بیعت

ج: نبیﷺ نے کن مواقع پر بیعت لی ہے۔اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک تو حضورﷺ نے لوگوں سے دین اور اسلام پر بیعت لی ہے یعنی دین کے ا حکام پر عمل کی۔ بیعت کا مطلب ہے عہد لیا ہے لوگوں سے ۔ اس کا ذکر سورہ ممتحنہ میں موجود ہے ۔رسالت مآبﷺ کو حکم دیا گیا کو جو لوگ ہجرت کر کے آرہے ہیں ،مدینے میں بسنے سے پہلے ا ن سے اس بات کا عہد لے لیا جائے کہ وہ سوسائٹی کے اندر کوئی خرابی نہیں پیدا کریں گے ۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات کوئی شخص آیا ، اس نے اسلام قبول کیا اور اس نے جانا چاہا تو حضورﷺ نے اس سے کوئی عہد لیا تو یہ عہد صرف پیغمبر لے سکتا ہے ۔ ہم سب برابر کے لوگ ہیں، ہم میں سے کوئی دوسرے کو پابند نہیں کر سکتا ۔ صرف اللہ کا پیغمبر ،اللہ کے سفیر اور نمائندے کی حیثیت سے یہ بیعت لے سکتا ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ بعد میں کسی صحابی نے کسی دوسرے سے یہ عہد نہیں لیا ۔یعنی خود صحابہ کرامؓ نے جو دین کا معیار ہیں، یہ بات ثابت کر دی کہ یہ بات صرف رسالت مآب ﷺ ہی کے شایان شان تھی کہ وہ عہد لے سکتے تھے لیکن وہ میرا ، آپ کا یا کسی اور کا کام ہی نہیں۔ بلکہ یہ بہت جسارت کی بات ہے کہ ہم سے کوئی شخص عہد لے ۔خدا عہد لے اپنے دین پر ، اس کا پیغمبر عہد لے دین پر، یہ بات تو ٹھیک ہے ، میں کون ہوتا ہوں ۔ مجھے توخود عہد کرنا ہے اللہ اور اس کے پیغمبر سے ۔ نبیﷺ نے اسلام اور اسلام کی تعلیمات پر جو عہد لیا ہے وہ آپﷺ کے ساتھ خاص ہے ، اس کا اختیار اب کسی اور کو نہیں اور نہ ہی اس کی جسارت کرنی چاہیے ۔ دوسری بیعت حضورﷺ نے بطور حکمران لی ہے ۔ سمع و طاعت کی بیعت ۔یہ بیعت حکمران کی حیثیت سے ہے پیغمبرانہ حیثیت سے نہیں ۔ چنانچہ آپ کے بعد آپ کے خلفا نے بھی یہ بیعت لی ۔ اب بھی ہماری حکومت اسی بیعت پر قائم ہوتی ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ جب ہمارے نمائندے منتخب ہو جاتے ہیں تو وہ اسمبلی میں جا کر اس آئین سے وفاداری کا عہد کرتے ہیں،وہی چیز ہے آپ ہاتھ میں ہاتھ دیکر عہد کر لیں یا پڑھ کر حلف لے لیں ۔ حکمرانوں کو حق ہے کہ وہ اس عہدکا مطالبہ کریں اور یہ خلفائے راشدین نے بھی لیا، لے سکتے ہیں ،لازم نہیں۔ حکمران سمع و طاعت کی بیعت لے سکتا ہے کیونکہ قرآن نے اس کو مطاع قرار دیا ہے ۔ اطیعو اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم ۔اللہ کی اطاعت کرو ، اللہ کے پیغمبر کی اطاعت کرو اور حکمرانوں کی اطا عت کرو توحکمران کو اللہ تعالی نے واجب الاطاعت قرار دیا ہے اس لیے وہ یہ اطاعت کی بیعت لے سکتا ہے جبکہ ہم میں سے کسی کو واجب الاطاعت قرار نہیں دیا جا سکتا۔بیعت کی ایک اور قسم جہاد کی بیعت ہے۔ نبیﷺ نے جب کوئی جہاد کا موقع آیا تو آپ نے جہاد کی بیعت لی یا لوگوں سے ثابت قدمی کی بیعت لی ۔ یہ مسلمانوں کے حکمران کی حیثیت سے ہے ۔کوئی جنگ درپیش ہو تو کسی خاص دستے کو بھیجتے وقت حکمران یہ بیعت لے سکتا ہے ۔ ان میں سے کسی مقام پر بھی ہمارے لیے بیعت کی گنجائش نہیں نکلتی تو اس وجہ سے جو لوگ ایسی بیعت کے دعوے کرتے ہیں یا ایسی بیعت لیتے ہیں ، وہ اپنے آپ کو غلط جگہ پر کھڑا کرتے ہیں ۔ایسے لوگوں کی اصلاح کرنی چاہیے اور انہیں بتانا چاہیے کہ آپ عام انسان ہیں اور آپ کو یہ حق حاصل نہیں ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج۔ اگر اس کی کوئی دینی اہمیت سمجھی جاتی ہے تو پھر یہ بدعت ہے، کیونکہ یہ اس دین میں نہیں پائی جاتی تھی جسے امت نے صحابہ کرام کی اجماعی روایت سے حاصل کیا تھا۔

(محمد رفیع مفتی)