زکوٰۃ

جواب: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال ودولت سے نوازا ہو اسے چاہئے کہ وہ شکرانے کے طور پر دوسرے غریب اور ضرورت مند انسانوں پر خرچ کرے۔ قرآن میں ہے:
وَفِی اَموَالِہِم حَقّ لِّلسَّاءِلِ وَالمَحرْومِ۔ (الذاریات: ۱۹)
”اور ان کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لئے“
مال خرچ کرنے کو ’انفاق‘ کہا جاتا ہے۔ قرآن وحدیث میں انفاق کی ترغیب دی گئی ہے اور اللہ کی خوش نودی کے لئے زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ اس کی انتہا یہ ہے کہ آدمی کے پاس اس کی اپنی بنیادی ضروریات سے زیادہ جتنا مال ہو، سب خرچ کردے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:”پوچھتے ہیں: ہم راہِ خدا میں کیا خرچ کریں؟ کہو: جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو“۔
انفاق کی ایک مخصوص صورت زکوٰۃ کی ہے۔جس شخص کے پاس کم از کم مال کی ایک متعین مقدار ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ان میں سے کسی ایک کی مالیت کے بقدر نقد رقم ہو اور وہ سال بھر اس کے پاس محفوظ رہے تو اس میں سے ڈھائی فیصد نکالنا اور اس کی مخصوص مدات میں اسے خرچ کرنا اس پر فرض ہے۔ اسے زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔
جس شخص پر جتنی رقم بطور زکوٰۃ عائد ہوتی ہے وہ اس سے زیادہ خرچ کرسکتا ہے۔ اس پر وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اجر وثواب کا مستحق ہوگا، لیکن ڈھائی فیصد سے اوپر کی رقم کو زکوٰۃ نہیں کہا جاسکتا۔ اسے صدقہ، خیرات، عطیہ، ہبہ، اعانت، کچھ بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں اور ہرفرض کی رکعتیں بھی متعین کردی ہیں۔ اب کوئی شخص ان اوقات میں مزید نمازیں پڑھ سکتا ہے، لیکن ان کی حیثیت نوافل کی ہوگی، وہ فرض رکعتوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کرسکتا۔
زکوٰۃ اور صدقات کو الگ الگ رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے، کیوں کہ زکوٰۃصرف مخصوص  مدات میں خرچ کی جاسکتی ہے، جن کی صراحت قرآن کریم (التوبۃ:) میں کردی گئی ہے۔ جبکہ صدقات کی رقمیں ہر کارِ خیر میں صرف کی جاسکتی ہیں۔ جو تنظیمیں یا ادارے زکوٰۃ وصول کرتے ہیں وہ بھی زکوٰۃ اور صدقات کا الگ الگ حساب رکھتے ہیں، اس لئے انھیں کوئی رقم حوالے کرتے وقت یہ صراحت مناسب، بلکہ ضروری ہے کہ اس میں سے اتنی رقم زکوٰۃ کی ہے اور اتنی عطیہ ہے۔

(رضی الاسلام ندوی)

جواب: زکوٰۃکی جو مدات قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ ان میں سے ایک ’وفی الرقاب‘ (التوبۃ) ہے،یعنی گردنوں کو چھڑانے میں۔ نزولِ قرآن کے عہد میں غلامی کا رواج تھا۔ انسانوں کی گردنیں اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی تھیں۔ قرآن نے ان کی گلوخلاصی کو کارثواب قرار دیا۔ جمہور علماء و مفسرین کا خیال ہے کہ ’فی الرقاب‘ سے مراد غلام ہیں۔ چوں کہ غلامی کی یہ رسم الحمد للہ اب ختم ہوگئی ہے،اس لیے زکوٰۃ کا یہ مصرف اب باقی نہیں رہا۔اْس زمانے میں ایسے قیدی بھی پائے جاتے تھے، جو مختلف جنگوں میں گرفتار کرلیے جاتے تھے، اس لئے کتبِ فقہ میں ایک بحث یہ ملتی ہے کہ کیا زکوٰۃ قیدیوں کو چھڑانے میں صرف کی جاسکتی ہے؟ جمہور فقہاء کہتے ہیں کہ قیدی کو چھڑانے میں زکوٰۃ کی رقم خرچ نہیں کی جاسکتی، لیکن بعض علماء، جن میں ابن عبدالحکم مالکی، قاضی ابن العربی مالکی، امام احمد(ایک روایت کے مطابق) اور علامہ ابن تیمیہ قابل ذکر ہیں، اس کی اجازت دیتے ہیں۔ادھرکچھ عرصے سے ہندوستانی مسلمان جس صورت حال سے دوچار ہیں اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کے نوجوانوں کو بلاکسی قصور کے جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہے۔ ان پر اتنے مقدمات لا ددیے جاتے ہیں کہ ان کی پیروی میں برسوں گزر جاتے ہیں اورجیلوں سے ان کی رہائی ممکن نہیں ہوپاتی۔ ان کی رہائی کے لئے قانونی چارہ جوئی کرنا، ان کے مقدمات کی پیروی کرنا، انھیں قید وبند سے چھٹکارا  دلانا اور ان کی فلاح وبہبود کے دیگر کام انجام دینا وقت کااہم تقاضا ہے۔ امت کے سربرآوردہ طبقے کو اس کی فکر کرنی چاہیے اوراس کے لیے ہرممکن تدبیر اختیار کرنی چاہیے۔کیا  ریاستی  دہشت گردی کے شکار ان اسیران کے مقدمات کی پیروی اور ان کو رہائی دلانے کی کوششوں میں زکوٰۃکی رقم خرچ کی جاسکتی ہے؟فقہائے کرام کو اس موضوع پر غور کرنا چاہئے۔ راقم کی رائے ہے کہ مذکورہ معاملہ زکوٰۃ کا مصرف بن سکتا ہے۔ قرآن نے ’وفی الرقاب‘ (گردنیں  چھڑانے میں) کی جامع تعبیر اختیار کی ہے۔ زمانہ قدیم میں اس کا انطباق غلاموں پر ہوتا تھا۔ موجودہ دور میں ہندوستان کے اسیرانِ بلا کی حالت ان سے مختلف نہیں ہے۔ان مظلومین کے سلسلے میں کرنے کے دو کام اور ہیں، جو شاید ان کے مقدمات کی پیروی سے زیادہ اہم ہیں:اول یہ کہ یہ نوجوان عام طور پر اپنے گھروں کا سہارا ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعہ معاش پر ان کے پورے خاندان کا انحصار ہوتا ہے۔ قیدوبند کی بنا پر ان کا سلسلہ معاش منقطع ہوجانے کی وجہ سے ان کے خاندان بڑی آزمائش میں مبتلاہوجاتے ہیں۔ بسا اوقات ان کے افراد خانہ دانے دانے کو محتاج ہوجاتے ہیں۔ ایسے موقع پر ضروری ہے کہ متمول حضرات ان خاندانوں کی خبر گیری کریں اور ان کی معاشی کفالت کی ذمے داری لیں۔ دوم یہ کہ جیلوں میں ان نوجوانوں کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے، ان کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کی جاتیں اور ان کو جسمانی اور نفسیاتی اذیتیں دی جاتی ہیں۔ ایسے میں ان نوجوانوں کی راحت رسانی کی بھی کوشش کرنی چاہئے، ممکن ہوتو انھیں کچھ سہولیات مثلاً پہننے کے کپڑے اور غذائی اشیاء وغیرہ پہنچائی جائیں۔ دینی لٹریچر، کتب ورسائل بھی پہنچائے جائیں، تاکہ ان کی دینی معلومات میں اضافہ ہو اور ذہنی ونفسیاتی سکون بھی مل سکے۔

