کھڑ ے ہو کر کھانا پینا

جواب:میرے خیال میں تو ضرورت کے وقت جائز ہے اگر بیٹھنے کا صحیح انتظام نہ ہو توکھڑے ہو کرکھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے ترمذی میں راویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پانی پیا شرب قائماً اسی شمائل ترمذی میں جس کا میں نے کئی بار ذکر کیا ہے اس میں ذکر ہے کہ حضورﷺ نے کھڑے ہو کر پانی پیا ؛جہاں جگہ نہ ہو یا زیادہ لوگ ہوں اور بیٹھنے کا بندوبست نہ ہو سکتا ہو تو وہاں کھڑے ہو کر کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

ج: کھڑے ہو کر کھانا گناہ نہیں ہے۔ البتہ ہماری تہذیب میں یہ بات پسند کی گئی ہے کہ آپ بیٹھ کر اطمینان کے ساتھ اور سلیقے کے ساتھ کھائیے۔أٓپ اس کا لحاظ کریں گے تو اچھی بات ہے۔ بغیر کسی سبب کے ایسا کرنا بھی نہیں چاہیے۔ اس طرح کھائیے کہ جس طرح ایک مہذب آدمی کو کھانا چاہیے، لیکن بعض تقریبات اور موقعوں پر اس کا اہتمام کرنا لوگوں کے لیے مشکل ہو جاتا ہے تو اُس موقع پر لوگ کھڑے ہو کر کھا لیتے ہیں۔

(جاوید احمد غامدی)

 (۱)       عن ام الفضل بنت الحارث ان ناسا اختلفوا عندھا یوم عرفۃ فی صوم النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال بعضھم: ھو صائم وقال بعضھم لیس بصائم فارسلت الیہ بقدح وھو واقف علی بعیرہ فشربہ (صحیح بخاری: کتاب الحج، حدیث: ۱۶۶۱، کتاب الصوم، حدیث: ۱۹۸۸، کتاب الاشربہ، حدیث:۵۶۱۸)

            ‘‘ام الفضل دختر حارث کا بیان ہے کہ عرفہ کے دن ان کے ہاں لوگوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کی بابت اختلاف ہو گیا ۔ بعض نے کہا کہ آپؐ نے روزہ رکھا ہوا ہے اور بعض نے کہا کہ آپؐ روزہ سے نہیں تو میں نے آپؐ کی خدمت میں ایک پیالہ بھجوایا، آپؐ اس وقت اپنے اونٹ پر کھڑے تھے۔ چنانچہ آپؐ نے وہ پی لیا۔’’

(۲)       عن انس بن مالک ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم دخل علی ام سلیم و فی البیت قربۃ معلقۃ فشرب من فیھا وھو قائم قال فقطعت ام سلیم فم القربہ فھو عندنا (سن دارمی: کتاب الاشربہ، باب فی الشرب قائما، حدیث : ۲۱۳۰ اور شمائل ترمذی، باب ماجاء فی صفۃ شرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسند احمد: ۳؍۱۱۹، ۶؍۳۷۶، ۴۳۱)

            ‘‘انس بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم کے ہاں تشریف لے گئے۔ ان کے گھر میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا۔ آپؐ نے کھڑے کھڑے اس مشکیزہ کے منہ سے پانی نوش کیا۔ انسؓ کہتے ہیں کہ ام سلیمؓ نے مشکیزے کا منہ کاٹ کر بطورِ تبرک اپنے پاس رکھ لیا۔ وہ ہمارے ہاں موجود ہے۔’’

(۳)      عن عائشۃ قالت شرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قائما وقاعداً و مشیٰ حافیا و ناعلا وانصرف عن یمینہ و شمالہ (مسند احمد:۶؍۸۷)

            ‘‘ام المومنین سیدہ عائشہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر بھی پیا اور بیٹھ کر بھی۔ آپ ننگے پاؤں بھی چلے اور جوتا پہن کر بھی۔ اور نماز سے فارغ ہو کر مقتدیوں کی طرف کبھی دائیں طرف سے مڑے اور کبھی بائیں جانب سے۔’’

(۴)      عن مسلم سال اباھریرۃ عن الشرب قائما قال یا ابن اخی رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عقل راحلتہ وھی مناخۃ وانا اخذ بخطامھا او زمامھا واضعاً رجلی علی یدھا فجاء نفر من قریش فقاموا حولہ فاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باناء من لبن فشرب وھو علی راحلتہ ثم ناول الذی یلیہ عن یمینہ فشرب قائما حتی شرب القوم کلھم قیاما۔ (احمد:۲؍۲۶۰)

