دم کرنا یا کرانا

جواب : ایک صحابیؓ نے اس یقین سے کہ اللہ کی کتاب میں شفا ہے( قرآن پاک میں اس کو شفا کہا گیا کہ فیہ شفاء لما فی الصدور )، پڑھ کر پھونک دیا اور اس قبیلہ کے سردار نے ہدیہ کے طور پر کچھ پیسے بھی دے دیئے اور انہوں نے لے لئے۔ یہ معاوضہ کی بات نہیں تھی کہ انہوں نے پہلے فیس مقرر کی ہو کہ پانچ سو روپے لیں گے اور پانچ سو روپے لیکر پھونک دیا یہ کسی صحابیؓ یا تابعی نے نہیں کیا ۔ اس لیے تحفتاً کوئی دے دے تو حرج نہیں لیکن معاوضہ طے کرنا ثابت نہیں۔
 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

ج: حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی آخری سورتیں معوذتین کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک دیا کرتے تھے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض معوذات یعنی اللہ سے پناہ مانگنے کی دعائیں جو حدیثوں میں بھی آئی ہیں، ان کو بھی آپ نے بسا اوقات کسی بیمار پر پڑھ کر پھونک دیا۔ اس وجہ سے اس میں کوئی حرج کی بات نہیں، لیکن وہی چیزیں ہونی چاہییں جن میں کوئی مشرکانہ پہلو نہ ہو۔

(جاوید احمد غامدی)