وراثت

میرے شوہر کا انتقال دوسال قبل ہوگیاہے۔ میں ایک گرلزاسکول کی پرنسپل شپ سے وظیفہ یافتہ ہوں۔ کچھ جائیداد میرے شوہر کی موروثی ہے۔ کچھ ان کی خریدی ہوئی ہے اور کچھ جائیداد میں نے اپنی آمدنی سے بنائی ہے۔ میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ دوسرے رشتہ دار ہیں۔ میں ان تمام جائیدادوں کو شرعی اعتبار سے تقسیم کرناچاہتی ہوں۔ براہ کرم رہ نمائی فرمائیں۔
۱۔میرے سسرصاحب اور ساس صاحبہ کا عرصہ ہوا انتقال ہوچکا ہے۔ چند ایکڑ زرعی زمین ان کے ورثہ میں تھی۔ خسر صاحب کے انتقال کے وقت ان کے پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں تھیں۔ ان میں سے میرے شوہر کا حال میں انتقال ہوگیا ہے۔ اس جائیداد میں میرے شوہر کا یا میرا کیا شرعی حق بنتا ہے؟
۲۔میرے شوہر نے ایک مکان ہائوسنگ بورڈ سے قسطوں پر خریداتھا۔ ابھی تقریباً ایک لاکھ روپے ہائوسنگ بورڈ کو اور ادا کرنا ہے۔ انتقال کے وقت ان کے اکائونٹ میں تیرہ ہزار روپے تھے۔ ان کے تین بھائی اور پانچ بہنیں حیات ہیں۔ اس مکان کو فروخت کرکے اس کی شرعی تقسیم کس طرح کی جائے؟
۳۔اپنے والدین سے وراثت میں مجھے چند ایکڑ زرعی زمین ملی ہے۔ اس کے علاوہ میری آمدنی سے بنایاگیا مکان اور کچھ پلاٹ ہیں۔ میری جائیداد کی تقسیم کا مسئلہ میری حیات کے بعد کاہے۔ مگر میں چاہتی ہوں کہ مستقبل میں کوئی مسئلہ یا نزاع میرے میکے اور سسرال والوں کے درمیان نہ ہو۔ فی الوقت میرے تین بھائی اور دوبہنیں حیات ہیں۔ دوبہنوں کا انتقال ہوچکاہے۔ ان کے بچے موجود ہیں۔ بہ راہ کرم رہ نمائی فرمائیں:
الف۔ مجھے جو زرعی زمین اپنے والدین سے ملی ہے کیا وہ پوری زمین ان کے ایصال ثواب کے لیے صدقہ کرسکتی ہوں۔ فی الوقت اسے بیچنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کے ساتھ میری بہنوں کی زمین بھی مشترک ہے۔ کیا اس کے لیے وصیت کی جاسکتی ہے؟
ب۔ میں اپنی کل جائیداد میں سے کتنا حصہ اللہ کی راہ میں دے سکتی ہوں؟

 