            ‘‘مسلم کا بیان ہے کہ انھوں نے ابوہریرہؓ سے بحالت قیام پینے کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے (ابوہریرہؓ) نے فرمایا، بھتیجے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی سواری کی ٹانگ کو رسی سے باندھا۔ وہ بیٹھی ہوئی تھی اور میں اس کے ایک ہاتھ (اگلی ٹانگ) پر اپنا پاؤں رکھے اس کی مہار پکڑے ہوئے تھا۔ اسی دوران کچھ قریشی لوگ آ گئے اور آپؐ کے ارد گرد کھڑے ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری کے اوپر ہی تشریف فرماتھے۔ اسی دوران آپؐ کی خدمت میں دودھ کا ایک برتن پیش کیا گیا۔ آپؐ نے دودھ نوش فرمایا اور اس کے بعد اپنی داہنی جانب کھڑے ایک آدمی کو دیا۔ اس آدمی نے کھڑے کھڑے دودھ پیا۔ یہاں تک کہ سب لوگوں نے کھڑے کھڑے دودھ پیا۔’’

(۵)      عن النزال قال اتیی علیی رضی اللہ عنہ علی باب الرحبۃ بماء فشرب قائماً فقال: ان ناسا یکرہ احدھم ان یشرب وھو قائم و انی رایت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فعل کما رایتمونی فعلت۔ (صحیح بخاری: کتاب الاشربہ، باب الشرب قائما، حدیث ۵۶۱۵ و شمائل ترمذی)

            ‘‘نزال کا بیان ہے کہ باب الرحبہ کے قریب سیدنا علیؓ کی خدمت میں پانی پیش کیا گیا تو انھوں نے کھڑے کھڑے پی لیا۔ ساتھ ہی فرمایا کہ کچھ لوگ بحالت قیام نوش کرنے کو پسند نہیں کرتے، حالانکہ میں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا جیسا کہ تم نے مجھے کرتے دیکھا۔’’

(۶)       عن زادان و میسرۃ ان علیی بن ابیی طالب شرب قائما فنظر الناس الیہ کانھم انکروہ فقال ماتنظرون ان اشرب قائما فقد رایت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یشرب قائما، وان اشرب قاعدا فقد رایت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یشرب قاعدًا۔

            ‘‘زادان اور میسرہ کا بیان ہے کہ سیدنا علیؓ بن ابو طالب نے بحالت قیام پانی نوش فرمایا، لوگوں نے عجیب نظروں سے ان کی طرف دیکھا تو انھوں نے فرمایا: کیا دیکھتے ہو؟ میں اگر کھڑے ہو کر پیوں تو درست ہے، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بحالتِ قیام نوش فرماتے دیکھا ہے اور اگر میں بیٹھ کر نوش کروں تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھے ہوئے بھی نوش فرماتے دیکھا ہے۔’’ (مسند احمد:۱؍۱۰۱، ۱۳۴، ۱۱۴، ۱۳۶)

(۷)      عن عیسیٰ بن عبداللہ بن انیس عن ابیہ قال رایت النبی ﷺ قام الی قربۃ معلقۃ فخشاثم شرب من فیھا۔ (جامع ترمذی مع تحفۃ الاحوذی: ۳؍۱۱۴، باب ماجاء فی اختناث الاسقیۃ)

            ‘‘عبداللہ بن انیسؓ کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ ایک لٹکتے مشکیزے کی طرف اٹھے اور اس کے منہ کو الٹ کر اس سے منہ لگا کر پانی نوش فرمایا۔’’

(۸)      عن کبشۃ قالت دخل علی رسول اللہ ﷺ فشرب من فیی قربۃ معلقۃ قائما فقمت الی فیھا فقطعتہ (جامع ترمذی مع تحفہ:۳؍۱۱۴، باب ماجاء فی اختناث الاسقیۃ، سنن ابن ماجہ: کتاب الاشربہ، باب الشرب قائما، حدیث: ۳۴۲۳، مسند احمد: ۶؍۴۳۴، شمائل ترمذی: باب ماجاء صفۃ شرب رسول اللہ ﷺ)

            ‘‘کبشہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا۔ آپؐ نے بحالت قیام اس کے منہ سے پانی نوش فرمایا تو میں نے اس مشکیزہ کا منہ کاٹ کر بطورِ تبرک رکھ لیا۔’’ (موارد الظمان الی زوائد ابن حبان: ص ۳۳۳، حدیث: ۱۳۷۲، کتاب الاشربہ)