(رضی الاسلام ندوی)

جواب:کوشش کرنی چاہیے کہ زکوٰۃ کی رقم صحیح طریقے سے مستحقین تک پہنچے۔ اسے فوراً خرچ کرنا ضروری نہیں ہے۔ مولانامجیب اللہ ندوی نے لکھاہے:
”اگر کسی نے زکوٰۃ کی نیت سے روپیہ نکال کر علیٰحدہ کردیا اور یہ ارادہ کیاکہ سال بھر کے اندر تھوڑا تھوڑا غریبوں پر خرچ کردے گا تو یہ جائز ہے۔“ 
یہی معاملہ اداروں اور جماعتوں کا ہے۔ ان کی حیثیت مستحقین کے نمائندہ اور وکیل کی ہوتی ہے۔ زکوٰۃ کی جو رقم ان کے پاس جمع ہو، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایمان داری کے ساتھ اور صحیح طریقے سے ان تک پہنچائیں۔ مالِ زکوٰۃ کو تقسیم کرنے کے لیے کسی ادارہ یا جماعت کے حوالے کرنے سے صاحبِ نصاب کا فرض ادا ہوجاتا ہے اور وہ بری الذمہ ہوجاتاہے۔ اب ادارہ یا جماعت کی ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ وہ ایک نظم بناکر اسے مستحقین تک پہنچائے۔ ایک رمضان میں جمع کی گئی رقم اگلے رمضان سے قبل خرچ کردی جائے تو بہتر ہے، لیکن اگر اس میں سے کچھ بچ رہے اور اسے بعد میں خرچ کرنے کی نوبت آئے تو اس میں بھی کوئی مضایقہ نہیں ہے۔

(رضی الاسلام ندوی)

جواب:اس معاملے میں اختلاف ہے۔ ہمارے خیال میں قرآن وسنت میں کوئی قطعی چیز نہیں ہے جو اس میں مانع ہو۔ یہ اجتہادی معاملہ ہے۔ ہمارا رجحان یہی ہے کہ غیر مسلم کو زکوۃ دی جا سکتی ہے۔

(مولانا طالب محسن)

ج : تقسیم کرنے سے مراد کیا ہے ، اگر آپ نے واقعی دے دیا ہے تو مسئلہ ختم ہو گیا لیکن اگر تقسیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ویسے توتقسیم کر کے رکھ دیا لیکن خود پہن لیا تو یہ اللہ تعالی کے ساتھ دھوکہ بازی ہے ، اس سے آدمی کو پناہ مانگنی چاہیے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: زکوۃ ریاست جبراً وصول کر سکتی ہے ، اسلامی ریاست میں اس کی نوعیت ٹیکس کی ہے ، یہ لازماً آپ کو دینا پڑے گی ورنہ سیدنا صدیق اکبرؓ کی طرح حکومت بھی تلوار اٹھا سکتی ہے ۔

(جاوید احمد غامدی)

سوال : زکوٰۃ کے درج ذیل مسائل کی براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیے:

