شوہر بیوی

جواب:آپ نے جو بات سنی ہے، وہ صحیح ہے. ہمارے فقہا یہ بات اسی طرح بیان کرتے ہیں. ان کی اس بات کی بنیاد یہ سوال ہے کہ اگر کسی آدمی کی بیوی کا انتقال ہوجائے تو کب اسکے لیے اپنی بیوی کی بہن سے نکاح جائز قرار پاتا ہے، کیونکہ قرآن نے ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرنا حرام ٹھہرایا ہے.
1- کیا اس کے وفات پانے کے کچھ عرصہ بعد؟
2- کیا اْس کی لاش کے دفنا دینے کے فوراً بعد؟
3- کیا اس کی وفات پانے کے فوراً بعد؟
فقہا اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ قانونی طور پر بیوی کی وفات کے فوراُ بعد اس کی بہن سے نکاح جائز ہو جاتا ہے. وہ اس بات کا لازمی تقاضا یہ محسوس کرتے ہیں کہ وفات کے فوراً بعد بیوی کے مردہ جسم کو شوہر کے لیے نامحرم خاتون کا جسم قرار دے دیا جائے.    
تا ہم بعض حضرات اس کے خلاف بھی رائے رکھتے ہیں اور ان کی دلیل بعض صحابہ کا عمل ہے۔

 

(محمد رفیع مفتی)

عورت کو مار پیٹ کرنے والے پڑھے لکھے پاگل کے متعلق شرعی حکم
س-85 ایک آدمی پڑھا لکھا ہے، اسلامیات میں ایم اے کیا ہوا ہے، بیوی کو کوئی عزت نہیں دیتا، بیوی پر طرح طرح کے الزامات لگاتا ہے، ہر کام میں نقص نکالتا ہے، ہر نقصان کا ذمہ دار بیوی کو ٹھہراتا ہے، گندی گندی گالیاں بکتا ہے، بیوی کی پاک دامنی پر الزامات لگاتا ہے، بیوی کے رشتہ داروں کی پاک دامنی پر بھی الزامات لگاتا ہے، بیوی کو اس کے رشہ داروں کے گھر جانے نہیں دیتا۔ بیوی کا دِل اگر چاہتا ہے کہ وہ بھی اپنے میکے میں کہیں جائے تو ڈَر کی وجہ سے اجازت طلب نہیں کرتی، کیونکہ شوہر اس کے گھر والوں کا نام سنتے ہی آگ بگولہ ہوجاتا ہے اور چِلَّا چِلَّاکر اس کے گھر والوں کو گندی گندی گالیاں بکتا ہے، بیوی بے چاری مہینوں مہینوں اپنے گھر والوں کی صورت کو بھی ترس جاتی ہے، بے بس ہے، جب زیادہ یاد آتی ہے تو چپکے چپکے رو لیتی ہے، اور صبر و شکر کرکے خاموش ہوجاتی ہے۔ بیوی کے گھر والے اگر بلائیں تو (شوہر جو کہ شکی مزاج ہے) بیوی اور اس کے میکے والوں پر گندے گندے الزامات لگاتا ہے۔ زیادہ غصہ آئے تو چہرے پر تھپڑوں کی بھرمار کردیتا ہے۔کچھ عرصے کی بات ہے کہ شوہر نے اپنی بیوی کو گالیاں دیں اور بہت سے مردوں کے نام لے کر اس کی پاک دامنی پر الزام لگایا، یہاں تک کہ بیوی کے بھانجوں اور بھتیجوں تک کے ساتھ الزام لگانے سے باز نہ آیا، اس کے میکے والوں پر بھی گندے گندے الزامات لگائے، تین چار روز بعد بیوی سے کہا کہ: مجھے معاف کردو بیوی نے کہا کہ: ’’اب تو میں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی، کیونکہ آپ ہر بار معافی مانگنے کے بعد بھی یہی کرتے ہیں لیکن شوہر بارہا معافی مانگتا رہا اور اس نے یہاں تک وعدہ کیا کہ: ‘‘دیکھو میں کعبۃ اللہ کی طرف ہاتھ اْٹھاکر حلفیہ تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ اب میں کبھی بھی تم پر اور تمہارے گھر والوں پر کوئی الزام نہیں لگاؤں گا’’ بیوی نے معاف کردیا، مگر ابھی اس معافی کو بمشکل دو ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ شوہر صاحب پھر وعدہ بھلاکر اپنی پْرانی رَوِش پر اْتر آئے، اب تو بیوی بالکل بھی معاف نہیں کرتی، شوہر جب بھی اس کی پاک دامنی پر الزامات لگاتا ہے تو بیوی چار بار آسمان کی طرف اْنگلی اْٹھاکر چار گواہوں کی طرف سے اللہ کو گواہ بناتی ہے اور پانچویں بار اللہ کو گواہ بناکر اپنی پاک دامنی پر لگائے ہوئے الزامات کا بدلہ اللہ کو سونپ دیتی ہے، کیونکہ کہتے ہیں کہ عورت کی پاک دامنی پر الزام کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے الزام لگانے والے پر ۸۰ دْرّوں کی سزا رکھی ہے، اب بیوی اپنے شوہر کی ہر بات صبر اور شکر سے سنتی ہے، اور خاموش رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو کہتی ہے کہ: ‘‘اے اللہ! تو ہی انصاف سے میرے ساتھ کی جانے والی تمام حق تلفیوں کا بدلہ دْنیا اور آخرت میں لے لینا’’ مولانا صاحب ایسے مرد کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

