نماز جنازہ کے مسائل

جواب: جنازے کے ساتھ چلنا اور میت کی چارپائی اٹھانے کو اسلام نے میت کے حقوق میں شامل کیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ تَبِعَ جَنَازَۃً، وَحَمَلَہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَدْ قَضَی مَا عَلَیْہِ مِنْ حَقِّہَا.جو شخص جنازہ کے پیچھے چلا اور اسے تین مرتبہ اٹھایا اس نے جنازہ کا وہ حق ادا کر دیا جو اس کے ذمہ تھا۔اور جنازے کے چاروں پائیوں کو باری باری کندھا دینا سنت ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے:
مَنِ اتَّبَعَ جِنَازَۃً فَلْیَحْمِلْ بِجَوَانِبِ السَّرِیرِ کُلِّہَا؛ فَإِنَّہُ مِنَ السُّنَّۃِ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ فَلْیَتَطَوَّعْ، وَإِنْ شَاءَ فَلْیَدَعْ.
جو شخص جنازہ کے پیچھے چلے، اُسے چارپائی کے پورے (چاروں) پائے پکڑنے چاہئیں کیونکہ یہ سنت ہے پھر اس کے بعد چاہے پکڑے اور چاہے چھوڑ دے۔

 

(منہاج القرآن)

جواب: میت کو غسل دینا فرض کفایہ ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے:
”حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحب زادی (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا) کو غسل دے رہے تھے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ طاق غسل دو یعنی تین یا پانچ بار، اور آخر میں کافور
ملا لیں۔ غسل کا سلسلہ اپنی جانب سے اور وضو کے اعضا سے شروع کریں۔“میت کو غسل دینے کا طریقہ یہ ہے کہ جس تخت پر میت کو نہلانے کا ارادہ ہو اس کو تین، پانچ یا سات مرتبہ دھونی دیں۔ پھر اس پر میت کو لٹا کر تمام کپڑے اتار دیئے جائیں سوائے لباس ستر کے، پھر نہلانے والا اپنے ہاتھ پہ کپڑا لپیٹ کر پہلے استنجا کرائے پھر نماز جیسا وضو کرائے لیکن میت کے وضو میں پہلے گٹوں تک ہاتھ دھونا اور کلی کرنا اورناک میں پانی چڑھانا نہیں ہے کیونکہ ہاتھ دھونے سے وضو کی ابتدا زندوں کے لیے ہے۔ چونکہ میت کو دوسرا شخص غسل کراتا ہے، اس لیے کوئی کپڑا بھگو کر دانتوں اور مسوڑھوں اور ناک کو صاف کیا جائے پھر سر اور داڑھی کے بال ہو تو پاک صابن سے دھوئیں ورنہ خالی پانی بھی کافی ہے۔ پھر بائیں کروٹ پر لٹا کر دائیں طرف سر سے پاؤں تک بیری کے پتوں کا جوش دیا ہوا پانی بہائیں کہ تخت تک پانی پہنچ جائے۔ پھر دائیں کروٹ لٹا کر بائیں طرف اسی طرح پانی بہائیں۔ اگر بیری کے پتوں کا اُبلا ہوا پانی نہ ہو تو سادہ نیم گرم پانی کافی ہے۔ پھر ٹیک لگا کر بٹھائیں اور نرمی سے پیٹ پر ہاتھ پھیریں اگر کچھ خارج ہو تو دھو ڈالیں۔ پھر پورے جسم پر پانی بہائے۔ اس طرح کرنے سے فرض کفایہ ادا ہوگیا۔ اس کے بعد اگر دو غسل اور دیئے تو سنت ادا ہو جائے گی ان کا طریقہ یہ ہے کہ میت کو دوسری بار بائیں کروٹ لٹایا جائے اور پھر دائیں پہلو پر تین بار اسی طرح پانی ڈالا جائے جیسا کہ پہلے بتایا گیا۔ پھر نہلانے والے کو چاہیے کہ میت کو بٹھائے اور اس کو اپنے سہارے پر رکھ کر آہستہ آہستہ اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرے۔ اگر کچھ خارج ہو تو اس کو دھو ڈالے یہ دوسرا غسل ہوگیا۔ اسی طرح میت کو تیسری بار غسل دیا جائے تو سنت ادا ہو جائے گی۔ابتدائی دو غسل نیم گرم پانی بیری کے پتے/ صابن کے ساتھ دیئے جائیں۔ تیسرے غسل میں پانی میں کافور استعمال کی جائے۔ اس کے بعد میت کے جسم کو پونچھ کر خشک کر لیا جائے اور اس پر خوشبو مل دی جائے۔
 

(منہاج القرآن)