۱۔ زکوٰۃ کے لیے سونے اور چاندی کا الگ الگ نصاب متعین ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس اتنی مقدار میں سونا ہو کہ نصاب تک پہنچ جائے اور اتنی مقدار میں چاندی ہو کہ نصاب تک پہنچ جائے تبھی زکوٰۃ واجب ہوگی، اگر دونوں الگ الگ اپنے نصاب سے کم ہوں تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے، جبکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر دونوں کو ملاکر ان کی مالیت کسی ایک کے نصاب کے برابر پہنچ جائے تو زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔ ان میں سے کون سی بات صحیح ہے؟

۲۔ ماں نے اپنے بیٹے کی شادی کے موقع پر ہونے والی بہو کے لیے کچھ زیورات خریدے۔ شادی زیورات کی خریداری کے ڈیڑھ سال بعد ہوئی۔ ان زیورات کی زکوٰۃ کا حساب کریں گے تو وہ کس پر واجب ہوگی؟ ماں پر یا بیٹے پر؟

۳۔ ماں نے ایک خلیجی ملک سے چند سونے کے سکے خریدے اور وطن پہنچ کر انھیں بیچ کر کچھ زیورات بنوا لیے۔ جب زکوٰۃ کا حساب کریں گے تو کیا سونے کے سکوں پر بھی زکوٰۃدینی پڑے گی؟

جواب: ۱۔ اگر کسی شخص کے پاس سونے اور چاندی کے زیورات اتنی مقدار میں ہوں کہ دونوں الگ الگ نصاب کو نہ پہنچتے ہوں تو ان پر وجوب زکوٰۃ کے معاملے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ احناف اور مالکیہ کے نزدیک دونوں کو ملاکر اگر کسی ایک کا نصاب پورا ہوجائے تو زکوٰۃ واجب ہوجائے گا۔ یہی امام ثوری اور امام اوزاعی کی بھی رائے ہے۔ امام شافعی کے نزدیک دونوں کو ملایا نہیں جائے گا۔ زکوٰۃ اسی وقت واجب ہوگی جب دونوں یا ان میں سے کسی ایک کا نصاب پورا ہوجائے۔ امام احمد سے دورائیں مروی ہیں۔ فقہاء کے اپنے اپنے دلائل ہیں، تفصیل کتبِ فقہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

۲۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک زیورات میں زکوٰۃ عائد ہوتی ہے دیگر ائمہ کے نزدیک استعمالی زیورات پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ زکوٰۃ کی ادائی اس کے ذمے ہوگی جو ان کا مالک ہو۔ کسی عورت نے اپنی ہونے والی بہو کے لیے زیورات خریدے تو شادی سے قبل تک اسی کو زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی اور شادی کے بعد جب بہو ان کی مالک ہوجائے گی تو زکوٰۃ کی ادائی اس کے ذمے ہوگی۔

۳۔ سونا چاہے سکوں کی شکل میں ہو یا زیورات کی شکل میں، دونوں صورتوں میں اس پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہے۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

جواب : کسی زمین کی خریداری کے وقت اگر اس کی تجارت کی نیت نہیں تھی تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ اسے فروخت کرنے کے بعد جو رقم ملے، دوسرے اموال زکوٰۃ کے ساتھ اس پر بھی زکوٰۃ عائد ہوگی، اگر وہ رقم اْس وقت موجود ہو جب اس کا مالک صاحبِ نصاب ہوا ہو۔

اگر کوئی زمین ابتدا ہی میں تجارت کی نیت سے خریدی جائے تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوٰۃ عائد ہوگی۔ اس صورت میں قیمتِ خرید کا نہیں بلکہ اس کی موجودہ قیمت کا اعتبار ہوگا۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

جواب : اس معاملے میں اختلاف ہے۔ ہمارے خیال میں قرآن وسنت میں کوئی قطعی چیز نہیں ہے جو اس میں مانع ہو۔ یہ اجتہادی معاملہ ہے۔ ہمارا رجحان یہی ہے کہ غیر مسلم کو زکوۃ دی جا سکتی ہے۔

(مولانا طالب محسن)

جواب : شادی کی ضرورت ایک معتبر ضرورت شمار ہوتی ہے، اور بعض اوقات تو شادی کی ضرورت بالکل اس طرح ہوتی ہے جس طرح کھانے پینے اور رہائش کی ضرورت ہوتی ہے. اس لیے تنگ دست کی شادی کے لیے زکوۃ دینا جائز ہے ۔

(عبداللہ صالح المنجد)

جواب :آپ نے صدقہ، فطر، زکوۃ اور خیرات میں فرق پوچھا ہے اور مصیبت میں صدقہ دینے کی حقیقت دریافت کی ہے۔یہ تمام الفاظ ایک پہلو سے مشترک المعنی ہیں۔ وہ پہلو انفاق فی سبیل اللہ کا ہے اور یہ لفظ اس مشترک پہلو سے بھی لکھے اور بولے جاتے ہیں۔ انفاق سبیل اللہ ہی کی مختلف صورتوں کے لیے ان میں سے کچھ لفظ مختص بھی ہیں۔ مثلا بچتوں پر شریعت کی طرف سے لازم کیے گئے اڑھائی فیصد انفاق کے لیے زکوۃ کا لفظ مستعمل ہے۔ عید الفطر سے پہلے تمام افراد خانہ پر ایک دن کا کھانا عائد ہوتا ہے، جس کی مقدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع مقرر کی تھی، اسے فطرانہ یا صدقہ فطر کہا جاتا ہے۔ صدقہ اور خیرات کا لفظ نفلی خیرات کے لیے آتا ہے۔

 ان میں سے صدقے کا لفظ ہمارے ہاں ایک نئے تصور کے ساتھ متعلق ہو گیا ہے۔ وہ تصور یہ ہے کہ کسی مصیبت کو ٹالنے کے لیے کوئی چیز خیرات کی جائے۔ میری رائے یہ ہے کہ یہ ایک حقیقت کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر تکلیف یا آزمایش ہوتی ہے یا تنبیہ۔ اس لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی طرف متوجہ ہو اور توبہ اور اصلاح کے راستے کو اختیار کرے۔ اصلاح عمل میں نماز ہے۔ حمد و تسبیح ہے۔ گناہوں سے اجتناب ہے اور اسی طرح خیرات اور دوسرے نیکی کے کام بھی ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم کوئی ایسا راستہ نکال لیں جس میں زندگی میں کوئی تبدیلی نہ کرنی پڑے اور مشکل سے جان بھی چھوٹ جائے۔ صدقے کے اس تصور کی ایک وجہ تو یہ ہے۔ دوسری وجہ عامل حضرات ہیں جنھوں نے لوگوں کو توہم پرستی کی چاٹ لگا رکھی ہے۔

(مولانا طالب محسن)

 

جواب: زکوٰۃ کے مصارف قرآن کریم کی سورۂ توبہ آیت ۶۰ میں بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک مصرف ‘فی سبیل اللہ’ ہے۔ اس پر ماضی میں بڑی معرکہ آرا بحثیں ہوئی ہیں۔ ان بحثوں کے نتیجے میں تین قسم کی آرا سامنے آتی ہیں:
۱۔ تضییق ( اس مد کو محدود تر کرنا): علما کی اکثریت ‘فی سبیل اللہ’ کو جہاد (عسکری جہاد) کے معنی میں لیتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ صدر ِ اول سے اب تک تمام محدثین، مفسرین، فقہا سے یہی منقول ہے۔ گویا اس پر امت کا اجماع ہے۔ اس سے ہٹ کر جو آرا منقول ہیں وہ شاذ کا درجہ رکھتی ہیں۔
۲۔ تعمیم (اس مد کو وسیع تر کرنا): بعض علما اس سے تمام ‘وجوہ خیر’ مراد لیتے ہیں اور ہراچھے کام کو زکوٰۃ کا مصرف قرار دیتے ہیں۔
۳۔ توسیع: علما کے ایک طبقے نے بین بین کی راہ اختیار کی ہے۔ وہ نہ تو ایسی تعمیم کا قائل ہے جو دین کے نام پر ہونے والے ہر کام کو محیط ہو اور نہ اس کے نزدیک ایسی تنگی ہے کہ اس مصرف کے تحت مال زکوٰۃ کو قتال کے علاوہ احیائے دن کے کسی کام پر خرچ نہ کیا جا سکتا ہو۔ اس رائے کے حاملین فی سبیل اللہ کو جہاد فی سبیل اللہ کے معنی میں لیتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک جہاد اپنے درجات اور مراحل کے اعتبار سے عسکری نوعیت کا بھی ہوتا ہے اور نظری و فکری بھی۔ غرض خالصۃً اعلائے کلمۃ کے مقصد سے کی گئی ہر جد و جہد پر فی سبیل اللہ کا اطلاق ہو گا۔
عصر حاضر کے بعض علما جو پہلی رائے رکھتے ہیں، وہ دوسری یا تیسری رائے رکھنے والوں پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ وہ اسے ‘‘مغربی تہذیب سے مرعوب اور مغربی عقلیت کے شکار بعض لوگوں کی ذہنی اختراع’’ قرار دیتے ہیں۔ (ملاحظہ کیجیے زکوٰۃ کے مصارف از مولانا عتیق احمد بستوی، مکتبہ حرا لکھنؤ، ۱۹۹۲ء، ص: ۱۵، ۱۶) لیکن یہ بات صحیح نہیں، بلکہ اس کے قائل متقدمین میں بھی لوگ رہے ہیں۔ فقہائے احناف میں ملک العلماء علاء الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی (م ۵۸۷ ھ) اور ظہیر الدین ابو بکر محمد بن احمد (۶۱۹ ھ) تعمیم کے قائل ہیں۔ تفسیر رازی کے بموجب شافعی فقیہ محمد بن علی بن اسماعیل المعروف بالقفال الکبیر (م ۳۶۵ ھ) نے بھی بعض فقہا کی جانب اس قول کو منسوب کیا ہے۔
اس موضوع پر عصر حاضر کی بعض اکیڈمیوں کے فیصلوں پر نظر ڈالنی مفید ہو گی۔
اسلام فقہ اکیڈمی انڈیا کا پانچواں فقہی سمینار جامعۃ الرشاد، اعظم گڑھ میں ۳۱ اکتوبر تا ۳ نومبر ۱۹۹۲ ء منعقد ہوا تھا۔ اس میں یہ موضوع بھی زیر بحث تھا۔ عام شرکائے سمینار کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ سورۂ توبہ کی آیت ۶۰ میں مذکور فی سبیل اللہ کا مصداق غزوۂ احد اور جہاد عسکری ہے۔ دور حاضر میں دینی اور دعوتی کاموں کے لیے درکار سرمایہ کی فراہمی میں پیش آنے والی دشواری کے باوجود شرعاً اس کی گنجایش نہیں ہے کہ زکوٰۃ کے ساتویں مصرف فی سبیل اللہ کا دائرہ وسیع کر کے اس میں تمام دینی اور دعوتی کاموں کو شامل کر لیا جائے۔ کیونکہ قرون ِ اولیٰ میں اس تعمیم و توسیع کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ نیز ایسا کرنے سے مسلمانوں کے محتاج، نادار اور افلاس زدہ طبقہ کی مال زکوٰۃ کے ذریعے کفالت جو زکوٰۃ کا اہم ترین مقصد ہے، فوت ہو جائے گا۔ شرکائے سمینار میں سے تین حضرات (جناب شمس پیرزادہ ممبئی، مولانا سلطان احمد اصلاحی، علی گڑھ، ڈاکٹر عبد العظیم اصلاحی علی گڑھ) نے اس سے اختلاف کیا تھا۔ ان کے نزدیک فی سبیل اللہ میں عسکری جہاد کے ساتھ وہ تمام کوششیں شامل ہیں، جو آج کے دور میں واقعۃً دعوت اسلام اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جاری ہوں۔ (مجلہ فقہ اسلامی جز دوم، قاضی پبلشرز، نئی دہلی ۱۹۹۴ء، ص: ۹۵۶، ۹۵۷)
سعودی عرب کے ممتاز علما و فقہا پر مشتمل ایک ادارہ ہیئۃ کبار العلماء کے نام سے قائم ہے ۔ اس کے پانچویں اجلاس منعقدہ طائف ۵۔ ۲۳ شعبان ۱۳۹۴ھ (اگست ۱۹۷۴ء) میں زکوٰۃ کے ساتویں مصرف فی سبیل اللہ کا موضوع بھی شامل تھا۔ اس اجلاس کے شرکا نے یہ فیصلہ دیا کہ زکوٰۃ کے ساتویں مصرف فی سبیل اللہ کا مصداق صرف مجاہدین ہیں۔ تمام امور خیر اس میں شامل نہیں ہیں۔
البتہ عالم اسلامی کی ایک دوسری فقہی اکیڈمی کا فیصلہ اس سے مختلف ہے۔ ‘المجمع الفقہی الاسلامی مکہ مکرمہ، رابطہ عالم اسلامی کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔ اس کا آٹھواں اجلاس ۲۸ ربیع الثانی تا ۷ جمادی الاولیٰ ۱۴۰۵ ھ مکہ مکرمہ میں منعقد ہوا تھا۔ اس میں اس موضوع پر غور کیا گیا کہ مصرف فی سبیل اللہ کا مصداق صرف اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔ یا فی سبیل اللہ کا مفہوم عام ہے؟ غور و خوض کے بعد محسوس کیا گیا کہ اس مسئلے میں علما کی دو آرا ہیں۔ موضوع پر غور اور فریقین کے دلائل پر مناقشے کے بعد اکثریت کی رائے سے درج ذیل فیصلے کیے گئے:
۱۔ دوسری رائے کو بعض علمائے اسلام نے اختیار کیا ہے اور قرآن کریم کی بعض آیات میں یک گو نہ اس مفہوم کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
۲۔ جہاد بالسلاح کا مقصود چونکہ اعلائے کلمۃ اللہ ہے اور اعلائے کلمۃ اللہ جس طرح قتال سے ہوتا ہے، اسی طرح داعیوں کی تیاری اور ان کی مدد اور تعاون کے ذریعے دعوت الی اللہ اور اشاعت ِ دین سے بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا دونوں طریقے جہاد ہی کے ہیں۔
۳۔ اسلام پر آج ملحدین، یہود و نصاریٰ اور دشمنان دین کی طرف سے فکری اور عقائدی حملے ہو رہے ہیں اور دوسروں کی طرف سے انھیں مادی اور معنوی مدد مل رہی ہے۔ ان حالات میں انتہائی ضروری ہے کہ مسلمان ان کا مقابلہ انھی ہتھیاروں سے کریں، جن سے وہ اسلام پر حملے کرتے ہیں یا ان سے سخت ہتھیار سے مقابلہ کریں۔
۴۔ اسلامی ممالک میں جنگوں کے لیے مخصوص وزارتیں ہوتی ہیں او رہر ملک کے بجٹ میں ان کے لیے مالی ضوابط ہوتے ہیں۔ جبکہ دعوتی جہاد کے لیے بیش تر ممالک کے بجٹ میں کوئی تعاون و مد بھی نہیں ہوتی ہے۔
ان مذکورہ بالا امور کے پیش نظر اکثریت کی رائے یہ طے کرتی ہے کہ دعوت الی اللہ اور اس کے معاون اعمال آیت کریمہ میں مذکور زکوٰۃ کے مصرف فی سبیل اللہ کے مفہوم میں داخل ہیں۔
نوٹ: شیخ صالح بن فوزان، شیخ محمد بن عبد اللہ السبیل، شیخ محمد رشید قبانی اور ڈاکٹر ابو بکر زید کو مذکورہ قرار داد سے اتفاق نہیں ہے اور ان حضرات کی رائے میں فی سبیل اللہ کو صرف عسکری مجاہدین کے لیے مخصوص رکھنا ضروری ہے۔ شیخ محمد محمود صواف کو قرار داد سے اتفاق ہے، بلکہ ان کی رائے میں یہ توسع اس قدر ہے کہ اللہ کی راہ میں انجام پانے والے خیر کے تمام کام شامل ہیں۔ (فقہی فیصلہ، طبع دہلی ۲۰۰۱ء، ص: ۱۷۳، ۱۷۴)
