نماز

جی ہاں آدھے بازو تک شرٹ پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے اور نماز ہو جاتی ہے۔

(حافط محمد اشتیاق الازہری)

 

                                                                                                                                                      Unitجواب:پوری نماز ایک اکائی u                                                                                                                                                                            ہے۔ رکعتوں کوالگ الگ کرکے ایک رکعت کودرست اور دوسری رکعت کونادرست قرار دینا صحیح نہیں۔ یا توپوری نماز صحیح ہوگی یا پوری فاسد ہوگی۔                                                                                                                                                                                            اگر کسی غلطی کی وجہ سے امام صاحب کی نماز فاسد ہوگئی اور انہیں دہرانی پڑی تو تمام مقتدیوں کوبھی نماز دہرانا ہوگی۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جس رکعت میں غلطی تھی ، اس میں شریک نہیں تھا، اس لیے ان کی صحیح رکعت میں ایک اوررکعت شامل کرکے میری نماز درست ہوگئی۔ اس بنا پر ان صاحب کی نماز نہیں ہوئی۔ انہیں اس کی قضا کرلینی چاہیے۔

(رضی الاسلام ندوی)

فقہ مالکی اور قیام میں ہاتھ باندھنا
سوال:’زندگی نو‘ جنوری ۲۰۱۶ میں نماز میں ہاتھ باندھنے سے متعلق سوال کے جواب میں آپ نے حدیثوں کا تفصیلی حوالہ دیا ہے، پھر لکھا ہے کہ جمہورعلماء(احناف ، شوافع، حنابلہ) کے نزدیک نمازی کو دورانِ قیام ہاتھ باندھنا چاہئے، البتہ امام مالک سے اس سلسلے میں کئی اقوال مروی ہیں۔ ان اقوال کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نزدیک ہاتھوں کا کھلا چھوڑنا یعنی مطلق نہ باندھنا قابل ترجیح ہے۔
آپ کے جواب سے مزید چند سوالات ابھرتے ہیں:
۱۔ احادیث کی بیش تر کتابیں بعد کے زمانے میں مرتب ہوئی ہیں۔ قدیم ترین مجموعہ احادیث غالباً خود امام مالک کا مرتب کردہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کی کتاب ’موطا‘ میں کیا اس کے متعلق کوئی وضاحت ہے ؟
۲۔ امام مالک کی پوری زندگی مدینہ منورہ میں گزری۔ انہوں نے طویل عمر پائی۔ عرصہ تک وہ مسجد نبوی میں درس دیتے رہے۔ انہوں نے مدینہ میں تابعین اورتبع تابعین کی ایک بڑی تعداد کو لمبے عرصے تک مسجد نبوی میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ نماز ایسی عبادت ہے جس کا تواتر وتسلسل رسول اللہ کے عہد سے لے کر آج تک قائم ہے اور قیامت تک رہے گا۔ ظاہر ہے کہ دوسرے ائمہ کے مقابلے میں امام مالک کو اہلِ مدینہ کا تعامل و تواتر دیکھنے کا زیادہ موقع ملا تھا۔ ایسی صورت میں سوال اٹھتا ہے کہ اہلِ مدینہ کا تواتر وتعامل اس مسئلہ میں کیا رہا ہے 
اگران سوالات کی مناسب وضاحت ہوجائے تواس مسئلہ کا شافی جواب مل سکتا ہے۔

جواب: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے طریقہ نماز سے متعلق جواحادیث مروی ہیں ، ان میں سے بعض میں یہ صراحت موجود نہیں ہے کہ تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد آپ ہاتھ باندھ لیتے تھے البتہ بعض میں اس کاذکر ہے۔ احناف ، شوافع اورحنابلہ نے موخر الذکر احادیث کے پیش نظر ہاتھ باندھنے کوسنت قرار دیا ہے، جبکہ امام مالک کے نزدیک وہ احادیث قابلِ ترجیح ہیں جن میں ہاتھ باندھنے کا تذکرہ نہیں ہے۔
موطا امام مالک میں مذکور بعض احادیث میں ہاتھ باندھنے کا ذکر ہے۔ مثلاً حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں:کَانَ النَّاسْ یْومَرْونَ اَن یَّضَعَ الرَّجْلْ الیَدَ الیْمنٰی عَلَی ذِرَاعِہِ الیْسرَیٰ فِی الصَّلاَۃِ (حدیث نمبر ۷۰۸)’’لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ آدمی نمازمیں اپنا دایاں ہاتھ بائیں بازو پر رکھے۔‘‘اس حدیث کی بنا پر امام مالک ہاتھ باندھنے کو’مندوب‘ کہتے ہیں ، لیکن وہ اسے سنت نہیں قراردیتے۔ (الفقہ علی المذاہب الاربعۃ ، عبدالرحمن الجزیری ، دارالکتب العلمیۃ بیروت، ۱۴۲۴ھ : ۲۲۷۱)
علامہ ابن رشد مالکی نے اپنی تصنیف ’بدایۃ المجتہد ‘میں امام مالک کے مسلک کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ ہاتھ باندھنا افعال نمازمیں سے نہیں ہے ، بلکہ وہ استعانت کے قبیل سے ہے۔ اسی لیے امام مالک نے نفل میں اس کی اجازت دی ہے ، فرض میں نہیں۔‘‘ (بدایۃ المجتہد ، دارالباز ، مکۃ المکرمۃ : ۱۳۷۱)علامہ ابن عبد البر مالکی نے بیان کیا ہے کہ ’’امام مالک زندگی کے آخری لمحے تک ہاتھ باندھ کر نماز ادا کرتے رہے۔‘‘ (فقہ السنۃ ، السید سابق، دارالفکر ، بیروت :۱۲۳۱)اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کا کیا حکم ہے ؟ فقہاء ثلاثہ اسے مسنون کہتے ہیں ، جبکہ امام مالک مندوب قرار دیتے ہیں۔

(رضی الاسلام ندوی)

جواب: قرآن کریم میں ہے :اِنَّ الصَّلٰوۃ کَانَت عَلَی المْومِنِینَ کِتٰبًا مَوقْوتَا (النساء: ۱۰۳)’’نماز در حقیقت ایسا فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ اہلِ ایمان پر لازم کیا گیا ہے۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان پر نمازیں ان کے اوقات میں فرض کی گئی ہیں۔ کسی نماز کو اس کا وقت شروع ہونے سے پہلے نہیں پڑھا جاسکتا اوراگر اس کے وقت میں اسے ادا نہیں کیا جائے گا تووہ قضا ہوجائے گی۔یہ بات درست ہے کہ بعض صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرتبہ بغیر کسی عذر کے حضر میں دونمازیں جمع کی ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں بغیر خوف اور بغیر سفر کے، ظہر اورعصر کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔ اس موقع پر آپ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی اکٹھی پڑھی تھیں۔‘‘ ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سعیدسے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے فرمایا : آپ چاہتے تھے کہ میری امت میں سے کوئی شخص مشقت میں نہ پڑے۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب صلوٰۃ المسافرین ، باب الجمع بین الصلوٰتین فی الحضر ) صحیح مسلم کی دوسری روایت میں ’سفر ‘کی جگہ ’بارش‘ کا لفظ ہے۔اس حدیث سے حضر میں جمع بین الصلوٰتین پر استدلال کرتے وقت یہ بات سامنے رہنی چاہیے کہ حضرت ابن عباسؓ نے صرف ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسا کرنے کی روایت کی ہے۔پوری حیاتِ طیبہ میں کسی اور موقع پر آپ سے ایسا کرنا ثابت نہیں ہے۔ خود اس حدیث کے راوی حضرت ابن عباس سے ثابت نہیں ہے کہ وہ حضر میں جمع بین الصلوٰۃ کرتے تھے۔البتہ حضرت ابن عباس نے کم از کم ایک بار مدینہ میں رہتے ہوئے مغرب اورعشاء کی نمازوں کو جمع کیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک موقع پر کسی شدید ضرورت کے تحت ایسا کیا تھا ،ورنہ آپ نمازوں کو ان کے اوقات پر ہی ادا فرمایا کرتے تھے۔

(رضی الاسلام ندوی)

جواب : حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَن صَلّٰی عَلٰی جَنَازٍَۃ فِی المَسجِدِ فَلَیسَ لَہْ شَئی (ابن ماجہ : ۷ا۸ا۔علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔) ’’جس شخص نے مسجدمیں نماز جنازہ پڑھی، اسے کچھ اجر نہیں ملے گا۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مسجد نبوی کے باہر ایک جگہ نماز جنازہ کے لیے متعین کردی گئی تھی۔ وہیں آپ نماز پڑھایا کرتے تھے۔ بہت سی احادیث میں اس کا تذکرہ موجودہے۔ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ یہ جگہ مسجد نبوی سے متصل مشرقی جانب تھی۔ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ، المکتبہ السلفیہ ، ۳۰،۹۹ا)اس بنا پر بہتر یہ ہے کہ عام حالات میں سنت نبوی کی پیروی کرتے ہوئے نماز جنازہ مسجد کے باہرادا کی جائے۔ لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبوی میں بعض مواقع پر مسجد میں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں:
لَقَد صَلّٰی رَسْولْ اللہِ صَلّٰی اللہْ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَلَی ابنَی بَیضَاءَ فِی المَسجِدِ(مسلم : ۹۷۳، ابوداؤد : ۸۹ا۳، ترمذی : ۰۳۳ا، نسائی : ۹۶۸ا)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دونوں بیٹوں کی نماز جنازہ مسجد میں اداکی۔‘‘
حضرت ابوبکر صدیق اورحضرت عمر فاروق کی نماز جنازہ بھی مسجد میں ادا کی گئی۔ (مصنف عبدالر ز اق : ۶۵۷۶،موطا امام مالک : ۹۶۹)
اسی بنا پر امام بخاری نے یہ ترجمۃ الباب قائم کیا ہے : باب الصلاٰۃ علی الجنائز بالمصلیٰ وبالمسجد (اس چیز کا بیان کہ جنازہ گاہ اور مسجد دونوں جگہ نماز جنازہ اداکی جاسکتی ہے)
علامہ ناصر الدین البانی نے لکھا ہے : ’’مسجد میں نماز جناز ہ جائز ہے ( بہ طور دلیل انہوں نے کئی حدیثیں نقل کی ہیں، لیکن افضل یہ ہے کہ مسجد سے باہر جنازہ گاہ میں ادا کی جائے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں معمول تھا۔‘‘ (احکام الجنائز ، ص ۵۳۱)
فقہامیں امام شافعی اورامام احمدکے نزدیک اگر مسجد میں گندگی ہونے کا اندیشہ نہ ہوتو وہاں نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے۔ امام مالک کے نزدیک مسجد میں جنازہ کولے جانا مکروہ ہے ، البتہ اگروہ مسجد کے باہر رکھا ہو تومسجد میں موجودہ افراد اس کی نماز میں شریک ہوسکتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک جس مسجد میں پنج وقتہ نماز ہوتی ہے اس میں جنازہ کی نماز پڑھنی مکروہ ہے ، خواہ جنازہ اورنمازی دونوں مسجد میں ہوں ،یا جنازہ مسجد سے باہر اورنمازی مسجد کے اندر ہوں، یا جنازہ مسجد میں اور نمازی مسجد کے باہر ہو ں۔ البتہ بارش یا کسی دوسرے عذر کی بناپر مسجد میں نماز جنازہ بلا کراہت جائز ہے (الفتاویٰ الہندیۃ: ۱،۶۲ا فتاویٰ شامی :۱،۹ا۶۔)
اس موضوع پر تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجئے: الموسوعۃالفقہیۃ کویت :۶ا،،۳۶۔۳۵