            اس حدیث کو امام نوویؒ نے ریاض الصالحین (ص ۳۳۹) میں بیان کیا اور اس کی شرح میں لکھا ہے کہ ھذا الحدیث محمول علی بیان الجواز کہ یہ حدیث اس بات پر محمول ہے کہ اس میں کھڑے ہو کر پینے کا جواز بیان ہوا ہے۔ بلکہ مزید برآں امام نوویؒ نے اس حدیث اور اس باب کی دیگر احادیث ذکر کرنے سے پہلے جو تبویب کی ہے، وہ انتہائی واضح ہے۔ وہ رقم طراز ہیں: باب کراھۃ الشرب من فم القربۃ ونحوھا و بیان انہ کراھۃ تنزیہ لا تحریم۔

            ‘‘مشکیزہ یا اس قسم کی کسی چیز کو منہ لگا کر پانی پینا مکروہ ہے، تاہم حرام نہیں۔’’

            امام نوویؒ نے اس سے آگے نیا باب بایں الفاظ قائم کیا ہے: باب بیان جواز الشرب قائما و بیان ان الاکمل والافضل الشرب قاعدا۔

            کہ ‘‘کھڑے کھڑے پانی پینے کا جواز اور بیٹھ کر پینے کے افضل ہونے کا بیان۔’’

            نیز امام نووی صحیح مسلم کی شرح میں ایک حدیث کی شرح میں رقم طراز ہیں:

            فھذا الحدیث یدل علی ان النھی لیس للتحریم۔

            ‘‘اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھڑے ہو کر پینے کی نہی بیانِ حرمت کے لیے نہیں ۔’’

(۹)       عن عائشۃ بنت سعد بن ابی وقاص عن ابیھا النبی ﷺ کان یشرب قائما(شمائل ترمذی: باب ماجاء فی صفۃ شرب رسول اللہ ﷺ)

            ‘‘سعد بن ابی وقاصؓ کا بیان ہے کہ نبیؐ کھڑے ہو کر بھی پانی وغیرہ نوش فرما لیا کرتے تھے۔’’

(۱۰)     عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال رایت رسول اللہ ﷺ ینفتل عن یمینہ و عن شمالہ و رایتہ صلی حافیا و منتعلا و رایتہ یشرب قائما و قاعدا(مسند احمد:۲؍۱۷۴، ۱۷۸، ۱۷۹، ۱۹۰، ۲۰۶، ۲۱۵، شمائل ترمذی: باب ماجاء فی شرب رسول اللہ ﷺ)

            ‘‘عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپؐ نماز سے فارغ ہو کر کبھی داہنی جانب سے مڑتے اور کبھی بائیں جانب سے۔ اور میں نے آپ کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے بھی دیکھا ہے اور جوتے اتار کر بھی۔ نیز میں نے آپ کو کھڑے ہو کرنوش فرماتے بھی دیکھا ہے اور بیٹھ کر بھی۔’’

(۱۱)      عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال رایت رسول اللہ ﷺ یشرب قائما و قاعدا (جامع ترمذی مع تحفہ:۳؍۱۱۲)

            ‘‘عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کھڑے ہو کر بھی پی لیتے تھے اور بیٹھ کر بھی۔

صحابہ کرامؓ کا عمل:

            مذکورہ بالا تمام احادیث میں رسول ﷺ کی فعلی اور تقریری احادیث سے معلوم ہوا کہ کبھی کبھار بامر ضرورت کھڑے ہوکرپی لینے کی اجازت اورگنجائش ہے۔ آئیے صحابہ کرامؓ کا طرزِ عمل بھی دیکھ لیں:

(۱)       عن ابی جعفر القاری انہ قال رایت عبداللہ بن عمر لیشرب قائما۔ (موطا امام مالک، باب ماجاء فی شرب الرجل و ھو قائم)

            ‘‘ابو جعفر القاری کا بیان ہے، میں نے عبداللہ بن عمرؓ کو کھڑے ہو کر پانی پیتے دیکھا۔’’

(۲)       عن ابن عمر قال کنا ناکل علی عھد رسول ﷺ و نحن نمشیی و نشرب و نحن قیام (جامع ترمذی: ابواب الاشربہ، سنن ابن ماجہ: کتاب الاطعمہ حدیث : ۳۳۰۱، سنن دارمی: کتاب الاشربہ، باب فی الشرب قائما، حدیث : ۲۱۳۱)

            ‘‘ابن عمرؓ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں چلتے پھرتے کھا پی لیتے اور کھڑے کھڑے پی لیا کرتے تھے۔’’

(۳)      عن ابن عمر قال کنا ناکل و نحن نمشیی و نشرب قیاما علی عھد رسول اللہ ﷺ۔ (موارد الظمان الی زوائد ابن حبان: ص ۳۳۳، کتاب الاشربہ: حدیث ۱۳۲۹)

            ‘‘ابن عمرؓ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں چلتے پھرتے کھا لیا کرتے اور کھڑے کھڑے پی لیا کرتے تھے۔’’

