطرف کردیں، اور کوئی ایسا امام تجویز کریں جو پانچ وقت کی نماز پڑھایا کرے، مسجد میں پانچ وقت کی اذان و جماعت مسجد کا حق ہے، اور اس حق کو ادا نہ کرنے کی وجہ سے تمام اہلِ محلہ گناہگار ہیں

(محمد یوسف لدھیانوی)