 کیا میں اپنی جائیدادثوابِ جاریہ کے لیے یارشتہ داروں کے حق میں وصیت کرسکتی ہوں؟
جواب: آپ قابل مبارک باد ہیں کہ آپ کو وراثت کے حکم ِ الٰہی کی اہمیت کااحساس ہے اور اپنے مرحوم شوہر کی میراث اور مملوکہ جائیداد کو شرعی اعتبار سے تقسیم کرنا چاہتی ہیں اور اپنی جائیداد کی بھی مناسب تقسیم کے لیے فکر مند ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزاے خیر عطا فرماے۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
۱۔ آپ کے خسر صاحب کی وفات کے وقت ان کے پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں حیات تھے۔ ان کی چھوڑی ہوئی جائیداد ان لوگوں کے درمیان قرآنی اصول للذکر مثل حظ الانثین ایک مرد کاحصہ دو عورتوں کے برابر کے مطابق تقسیم ہونی چاہیے۔ مذکورہ جائیداد کے پندرہ حصّے کیے جائیں۔ ہر لڑکی کو ایک حصہ اور ہر لڑکے کو دو حصے کے اعتبار سے دیاجائے۔ اس جائیداد میں سے آپ کے شوہر کا جو حصہ بنتاہے پندرہ حصوں میں سے دو حصے وہ ان کے انتقال کے بعد ان کے وارثوں میں تقسیم ہونا چاہیے۔
۲۔ میراث کی تقسیم قرض کی ادائی کے بعد عمل میں لائی جاتی ہے۔ آپ کے شوہر کے خریدے ہوئے مکان کی قیمت میں سے ابھی ایک لاکھ روپے کی قسطیں ادا کی جانی ہیں۔ اس مکان کو فروخت کرکے اس میں 
سے ایک لاکھ روپے مہیا کردے جائیں۔ بقیہ رقم میں ان کے اِکائونٹ میں موجود روپے تیرہ ہزار میںشامل کرکے اسے وارثوں کے درمیان تقسیم کیاجائے۔ آپ کے شوہر کے متعلقین میں آپ بیوی کے علاوہ تین بھائی اور پانچ بہنیں زندہ ہیں۔ قرآنی حکم کے مطابق اولاد نہ ہونے کی صورت میں بیوی کا حصہ ایک چوتھائی اور اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ ہے۔ اس اعتبار سے آپ کے شوہر کی میراث میں آپ کا حصہ ایک چوتھائی ہے۔ بقیہ تین حصوںکی میراث ان کے بھائی بہنوں کے درمیان جو اصطلاح فقہ میں ’عصبہ‘ کہلاتے ہیںاس طرح تقسیم ہوگی کہ ایک مرد کو دوعورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔ بالفاظ دیگر بقیہ میراث کے گیارہ حصّے کیے جائیں۔ ہربہن کو ایک حصہ اور ہر بھائی کو دو حصّے دیے جائیں۔
۳۔ آپ جس جائیداد کی مالک ہیں، خواہ وہ آپ کو میراث میں ملی ہو، یا آپ نے اپنی کمائی سے حاصل کی ہو، اس میں آپ اپنی صواب دید پر جس طرح چاہیں تصّرف کرسکتی ہیں۔ البتہ اس معاملے میں چند باتیں ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
۱۔ تقسیم میراث کا مسئلہ وفات کے بعد سے متعلق ہوتاہے۔ کسی جائیداد کامالک اپنی حیات میں اس میں سے جتنا چاہے جس کو چاہے دے سکتا ہے۔
۲۔ اپنی جائیداد کسی دوسرے کو دینے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اپنی زندگی میں کسی کو اس کامالک بنادے اسے ہبہ کہتے ہیں۔ یا یہ کہے کہ میرے مرنے کے بعد میری فلاں جائیداد فلاں شخص کی ہوگی۔ یہ وصیت کہلاتی ہے۔ ہبہ کی کوئی مقدار متعین نہیں۔ آدمی جتنا چاہے کسی کو ہبہ کرسکتا ہے۔ لیکن وصیت اپنی جائیداد میں سے ایک تہائی سے زیادہ کرنا جائز نہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ  نے اپنے پورے مال کی وصیت کرنی چاہی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس سے منع فرمادیا۔ انھوں نے دریافت کیا: کیا نصف مال کی وصیت کردوں؟ آپﷺ نے اس سے بھی منع فرمایا۔ انھوںنے پھر عرض کیا تو ایک تہائی مال کی؟ آپﷺنے فرمایا:ہاں ایک تہائی ٹھیک ہے اور یہ بہت ہے۔ بخاری:۲۷۴۴، مسلم: ۱۶۲۸
۳۔ ورثا میں سے کسی کے حق میں وصیت کرنی جائز نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:اِنّ اللّٰہَ قَدْاَعْطیٰ لِکُلِّ ذِیْ حَقٍّ حَقَّہ‘ فلَاَ وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ ترمذی:۲۱۲۰’’اللہ نے ہرصاحب حق کا حق بیان کردیاہے۔ اس لیے کسی وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں‘‘
۴۔ ورثا کو محروم کرنے کے مقصد سے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد ٹھکانے لگادینا جائز نہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص(رض) نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اپنے پورے مال کی وصیت کرنے کی اجازت چاہی تو آپ(ص) نے انھیں ایک تہائی سے زائد وصیّت کرنے کی اجازت نہیں دی اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا:
اِنَّکَ اَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ اَغْنِیَائَ خَیْرٌ مِّنْ اَنْ تَذَرَھُمْ عَالَۃٌ یَتَکَفَّفُوْنَ النَّاسَ۔  بخاری: ۱۲۹۵، مسلم:۱۶۲۸’’تم اپنے ورثاکو مال دار چھوڑکر جائو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انھیں غربت کی حالت میں چھوڑو اور وہ دربدر کی ٹھوکریں کھائیں‘‘۔
بیوی کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنا
سوال: کہا جاتاہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب یہ بات عجیب سی لگتی ہے۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ بہ راہ کرم وضاحت فرمائیں۔
جواب: صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مخصوص مواقع پر بڑی مصلحت کے پیش نظر جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے۔ ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جس کی طرف اوپرسوال میں اشارہ کیاگیا ہے۔
حضرت اسماء بنت یزید بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے، مگر صرف تین مواقع پر ،آدمی کا اپنی بیوی سے جھوٹ بولنا اس کو خوش رکھنے کے لئے، دوران جنگ جھوٹ بولنا اور لوگوں کے درمیان مصالحت کرانے کے لیے جھوٹ بولنا۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ بولنے کی اجازت عام حالات میں نہیں دی گئی ہے۔ جن تین مواقع کا تذکرہ احادیث بالا میں ہے وہ مخصوص اور استثنائی صورتیں ہیں۔ دورانِ جنگ جھوٹ بولنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ایسی باتیں کرے، جن سے مسلم فوج کا طاقت ور ہونا معلوم ہو، اس کا حوصلہ بڑھے اور دشمن دھوکے میں پڑجائے۔ لوگوں کے درمیان مصالحت کے لیے جھوٹ بولنے کامطلب یہ ہے کہ وہ ایک شخص کی طرف سے دوسرے تک ایسی بات پہنچائے جس سے ان کے درمیان پائی جانے والی تلخیاں دْور ہوں اور ان کے تعلقات میں خوش گواری آئے، چاہے وہ بات اس نے اس شخص سے نہ سنی ہو۔ اور بیوی سے جھوٹ بولنے کا مطلب یہ ہے کہ شوہر اس سے زیادہ سے زیادہ محبت اور تعلق خاطر کااظہار کرے، خواہ وہ اپنے دل میں اس سے اتنی محبت نہ پاتا ہو۔ اس کا مقصد ازدواجی تعلقات میں خوش گواری پیداکرنا اور اس کو جاری رکھنا ہے۔ شوہر کا بیوی سے یا بیوی کا شوہر سے جھوٹ بولنا صرف اسی وقت جائز ہوسکتا ہے جب ان میں سے کسی کی حق تلفی نہ ہوتی ہو یا کوئی ایسی چیز نہ وصول کررہاہو جس کا اسے حق نہ ہو۔‘‘
مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کے عہد میں ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: ’’اللہ کی قسم کھا کر کہو: کیا تم کو مجھ سے محبت ہے؟ عورت نے جواب دیا: تم نے قسم دلاکر پوچھا ہے تو میں صحیح بات کہوں گی۔ مجھے تم سے ذرا بھی محبت نہیں ہے۔ اس شخص نے غصہ میں آکر طلاق دے دی۔ حضرت عمرؓ نے اس عورت کو بلایا اور اس سے دریافت کیا: کیا تم نے اپنے شوہر سے کہا تھا کہ تمہیں اس سے محبت نہیں ہے؟ اس نے جواب دیا: اے امیر المومنین! اس نے مجھ سے قسم دلاکر پوچھا تھا، پھر میں جھوٹ کیسے بولتی؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اس موقع پر تم کو جھوٹ بولنا چاہئے تھا۔ انہوں نے مزید فرمایا : ’’تمام خاندانوں کی بنیاد محبت پر نہیں قائم ہوتی ہے، لیکن لوگ اسلامی تعلیمات اور خاندانی روابط کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں۔‘‘
حضرت عمربن خطاب کے مذکورہ بالاقول میں بڑی حکمت ودانائی پائی جاتی ہے۔ وہ جوڑے بڑے خوش قسمت ہیں جن کے درمیان بھرپور سچی محبت ہو، ورنہ بہت سے جوڑے ایسے ہوتے ہیں جن کے درمیان مزاجی ہم آہنگی نہیں ہوتی۔ سرپرستوں کے ذریعے وہ نکاح کے بندھن میں باندھ دیے جاتے ہیں اور کافی عرصہ ایک ساتھ رہنے کے باوجود ان کے درمیان محبت پروان نہیں چڑھتی، بلکہ ایک دوسرے سے تنافر باقی رہتاہے۔ قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ زوجین میں سے کوئی ایک اگر دوسرے کو ناپسند کرتاہو تو بھی اسے اظہار ناپسندیدگی سے اجتناب کرناچاہئے اور خوش گوار تعلق رکھناچاہئے۔ کیوں کہ اگر اس میں ناپسندیدگی کی ایک وجہ ہوگی تو عین ممکن ہے کہ ساتھ ہی خیر کے بہت سے پہلو بھی ہوں۔ اس نے شوہروں کو مخاطب کرکے حکم دیا ہے:’’ان (یعنی بیویوں) کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو، مگر اللہ نے اْسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ رہی ہو۔‘‘
ازدواجی تعلقات میں خوش گواری کی بنیاد باہم اعتمادپر ہے۔ اگر کبھی اس میں دراڑ پڑجائے تو پوری زندگی اسے بحال کرناممکن نہ ہوسکے گا۔ حدیث میں بیوی سے جھوٹ بولنے کی اجازت اظہار محبت کے معاملے میں دی گئی ہے۔ اگر شوہر اس کو مستقل اپنا وتیرہ بنالے تو قوی اندیشہ ہے کہ بیوی پر جلد یا بدیر اس کی حقیقت منکشف ہوجائے گی اور وہ اس کااعتماد کھودے گا۔ اس لیے دانائی اسی میں ہے کہ ازدواجی زندگی کے عام معاملات میں جھوٹ بولنے سے احتراز کیا جائے۔

 

(سید رضی الاسلام ندوی)