(۴)      عن ابن عمر قال کنا علی عھد رسول اللہ ﷺ نشرب قیاما و ناکل ونحن نسعی (مسند طیالسی (مبوب): ۱؍۳۳۳، باب ماجاء فی الشرب قائما)

            ‘‘ابن عمر کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں کھڑے کھڑے پانی پی لیتے اور چلتے چلتے یا دوڑتے دوڑتے کھا پی لیا کرتے تھے۔’’

(۵)      عن ابن شھاب ان عائشۃ ام المومنین و سعد بن ابی وقاص کانا لا یریان یشرب الانسان وھو قائم باسا۔ (موطا امام مالک، باب ماجاء فی شرب الرجل وھوقائم)

            ‘‘ابن شہاب کا بیان ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہؓ اور سعد بن ابی وقاصؓ کھڑے کھڑے پانی پینے میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے۔’’

(۶)       عن عامر بن عبداللہ بن الزبیر عن ابیہ انہ کان یشرب قائما۔

            ‘‘عبداللہ بن زبیرؓ کھڑے کھڑے پانی وغیرہ پی لیا کرتے تھے۔’’ (موطا مالک: باب ایضاً)

            مرفوع صحیح احادیث اور تعامل صحابہؓ کے ہوتے ہوئے مزید تائیدی بیان کی قطعاً ضرورت باقی نہیں رہتی۔ پھر بھی قارئین کی تسلی کے لیے وضاحت کی جاتی ہے کہ کھڑے ہو کر کھانے پینے سے منع کی احادیث اور جواز کی احادیث کو جمع کرنے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ کھڑے ہو کر کھانا پینا علی الاطلاق حرام نہیں۔ تمام فقہاء محدثین نے ان احادیث سے یہی سمجھا ہے، جیسا کہ ہم حدیث نمبر ۸ کے ضمن میں امام مسلمؒ کی کچھ عبارت ذکر کرآئے ہیں۔

            نیز فتح الباری ۱۰؍۸۲ پر حافظ ابن حجرؒ نے امام مازری ؒ سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:

            اختلف الناس فی ھذا فذھب الجمھور الی الجواز کہ ‘‘اس مسئلہ میں لوگوں کا اختلاف ہے، البتہ جمہور کے نزدیک کھڑے کھڑے کھانا پینا جائز ہے۔’’

حافظ ابن حجرؒ مزید رقم طراز ہیں:

            ولا خلاف فی جواز الاکل قائما والذی یظھر لیی ان احادیث شربہ قائما تدل علی الجواز واحادیث النھیی تحمل علی الاستحباب والحث علی ماھو اولیٰ واکمل۔ (فتح الباری: ۱۰؍۸۳)

            ‘‘کھڑے کھڑے کھانے کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں۔ تمام احادیث کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے تو یہ سمجھ آئی ہے کہ جن احادیث میں آنحضرت ﷺ کے کھڑے ہو کر پینے کا ذکر ہے ، وہ احادیث بحالت قیام پانی وغیرہ نوش کرنے کے جواز پر دلالت کرتی ہیں اور جن احادیث میں کھڑے ہو کر کھانے پینے سے منع کیا گیا ہے ان کا تعلق محض استحباب سے ہے اور ان میں محض ترغیب ہے کہ بیٹھ کر کھانا پینا چاہیے۔’’

امام قسطلانیؒ رقم طراز ہیں:

            واستدل بھذہ الاحادیث علی جواز الشرب قائما و ھو مذہب الجمھور۔ (ارشاد الساری: ۸؍۳۲۹)

            ‘‘ان احادیث سے کھڑے ہو کر پینے کے جواز کا استدلال کیا گیا ہے۔ جمہورعلمائے امت کا بھی یہی موقف ہے۔’’

            اب ہم آخر میں حافظ صلاح الدین یوسف کا توضیحی اقتباس پیش کرکے اس بحث کو سمیٹتے ہیں۔

            ‘‘فوائد: ابتدا میں ذکر کردہ احادیث سے اگرچہ کھڑے کھڑے پانی پینے اورکھانے کا جواز ملا ہے۔ لیکن ان پر عمل صرف بوقت ضرورت (یا مجبوری) ہی کیا جا سکتا ہے، ورنہ اصل مسئلہ یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، بیٹھ کر ہی کھایا پیا جائے، یہی افضل عمل ہے۔ ’’

            یہ بھی یاد رہے کہ جن احادیث میں کھڑے ہو کر کھانے پینے سے منع کیا گیا ہے، ان میں یہ حکم تحریم کے لیے نہیں بلکہ محض تنزیہ (کراہت) کے طور پر ہے۔

(پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی)