حقوق العباد

ج: دونوں ہی ضروری ہیں۔کوئی دوسرے کامتبادل نہیں ہے ۔آخرت میں یہ معاملہ اس طرح ہو گا کہ حقوق العباد کو پورا کرنے کے لیے جو نیکیاں ہیں وہ بھی میزان میں رکھی ہوں گی اور نماز کو چھوڑنے کے جو گناہ ہیں وہ بھی میزان میں رکھے ہوں گے ۔ اب میزان بتائے گی کہ کون سا پلڑا بھاری ہے ۔ نماز میں کوتاہی بہت بڑا گنا ہ ہے اور حقوق العباد کو پورا کرنا ایک بڑی نیکی ہے۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: اس طرح کی باتیں آدمی اس وقت کرتا ہے جب اس کو کسی بات کی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا ، آپ نماز کے بارے میں یا اللہ کی عبادت کے بارے میں سب سے پہلے انسان کے ذہن کو درست کریں یعنی پہلے خدا کی سچی معرفت سے اسے آگاہ کریں ۔اصل میں ہم خدا کی معرفت اور سچی پہچان پیدا کیے بغیر بعض مطالبات سامنے رکھ دیتے تو آدمی کی سمجھ میں بات نہیں آتی۔ جب آپ مخاطب کو یہ بتائیں گے ذرا تھوڑی دیر کے لیے آنکھیں بند کر کے غور کرو کس کی بات کر رہے ہو ، اس پروردگار کی جو تمہارا خالق ، مالک ، آقا ہے تمہارے ایک ایک سانس کو اس کی احتیاج ہے ۔ اسی مالک کی یاد دہانی کے لیے یہ نماز مقرر کی گئی ہے یہ نماز اس کی یاد دہانی کراتی ہے اور انسان پر اپنی عاجزی واضح کرتی ہے ۔ خدا کی معرفت اور اس کی بندگی کا شعور اگر پیدا ہو جائے گا تو پھر انسان کبھی نماز نہیں چھوڑے گا ۔

(جاوید احمد غامدی)