جواب :کسی خاتون کے وارثوں میں صرف اس کا شوہر اورایک بیٹا ہو تواس کے انتقال پر اس کی وراثت اس طرح تقسیم ہوگی کہ شوہر کو اس کا ایک چوتھائی ملے گا اور بقیہ (تین چوتھائی) کامستحق اس کا بیٹا ہوگا۔ شوہر چاہے تواپنے حصے کا مالک بھی اپنے بیٹے کو بناسکتاہے۔
قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ نابالغ لڑکے کی جائیداد اور جملہ مملوکہ اشیا کی حفاظت و نگرانی اس کے بالغ ہونے تک اس کا ولی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو، یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کوپہنچ جائیں، پھر اگر تم ان کے اندر اہلیت پاؤ توان کے مال ان کے حوالے کردو۔ا یسا کبھی نہ کرنا کہ حدِ انصاف سے تجاوزکرکے اس خوف سے ان کامال جلدی جلدی کھا جاؤکہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کامطالبہ کریں گے۔ یتیم کا جو سرپرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جوغریب ہو وہ معروف طریقے سے کھائے‘‘۔(النساء:۶)
اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے کہ یتیم کا سرپرست اگرمال دار اور صاحبِ حیثیت ہو تو بہتر ہے کہ وہ اس مال میں سے کچھ نہ کھائے، لیکن اگر غریب اور ضرورت مند ہو تواپنے حق الخدمت کے طورپر اس میں سے کچھ لے سکتاہے ، لیکن ضروری ہے کہ اس میں سے لینا معروف طریقے پر ہو، اتناہو کہ ایک غیر جانب دار آدمی بھی اسے مناسب خیال کرے۔
سوال میں جو حدیث پیش کی گئی ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ ایک بوڑھے شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر شکایت کی کہ میں نے اپنے بیٹے کوپال پوس کر بڑا کیا، اس کی ہرضرورت پوری کی، اس پر اپنا مال خرچ کیا۔ اب جب کہ میرے قویٰ مضمحل ہوگئے، میں کچھ کما نہیں سکتا، اپنے بیٹے کے مال میں سے کچھ لیتاہوں تووہ ناراضگی جتاتا ہے اور کہتاہے کہ میں اس کامال اڑا رہاہوں۔ آپ نے اس نوجوان کو بلا بھیجا۔ اس کے سامنے اس کے بوڑھے باپ کا دکھڑا پھرسنا(بعض روایتوں میں ہے کہ اس کی باتیں سن کر آپ آب دیدہ ہوگئے) پھر آپ نے اس نوجوان کا گریبان پکڑا اور اسے اس کے باپ کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا: اَنت وَمَالْکَ لِاَبِیکَ 
اس سے معلو م ہوتاہے کہ بیٹے کے مال میں باپ کابھی حق ہے۔ وہ اس میں سے حسبِ ضرورت اور معروف طریقے سے لے سکتاہے۔

(ابو یحییٰ)

بیوی کے ترکے میں شوہر کا حصہ
سوال:ایک صاحب کی بیوی کا انتقال ہوگیا۔ ان سے کئی بچے تھے۔ انھوں نے بعد میں دوسری شادی کرلی۔ مرحومہ کے زیورات اور ان کی ملکیت کی دیگر چیزیں انھوں نے دوسری بیوی کو دے دیں۔ ان سے کہا گیا کہ ان میں تو مرحومہ کے بچوں کا بھی حصہ تھا تو انھوں نے جواب دیا کہ تمام زیورات اور دیگرچیزیں میں نے ہی خرید کر دی تھیں اور میں ہی برابر ان کی زکوٰۃ ادا کرتا رہا ہوں۔براہ کرم واضح فرمائیں، کیا ان کا یہ عمل صحیح ہے؟ اور مرحومہ کے بچوں کا ان کے ترکہ میں کوئی حق نہیں بنتا؟
جواب: عورت کا انتقال ہوجائے اور اس کے پسماندگان میں شوہر اور بچے ہوں تو ترکہ میں شوہر کا حصہ ایک چوتھائی ہے۔ (النساء: ۱۲) بقیہ ترکہ بچوں میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلے میں دوگنا ملے گا“۔ (النساء:۱۱)
زیورات خرید کر اگر شوہر بیوی کو دے اور ساتھ ہی صراحت کردے کہ ان کا مالک میں رہوں گا، تمھیں صرف استعمال کے لیے دے رہا ہوں تو اس کی بات مانی جائے گی، لیکن اگر وہ صراحت نہ کرے تو عْرف کا اعتبار کیا جائے گا۔ شوہر کا بیوی کے زیورات کی زکوٰۃادا کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ان پر اس کی ملکیت قائم ہے۔ بیوی کو اپنے زیورات کی زکوٰۃ خود ادا کرنی چاہئے، لیکن اگر اس کی طرف سے شوہر ادا کردے تو بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔

 

جواب: عورت کا انتقال ہوجائے اور اس کے پسماندگان میں شوہر اور بچے ہوں تو ترکہ میں شوہر کا حصہ ایک چوتھائی ہے۔ (النساء: ۱۲) بقیہ ترکہ بچوں میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلے میں دوگنا ملے گا“۔ (النساء:۱۱)
زیورات خرید کر اگر شوہر بیوی کو دے اور ساتھ ہی صراحت کردے کہ ان کا مالک میں رہوں گا، تمھیں صرف استعمال کے لیے دے رہا ہوں تو اس کی بات مانی جائے گی، لیکن اگر وہ صراحت نہ کرے تو عْرف کا اعتبار کیا جائے گا۔ شوہر کا بیوی کے زیورات کی زکوٰۃادا کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ان پر اس کی ملکیت قائم ہے۔ بیوی کو اپنے زیورات کی زکوٰۃ خود ادا کرنی چاہئے، لیکن اگر اس کی طرف سے شوہر ادا کردے تو بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔

 

(سید رضی الاسلام ندوی)

جواب: کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی ملکیت کا ایک تہائی حصہ وصیت کرسکتا ہے، لیکن یہ وصیت کسی وارث کے حق میں جائز نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا صریح فرمان ہے:”کسی وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں ہے“۔
ہبہ اور وصیت میں فرق ہے۔ ہبہ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی زندگی میں دوسرے شخص کو اپنی ملکیت کی کوئی چیز بطور تحفہ دے دے اور اسے مالک بنا دے۔ جبکہ وصیت میں وہ چیز، دینے والے کی زندگی میں اس کی ملکیت اور تصرف میں رہتی ہے اور اس کے مرنے کے بعد، وہ شخص جس کے حق میں وصیت کی گئی ہے، اس چیز کا مالک بنتا ہے۔ محض اس وجہ سے کہ ہبہ کی رجسٹریشن فیس زیادہ ہے اور وصیت کی کم، اس لیے ہبہ کو بہ شکل وصیت رجسٹرڈ کرانا صحیح نہیں ہے۔کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی ملکیت کی چیزوں میں سے جو بھی چاہے دوسرے کو ہبہ کرسکتا ہے، لیکن اس معاملے میں اپنی اولاد کے درمیان تفریق کرنا، کسی کو نوازنا اور دوسروں کو محروم رکھنا درست نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
کسی شخص کی اولادوں میں سے بعض معاشی اعتبار سے مضبوط اور بعض کمزور ہوسکتے ہیں۔ وہ کمزور اولاد کی مدد کرسکتا اور اسے سہارا دے سکتا ہے، لیکن یہ کام اگر وہ اپنے دوسرے لڑکوں کو اعتماد میں لے کر کرے تو انھیں شکایت نہیں ہوگی اور باہم اعتماد، محبت اور ہمدردی کی فضا قائم رہے گی۔
والدین کی خدمت کرنا، ان کا خیال رکھنا اور ان کی تمام ضرورتیں پوری کرنا اولاد پر فرض ہے۔ جو اس میں کوتاہی کرتا ہے وہ گنہگار ہوگا اور جو یہ تمام کام خوش دلی سے بڑھ چڑھ کر انجام دیتا ہے وہ بارگاہ الٰہی میں اجر وانعام کا مستحق ہوگا۔ والدین کو چاہئے کہ وہ محض اس بنیاد پر کہ ان کی اولادوں میں سے کون ان کی زیادہ خدمت کرتا ہے اور کون انھیں نظرانداز کرتا ہے، ان کے درمیان تفریق نہ کریں اور سب کے ساتھ برابر کا سلوک کریں۔

 

(سید رضی الاسلام ندوی)