(ابو یحییٰ)

جواب :اگر کوئی شخص نماز عید کی جماعت میں نہ پہنچ سکا تو اکیلے اس کی قضاء نہیں پڑھ سکتا، البتہ اگر گھر لوٹ کر چار رکعت نفل پڑھ لے تو بہتر ہے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 اگر امام تکبیرات سے فارغ ہوچکا ہو، خواہ قرآت شروع کی ہو یا نہ کی ہو، بعد میں آنے والا مقتدی تکبیرِ تحریمہ کے بعد زائد تکبیریں بھی کہہ لے اور اگر امام رْکوع میں جاچکا ہے اور یہ گمان ہو کہ تکبیرات کہہ کر امام کے ساتھ رْکوع میں شامل ہوجائے گا تو تکبیرِ تحریمہ کے بعد کھڑے کھڑے تین تکبیریں کہہ کر رْکوع میں جائے، اور اگر یہ خیال ہو کہ اتنے عرصے میں امام رْکوع سے اْٹھ جائے گا تو تکبیرِ تحریمہ کہہ کر رْکوع میں چلا جائے، اور رْکوع میں رْکوع کی تسبیحات کے بجائے تکبیرات کہہ لے، ہاتھ اْٹھائے بغیر، اور اگر اس کی تکبیریں پوری نہیں ہوئی تھیں کہ امام رْکوع سے اْٹھ گیا تو تکبیریں چھوڑ دے امام کی پیروی کرے، اور اگر رکعت نکل گئی تو جب امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی رکعت پوری کرے گا تو پہلے قر?ت کرے، پھر تکبیریں کہے، اس کے بعد رْکوع کی تکبیر کہہ کر رْکوع میں جائے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 اگر غلطی ایسی ہو کہ جس سے نماز فاسد نہیں ہوتی تو نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں، اور فقہاء نے لکھا ہے کہ عیدین میں اگر مجمع زیادہ ہو تو سجدہ سہو نہ کیا جائے کہ اس سے نماز میں گڑبڑ ہوگی۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرلیا جائے، بشرطیکہ پیچھے مقتدیوں کو معلوم ہوسکے کہ سجدہ سہو ہو رہا ہے، اور اگر مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے گڑبڑ کا اندیشہ ہو تو سجدہ سہو بھی چھوڑ دیا جائے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

ج۔۔ نیت باندھ کر پہلے زائد تکبیرات کہہ لے۔ امام کو رکوع میں پایا تو اگر رکوع نکل جانے کا اندیشہ نہ ہو تو پہلے زائد تکبیرات کہے، پھر رکوع میں جائے اور اگر رکوع نکل جانے کا اندیشہ ہو تو تکبیرہ تحریم کہہ کر رکوع میں چلا جائے
اور ہاتھ اٹھائے بغیر رکوع ہی میں تینوں تکبیرات کہہ لے اور رکوع کی تسبیح ’’سبحان ربی العظیم‘‘ بھی پڑھ لے، دونوں کا جمع کرنا ممکن نہ ہو تو صرف تکبیرات کہے، تسبیحات چھوڑ دے، تکبیرات واجب اور تسبیحات سنت ہیں، اگر تکبیرات پوری کہنے سے پہلے ہی امام نے رکوع سے سر اٹھا لیا تو بقیہ تکبیرات چھوڑ کر امام کا اتباع کرے۔
اگر امام کو دوسری رکعت میں پایا تو بعینہ وہی تفصیل ہے جو اوپر درج کی گئی۔ البتہ امام کے سلام کے بعد جب فوت شدہ رکعت ادا کرے گا تو پہلے قراء ت کرے، پھر تکبیرات کہے۔ 
اگر کسی کی دونوں رکعتیں نکل گئیں، سلام سے پہلے پہلے امام کے ساتھ شامل ہوگیا تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد اٹھ کر حسب قاعدہ دونوں رکعتیں پڑھے اور تکبیرات اپنے اپنے مقام پر یعنی پہلی رکعت میں ثناء کے بعد قراء ت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قراء ت کے بعد رکوع سے پہلے کہے۔ 
دوسری رکعت میں تکبیرات کو قراء ت سے موخر کرنا واجب نہیں: 
دوسری رکعت میں تکبیرات زائدہ کو قراء ت سے موخر کرنا اولی ہے، واجب نہیں۔

 

(مولانا یوسف لدھانی)

ج133 عید کا خطبہ نماز کے بعد ہوتا ہے، دْعا بعض حضرات نماز کے بعد کرتے ہیں اور بعض خطبہ کے بعد، دونوں کی گنجائش ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور فقہائے اْمت سے اس سلسلے میں کچھ منقول نہیں۔
 

(مولانا یوسف لدھانی)

ج 133 133 اگر کئی آدمیوں کی نماز عید رہ گئی تو وہ کسی دوسری مسجد یا عید گاہ میں جہاں پہلے عید کی نماز نہ ہوئی ہو اپنی الگ جماعت کر کے نماز عید پڑھ سکتے ہیں، ایسی مسجد یا عید گاہ نہ ملے تو کسی دوسری جگہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔

(مولانا یوسف لدھانی)

جواب:۔ نماز میں تشھد پڑھتے ہوئے انگلی اٹھا نا متعدد شرعی نصوص سے ثابت ہے،اسی وجہ سے اس پر امت کا تسلسل کے ساتھ عمل چلا آرہا ہے ، حدیث اور فقہ کی تقریباً ہر کتاب میں اس کا ثبوت اور سنت ہونا واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔اس سلسلے میں اگر کسی قسم کا شک وشبہ بھی اگر کبھی پیدا ہوا ہو تو اس کا جواب بھی تفصیلی طور پر دیا گیا ہے،علامہ مخدوم ہاشم ٹھٹھوی سندھی رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر ٹھوس وقیع رسالہ بھی تحریر فرمایا ہے،جس کا نام’’نورالعینین فی اثبات الاشارۃ فی التشھدین‘‘رکھا ہے،یہ رسالہ اگرچہ تاحال طبع نہیں ہوا مگر ہمارے پاس اس کا مخطوطہ موجود ہے،اور اس پر تحقیق و تخریج ہو چکی ہے ،رسالہ عربی زبان میں ہے، اہل علم کے فائدے کے لیے طباعت کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ہم یہاں پر ترمذی شریف کی ایک رویت نقل کرنے پر اکتفاکرتے ہیں ’’حضرت عباس بن سہل الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوحمید،ابواسید،سہل بن سعداور محمد بن مسلم رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا ،تو ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں،بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے (یعنی تشھد کے لیے) اور انہوں نے اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور دائیں پاؤں کا اگلا حصہ قبلہ رخ فرمایا اور اپنی داہنی ہتھیلی داہنے گھٹنے پر رکھی اور بائیں ہتھیلی بائیں گھٹنے پر،اور اپنی انگلی سے اشارہ کیا (یعنی شھادت والی انگلی سے اشارہ کیا)۔امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔(ترمذی شریف :38۔1)
مزید تفصیل کے لیے اہل علم حضرات اعلاالسنن،سنن ابی داؤد،سنن نسائی،سنن ابن ماجہ،بدائع الصنائع اور فتاویٰ شامی کی متعلقہ مباحث میں تفصیلات ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
ا

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب:1۔ صورت مسؤلہ میں دفتر میں اکیلے نماز پڑھے تواذان و اقامت مستحب ہے البتہ دونوں کے بغیر بھی نماز جائز ہوجائے گی۔
2۔ وقت داخل ہوتے ہی نماز پڑھی جاسکتی ہے ۔ سوائے مغرب کے اور نمازوں میں کچھ تاخیرکرنامستحب ہے۔
3۔خواتین اذان ہوتے ہی نماز پڑھ لیا کریں، جماعت ہوجانے کا انتظارکرنا ضروری نہیں۔
4۔ فوت شدہ نمازوں کی تعداد معلوم نہیں تو غالب گمان پر عمل کریں اگر کوئی غالب رائے نہ بنتی ہوتوپھر اتنی قضا نمازیں پڑھیں کہ یقین ہوجائے کہ اب کو ئی نماز ذمے باقی نہیں ہوگی۔
5۔عین طلوع،عین غروب اور دن کے بالکل بیچ کے وقت میں جس کو نصف النھار کہتے ہیں کوئی نماز،سجدہ تلاوت ،نماز جنازہ وغیرہ جائز نہیں سوائے اس دن کی عصرکی نمازکے،وہ غروب کے وقت بھی پڑھی جاسکتی ہے۔