جواب:عورت جنازے کو کندھا نہیں دے سکتی اور نہ ہی جنازے کے ساتھ چل سکتی ہے، لیکن نماز جنازہ ادا کر سکتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:نُہِینَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَاءِزِ وَلَمْ یُعْزَمْ عَلَیْنَا.ہمیں (عورتوں کو) جنازوں کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا‘ مگر تاکید سے منع نہیں ہوا۔مراد یہ ہے کہ عورت جنازے کو کندھا دے یا جنازے کے ساتھ چلے تو مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہو گا جس کی اسلام میں اجازت نہیں ہے، لہٰذا عورتیں باپردہ ہو کر الگ سے جناز گاہ پہنچ جائیں تو وہاں اُن کے لیے نماز جنازہ میں شریک ہونے کا باپردہ الگ تھلگ انتظام ہو تو وہ نماز جنازہ ادا کر سکتی ہیں کیونکہ حدیث مبارکہ سے ثبوت ملتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ جنازہ ادا کی تھی جیسا کہ حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:ادْخُلُوا بِہِ الْمَسْجِدَ حَتَّی اُصَلِّیَ عَلَیْہِ.ان کی میت کو مسجد میں لاؤتاکہ میں اس پر نماز جنازہ پڑھوں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ جنازہ باقی مسلمانوں کی طرح دعائے مغفرت کی صورت میں نہیں ہوئی تھی بلکہ تمام مرد وخواتین اور بچوں نے باری باری گروہوں کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درودو سلام بھیجا تھا یعنی عورتیں بھی شامل تھیں۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصال فرما گئے تو مردوں کو داخل کیا تو انہوں نے بغیر امام کے اکیلے اکیلے صلاۃ و سلام پڑھا پھر عورتوں کو داخل کیا گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھا پھر بچوں کو داخل کیا گیا تو انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھا۔ پھر غلاموں کو داخل کیا گیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ پڑھا اکیلے اکیلے کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر امامت نہ کروائی۔
اگر مرد موجود نہ ہوں تو عورتوں کا نمازِ جنازہ ادا کرنا بھی جائز ہے:جان لو کہ نماز جنازہ میں عورتوں کی جماعت مکروہ نہیں کیونکہ یہ نماز فرض ہے۔اگر عورت اکیلی نماز جنازہ پڑھ لے تو فرض ساقط ہوجاتا ہے۔
درج بالا تمام اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ عورتیں نمازِ جنازہ میں شریک ہو سکتی ہیں‘

(منہاج القرآن)

ج : صالحین نماز جنازہ پڑھنے سے اجتناب کرتے رہے ہیں۔ یہ مسئلہ نہیں کہ نماز جنازہ نہیں ہو گی۔ نماز جنازہ ہر مسلمان کی پڑھ لینی چاہیے ۔ احناف کے خیال میں اگر عمومی شہرت کی بنیاد پر مسلمان ہے تو جنازہ عمومی دعا کے ساتھ پڑھ لینا چاہیے۔ احناف جو دعا پڑھتے ہیں وہ براہ راست میت کی مغفرت کی دعا نہیں ہے بلکہ عمومی دعا ہے یعنی اللھم اغفرلحیّنا…… بس یہ پڑھ لیجیے اور اس کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیجیے ، نہ ہونے کا مسلہ نہیں لیکن البتہ صالحین اس سے اجتناب کریں تو کوئی حرج نہیں ۔ حضورﷺ ایسا کرتے تھے کہ بعض مجرموں یا ایسے لوگوں کا جنازہ پڑھنے سے آپﷺ خود اجتناب کر لیتے تھے ۔

(جاوید احمد غامدی)

جواب: دین اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اسی طرح فرض ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ‘من یطع الرسول فقد اطاع اللّٰہ’۔ ‘‘جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے حقیقت میں اللہ کی اطاعت کی۔’’ آپ کی اطاعت اس لیے واجب ہے کہ آپؐ دین کے سلسلہ میں وحی کے بغیر نہیں بولتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ‘وما ینطق عن الہوی’ ، ‘ان ہو الا وحی یوحیٰ’ ۔ شریعت سازی کا اختیار اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس نہیں۔ دین میں ہم اپنی طرف سے کمی بیشی نہیں کر سکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘من احدث فی امرنا ہذا ما لیس منہ فہو رد’ (بخاری) ‘‘جس ے دین میں کوئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے (اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں)۔