جواب: ترکہ کی تقسیم سے قبل قرض کی ادائیگی ضروری ہے۔ اس کے بعد جو کچھ بچے گا وہ پورے کاپورا والد کاہوگا۔ والد کی موجودگی میں بھائیوں کا کچھ حصہ نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:”اگر میت صاحبِ اولاد ہوتو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے۔اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیاجائے۔ اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصے کی حق دار ہوگی۔ (یہ سب حصے اس وقت نکالے جائیں گے) جب کہ وصیت جو میت نے کی ہو، پوری کردی جائے اور قرض جو اس پر ہو، ادا کردیاجائے۔“
اس آیت سے کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں:
۱۔ ترکہ کی تقسیم وصیت کی تکمیل اور قرض کی ادائیگی کے بعد کی جائے گی۔
۲۔اگر میت کی اولاد ہو اور اس کے والدین بھی زندہ ہوں تو والدین میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔
۳۔اگر میت کی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین زندہ ہوں تو ماں کو ایک تہائی ملے گا۔
۴۔اگر میت کے بھائی بہن ہوں اور اس کے والدین بھی زندہ ہوں تو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا۔
مذکورہ بالا صورتوں میں سے موخرالذکر دو صورتوں میں باپ کے حصے کا تذکرہ نہیں ہے۔ اس سے علماء نے یہ استنباط کیاہے کہ ان صورتوں میں باپ کاکوئی متعین حصہ نہیں ہے، بلکہ ماں کا حصہ نکالنے کے بعد جو کچھ بچے وہ سب باپ کاہوگا۔
کسی شخص کے انتقال کے وقت اگر اس کے والدین زندہ ہوں اور اس کے بھائی بہن بھی ہوں تو بھائیوں بہنوں کو کچھ نہ ملے گا، پورا ترکہ ماں باپ میں تقسیم ہوجائے گا۔ اگر والدہ کا انتقال پہلے ہوچکا ہو اور والد زندہ ہوں تو وہ پورے ترکے کے مستحق ہوں گے، اس صورت میں بھی بھائیوں بہنوں کاکچھ حصہ نہ ہوگا۔

(رضی الاسلام ندوی)

جواب: شوہر کے انتقال کے بعد اس کی میراث اس کے مذکورہ پسماندگان میں اس طرح تقسیم ہونی چاہئے تھی:
بیوی  : کل مال کا چوتھائی حصہ (۴/۱)
 تین چچیرے بھائی:بقیہ مال ان کے درمیان برابر تقسیم ہونا چاہئے تھا۔ (عصبہ ہونے کی وجہ سے)
 چچیری بہن کا کچھ حصہ نہیں۔
 پھر بیوی کے انتقال کے بعد اس کا مال اس کے مذکورہ وارثین کے درمیان اس طرح تقسیم ہونا چاہئے کہ اس کے چار حصے کیے جائیں۔ ایک ایک حصہ دونوں بہنوں کو دیا جائے اور دو حصہ بھائی کو۔

 

(رضی الاسلام ندوی)

صلہ رحمی کے بدلے میراث کی عدم تقسیم
سوال:میرے سامنے کچھ مسائل اور الجھنیں پیدا ہوگئی ہیں، براہ کرم انھیں حل فرمائیں۔ میں ازحدشکرگزار ہوں گا۔
میرا ایک بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ والدین کا عرصہ ہوا انتقال ہوگیا ہے۔ ایک بہن اپاہج پولیوکی مریضہ اور غیرشادی شدہ ہے۔ شروع سے اب تک میں ہی اس کی کفالت کرتارہاہوں۔ باقی دو بہنیں شادی شدہ ہیں۔ ہر ایک کے کئی بچے ہیں۔ بڑے بہنوئی کافی عرصہ مریض رہے۔ انھیں ٹی بی ہوگئی تھی۔ ان کے علاج میں کافی روپیہ خرچ ہوا، جو میں نے برداشت کیا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بچوں کی کفالت کی، ان کی لڑکی کی شادی کے تمام مصارف برداشت کیے۔ اسی طرح دوسری بہن بیوہ ہوگئیں تو ان کی اور ان کے بچوں کی بھی کفالت کی۔ میرے بھی پانچ بچے ہیں،میرا بھائی بہت پہلے گھر چھوڑکر کہیں چلاگیاتھا۔ معلوم ہواہے کہ وہ راجستھان میں ہے۔ اس نے بہنوں اور ان کے بچوں کی کفالت میں کوئی حصہ نہیں لیا۔والد صاحب کی جائیداد میں صرف ایک مکان ہے، جس میں میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتاہوں۔ اب بہنیں اس میں اپنا حصہ مانگ رہی ہیں۔ جب کہ بڑی بہن پہلے کہہ چکی تھیں کہ ”میری لڑکی کی شادی کرادو، میں ترکے میں اپنا حصہ نہیں لوں گی۔“ میں چاہتاہوں کہ میرے تمام اخراجات، جو میں نے بہنوں اور ان کے بچوں کی کفالت میں کیے ہیں، مجھے دے دیے جائیں اور تمام فریق مکان کے ترکے میں اپنا حصہ لے لیں۔
براہ کرم اس معاملے میں میری رہ نمائی فرمائیں۔

جواب:آپ نے اپنے حالات بیان کرکے جو مسائل اٹھائے ہیں ان کا جواب درج ذیل ہے:
۱- آپ نے اپنی بہنوں، ان کے شوہروں اور ان کے بچوں کے ساتھ جو کچھ کیا اس پر اللہ تعالیٰ آپ کو اچھا بدلہ دے گا۔ آپ نے ان کے ساتھ جو کچھ کیا وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کرنے اور آخرت میں اس کا اجر چاہنے کے لیے ہی کیا ہوگا۔ دنیا میں اس کا کوئی بدلہ حاصل کرنا آپ کا مقصود نہیں ہوگا۔
۲- شریعت میں کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کا ترکہ تقسیم کرنے کا صاف الفاظ میں حکم دیاگیا ہے۔ آپ کے والد صاحب کے انتقال کے بعد ان کا ترکہ تقسیم ہونا چاہیے تھا، جو نہیں ہوا۔ بہرحال اب اس کی تقسیم ہوجانی چاہیے۔
۳- کسی شخص کے وارثان میں صرف لڑکے لڑکیاں ہوں تو ترکہ اس طرح تقسیم ہوگاکہ ہر لڑکے کو لڑکی کے مقابلے میں دوگنا ملے گا۔ آپ کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق ترکہ کے سات حصے کیے جائیں گے۔ ایک ایک حصہ آپ کی تینوں بہنوں کا ہوگا، دو حصے آپ کے اور دو حصے آپ کے بھائی کے۔
۴- آپ کا جو بھائی باہر رہتاہے وہ بھی ترکہ پانے سے محروم نہیں کیا جائے گا۔
۵- حق داروں میں سے کوئی بھی اگر چاہے تو اپنی مرضی سے اپنا حصہ چھوڑسکتا ہے یا دوسرے کو دے سکتا ہے۔
۶- آپ کی بہن نے اگر کہاتھا کہ ”میری لڑکی کی شادی کرادو میں اپنا حصہ نہیں لوں گی“ تو انھیں اپنی بات پر قائم رہنا چاہیے۔ اگر وہ اس سے انکار کرتی ہیں اور آپ کے پاس کوئی ثبوت ہوتو پیش کیجیے۔
۷-آپ نے اپنی بہنوں، ان کے شوہروں اور ان کے بچوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی کفالت کرکے جو عظیم اجرو ثواب کمایا
 ہے اسے ترکہ کے معاملے میں اپنی بہنوں اور بھائی سے جھگڑا کرکے ضائع مت کیجیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی کشادہ دلی کا اچھا بدلہ دے گا اور امید ہے کہ وہ آخرت میں ان اچھے کاموں کے اجر کے ساتھ اس دنیا میں بھی آپ کو کشادگی عطافرمائے گا۔