 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب :مسجد میں نماز کے لیے بیٹھے ہوئے لوگوں پر جمعہ کی دوسری اذان کا جواب دینا ضروری نہیں ہے۔ اگر دینا چاہیں تو بغیر آواز کے جواب دے سکتے ہیں
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب :لفظ " ض" کو صحیح ادا کرنے کے لیے ماہرِ تجوید قاری کی ضرورت ہوتی ہے ،اس کا صحیح فرق براہِ راست مشق ہی سے سمجھا جا سکتا ہے ،البتہ عوام کو یہ معلوم ہونا کافی ہے کہ لفظ "ض" کی ادائیگی میں "ظ" کی آواز نکلے یا"د"کی دونوں صحیح ہیں اور دونوں طرح پڑھنے والوں کی نمازہو جاتی ہے یہ دونوں لفظ عربی کے ہیں ،نماز میں غیر عربی قرأت جائز نہیں ہے۔
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب:حدیث شریف میں ان دعاؤں کا پڑھنا ثابت ہے لہٰذا صورت مسؤلہ میں نماز میں سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ کے الفاظ پڑھ سکتے ہیں ،اسی طرح سجدے میں سبحان ربی الاعلیٰ کے بعد اور تشہد کے آخر میں کوئی بھی دعایا ایک سے زائد دعائیں عربی زبان میں مانگ سکتے ہیں،البتہ اگر امام ہوتو پھر مقتدیوں کی رعایت کرتے ہوئے مذکورہ دعائیں نہ مانگے تو کوئی حرج نہیں۔
 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب:1۔ بچوں کا پیشاب، پاخانہ دھلانے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ 
2۔ اولاً تو اتنے چھوٹے بچوں کو جو مسجد اور نماز کے آداب سے واقف نہ ہوں مسجد لے جانا منع ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے صراحۃً اس سے منع فرمایا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی پیمپر پہنے بچے کو گود میں اٹھا کر نماز پڑھتا ہے جب کہ اس پیمپر کے ناپاک ہونے کا یقین یا قوی اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں کراہت کے ساتھ نماز ہوجائے گی۔ 

 

(دارلاافتاء بنوری ٹاون)

جواب : لوگوں کا یہ کہنا درست نہیں ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ طلوعِ فجر تک عشا کا آخری وقت باقی رہتا ہے اگر کسی شخص نے عشا کی نماز نہیں پڑھی اور سوگیا پھر طلوعِ فجر سے پہلے پہلے عشاکی نماز پڑھ لے تو وہ نمازادا شمارہوگی ،قضا شمار نہیں ہوگی اس لیے کہ یہ عشاکا آخری وقت ہے۔البتہ آدھی رات سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے اس لیے آدھی رات سے پہلے عشاکی نماز پڑھ لیا کرے تاکہ کراہت نہ ہو۔
 

()

جواب: اس میں اختلاف کی موجودگی تشویش ناک بات نہیں ہے رسولﷺْ نے مختلف اوقات میں مختلف لوگوں کے مجمع کے سامنے نمازیں پڑھیں اور مختلف انداز میں پڑھیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ رسول ﷺ نے نماز میں جس طرح سے بھی کیا اور جو جوبھی کیا وہ سب محفوظ رہے ۔ رسول ﷺ کی کوئی ادا ایسی نہ ہو جو مسلمانوں میں محفوظ نہ رہے اور مسلمانوں کا کوئی طبقہ اسے اختیار نہ کرے۔ رسولْﷺ بعض اوقات پوری پوری رات نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ پاؤں مبارک پر ورم آجایا کرتا تھا۔ بعض اوقات مسجد نبویﷺ میں ظہر کے بعد طویل نوافل پڑھتے تھے۔ طویل نوافل میں جب آدمی ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتا ہے تو بعض اوقات ہاتھ تھک جاتا ہے اور ہاتھ کو کھول کر نماز پڑھنے میںآرام ملتا ہے۔ تورسول ﷺ بھی طویل نمازوں میں کبھی کبھی ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ اب کسی نے دیکھا کہ حضور ﷺ دست مبارک چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ کبھی ہاتھ اوپر باندھ لیے اور تھک گئے توپھر نیچے باندھ لیے۔ نیچے تھک گئے تواوپر باندھ لیے ۔اس میں آرام مل جاتا ہے اس لئے اس میں نہ تو کسی جائز ناجائز کا مسئلہ ہے نہ اس میں کسی مکروہ اور مستحب کا مسئلہ ہے۔ ہر طرز عمل سنت ہے اور ان میں سے ہر طرز عمل جائز ہے ۔فقہا نے صرف یہ سوال اٹھایا ہے کہ ان میں افضل کو ن سا ہے ۔کچھ لوگوں نے کہا کہ ہاتھ چھوڑ کر پڑھنا افضل ہے کچھ نے کہا ہاتھ باندھ کر پڑھنا افضل ہے ۔اس پر سب کا اتفاق ہے کہ یہ سب سنت کا حصہ ہے اس لیے اس میں کسی تشویش کی کوئی بات نہیں مسلمان چودہ سو بر س سے نماز اسی طر ح پڑھ رہے ہیں آئندہ بھی پڑھیں گے۔ آپ پریشان نہ ہوں آپ کا جی چاہے تو سورہ فاتحہ میں آمین اونچی آواز میں پڑھئے اور جی چاہے تو آہستہ پڑھئے۔ جی چاہے تو رفع یدین کریں اور جی چاہے تو نہ کریں سب سورتیں جائز ہیں سب سنت ہیں اور سب کا تعلق سنت سے ہے جس میں کوئی شک نہیں 
نہ یہ چیزیں مسلمانوں میں افتراق کا موجب ہیں نہ ان سے اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ حرم شریف میں جاکر دیکھیں لاکھوں افراد کئی کئی طریقوں سے نماز پڑھتے نظر آتے ہیں کوئی زور سے آمین کہتاہے کوئی آہستہ سے کہتا ہے سب ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں اور کوئی لڑتا نہیں۔ ہمارے ہاں ان امور کو اختلاف کا ذریعہ بنادیا گیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں لڑنے کے اسباب اور ہیں ان کا آمین زور سے یا آہستہ کہنے سے کوئی تعلق نہیں ہے نہ ہی اس کا رفع یدین سے کوئی تعلق ہے ۔نماز کے اندر رفع یدین کرنے سے کوئی جھگڑا نہیں ہوتا ہاں نماز سے باہر رفع یدین کرنے پر جھگڑا ہوتاہے۔ جب جاہل اور متعصب لوگ ایک دوسرے پر رفع یدین کرتے ہیں اس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے۔