بعض حضرات نماز جنازہ کے فوراً بعد چارپائی کے اردگرد کھڑے ہو کر اجتماعی شکل میں دعا کرتے ہیں۔ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں ایک بھی صحیح حدیث نہیں ملتی۔ کچھ لوگ جو علوم اسلامیہ کے حروف ابجد سے بھی واقف نہیں، جنازہ کے بعد دعا کو درج ذیل آیت سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں: ‘وقال ربکم ادعونی استجب لکم’ ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مجھ سے دعا کرو میں تمھاری دعا قبول کروں گا۔ حالانکہ ان لوگوں کا دعویٰ خاص ہے یعنی جنازہ کے فوراً بعد دعا کرنا، لیکن دلیل عام پیش کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی مثال تو اس طرح ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ زید گھر سے چلا گیا تو اس فقرے کا یہ معنی لینا کہ زید ضرور بالضرور حج بیت اللہ کے لیے گیا ہے ،کس قدر غلط ہے، اس لیے کہ حج کو جانا ایک خاص سفر ہے۔ اور زید کے گھر سے چلے جانے سے اس کے بیت اللہ شریف جانے کی دلیل ثابت نہ ہو گی۔ اگر وہ لوگ اس آیت کے عموم سے جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت کرتے ہیں تو اسی آیت کے عموم کے پیش نظر درج ذیل مقامات پر بھی ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنی چاہیے۔ میت کو غسل دینے سے پہلے، پھر غسل دینے کے بعد، پھر گھر سے میت کی چارپائی رکھنے کے بعد، پھر جنازہ پڑھنے سے پہلے، پھر جنازہ پڑھنے کے بعد، تاکہ اس آیت پر مکمل عمل ہو سکے، لیکن ایسا نہیں کیا جاتا۔ تو پتا چلا کہ درج بالا مقامات کو چھوڑ کر صرف نماز جنازہ کے بعد میت کی چارپائی پر گھیرا ڈال کر دعا کرنا سراسر من گھڑت اور دین میں ایک نئی ایجاد ہے۔

پھر ان حضرات کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ آپ منع کی حدیث دکھائیں کہ نبیؐ نے جنازہ کے بعد دعا کرنے سے منع کیا ہو۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جس چیز کا وجود ہی نہیں ہے، اس سے منع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

یہ حضرات جنازہ کے بعد اس حدیث سے بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ‘اذا صلیتم علی المیت فاخلصوا لہ الدعاء’ (ابوداؤد، ابن ماجہ، مشکوٰۃ)

یہ لوگ اس حدیث کا ترجمہ یوں کرتے ہیں:

‘‘جب تم میت پر جنازہ پڑھ چکو تو اس کے لیے خلوص کے ساتھ دعا کرنا۔’’ اولاً اس حدیث کی سند میں محمد بن اسحاق بقول ان کے کذاب راوی ہے۔ اہل حدیث جب مقتدی کے حق میں فاتحہ کی حدیث پیش کرتے ہیں تو یہ حضرات کہتے ہیں کہ اس حدیث میں محمد بن اسحاق کذاب راوی ہے۔ ہم پوچھتے ہیں ا س حدیث میں بھی تو یہی راوی ہے تو اب یہ حدیث کیسے صحیح ہو گئی؟ ثانیاً اس حدیث کا ترجمہ بھی غلط کیا جاتا ہے۔ اسی حدیث میں ‘اذا’ ظرفیہ شرطیہ ہے اور نحو کا قاعدہ ہے کہ جب ‘اذا’ شرطیہ ماضی پر آ جائے تو ماضی مستقبل کے معنی میں ہو جاتا ہے۔ (شرح جامی، ص ۲۳۶)تو اس حدیث کا صحیح معنی ہو گا ، جب تم میت پر نماز جنازہ پڑھو تومیت کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا کرو۔ چنانچہ احناف کے معتمد علیہ عالم مولانا عبد الحق دہلویؒ کا فارسی ترجمہ بالکل ہمارے ترجمہ کے عین مطابق ہے۔ (اشعۃ اللمعات کتاب الجنائز مکتبہ نورانی پشاور)یہ حدیث بالکل اس حدیث کی طرح ہے جس میں نبیؐ نے فرمایا کہ ‘اذا صلیتم فاقیموا صفوفکم’ (مسلم شریف) ا س حدیث کا ترجمہ اگر اسی طرح کیا جائے جس طرح ہمارے بھائی دعا والی حدیث کا کرتے ہیں تو ترجمہ یوں ہو گا: جب تم نماز پڑھ چکو تو اپنی صفیں درست کرو۔ قارئین خود فیصلہ کریں۔ کیا یہ ترجمہ درست ہے؟ جب کہ قاعدہ کے مطابق صحیح ترجمہ یوں ہو گا: جب تم نمار پڑھنے لگو تو اپنی صفیں درست کرو۔ اسی طرح قرآن مجید میں ‘ فاذا قرأت القرآن فاستعذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم’ (اے پیغمبر جب آپ قرآن مجید کی تلاوت شروع کرنے لگیں تو اعوذ باللہ پڑھ لیا کریں۔) اگر ہمارے بھائیوں والا ترجمہ کیا جائے تو یوں ہو گا:‘‘جب تم قرآن پڑھ چکو تو اعوذ باللہ پڑھو’’۔ یہ ترجمہ عقل و نقل کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ عربی گرامر کے بھی خلاف ہے۔یہ لوگ امام سرخسی کی کتاب مبسوط کے حوالہ سے پیش کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمرؓ جنازہ کے بعد پہنچے تو کہا اگر تم نے مجھ سے پہلے نماز پڑھ لی ہے تو دعا میں مجھ سے آگے نہ بڑھو۔لیکن یہ روایت کسی معتبر حدیث کی کتاب میں نہیں ہے۔ اگر یہ روایت کسی معتبر کتاب میں ہوتی تواس کی سند ضرور ہوتی۔ بے سند چیز کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ یہ حضرات بیہقی کے حوالے سے ایک من گھڑت واقعہ سیدنا حضرت علی ؓ کے ذمے لگاتے ہیں کہ انھوں نے جنازہ کے بعد دعا کی۔ یہ سراسر جھوٹ ہے اور حقائق پر پردہ ڈالا گیا ہے۔ اصل واقعہ اس طرح ہے کہ سیدناعلیؓ نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی پھر جنازہ کے بعد کچھ لوگ آئے تو انھوں نے دوبارہ جنازہ پڑھا۔ اب دوبارہ جنازہ کی امامت حضرت قریظہ بن کعبؓ نے کی تو ان کے ساتھ شامل ہو کر حضرت علیؓ نے دوبارہ جنازہ پڑھا۔ چنانچہ خود امام بیہقی اس واقعہ کو اس باب کے تحت لائے ہیں کہ میت کی دوبارہ نمازہ جنازہ پڑھی جا سکتی ہے۔ (السنن الکبریٰ، ح ۴، ص ۴۵)اس واقعہ میں تو دعا کا ذکر تک نہیں۔ پھر حضرت علی ؓ کے اس واقعہ سے ان کے اس نظریے کا بھی رد ہوتا ہے کہ دوبارہ نماز جنازہ نہیں پڑھنی چاہیے۔