اس تفصیل سے واضح ہوا کہ مصرف فی سبیل اللہ کو کچھ علما عسکری جہاد کے لیے خاص کرتے ہیں تو کچھ دعوت و اشاعت دین کے کاموں کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں اور کچھ ہر اچھے کام کو مصرف زکوٰۃ قرار دیتے ہیں۔         ایک بات قابل غور یہ ہے کہ جو علما مصرف فی سبیل اللہ کے عموم کے قائل نہیں ہیں، وہ بھی عملاً اموال زکوٰۃ کو ہر طرح کے دینی کاموں میں خرچ کرتے ہیں، البتہ وہ اس کے لیے ایک ‘‘حیلہ’’ اختیار کرتے ہیں۔ اسے انھوں نے ‘‘حیلۂ تملیک’’ کا نام دیا ہے۔ یعنی پہلے کسی مستحق زکوٰۃ کو مال زکوٰۃ کا مالک بنا دیا جائے، پھر وہ اپنی طرف سے اس مال کو دینی کاموں میں خرچ کرنے کے لیے دے دے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جو آج کل اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے سیکرٹری اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن ہیں، انھوں نے اپنی کتب ‘‘اسلام کا نظام عشر و زکوٰۃ’’ میں لکھا ہے:
‘‘البتہ اگر کہیں ایسے ضروری اقدامات موجود ہوں جو دینی اور قومی ضروریات کے اعتبار سے خاص اہمیت کے حامل ہوں، لیکن زمام حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں نہ ہو اور نہ ایسا بیت المال موجود ہو، جس میں مختلف مدات کے لیے رقوم ہوں تو شرعی دینی ضرورت کی تکمیل کے لیے اس میں کوئی قباحت نہیں کہ بالواسطہ طور پر زکوٰۃ کی رقم اس مد میں صرف کی جائے۔ اسی کو ‘‘حیلۂ تملیک’’ کہا جاتا ہے۔
اس میں کوئی قباحت نہیں کہ ضروری دینی اور قومی کاموں کے لیے کسی فقیر محتاج اور مستحق زکوٰۃ کو مالک بنا کر دیا جائے، پھر وہ ان ضروریات میں اس رقم کو خرچ کرے۔
دینی مدارس میں جو رقوم صرف ہوتی ہیں ان میں حیلۂ تملیک سے بسہولت بچا جا سکتا ہے۔ مہتمم، سفراء اور منتظمین کی تنخواہیں تو اس لیے دی جا سکتی ہیں کہ فقہا نے ‘‘عاملین’’ میں زکوٰۃ کی وصولی و تقسیم کرنے والوں اور نظم و نسق انجام دینے والوں کو بھی شامل رکھا ہے۔ طلبہ کو جو کھانے دیے جاتے ہیں اگر وہ تقسیم کر کے طلبہ کو مالک بنا دیا جائے تو اس سے بھی زکوٰۃ ادا ہو گئی۔ ضروریات کے لیے جو وظائف دیے جاتے ہیں، اس میں بھی تملیک پائی جاتی ہے اور زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے۔ رہ گئی اساتذہ کی تنخواہیں اور دوسری مدات تو اگر طلبہ کو تعلیمی وظائف کی رقم دی جائے اور ان سے فیس وصول کر لی جائے تو اب حیلۂ تملیک کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔’’
‘‘حیلۂ تملیک کے اس طریقے سے ان ضروریات کے لیے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جو فی زمانہ اسلام کی سربلندی کے لیے پیدا ہو گئی ہیں۔ زکوٰۃ کے مصارف پر نظر ڈالنے سے صاف اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کے بنیادی مقاصد حاجت مندوں کی ضروریات کی تکمیل اور اسلام کی سربلندی ہے۔ آج اسلام کی سربلندی کے لیے جو وسائل مطلوب ہیں، وہ ماضی سے بالکل مختلف نوعیت کے ہیں۔ ان مقاصد کے لیے تملیک کے حیلے کے ذریعے بالواسطہ زکوٰۃ کی آمدنی سے فائدہ اٹھانا مزاج شریعت کے عین مطابق ہے۔’’ (اسلام کا نظام عشر و زکوٰۃ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، ص: ۱۳۵، ۱۳۶)
دار العلوم دیو بند کے مفتی اول مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانی سے ایک صاحب نے ‘‘عملہ و دفتر، انجمن ہائے تبلیغ و حفاظت اسلام’’ کی تنخواہ اور مصارف خوراک و سفر پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے کی بابت سوال کیا۔ مفتی صاحب نے اس کا یہ جواب دیا:
‘‘غرض یہ ہے کہ فی سبیل اللہ میں بے شک موافق تفسیر صاحب بدائع کے جملہ مصارف خیر داخل ہیں۔ لیکن جو شرط اداءِ زکوٰۃ کی ہے وہ سب جگہ ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ وہ یہ ہے کہ بلا معاوضہ تملیک محتاج کی ہونی ضروری ہے۔ اس میں حیلۂ تملیک اول کر لینا چاہیے، تاکہ تملیک کے بعد تبلیغ وغیرہ کے ملازمین کی تنخواہ وغیرہ میں صرف کرنا اس کا درست ہو جائے۔’’ (حوالہ سابق، ص ۱۳۶، ۱۳۷، بحوالہ فتاویٰ دار العلوم ۶/ ۲۸۳)
اس تفصیل سے واضح ہو جاتا ہے کہ رقوم زکوٰۃ اساتذہ کی تنخواہوں اور مدرسہ کے دیگر کاموں میں بھی خرچ کی جا سکتی ہیں۔
(بشکریہ ماہنامہ ‘‘زندگی نو’’ نئی دہلی اکتوبر 2009ء)
 