ج-85 اس شخص کے جو حالات آپ نے لکھے ہیں، ان کے نفسیاتی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص ‘‘پڑھا لکھا پاگل’’ ہے، گالیاں بکنا، تہمتیں دھرنا، مارپیٹ کرنا، وعدوں سے پھرجانا، اور قسمیں کھاکھاکر توڑ دینا، کسی شریف آدمی کا کام نہیں ہوسکتا۔ جو شخص کسی پاک دامن پر بدکاری کا الزام لگائے اور اس پر چار گواہ پیش نہ کرسکے، اس کی سزا قرآنِ کریم نے ۸۰ دْرّے تجویز فرمائی ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بڑے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے، اور جو شخص اپنی بیوی پر تہمت لگائے، بیوی اس کے خلاف عدالت میں لعان کا دعویٰ کرسکتی ہے، نکاح ختم کرنے کا دعویٰ کرسکتی ہے، جس کی تفصیل یہاں ذکر کرنا غیرضروری ہے۔ اب اگر آپ اپنا معاملہ یوم الحساب پر چھوڑتی ہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آپ کو ان تمام زیادتیوں کا بدلہ دِلائیں گے، اور اگر آپ دْنیا میں اس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہیں تو آپ کو عدالت سے رْجوع کرنا ہوگا کہ مظلوم لوگوں کے حقوق دِلانا عدالت کا فرض ہے۔ اس کے علاوہ آپ یہ بھی کرسکتی ہیں کہ دو چار شریف آدمیوں کو درمیان میں ڈال کر اس سے طلاق لے لیں اور کسی دْوسری جگہ عقد کرکے باعزت زندگی بسر کریں۔ حضور ؐ نے فرمایا ‘‘خیرکم خیرکم لاھلہ وانا خیرکم لاھلی۔’’(مشکوٰۃ ص:۱۸۲)
‘‘تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سب سے بڑھ کر اچھا ہوں۔’’
 لڑکیوں سے قطع تعلق اور حصے سے محروم کرنا

(محمد یوسف لدھیانوی)

ج- اگر زیور بیوی کی ملکیت ہے تو وہ جس طرح چاہے اور جہاں چاہے خیرات کرسکتی ہے، شوہر کا اس پر کوئی حق نہیں۔ لیکن حدیثِ پاک میں ہے کہ عورت کے لئے بہتر صدقہ یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر اور بال بچوں پر خرچ کرے۔ اس لئے میں اس نیک بی بی کو جو پندرہ سو روپے خرچ کرنا چاہتی ہے، مشورہ دْوں گا کہ وہ اپنے زیور سے اپنے شوہر کا قرضہ ادا کردے، اس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوجائیں گے اور اس کو جنت میں بہترین زیور عطا کریں گے۔

(محمد یوسف لدھیانوی)

ج۔ میاں بیوی کے درمیان اگر نااتفاقی ہو اور شرعی حدود کے اندر رہنا دونوں کے لیے مشکل ہورہا ہو تو شرعی حکم یہ ہے کہ شوہر بیوی کو ایک طلاق رجعی دے دے، اگر شوہر طلاق نہ دے رہا ہو تو بیوی اس کو خلع پر آمادہ کرے۔ صورت مسؤلہ میں اگر میاں بیوی میں نباہ نہ ہورہا ہو تو اس کے لیے طلاق یا خلع میں سے کوئی صورت اختیار کی جائے۔ عملیات وغیرہ کے ذریعہ جدائی کی کوشش نہ کی جائے، یہ جائز نہیں ہے۔

(دارلعلوم بنوری ٹاؤن)