 

(رضی الاسلام ندوی)

ج- بیٹیوں سے قطع تعلق؟ توبہ کیجئے! یہ سخت گناہ ہے، اسی طرح ان کو جائیداد سے محروم کرنے کی خواہش بھی سخت گناہ ہے۔ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کو وارث بنایا ہے، بیوی کے اصرار پر اس کو محروم کرنے کی کوشش کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو بیوی خدا اور رسول سے زیادہ عزیز ہے۔

(محمد یوسف لدھیانوی)

جواب: دیکھیں، حکم کی علت پہلے متعین کرنی پڑتی ہے۔ آدمی کے مرنے کے بعد اس کا مال جن لوگوں کو ملنا ہے تو آ پ کس principle پر ان کو دیں گے؟ اگر تو اصول یہ ہے کہ جو زیادہ ضرورت مند ہے، اس کو زیادہ ملنا چاہیے تو پھر آپ کی بات درست ہے۔ قرآن نے تو بیان کیا ہے کہ وہ ترکے کو ضرورت اور حاجت کے اصول پر تقسیم نہیں کر رہا۔ وہ منفعت کے اصول پر کر رہا ہے۔ معاشرے میں رہتے ہوئے انسان کو جس رشتہ دار سے زیادہ منفعت مل سکتی ہے، بالقوۃ یا بالفعل، قرآن چاہتا ہے کہ اس کو زیادہ ملے۔ یہ تقسیم ضرورت کے اصول پر نہیں ہے۔ ضرورت کے دائرے میں اس نے آپ کو وصیت کا حق دیا ہے۔ تو اصل میں اصول بدل گیا ہے۔ اصول اگر وہ ہوتا تو آپ کی بات ٹھیک تھی۔ قرآن کہتا ہے کہ ترکے کی تقسیم کا اصول اللہ کے نزدیک یہ نہیں ہے۔ اصول یہ ہے کہ جس سے زیادہ منفعت مل رہی ہے، اس کو زیادہ حصہ ملے گا۔

(ڈاکٹر مولانا محمد عمار خان ناصر)

 جواب: دیکھیں، جب بھی کسی دینی حکم کو ہم سمجھتے ہیں یا اس کو interpret کرتے ہیں تو اس کے دو مرحلے ہوتے ہیں۔ پہلا مرحلہ ہوتا ہے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا۔ دین میں ترتیب یوں نہیں ہے کہ پہلے آپ حکم کا rationale سمجھیں اور پھر اس کو قبول کریں۔ اس کے برعکس دین میں آپ پہلے حکم کو مانتے ہیں کہ یہ خدا کا حکم ہے اور پھر اس کی حکمت سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً اگر وراثت میں خدا کا حکم نہ ہوتا توہم بالکل آزاد ہوتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک روایت میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ بچوں میں جب تحفے تحائف تقسیم کرو تو برابری ملحوظ رکھا کرو۔ بیٹے اور بیٹی میں امتیاز نہیں ہونا چاہیے، بلکہ آپ نے اپنا رجحان یہ بیان کیا کہ اگر برابری کا اصول مانع نہ ہوتا تو میرا یہ جی چاہتا تھا کہ میں بیٹیوں کو زیادہ دوں۔ تو اگر یہاں وراثت کے معاملے میں خدا نے اپنا اصول بیان نہ کیا ہوتا کہ اس اصول پر ترکہ تقسیم ہونا چاہیے اور حصوں کا تناسب نہ بیان کیا ہوتا تو ہمیں یہ فیصلہ کرنے کا پورا حق ہوتا کہ چونکہ ضرورت عورت کو زیادہ ہے، اس لیے ہم اس کو زیادہ دیں گے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایک معاملے میں اللہ نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ پہلے تو ہم نے اس کو ماننا ہے۔ اس کے بعد ہم اس کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ جتنا سمجھ میں آجائے، اچھا ہے۔ اللہ کے ہر حکم میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے، لیکن وہ پوری طرح ہماری سمجھ میں بھی آ جائے، یہ ضروری نہیں۔ ایسی چیزیں موجود ہیں جو پوری طرح انسانی عقل کی گرفت میں نہیں آتیں۔ اگر حکمت سمجھ میں نہ آئے تو یہ نہیں کہیں گے کہ ہم نہیں مانتے، بلکہ یہ ایمان ہونا چاہیے کہ ان اللّٰہ کان علیمًا حکیمًا۔ اللہ نے یہ بات اسی لیے کہہ دی ہے کہ اللہ زیادہ علم والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ تم اصل میں یہ طے ہی نہیں کر سکتے کہ کس رشتہ دار کا حصہ کتنا ہونا چاہیے۔

(ڈاکٹر مولانا محمد عمار خان ناصر)

جواب: اس کی وجہ یہ ہے کہ فی نفسہ بیٹوں سے جو منفعت ملتی ہے، وہ چونکہ بیٹیوں سے زیادہ ہے، اس لیے قرآن کہتا ہے کہ اگر صرف بیٹے ہیں تو سارا مال ان کو مل جائے گا، لیکن بیٹے موجود نہیں ہیں تو بھی فی نفسہ بیٹیوں کی منفعت چونکہ اس درجے کی نہیں ہے جو بیٹوں سے والدین کو ملتی ہے، اس لیے سارا مال بیٹیوں کو نہ دے دیا جائے۔ اگر ایک بیٹی ہے تو نصف اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہیں تو دو تہائی ان کو دے دیا جائے۔ باقی مال کے بارے میں اس صورت میں قرآن یہ چاہتا ہے کہ بیٹیوں کے علاوہ جو دوسرے رشتہ دار ہیں، ان کو دینا چاہیے۔

(ڈاکٹر مولانا محمد عمار خان ناصر)

جواب: سب سے پہلے غالباً علامہ اقبال نے یہ بات کہی کہ عورت کو چونکہ شوہر کی طرف سے بھی حصہ مل جاتا ہے، اس لیے اس کے حصوں میں توازن پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ اپنے حکم کا underlying principle قرآن نے خود بیان کیا ہے۔ قرآن یہ نہیں کہہ رہا کہ چونکہ خاتون کو اگلے گھر سے حصہ مل جائے گا، اس لیے یہاں اسے آدھا دے دو۔ ہو سکتا ہے آگے جا کر اس کو کچھ بھی نہ ملے۔ قرآن تو سادہ بات کہہ رہا ہے کہ آپ کو اپنے بیٹے سے جو منفعت دنیا میں عام حالات میں ملتی ہے، وہ چونکہ زیادہ ہے، اس لیے آپ کے مال سے اس کو حصہ بھی زیادہ ملنا چاہیے۔ بیٹی سے آپ کو جو منفعت دنیا میں ملتی ہے، وہ اس کے مقابلے میں کم ہے۔ اب وہ کتنی کم ہے، اس کی پیمایش کا ہمارے پاس کوئی معیار نہیں۔ اس لیے خود قرآن نے متعین کر دیا کہ تم نہیں طے کر سکتے کہ کتنا فرق ہے۔ خدا کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ بیٹے سے آدھی ہے، اس لیے تمھارے مال سے اس کو حصہ کم ملنا چاہیے۔ قرآن کی بات بالکل سادہ ہے۔ اسی کو حکم کا rationale بنانا چاہیے، بجائے ا س کے کہ ہم وہ چیزیں بیان کریں جو یقینی نہیں ہیں اور جن کا خود قرآن نے ذکر بھی نہیں کیا۔

(ڈاکٹر مولانا محمد عمار خان ناصر)