(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

ج: بالکل دے سکتے ہیں اور ایسی صورت میں زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ یہ ایک خدمت ہے اور زکوٰۃ کے مصارف میں سے ایک مصرف ہے۔ زکوٰۃ کا قاعدہ یہ ہے کہ اگر حکومت مانگے تو پھر تو اسی کو دینی چاہیے، اگر حکومت نہیں مانگتی اور آپ ذاتی طور پر ادا کر رہے ہیں تو پھر اس کا ایک مصرف فی سبیل اللہ بھی ہے یعنی دین کی خدمت یا لوگوں کی بہبود کا کوئی کام ہو تو اس میں آپ زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: صرف وہ زیور مستثنی ہے جو عورتیں شب و روز پہنے رکھتی ہیں۔ جو گھر میں ان کے عام استعمال کا زیور ہے۔باقی سب پہ آپ زکوۃ دیں گے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: بیوی اپنے زیورات پر خود زکوۃ ادا کرے ، اگر شوہر سمجھتا ہے تو وہ اس کی طرف سے ادا کر دے یا باپ ، بھائی ، بیٹا کوئی بھی ادا کر دے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: زکوۃ تو ایک لازمی کٹوتی ہے جو اللہ تعالی نے عائد کر دی ہے ، انفاق فی سبیل اس سے آگے کی چیز ہے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: آپ نے کرائے پر دینے کا ارادہ کیا ہوا ہے تو اس دوران میں وہ زکوۃ سے مستثنی رہے گی لیکن جونہی وہ کرائے پر اٹھے گی اس پر پیداوارکی زکوۃ عائد ہو جائے گی۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: اگر تو آپ نے واقعی انہیں دے دیا اوروہ اب اس کی مالک ہیں تو مسلہ ختم ہو گیا لیکن اگر تقسیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ویسے تقسیم کر کے رکھ دیا لیکن خود بھی پہن لیا تو یہ اللہ تعالی کے ساتھ دھوکہ بازی ہے ، اس سے آدمی کو پناہ مانگنی چاہیے۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: ریاست زکوۃ کو جبراً وصول کر سکتی ہے ۔ اسلامی ریاست میں اس کی نوعیت لازمی ٹیکس کی ہے ۔ یہ لازماً آپ کو دینا پڑے گی ورنہ سیدنا صدیق اکبرؓ کی طرح حکومت تلوار اٹھا سکتی ہے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: والدین کی خدمت کی ذمہ داری آپ پر فرض ہے ۔ اس وجہ سے ان کوزکوۃ نہ دیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھ کر پورا کریں ۔

(جاوید احمد غامدی)

جواب۔ گھریلو ملازمین، اگر زکوٰۃ کے حق دار ہوں ( اور ہمارے معاشرے میں اکثر وہ حق دار ہی ہوتے ہیں)، تو اُن کو زکوۃ دی جا سکتی ہے۔ لیکن اِس کے عوض اُن سے ذرہ بھر اضافی کام کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ اُن سے کسی شکریے کی توقع رکھنی چاہیے، ورنہ اجر ضائع ہو سکتا ہے۔ زکوۃ کی رقم سے کپڑے وغیرہ خرید کر بھی دیے جا سکتے ہیں اور کسی اور صورت میں بھی مدد کی جا سکتی ہے ۔مثلا شادی بیاہ ،تعلیم ،دوا وغیرہ کا خرچ۔ زکوۃ بہن بھانجے اور خالہ کو دی جا سکتی ہے،جب کہ اُنھیں اِس کی ضرورت ہو۔دیتے وقت یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے۔

(محمد رفیع مفتی)

