خودکشی کرنا

جواب: قرآن مجید میں اہل جہنم کا ایک مکالمہ نقل کیا ہے۔ اس میں اتباع کرنے والے اپنے بڑوں سے کہتے ہیں ہم تمھارے پیرو تھے کیا تم ہمارے عذاب میں سے ہمارا کچھ بوجھ ہلکا کرو گے۔ وہ جواب میں کہیں گے کہ اگر اللہ نے ہمیں ہدایت دی ہوتی تو ہم تمھیں بھی راہ ہدایت دکھاتے۔ اب ہمارے لیے یکساں ہیں ہم چیخیں چلائیں یا صبر کریں ۔ فرار کی کوئی راہ نہیں۔ (ابراہیم۱۴:۴۱) اس مکالمے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر آدمی اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہے ۔ اللہ تعالی نے ہر آدمی کو جو سوجھ بوجھ دی ہے وہ اسے استعمال کرتاہے اور اسی بات کو اختیار کرتا ہے جو اس کے نزدیک درست ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اپنے کیے کا انجام بھی خود ہی دیکھے گا۔ اگر کسی کو علمی غلطی لگی ہے اور وہ حق کا سچا طالب ہے تو اس کا عذر اللہ کی رحمت سے ہو گا۔

(مولانا طالب محسن)

 جواب :اس ضمن میں ایک اصولی بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہر وہ چیز جو غلط ہے، وہ ہمیشہ غلط رہے گی۔ جھوٹ،بددیانتی، رشوت غلط ہے اور ہمیشہ غلط رہے گی۔ یہی معاملہ خودکشی کا ہے۔ یہ ایک گناہ کا کام ہے اور ہمیشہ گناہ ہی رہے گا۔ یہ ایک بالکل دوسری بات ہے کہ آپ نے کسی مجبوری کی وجہ سے کسی غلط کام کا ارتکاب کیا ہے۔ مجبوری کا ایک اصول قرآن مجید میں بیان ہو گیا ہے کہ اللہ چاہے گا تو اس کی رعایت دے دے گا۔ جس طرح حرام کے بارے میں فرمایا گیاہے کہ 'فمن اضطر غیر باغ ولا عاد' ( الانعام) اگر کوئی آدمی مجبور یا مضطر ہو گیا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ اٹھا دیتے ہیں، اس کا حساب کتاب نرم ہو جاتا ہے۔ یہی چیز اس معاملے میں بھی ہو گی۔ جب کوئی چیز حرام قرار دی جاتی ہے تو اس کی کوئی وجہ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کو امتحان کے لیے بھیجا ہے۔ جب ایک آدمی خود کشی کرتا ہے تو گویا وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری موت کے بارے میں جو فیصلہ کر رکھا ہے کہ فلاں وقت میں آنی چاہیے، وہ فیصلہ غلط ہے، میں اس کو نہیں مانتا۔ وہ اس کے خلاف بغاوت کر دیتا ہے۔ اس وجہ سے یہ ایک بڑا جرم ہے۔ اگر اس طرح کا کوئی اقدام واقعی کسی مجبوری کی حالت میں کیا گیا ہے تو قرآن نے بڑے سے بڑے جرم کے بارے میں بھی یہ اصول بیان کر دیا ہے کہ مجبوری کی رعایت ملے گی۔

(جاوید احمد غامدی)