زیور

شرعی طور سے انگوٹھی پہننا مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے جائز ہے۔ ہاں سونا (Gold)امتِ محمدیہ کے مردوں کے لیے حرام ہے۔ اس لیے سونے کی انگوٹھی پہننا ان کے لیے جائز نہیں۔احادیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی تھی، جس سے آپﷺمہر کاکام لیاکرتے تھے۔ اس پر ’محمدرسول اللہ‘ کندہ تھا۔
جہاں تک حجریات کی تاثیر کا معاملہ ہے تو طب کی کتابوں میں اس کا تذکرہ ملتاہے۔ مختلف حجریات کے بارے میں بتایاگیاہے کہ انھیں اپنے پاس رکھنے، گردن میں لٹکانے یا کسی اور طرح سے اس کے خارجی استعمال سے جسم انسانی پر فلاں فلاں اثرات پڑتے ہیں۔ اس کا تعلق عقیدہ سے نہیں، بلکہ تجربے سے ہے۔ اگر کسی پتھر کا خارجی استعمال طبّی اعتبار سے فائدہ مند ثابت ہو تو اسے انگوٹھی کا نگینہ بنالینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔مگر اس کے ساتھ کوئی عقیدہ وابستہ کرنا ناجائز ہے ۔

(سید رضی الاسلام ندوی)

ج : آپ کے والد نے اپنی زندگی میں آپ کی شادی پر جو کچھ روپیہ پیسہ اپنی مرضی سے خرچ کیاتھا، بطور ادھار یا قرض نہیں دیا تھا،اس کا لوٹانا آپ کے ذمے نہیں ہے، اسی طرح جو زیور بنا کر آپ کو ان کا مالک بنا دیا ہے، آپ ان کے مالک ہیں اور ان میں آپ کی والدہ یا آپ کی بہن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

(رضی الاسلام ندوی)

ج۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کے شعائر اختیار کرنے سے منع کیا ہے اور ایسے مسلمانوں کو تنبیہ کی ہے جو غیر مسلموں کے شعائر اختیار کرتے ہیں۔ صورت مسؤلہ میں اگر تو واقعتا ایسا ہے کہ زیورات کی یہ جو صورتیں متعین ہیں اور ہندو مذہب میں بطور شعائر معروف ہیں تو ان سے مسلمان عورتوں کو اجتناب کرنا چاہیے۔ یہاں کسی مولوی صاحب کے کہنے کا اعتبار نہیں ہو گا بلکہ آپ کو خود یہ سروے کرنا ہو گا کہ زیورات کی یہ دو قسمیں ہندو مذہب میں عورتوں کا مذہبی شعار ہیں یا نہیں ہیں۔ اگر ہیں تو ممنوع ہے اور اگر نہیں ہیں تو محض مخصوص ڈیزائن کے زیورات اگر غیر مسلم عورتیں پہنتی ہوں تو ان کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے

(آن لائن فتاوی (محدث فورم اور محدث فتوی))