جواب۔  یہ نیکیاں الگ ہیں، مگر اس کے علاوہ بھی تو وہ کئی نیکیاں کما سکتے ہیں۔ پتا نہیں امیر آدمی زکوٰۃ، خیرات کرتا ہو، لیکن اس نے کتنے جرائم کیے ہوں، نیکی کمانے کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے کسی کودولت کا محتاج نہیں کیا۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار راستے رکھے ہیں۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ زکوۃ میں مالک بنانے کی شرط کوئی ضروری نہیں ہے ۔یہ مسئلہ اصل میں ایک آیت کا مدعا غلط سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہواہے۔ زکوۃ سے آپ ادارے بھی بنا سکتے ہیں اورنظام بھی۔تملیک کی شرط تو ایسی ہے کہ بقول ہمار ے جلیل القدر استاد کے الفاظ میں کہ اب اگر کسی لاوارث مردے کو کفن دینا ہو تو پہلے اس کو زندہ کر کے مالک بنائیں گے پھر اس کے بعد کفن دیں گے ۔تملیک کوئی چیز نہیں ہے ۔ آپ زکوۃ لوگوں کو دے بھی سکتے ہیں اوران کی بہتری کے کاموں میں بھی صرف کر سکتے ہیں ۔تملیک کی شرط نے حیلے کی بدترین قسم کو ایجاد کرنے پرمجبور کر دیا ہے۔مدارس میں حیلہ یہ کیا جاتا ہے کہ جب آپ زکوۃ کی رقم لیکر جاتے ہیں تو کہتے ہیں لے آئیے اور پھر کسی طالب علم کو اس کا مالک بناتے ہیں اور پھر اس سے اندر خانے وعدہ لے لیتے ہیں کہ تم مدرسے کو اعانت کر دو گے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: یہ کوئی لازمی بات نہیں ہے۔ اس بات کو پسندیدہ قرار دیا گیا تھا کیونکہ حضورﷺ کے زمانے میں سادہ نظام تھا اور حکومت کے لیے بھی بہت بڑے پیمانے پر جس طرح آج ہوتا ہے پلاننگ کرنا ممکن بھی نہ تھا تو اس میں یہ چیز روا رکھی گئی یا اس کو زیادہ قابل ترجیح سمجھا گیا کہ جہاں کی زکوۃ ہے وہیں پر خرچ کی جائے۔ یہ کوئی قانونی بات نہیں ۔اب حکومت مجموعی صورت حال کو سامنے رکھ کر پلاننگ کر سکتی ہے۔ مثلاً اگر بلوچستان کی زکوۃ صرف بلو چستا ن میں اورپنجاب کی زکوۃ صرف پنجاب میں خرچ کی جائے تو کتنا عدم توازن پیدا ہو جائے گا اس لیے مجموعی نظام کو سامنے رکھ کر ہی پلاننگ کرنی چاہیے۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: پہلی بات تو یہ ہے کہ زکوۃ صرف اڑھائی فیصد نہیں ہے ، زکوۃ مال میں اڑھائی فیصد ہے ، پیداوار میں پانچ فیصد ، دس فیصداور بیس فیصد ہے۔ پیداوار کی موجودہ زمانے میں ایسی قسمیں وجود میں آگئی ہیں جو قدیم زمانے میں نہیں تھیں ۔ زرعی پیداوار بھی پیداوار ہے اور صنعتی پیداوار بھی پیداوار ہے ، ڈاکٹر کی فیس بھی پیداوار ہے ، یہ کالجوں کی فیسیں بھی پیداوار ہے۔ پیداوار کے ذرائع لامحدود ہو گئے ہیں۔ زکوۃ مال میں اڑھائی فیصد ہے ۔ اسلام میں زکوۃ حکومت کا ٹیکس ہے جو اس نے بالجبر لے لینا ہے ۔ اسلام کااصل حکم انفاق ہے او رانفاق کے بارے میں اللہ تعالی کے مطالبہ جو کچھ ضرورت سے زیاد ہ ہے وہاں تک ہے۔ یعنی آپ کی ذاتی کاروباری ضرورتوں سے جو کچھ زیادہ آپ کے پاس موجود ہے، یہ اصلاً معاشرے کاحق ہے اور آپ کے ذمے ہے کہ معاشرے کویہ حق لوٹائیں۔ آپ کے پاس مال پڑا ہوا ہے تو امانت ہے ۔جیسے ہی انفاق کا کوئی موقع آپ کے سامنے آجائے آپ فراخدلی کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کیجیے اورقرآن یہ کہتا ہے کہ جو آدمی انفاق کا موقع پیدا ہونے کے بعد بھی اپنی ضروریات سے زائدمال اللہ کی راہ میں نہیں دیتا وہ جرم کا ارتکاب کرتا ہے اور اسکی سزا قرآن نے یہ بیان کی ہے کہ اس کاوہ مال آگ میں تپایا جائے گااور اس سے اس کی پیٹھ کو اور اس کی پیشانی کو قیامت میں داغ دیا جائے گا ۔ اس لیے صرف یہ خیال نہ کریں کہ قرآن نے صرف اڑھائی فیصد زکوۃ عائد کی ہے ، زکوۃ بھی اڑھائی فیصد ، پانچ فیصد، دس فیصد اور بیس فیصد ہے اور یہ تو ایک لازمی ٹیکس ہے جو حکومت قانون کی قوت سے لے لے گی ۔ اصل حکم انفاق کاہے اور انفاق ہی پر قرآن نے تمام درجات کی بنیاد رکھی ہے اور جب لوگوں نے پوچھا کہ اس کی آخری حد کیا ہے تو کہا یسئلونک ما ذا ینفقون قل العفو کہ سارے مطالبات ہمارے اس زائد مال میں ہیں جو تمہاری ضرورتوں سے فاضل تمہارے پاس ہے ۔ ضرورتیں کیا ہوتی ہیں وہ ذاتی بھی ہوسکتی ہیں ، کاروباری بھی ہو سکتی ہیں ، حال اور مستقبل کی بھی ہو سکتی ہیں۔ ان کے علاوہ جوبھی مال ہے وہ آپ کے پاس اصل میں معاشرے کی امانت ہے ۔مال کے بارے میں اسلام کا قاعد ہ قانون یہ ہے کہ وہ حلال ذرائع سے کمایا گیا ہو۔ اس میں کسی پر ظلم یازیادتی نہیں ہونی چاہیے ۔اور دوسری چیز بتا دی ہے کہ جو کچھ بھی آپ نے کمالیا ہے تو اپنی ذات پر خرچ کرنے میں بھی آپ کو اسراف کا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے یعنی فضول خرچی نہیں ہونی چاہیے اور تیسری بات یہ کہی ہے کہ جو ضرورتوں سے زیادہ ہے وہ معاشرے کا حق ہے۔

(جاوید احمد غامدی)