جواب: ہر بات کا ایک پس منظر ہوتا ہے۔ قرآن نے جب پہلے وراثت کے بارے میں احکام دیے تو اولاد کو تو سب ہی دیتے تھے، لیکن اولاد کے علاوہ والدین یا دوسرے رشتہ داروں کوکچھ حصہ نہیں ملتا تھا تو قرآن نے پہلے مرحلے میں اس کا پابند کیا کہ جن لوگوں کی موت قریب ہو، مرنے سے پہلے ان پر لازم ہے کہ وہ ان سب کے حق میں وصیت کر کے جائیں، کیونکہ سوسائٹی میں جو دستور چلا آ رہا ہے، وہ یہ نہیں تھا۔ دستور یہ تھا کہ ساری جائیداد اولاد، بلکہ اولاد میں سے بھی صرف لڑکوں کو مل جائے۔ تو قرآن نے ہدایت کی کہ مرنے والا وصیت کر کے جائے کہ صرف اولاد کو نہیں، بلکہ میرے والدین کو او ر دوسرے رشتہ داروں کو بھی اتنا اتنا حصہ ملے گا۔ ابتدا میں قرآن نے صرف اتنی بات کہی ہے۔ اس کے بعد اگلے مرحلے میں قرآن نے یہ کہا ہے کہ ملنا تو سب کو ہے۔ اولاد کو بھی ملنا ہے، بیوی کو بھی ملنا ہے، بہن بھائیوں کو بھی ملنا ہے، البتہ کس تناسب سے ملنا چاہیے؟ وہ خدا نے خود متعین کر دیا کہ اس تناسب سے حصے تقسیم کر دیے جائیں۔ اس تناظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اب جب ورثا کے حصے خدا نے خود متعین کر دیے ہیں تو اب کسی وارث کے لیے اس سے ہٹ کر کوئی الگ وصیت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان خدا کی تقسیم پر راضی نہیں۔ مثلاً خدا نے کہا ہے کہ بھائی کو اتنا ملے۔ اب کوئی آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تو بھائی کو اتنا دینا چاہتا ہوں۔ اب اس وارث کے حق میں وصیت کا حق اس کے پاس نہیں ہے۔ اس پس منظر میں یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ جس صورت کی ہم بات کر رہے ہیں، وہ اس سے مختلف ہے۔ اگر محض قرابت داری کے علاوہ کسی دوسری بنیاد پر، مثلاً کسی مخصوص وارث کی ضرورت اور احتیاج کے پیش نظر یا کسی اور معقول وجہ سے اس کے لیے مقررہ حصے کے علاوہ کوئی وصیت کی جائے تو یہ شرعی ممانعت کے خلاف نہیں ہوگا۔ چنانچہ دیکھیے، قرآن مجید نے سورۃ بقرہ کی آیت ۲۴۰ میں خود اس کی تاکید کی ہے کہ مرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے بارے میں یہ وصیت کر کے جائے کہ اس کے مرنے کے بعد ایک سال تک اسے اسی گھر میں رہنے دیا جائے اور اسے سامان زندگی بھی فراہم کیا جائے۔ فقہا عام طور پر اس کے قائل ہیں کہ یہ ہدایت ترکے میں ورثا کے حصے متعین ہونے کے بعد منسوخ ہو گئی ہے، لیکن فقہا کو یہ رائے اس لیے قائم کرنا پڑی کہ انھوں نے وراثت میں متعین حصہ ملنے کا مطلب یہ سمجھا کہ اب کسی زائد ضرورت کی بنا پر بھی کسی وارث کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی، حالانکہ قرآن کی یہ ہدایت ایک مستقل اصول پر مبنی ہے جس پر حصوں کی متعین تقسیم کا حکم اثر انداز نہیں ہوتا۔ قرآن نے بیوہ کے لیے ایک سال تک سامان زندگی کی وصیت کرنے کی ہدایت دراصل اس کی ضرورت و احتیاج اور مخصوص حالات کے پیش نظر دی ہے اور اس کے لیے یہ انتظام میت کے ترکے میں سے وراثت کے متعین حصے کے علاوہ ہی کیا جائے گا۔ قرآن کی اس ہدایت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ رشتہ داری سے ہٹ کر ایسی اضافی وجوہ، مثلاً ضرورت و احتیاج ہو سکتی ہیں جن کے پیش نظر وارث کے حق میں معمول کے حصے کے علاوہ زائد مال کی وصیت بھی کی جائے۔ ضرورت احتیاج پر ہم خدمت کو بھی قیاس کر سکتے ہیں۔ مثال کے طو رپر مرنے والا اگر یہ چاہے کہ اپنے کسی دوست کے لیے وصیت کر جائے جس نے زندگی کے آخری ایام میں اس کی بڑی خدمت کی اور اس کے ساتھ بہت معاونت کی تو اس کو پورا حق ہے۔ یہ کسی رشتہ داری کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس کو اس سے جو فائدہ ملا، اس کے صلے کے طو رپر ہے۔ جب کسی دوست کے لیے، کسی اجنبی کے لیے خدمت کی بنا پر وصیت کی جا سکتی ہے تو وہی خدمت اور وہی منفعت اگر رشتہ داروں میں سے کسی نے معمول کی ذمہ داریوں سے ہٹ کر کی ہو تو وہ کیوں اس کو اس کا مستحق نہیں بناتی کہ اس کے حق میں زائد وصیت کی جائے؟ آپ کا ایک بیٹا بیرون ملک چلا گیا۔ اس نے اس طرح سے آپ کی خدمت نہیں کی جیسے آپ کے ساتھ رہنے والے بیٹے نے کی ہے تو آپ کا یہ حق بنتا ہے کہ پاس رہ کر خدمت کرنے والے بیٹے کے حق میں زائد وصیت کر دیں۔ رشتہ داری کی بنیاد پر سب بیٹوں کو یکساں حصہ ملے گا، اس لیے کہ بیٹا وہ بھی ہے، بیٹا یہ بھی ہے، لیکن خدمت کے صلے میں ایک بیٹے کو کچھ زائد دے دیا جائے تو یہ ایک بالکل معقول اور مبنی برانصاف بات ہوگی۔ گویا اصول یہ ہے کہ قرابت داری کے علاوہ اگر کوئی زائد وجہ ہے جو اس کا تقاضا کرتی ہے تو آپ ایسا کر سکتے ہیں۔ ایک بچے نے خدمت زیادہ کی ہے یا کسی بچے کے بارے میں آپ سمجھتے ہیں کہ وہ معاشی طور پر ذرا پیچھے رہ گیا ہے اور اس کو زیادہ ضرورت ہے تو اس کے حق میں وصیت کر سکتے ہیں۔ ہاں، عام حالات میں نہیں کر سکتے۔ اسی طرح اس اختیار کے غلط استعمال کا امکان بھی چونکہ موجود ہے تو کچھ نہ کچھ شرائط لگانی پڑیں گی۔ مثلاً آپ اس کا ایک کیس بنا کر جج کو بھیج دیں کہ یہ میرے فیصلے کی وجوہ ہیں اورمیں اس بنیاد پر یہ وصیت کر رہا ہوں۔ جج اس کی توثیق کر دے تو ٹھیک ہے۔ معقول شرائط کے ساتھ کسی وارث کے حق میں وصیت کی گنجایش تسلیم کرنے کی بات حدیث کے منافی نہیں ہے۔

(ڈاکٹر مولانا محمد عمار خان ناصر)