 

(ڈاکٹر محمود غازی)

جواب:نمازِ پنجگانہ کے اوقات مقرر ہیں۔ جب نماز کا وقت شروع ہو جائے تو نماز ادا کرسکتے ہیں، نماز کی ادائیگی کے لیے اذان سننا شرط نہیں۔ مگر اسے عادت نہیں بنانا چاہیے کیونکہ اذان باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے دی جاتی ہے اور بلاوجہ باجماعت نماز ترک کرنا گناہ ہے۔(مفتی: محمد شبیر قادری)

(منہاج القرآن)

ج: حرام رزق کے ساتھ جو نماز پڑھی جاتی ہے، وہ اللہ کے ہاں مقبولیت نہیں پاتی، لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے، بلکہ انسان کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے جس عمل کے ساتھ بھی دل کی گہرائی کے ساتھ چپکا ہوتا ہے، وہی عمل بالآخر دوسرے اعمال پر غلبہ پا لیتا ہے۔یہ بات تو ظاہر ہے کہ اس وقت اس شخص کی نماز سچے عابد کی نماز نہیں ہے، کیونکہ خدا کا سچا بندہ اپنے دل سے خدا کا فرماں بردار بھی ہوتا ہے، لیکن اگر یہ شخص اپنے جرائم کو آج یا آیندہ کسی وقت دل سے ناگوار جانتا، خود کو غلط قرار دیتا اور اللہ کے سامنے شرمندہ ہوتا رہتا ہے، گو یہ ابھی ان سے باز نہیں بھی آ رہا تو یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کی نماز اس کی بد اعمالیوں پر غلبہ پا لے، یہ توبہ کر لے اور اپنے اچھے انجام کو پہنچے۔ البتہ، اگر معاملہ برعکس ہوا تو پھر توقع بھی برعکس ہی کی ہے،کیونکہ ارشاد باری ہے:''البتہ جس نے کمائی کوئی بدی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیاتو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔'' (بقرہ2: 81)
یعنی انسان خواہ کیسا ہی نمازی یا روزے رکھنے اور حج کرنے والا کیوں نہ ہو، اگر اس نے کسی ایک برائی کو سچے دل کے ساتھ اس طرح سے چمٹ کر اختیار کر لیا کہ وہ برائی اس پر چھا گئی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیا تو اب اس کی سب نیکیاں برباد ہو جائیں گی اور وہ جہنم میں جائے گا۔

(محمد رفیع مفتی)

ج- حدیث کے جو الفاظ آپ نے نقل کئے ہیں، وہ تو مجھے نہیں ملے، البتہ اس مضمون کی متعدّد احادیث مروی ہیں، ایک حدیث میں ہے:
ترجمہ:- ‘‘جس شخص نے تین جمعے محض سستی کی وجہ سے، ان کو ہلکی چیز سمجھتے ہوئے چھوڑ دئیے، اللہ تعالیٰ اس کے دِل پر مہر لگادیں گے۔’’
ایک اور حدیث میں ہے:‘‘لوگوں کو جمعوں کے چھوڑنے سے باز آجانا چاہئے، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دِلوں پر مہر کردیں گے، پھر وہ غافل لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔’’
ایک اور حدیث میں ہے:‘‘جس شخص نے بغیر ضرورت اور عذر کے جمعہ چھوڑ دیا اس کو منافق لکھ دیا جاتا ہے، ایسی کتاب میں جو نہ مٹائی جاتی ہے، نہ تبدیل کی جاتی ہے۔’’
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے:‘‘جس شخص نے تین جمعے پے درپے چھوڑ دئیے، اس نے اسلام کو پسِ پشت پھینک دیا۔’’
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا ترک کردینا بدترین گناہِ کبیرہ ہے، جس کی وجہ سے دِل پر مہر لگ جاتی ہے، قلب ماؤف ہوجاتا ہے اور اس میں خیر کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رہتی، ایسے شخص کا شمار اللہ تعالیٰ کے دفتر میں منافقوں میں ہوتا ہے، کہ ظاہر میں تو مسلمان ہے، مگر قلب ایمان کی حلاوت اور شیرینی سے محروم ہے، ایسے شخص کو اس گناہِ کبیرہ سے توبہ کرنی چاہئے اور حق تعالیٰ شانہ سے صدقِ دِل سے معافی مانگنی چاہئے۔
اوور ٹائم کی خاطر جمعہ کی نماز چھوڑنا 

(محمد یوسف لدھیانوی)

ج- وہاں جمعہ اگر نہیں ہوتا تو کسی اور جامع مسجد میں چلے جایا کیجئے، جمعہ چھوڑنا تو بہت بڑا گناہ ہے، تین جمعے چھوڑ دینے سے دِل پر منافقت کی مہر لگ جاتی ہے۔ محض معمولی لالچ کی خاطر اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کرنا ضعفِ ایمان کی علامت اور بے عقلی کی بات ہے۔ کمپنی کے اربابِ حل و عقد کو چاہئے کہ جمعہ کی نماز کے لئے چھٹی کردیا کریں۔
بڑے گاؤں میں جمعہ فرض ہے، پولیس تھانہ ہو یا نہ ہو