ج۔ صورت مسؤلہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعتاً درست ہے اور شوہر نے مذکورہ الفاظ ہوش و حواس میں کہے ہیں تو سائلہ کے شوہر مذکورہ جملہ‘‘نہ ہی میں اللہ پر یقین رکھتا ہوں، نہ ہی مجھے اللہ کی ذات کے ہونے پر یقین ہے’’ کہنے سے دائرہ اسلام سے خارج ہوچکے ہیں اور اس کی وجہ سے سائلہ کا نکاح اپنے شوہر سے ختم ہوچکا ہے۔ سائلہ کا شوہر جب تک تجدید ایمان اور تجدید نکاح نہ کرلے اس وقت تک دونوں کا ساتھ رہنا قطعاً حرام ہے۔ اگر مذکورہ شخص اپنے کفریہ کلمات سے توبہ کرتے ہوئے ایمان اور نکاح کی تجدید نہ کرے تو جس دن یہ کفریہ جملہ کہا گیا تھا اس وقت سے سائلہ کی عدت شروع ہوچکی ہے، وہ اپنی شرعی عدت مکمل کرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

(دارلعلوم بنوری ٹاؤن)

ج: بہنوں کی شادی اس کی ذمہ داری ہے۔لیکن بہرحال ذمہ داریوں میں توازن پیدا کرنا چاہیے بیوی کو سمجھائیے کہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے نہ سمجھے تو مناسب تادیب کی جا سکتی ہے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: عورت گھر کا نظم سنبھالے گی اور مرد باہر کا، یہ ہماری سوسائٹی کا عرف ہے ۔اس میں شریعت مداخلت نہیں کرتی ۔ ہر سوسائٹی کا اپنا ایک معروف ہوتا ہے اور اس کے تحت لوگ معاملہ انجام دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ ہوتا ہے کہ مرد باہر کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں اور خواتین گھر کی ، تو یہ تقسیم صدیوں سے چلی آرہی ہے ا لبتہ موجودہ زمانے میں مجروح ہوئی ہے کیونکہ خواتین بھی معاشی سرگرمیوں میں جانے لگی ہیں ، اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے سسٹم میں بہت تغیر و تبدل ہو رہا ہے۔ یہ شریعت کا مسئلہ نہیں بلکہ سوسائٹی کے معروف کا مسئلہ ہے اور سوسائٹی کے معروفات میں اصل چیز یہ ہے کہ باہمی موافقت سے گھر چلایا جائے ۔ البتہ مرد کو چونکہ گھر چلانے کی انتظامی ذمہ داری بھی دی گئی ہے تو مرد اگر محسوس کرتا ہے کہ کھانا نہ پکانے کے اصرار سے گھر کا نظم مجروح ہو رہا ہے تو وہ عورت کو مناسب تادیب کر سکتاہے اور یاد رہے کہ تادیب کے مراحل ہیں جنہیں شریعت کی روشنی میں استعمال کرنا چاہیے۔

(جاوید احمد غامدی)

جواب: اگرچہ یہ بات معمول بنانا پسندیدہ نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ مسجد کی حاضری سے گریزکسی سبب ہی سے ہونا چاہیے۔ لیکن اگر گھر میں نماز پڑھی جارہی ہو تو جماعت کرائی جا سکتی ہے۔ میرے خیال میں اگر دوہی افراد ہیں تو بیوی کو کچھ پیچھے ہٹ کر دائیں طرف کھڑا ہونا چاہیے ۔ واضح رہے کہ یہ جواب کسی نص سے ماخوذ نہیں ہے۔

(مولانا طالب محسن)

جواب۔ اُنہی دلائل کی بنا پر لے پالک سے بھی وعدہ پورا ہونا چاہیے۔ دوسری بیوی کی اولاد کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ان کی آپس میں مساوات ضروری ہے، لے پالک سے تعلق نہیں۔

(مولانا حافظ ثناء اللہ خاں مدنی)