جواب: جو بیٹا بیرون چلا گیا ہے، ا س کے حصے میں کمی نہیں کی جا سکتی، اس لیے کہ وہ تو اس کو ملنا ہے بیٹا ہونے کی بنیاد پر۔ بیٹا تو وہ ہے ہی، الاّ یہ کہ نافرمان ہو اور اس نے رشتہ داری کے جو حقوق ہیں، ان کو پامال کیا ہو۔ پھر تو میرے نقطہ نظر کے مطابق اسے محروم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا رویہ نافرمانی کا نہیں ہے، اس نے معمول کے تعلقات کو بحال رکھا ہے، اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ آپ کی خدمت بھی کرتا رہا ہے تو پھر اس کو حصہ پورا ملے گا۔ دوسرے بیٹے کے حق میں، جس نے زیادہ خدمت کی ہے، وصیت کرنے کو پہلے بیٹے کے حصے میں کمی کرنا نہیں کہتے۔ حصہ تو اس کو برابر ملے گا۔ آپ کا یہ اختیار ہے کہ آپ اپنے مال میں سے ایک حصہ اپنی مرضی سے جس کو چاہیں، دے دیں۔ اس حق کو استعمال کرتے ہوئے آپ اس بیٹے کے لیے الگ سے وصیت کر جائیں۔ یہ حصہ دینے کے بعد جو مال بچ جائے گا، وہ سب ورثا میں برابر تقسیم ہو جائے گا۔

(ڈاکٹر مولانا محمد عمار خان ناصر)

 جواب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی قانونی حد تو بیان نہیں کی اور کوئی legal instruction آپ نے نہیں دی، البتہ بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی خواہش یہ تھی کہ وصیت کا اختیار کم سے کم استعمال کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ مال وارثوں کو ہی جانا چاہیے۔ ایک صحابی نے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں سارا مال اللہ کے راستے میں دے دینا چاہتا ہوں۔ آپ نے اس کی اجازت نہیں دی۔ انھوں نے کہاکہ آدھے کی اجازت دے دیجیے۔ آپ نے نہیں دی۔ انھوں نے کہا کہ ایک تہائی کا اختیار تو دے ہی دیں۔ آپ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، لیکن ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے۔ اب یہ بات ایسے اسلوب میں بیان ہوئی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ کی اجازت دینے کو پسند نہیں کرتے۔ اس سے فقہا یہ حکم infer کرتے ہیں کہ ایک تہائی تک وصیت کا اختیار ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ روایت میں یہ بات کسی قانونی حکم یا پابندی کے انداز میں بیان نہیں ہوئی، لیکن فقہا نے ا س کو ایک قانونی شکل دے دی ہے اور اس پرکم وبیش ان کا اتفاق ہے کہ اس سے زیادہ مال کی وصیت نہیں کی جا سکتی۔ میرے نزدیک اگرچہ حدیث میں یہ تحدید قانونی انداز میں بیان نہیں ہوئی، لیکن فقہا کا استنباط غلط نہیں ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس اسلوب میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے، اس سے لگتا ہے کہ ایک تہائی وہ زیادہ سے زیادہ مقدار ہے جس کی وصیت کیے جانے کو آپ نے گوارا کیا۔ تو اگرچہ یہ strictly legal نہیں ہے، لیکن بہرحال اس سے یہ منشا تو سمجھ میں آتا ہے کہ غیر ورثا کے حق میں وصیت کا حق کم سے کم ہی استعمال کیا جانا چاہیے ا ور زیادہ سے زیادہ مال ورثا کو جانا چاہیے۔

(ڈاکٹر مولانا محمد عمار خان ناصر)

جواب :اسلام کی تعلیمات کو سامنے رکھیں تو مساوات کے بجائے عدل کا لفظ زیادہ صحیح ہے۔ مساوات سے بھی وہی مساوات مراد ہے جو عدل کے مقصد سے مطابقت رکھتی ہے۔ آپ نے قرآن مجید کی جن دوتعلیمات پر اشکال ظاہر کیا ہے ان کا تعلق اسلام کے پیش نظر خاندانی نظام سے ہے۔جس طرح کسی بھی نظام میں مناصب اہلیت کی بنا پر دیے جاتے ہیں اسی طرح خاندان میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ ایک تو اللہ تعالی نے عورت اور مرد کی شخصیت میں کچھ فرق رکھا ہے ۔ دوسرے اسلام میں کفالت کا ذمہ دار مرد کو ٹھہرایا گیا ہے۔ ان دو اسباب کے تحت مرد کو گھر کا سربراہ قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح ہر نظام میں سربراہ کو تادیب کے اختیار حاصل ہوتے ہیں اسی طرح گھر کے اس باس کوبھی تادیب کا اختیار حاصل ہے۔قرآن مجید میں یہ ساری بات ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے:

الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللہ بعضہم علی بعض وبما انفقوا باموالہم (النساء۴:۳۴)

 ‘‘مرد عورتوں پر قوام ہیں اس وجہ سے اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے انھوں نے اپنے مال خرچ کیے۔’’شوہر کو بیوی کا باس قرار دینے کی وجہ بیان کرنے کے بعد قرآن مجید نے اچھی بیوی کی دو صفات بیان کی ہیں ایک یہ کہ وہ فرماں بردار ہوتی ہے اور دوسرے یہ کہ گھر کے بھیدوں کی حفاظت کرتی ہے۔ اس کے بعد قرآن مجید نے اگر بیوی شوہر کی اس حیثیت کو ماننے سے انکار کردے تو اصلاح کے لیے نصیحت، بستر سے علیحدگی اور بدرجہ آخر مارنے کا طریقہ اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔اگر اللہ کے دین میں دیا گیا خاندانی نظام پیش نظر ہو تو اس میں یہ ساری باتیں معقول ہیں۔ البتہ اگر خاندانی نظام کے بجائے معاشرے کو کسی دوسرے طریقے پر استوار کرنا پیش نظر ہے تو پھر نہ ان ہدایات کی ضرورت ہے اور نہ کسی خصوصی اختیار اور حیثیت کی۔قانون وراثت کے ضمن میں عرض ہے کہ اس کی اساس خود اللہ تعالی نے بیان کردی ہے۔ اللہ تعالی نے بتایا ہے کہ وارثت کے یہ احکام اس لیے دیے گیے ہیں کہ تم خود سے بالعموم ٹھیک ٹھیک متعین نہیں کر سکتے کہ مرنے والے سے منفعت میں سب سے زیادہ کون قریب ہے۔ اس لیے ہم نے خود سے حصے مقرر کر دیے ہیں۔ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ مرد کو کفیل ٹھہرایا گیا ہے۔ چنانچہ مردوں پر آئندہ کفالت کی ذمہ داری ہے لہذا انھیں زیادہ حصہ دیا گیا ہے۔ اسی قانون میں ماں باپ کا حصہ برابر ہے۔ حالانکہ ان میں بھی ایک مرد اور ایک عورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب اس پر معاش کی ذمہ داری کی وہ صورت نہیں ہے۔ہر قانون اور ضابطہ کچھ مصالح اور مقاصد کو سامنے رکھ کر بنایا جاتا ہے۔ قانون پر تنقید کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس مصلحت اور مقصد کو سمجھا جائے۔ دو صورتیں ہوں گی۔ ہمیں اس مقصد اور مصلحت ہی سے اتفاق نہ ہو۔ پھر بحث اس موضوع پر ہو گی ۔ دوسری یہ کہ اس مصلحت اور مقصد کو یہ قانون پورا نہ کرتا ہو۔اس صورت میں گفتگو اس دوسرے پہلو سے ہو گی۔ قرآن مجید کا معاملہ یہ ہے کہ یہ علیم و خبیر خدا وند عالم کی کتاب ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے اس کی کوئی بات انسانی فطرت اورعقل وفہم کے موافق نہ ہو۔ ہم اپنی کوتاہی دور کر لیں ہر چیز واضح ہو جاتی ہے۔