 

(محمد یوسف لدھیانوی)

س- ہمارا ایک قریہ ہے جس نام کربلا ہے، جس کی آبادی تقریباً دس ہزار پر مشتمل ہے، جس میں نو مسجدیں بھی ہیں، چار مسجدیں تو اتنی بڑی ہیں کہ ایک وقت پر تقریباً ڈیڑھ سو افراد ایک ہی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں، اور اس قریہ میں ضروریاتِ زندگی کا سامان ہر وقت مل سکتا ہے۔ ہائی اسکول، پرائمری اسکول، ڈاک خانہ، اسپتال، ٹیلیفون، بجلی، غرض یہ سب چیزیں موجود ہیں، مدرسہ بھی ہے، جس میں تقریباً بڑے چھوٹے تقریباً۳۰۰ طلبہ پڑھ رہے ہیں، لیکن یہاں پر جمعہ کی نماز نہیں ہوتی، ہمارے یہاں سے تقریباً آٹھ میل کی مسافت پر ضلع پشین میں جمعہ کی نماز باقاعدہ ہوتی ہے۔ علمائے دین نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ یہاں پر جمعہ پڑھنا واجب ہے۔ فتویٰ جن علماء نے دیا ہے ان کے نام یہ ہیں: مفتی عبدالحق صاحب اکوڑہ خٹک، مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم کورنگی، مفتی زین العابدین فیصل آباد، مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کراچی۔ مقامی علمائے دین فتویٰ کو نہیں مانتے۔ ہمارے علماء کا کہنا یہ ہے کہ یہاں پر پولیس تھانہ نہیں ہے، اور اس طرح جمعہ آس پاس گاؤں والوں پر واجب ہوجائے گا، اور اگر آپ لوگ کوئی بھی یہاں جمعہ پڑھوگے تو آس پاس کے گاؤں والے جھگڑا کریں گے۔ اب بتائیں کہ کیا اس قریہ میں جمعہ پڑھنا ضروری ہے؟

ج- اگر آپ کے مقامی علماء ، اتنے بڑے بڑے علماء کے فتویٰ کو نہیں مانتے تو مجھ طالبِ علم کی بات کب مانیں گے؟ تاہم ان سے گزارش ہے کہ اس قصبے میں جمعہ فرض ہے، اور وہ ایک اہم فرض کے تارک ہو رہے ہیں، اگر تھانہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کو جھگڑے کا شبہ ہے تو اس کا حل تو بہت آسان ہے، اس سلسلے میں گورنمنٹ سے استدعا کی جاسکتی ہے کہ یہاں ایک پولیس چوکی بٹھادی جائے، بہرحال تھانے کا وہاں موجود ہونا صحتِ جمعہ کے لئے شرطِ لازم نہیں۔
 

(محمد یوسف لدھیانوی)

ج-8 جمعہ کی نماز تو صحیح ہے، لیکن اگر امام پنج گانہ نمازیں نہ پڑھائے تو اہلِ محلہ کا فرض ہے کہ ایسے امام کو برطرف کردیں، اور کوئی ایسا امام تجویز کریں جو پانچ وقت کی نماز پڑھایا کرے، مسجد میں پانچ وقت کی اذان و جماعت مسجد کا حق ہے، اور اس حق کو ادا نہ کرنے کی وجہ سے تمام اہلِ محلہ گناہگار ہیں

(محمد یوسف لدھیانوی)

ج- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کی اذان صرف ایک تھی، یعنی اذانِ خطبہ، دْوسری اذان جو جمعہ کا وقت ہونے پر دی جاتی ہے، اس کا اضافہ سیّدنا عثمان بن عفان خلیفہ راشد رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا، قرآنِ کریم میں جمعہ کی اذان پر کاروبار چھوڑ دینے اور جمعہ کے لئے جانے کا حکم فرمایا، صحیح تر قول کے مطابق یہ حکم پہلی اذان سے متعلق ہے، لہٰذا پہلی اذان پر جمعہ کے لئے سعی واجب ہے، اور جمعہ کی تیاری کے سوا کسی اور کام میں مشغول ہونا ناجائز اور حرام ہے۔

(محمد یوسف لدھیانوی)

ج- جمعہ کے دن مردوں کے لئے جمعہ کی نماز ظہر کے قائم مقام ہے، اس لئے وہ صرف جمعہ پڑھیں گے، ظہر نہیں پڑھیں گے۔ عورتوں پر جمعہ کی نماز فرض نہیں، ان کو حکم ہے کہ وہ اپنے گھر پر صرف ظہر کی نماز پڑھیں، اور اگر کوئی عورت مسجد میں جاکر جماعت کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ لے تو اس کی یہ نمازِ جمعہ بھی ظہر کے قائم مقام ہوگئی۔ خلاصہ یہ کہ جمعہ اور ظہر دونوں کو ادا کرنے کا حکم نہیں، بلکہ جس نے جمعہ پڑھ لیا، اس کی ظہر ساقط ہوگئی۔

(محمد یوسف لدھیانوی)