نمازہ جنازہ کے فوراً بعد دعا کرنا فقہائے احناف کے نزدیک بھی جائز نہیں

۱۔ علامہ سراج الدین حنفی فرماتے ہیں: ‘اذا فرغ من الصلوٰۃ لا یقوم بالدعاء’۔ (فتاوی سراجیہ، ص ۲۳) جب نمازہ جنازہ سے فارغ ہو جائیں تو دعا کے واسطے نہ ٹھہریں۔

۲۔ حافظ الدین محمد بن شہاب حنفی فرماتے ہیں: ‘لا یقوم بالدعاء بعد صلوٰۃ الجنازۃ لانہ دعا مرۃ’ (فتاوی ہندیہ، ج ۱ ، ص ۴۸۳) جنازہ کے فوراً بعد دعا نہ کریں کیونکہ وہ ایک بار دعا کر چکا ہے۔

۳۔ علامہ ابن نجیم حنفی فرماتے ہیں: ‘ولا یدعو بعد التسلیم’۔ (البحر الرائق ج ۲، ص ۱۸۳) نمازہ جنازہ سے سلام پھیرنے کے بعد دعا نہ کرے۔

۴۔ ملا علی قاری حنفی فرماتے ہیں: ‘ولا یدعو للمیت بعد صلوٰۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فی الصلوٰۃ الجنازۃ’۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ، ج ۴، ص ۶۴) نماز کے بعد میت کے لیے دعا نہ کرے کیونکہ یہ نماز جنازہ میں زیادتی کے مشابہ ہے۔

(بشکریہ ماہنامہ ‘‘ضیائے حدیث’’ لاہور، اپریل 2010ء)

(مولانا محمد اسماعیل بلوچ)

ج: یہ بڑی سادہ سی بات ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر ہر معاملے میں طاق عدد پسند فرمایا ہے، جیسے آپ ہر کام میں دایاں پسند فرماتے تھے۔ دائیں طرف پاؤں پہلے رکھیں گے، دائیں طرف سے نکلیں گے۔ یہ حضورؐ کا عام طریقہ تھا۔ دائیں ہاتھ سے کھانا پینا تو آپ نے سنت کے طور پر جاری کر دیا، لیکن عام زندگی میں بھی آپ اس کا خیال رکھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قیامت میں جب اللہ تعالیٰ اہل جنت کو نامۂ اعمال پکڑائیں گے تو وہ دائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس بات کا احساس ہمیشہ زندگی میں رہے کہ ہمیں اللہ وہاں پر دائیں ہاتھ والوں میں اٹھائے۔ ایسے ہی حضور ؐ طاق عدد پسند کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ توحید کا تصور ذہن میں پوری طرح راسخ ہو جائے۔ اسی مناسبت سے جنازے کے موقع پر بھی صفوں کی طاق تعداد کا لحاظ کیا جاتا ہے۔

(جاوید احمد غامدی)