جواب: سب سے اچھی دعا اور کلمہ یہ ہے کہ آپ غصے کے مقابلے میں اپنے اندر ضبط پیدا کریں ۔اس سے بہتر کوئی دعا نہیں۔ آدمی جب غصے کا جواب غصے سے دیتا ہے تو اصل میں اس سے ساری خرابی پیدا ہوتی ہے ۔غصے کے بارے میں اصولی بات ذہن میں رکھنی چاہئے ۔کہ غصہ بعض اوقات بے وجہ بھی آجاتا ہے۔ اور بعض اوقات اس کے وجوہ اور اسباب بھی ہوتے ہیں ۔ہماری معاشرتی زندگی میں ہر شخص کے ساتھ یہی معاملہ ہے ۔ اسی طریقے سے بیوی ،شوہر کے تعلق میں بھی یہ چیزہو جاتی ہے ۔ اول تو غصہ آنا نہیں چاہئے۔آگیا ہے تو اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ غصے کا جواب آپ غصے سے نہ دیں۔یعنی آپ کا ٹھنڈا رویہ تھوڑی دیر میں معاملات کو نارمل کر دے گا۔انسان کے اندر ایک بڑا غیر معمولی داعی بیٹھا ہوا ہے ۔جیسے ہی آپ جواب میں غصے کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو وہ معاملے کو بڑھاتا چلا جاتا ہے ۔کوئی ایک فریق جب یہ طے کر لیتا ہے کہ مجھے اس معاملے کو نرم کر دینا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کے بعد شیطان کی در اندازی بند ہو جاتی ہے ۔نبی ﷺ نے غصہ کرنے والے کو یہ کہا کہ دیکھو تم اپنی جگہ تبدیل کرو۔کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ۔بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ۔پانی کا کوئی گلاس قریب میں ہے تو وہ پینا شروع کر دو ۔یہ بھی ایک نفسیاتی علاج ہے ۔یعنی آدمی ذرا سی تبدیلی کرتاہے اپنے اندرتو اس کیفیت پہ قابو پانے میں اس کو آسانی ہو جاتی ہے ۔ اس کے ساتھ اللہ سے دعا بھی کرتے رہنا چاہئے اور خاص طور پر قرآن مجید کی وہ آیات کہ جن میں اللہ نے بڑی تعریف کی ہے ان لو گوں کی جواپنے غصے پر قابو پا لیتے ہیں ۔ان آیا ت کے ترجمے اور مفہوم کو سمجھ کرپڑھیں تو امید یہ ہے کہ آپ کو بھی غصے پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔اور شوہر کو بھی ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: بیوی کے نان و نفقے کی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی ہے اگر کوئی آدمی واقعی اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہیں کرتاتو حضور ؐ سے جب پوچھاگیاتو آپ ﷺنے فرمایا کہ تم اپنے خرچ کے لیے بغیر پوچھے لے سکتی ہو اس کو چوری نہیں کہاجائے گا ۔یہ خاوند کی ذمہ داری تھی۔لیکن اس کو جواز بنا کر آپ اس سے ناجائز فائدہ اٹھائیں اورجوجی چاہے کرنا شروع کر دیں تو اس کی ذمہ داری اللہ کے پیغمبر پر عاید نہیں ہوتی، اللہ بہر حال نیتوں کا حال جاننے والا ہے۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: میاں بیوی ایک گھر آباد کرتے ہیں اورجب گھر آباد کرتے ہیں تو ان دونوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی شخصیت کو سمجھیں۔اور یہ سمجھ کر فیصلہ کر لیں کہ دونوں کے کیا حدود ہیں اور کن حدود میں رہ کر ایک دوسرے سے معاملہ کرنا ہے ۔ بہت زیادہ توقعات اور مطالبات میں نہ پڑا جائے تو بالعموم ایک خوشگوار زندگی کی ابتدا ہوتی ہے ۔ کچھ حقوق تو وہ ہیں جو بالکل قانونی نوعیت کے ہیں ظاہرہے انہیں تو ہر حال میں ادا کرنا ہوتا ہے ۔مثلاً میاں بیو ی کے درمیان تعلق کا ایک قانونی پہلو یہ ہے کہ انہیں ایک دوسرے کو تسکین کا سامان بہم پہنچانا ہوتا ہے ۔ مرد اور عورت دونوں کو اسے اپنا فرض سمجھنا چاہیے ۔ اس کے بعد مرد کے اوپر نا ن ونفقہ کی ذمہ داری ہے جسے اس نے ہر حال میں پوراکرنا ہے ۔شوہر کی حیثیت سے اسے نرمی، شفقت ، محبت اور عفو و درگزر کا رویہ پیدا کرنا چاہیے۔ خواتین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ نے انہیں ماں بننے کا شرف دیا ہے اور اس لحاظ سے انہیں اس بات کو ترجیحاً پیش نظر رکھنا ہے۔ باقی بہت سی مصروفیا ت میں سے ان کو اس جانب زیادہ وقت دینا ہے کہ یہ ان کی فطری ذمہ داری ہے ۔اگلی نسلوں کی تربیت ان کی ذمہ داری ہے ۔ اس معاملے میں جس حد تک بھی وہ ایثار کر سکیں اتنا ہی ان کے لیے باعث شرف ہے۔ اگر ان بنیادی چیزوں کو سامنے رکھ کر معاملات کیے جائیں تو امید ہے اچھی زندگی گزرے گی ۔باقی حقوق و فرائض کی کوئی لسٹ لٹکانے سے معاملات حل نہیں ہوتے اور نہ زندگی خوشگوار گزرتی ہے ۔

(جاوید احمد غامدی)