ہماری قدیم کتبِ فقہ میں لکھا تھا: مکہ الگ مقام ہے، منیٰ و عرفات و مزدلفہ الگ مقامات ہیں، لہٰذا جب حجاجِ کرام ۸ ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ سے مِنیٰ کی طرف جائیں گے تو اگر کوئی حاجی اس سے پہلے مکہ میں پندرہ دن کے لیے مقیم نہیں تھا، تو وہ مسافر ہوگا اور ان مقامات پر قصر نماز پڑھے گا۔ لیکن اب چونکہ بلدیہ مکۃ المکرمہ کی حدود وسیع ہو چکی ہیں اور منیٰ و عرفات و مزدلفہ حدودِ بلدیہ میں آچکے ہیں، لہٰذا اب یہ مکہ مکرمہ میں شامل ہیں اور الگ مقامات نہیں ہیں۔ مکہ مکرمہ میں رہنے والے علمائے کرام نے اس مسئلے کی جانب متوجہ کیا، لہٰذا ہم نے یہ فتویٰ دیا: ‘‘اگر حج سے پہلے مکہ مکرمہ میں قیام، ایامِ حج میں منیٰ و عرفات و مزدلفہ میں قیام اور بعدالحج مکہ مکرمہ میں قیام کی مجموعی مدت کم از کم پندرہ دن یا اس سے زیادہ بنتی ہو تو ان تمام دنوں میں وہ پوری نماز پڑھے گا، کیونکہ اس پر سفرکا نہیں، بلکہ اِقامت کا حکم عائد ہوگا۔ پاک و ہند کے کئی علماء نے اس رائے کو اختیار کیا ہے۔
ہمارے مفتیانِ کرام میں سے علامہ مفتی محمد رفیق حسنی صاحب نے بھی اسی مؤقف کو اختیار کیا ہے اور انہوں نے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے استفسار کے جواب میں سابق امامِ حرم شیخ عبداللہ بن سبیل کے مندرجہ ذیل مکتوب کاحوالہ دیا ہے: ‘‘ہمارے لیے جو ظاہر ہے وہ یہ کہ آج جب کہ مکہ مکرمہ کی عمارات نے منیٰ کی حدود کا احاطہ کر لیا ہے اور وہ عرفات تک پھیل گئی ہیں، اس بنا پر منیٰ عرفات وغیرہ مکہ مکرمہ کے محلوں میں سے ایک محلہ ہے، سو مکہ سے منیٰ جانے والے کو مسافر شمار نہیں کیا جاتا، اس بنا پر حاجی کے لیے جائز نہیں ہے کہ منیٰ میں قصر کرے اور نہ اس کے لیے عرفات میں نمازوں کا جمع کرنا جائز ہے، یہ مسئلہ اُن علماء کی رائے کے مطابق ہے جو یہ کہتے ہیں کہ منیٰ میں قصر کی علّت مسافر ہونا ہے، کیونکہ منیٰ جانے والا حدودِ مکہ سے خارج نہیں ہوا۔ البتہ جن علماء کا کہنا یہ ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قصر ایک مستقل عبادت ہے، جیسا کہ مالکیہ کا مذہب ہے، سو آپ پر مخفی نہیں کہ حکم ثابت ہے۔ رہا آپ کا یہ سوال کہ آیا سعودی عرب کی حکومت ان دونوں مقامات کے ساتھ ایک شہر جیسا معاملہ کرتی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ منیٰ مکہ مکرمہ کے محلوں میں سے ایک محلہ ہے، صرف اتنی بات ہے کہ حکومت کا منیٰ میں عمارتیں بنانے سے منع کرنا مصلحتِ عامہ کی بنا پر ہے، کیونکہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ منیٰ کا مالک ہو اور منیٰ و دیگر مَشاعر (مزدلفہ وعرفات) میں سے کوئی شے اس کے ساتھ خاص ہو، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: منیٰ ہر اس شخص کے لیے جائے قرار ہے جو پہلے وہاں پہنچے’’۔ علامہ علی القاری نے لکھا ہے: ‘‘مالکیوں کا مذہب یہ نہیں ہے کہ قصر فی نفسہٖ عبادت ہے، بلکہ اُن کا مذہب یہ ہے کہ نمازوں کو جمع کرنا نُسُک ہے اور یہ سفر کے ساتھ خاص نہیں ہے، غیرِ مسافر بھی عرفہ میں نمازیں جمع کر سکتا ہے’’۔
مفتی محمد شریف الحق امجدی لکھتے ہیں: ‘‘جو لوگ مکہ معظمہ میں حج کی نیت سے حاضر ہوں اور بشمول منیٰ و عرفات مکہ معظمہ میں بلکہ حج کے بعد کے ایام بھی ملا کر پندرہ دن سے کم قیام کا ارادہ رکھتے ہوں، تو وہ مکہ معظمہ میں بھی قصر پڑھیں گے اور منیٰ وغیرہ میں بھی اور جو حضرات ان تمام ایام یعنی ایامِ حج سے پہلے مکہ مکرمہ میں قیام، ایامِ حج اور حج کے بعد مکہ مکرمہ میں قیام کے ایام کو ملا کر مکہ معظمہ میں پندرہ دن یا اس سے زائد قیام کا ارادہ رکھتے ہوں، وہ مکہ معظمہ میں بھی پوری نماز پڑھیں گے حتیٰ کہ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ ہر جگہ پوری پڑھیں گے۔ (نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری،ج:2،ص: 650،بتصرف)’’۔

(مفتی منیب الرحمان)