(مولانا طالب محسن)

سوال : میرے تین لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں، سب کی شادی ہوچکی ہے۔ بڑا لڑکا اور اس کی فیملی میرے ساتھ رہتی ہے۔ باقی دولڑکے اپنا الگ الگ مکان بنواکر رہ رہے ہیں۔ میں نے انھیں الگ نہیں کیا ہے، بلکہ وہ اپنی مرضی سے الگ رہ رہے ہیں۔ میں ریٹائرڈ پنشنر ہوں۔ میرے ساتھ میری اہلیہ بھی ہیں۔بڑا لڑکا ہی ہمارے تمام اخراجات برداشت کرتا ہے۔ میری اہلیہ چار پانچ سال سے بیمار چل رہی ہیں۔ بڑا لڑکا اور اس کی بیوی بچے دیکھ بھال کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہنے کی امید ہے۔ دونوں لڑکے کبھی کبھی صرف دیکھنے آجاتے ہیں، بس۔میرے دو کشادہ مکان ہیں۔ میں نے مکان کا تہائی حصہ اپنی بڑی بہو کے نام وصیت رجسٹرڈ کردیا ہے۔ میں اپنے بڑے لڑکے کی مزید مدد کرناچاہتا ہوں۔ کیا حقِ خدمت کے طور پر میں یہ وصیت کرسکتا ہوں کہ جب سے میرے دوسرے لڑکے الگ ہوئے ہیں اس وقت سے میرے انتقال تک وہ میرے بڑے لڑکے کوبیس ہزار روپے سالانہ کے حساب سے دے کر ہی وہ مکان تقسیم کریں اور اپنا حصہ لیں-97براہ کرم درج بالا مسئلے میں رہ نمائی فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔

جواب : مکان، زمین جائداد اور دیگر مملوکہ چیزوں کی تقسیم وتملیک کے سلسلے میں تین اصطلاحات مستعمل ہیں: ہبہ، وصیت اور وراثت۔ ہبہ یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی میں اپنی کسی چیز کا دوسرے کو بلاعوض مالک بنا دے۔ اور اگر وہ اپنی موت کے بعد ملکیت منتقل کرے، مثلاً کہے کہ میرے مرنے کے بعد میری فلاں جائداد فلاں شخص کی ہوگی تو یہ وصیت ہے اس تقسیم وتملیک کا اختیار صاحب مال کو حاصل رہتا ہے۔ تیسری صورت وراثت کی ہے، یعنی کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی، یہ اللہ تعالیٰ نے طے کردیا ہے۔ہبہ میں آدمی کوقانونی لحاظ سے اختیار ہوتا ہے کہ وہ جس کو چاہے اور جس قدر چاہے دے دے، اس لیے کہ مال اس کا ہے اور اپنے مال میں تصرف کرنے کا اسے پورا اختیار ہے۔ وہ اس میں سے جتنا چاہے صدقہ وخیرات کرسکتا ہے، یا اپنے کسی ایسے رشتے دار کو ، جو مستحقینِ وراثت میں سے نہ ہو، دے سکتا ہے، یااپنے کسی وارث کو بھی مالک بناسکتا ہے۔ یہ قانونی اعتبار سے ہے، ورنہ اخلاق کا تقاضا ہے کہ وہ بلاکسی شدید ضرورت کے کسی مستحق و راثت کو اپنے مال سے محروم کرنے کی کوشش نہ کرے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنا مال، مکان، زمین جائداد وغیرہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرناچاہے تو اگرچہ اسے قانونی حق حاصل ہے کہ کسی کو کم دے کسی کو زیادہ، لیکن اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ سب کے درمیان برابر برابر تقسیم کرے۔ ایک حدیث حضرت نعمان بن بشیر سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد انھیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول، میں نے اپنے اس بیٹے کو فلاں چیز ہبہ کردی ہے، آپ گواہ رہئے۔ آپ نے دریافت کیا: کیا تم نے یہ چیز اپنے تمام بیٹوں کو دی ہے۔ انھوں نے جواب دیا: نہیں۔ تب آپؐ نے ارشاد فرمایا: میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف سے کام لو’’۔ (بخاری: ، مسلم: ) وصیت کے بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ کسی مستحقِ وراثت کے لئے وصیت نہیں کی جاسکتی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اِنَّ اللّٰہَ قَد اَعطیٰ کْلَّ ذِی حَقِ حَقَّہ’، فَلَاوَصِیۃَّ لِوَارِثِِ(ابوداود:۲۸۷۰)

‘‘اللہ نے ہر مستحقِ وراثت کا حق بتا دیا ہے، اس لئے کسی وارث کے حق میں وصیت نہ کی جائے’’۔اسی طرح کسی کے حق میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت نہیں کی جاسکتی۔ (بخاری:۲۷۴۴) آپ نے اپنی بڑی بہو کے حق میں اپنے مکان کے ایک تہائی حصے کی وصیت کردی ہے۔ آپ کا یہ وصیت کرنا صحیح ہے، لیکن اپنے بڑے لڑکے کے حق میں آپ جو وصیت کرناچاہتے ہیں وہ صحیح نہیں ہے۔آپ کے بیٹے بہو آپ کی اور اپنی ماں کی جو بھی خدمت کر رہے ہیں، وہ اپنا فرض سمجھتے ہوئے کر رہے ہیں۔ انھیں ایسا کرنا ہی چاہئے۔ قرآن وحدیث میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی بہت تاکید آئی ہے اور ان کے حقوق کی پامالی کو بڑے گناہوں میں شمار کیاگیا ہے۔ اس پر نہ وہ آپ سے حقِ خدمت کے طالب ہوں گے اور نہ آپ کو اس کی فکر کرنی چاہئے۔ لیکن اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے بڑے بیٹے کثیر العیال یا تنگ حال ہیں اور باقی دونوں بیٹے فارغ البال ہیں تو آپ اپنی جائداد میں سے حسب ضرورت اپنے بڑے بیٹے کو اپنی زندگی میں ہبہ کرسکتے ہیں۔ اس کا آپ کو قانونی طور پر حق حاصل ہے۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

ج- والدین کا جہیز کی واپسی کا مطالبہ غلط ہے۔ مرحومہ کی ملکیت میں جو چیزیں تھیں ان کو شرعی وارثوں پر تقسیم کیا جائے گا، چنانچہ مرحومہ کا ترکہ ۲۷ حصوں پر تقسیم ہوگا، ان میں سے ۲۱ - ۲۱ حصے مرحومہ کے والدین کے ہیں، اَٹھارہ حصے شوہر کے، دس دس حصے دونوں لڑکوں، اور پانچ پانچ دونوں لڑکیوں کے، نقشہ حسب ذیل ہے:

۲۷ = والد۲۱، والدہ ۲۱، شوہر ۸۱، بیٹا۰۱، بیٹا۰۱، بیٹی۵، بیٹی۵

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

ج- جو سامان آپ نے شادی کے موقع پر بہو کو دیا تھا اگر اس کی ملکیت کردیا تھا تو وہ سامان اسی کا ہے، اور آپ کو اس کا رکھنا جائز نہیں، اور اگر اس کی ملکیت نہیں کیا تھا بلکہ اس کو صرف استعمال کی اجازت دی تھی تو اس کی پھر دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ سامان آپ کے مرحوم بیٹے کی ملکیت تھا، اس صورت میں اس کا آٹھواں حصہ اس کی بیوہ کا ہے، نصف اس کی بیٹی کا اور باقی آپ کا، اور اگر مرحوم کی والدہ بھی زندہ ہے تو چھٹا حصہ اس کا، گویا کل ۴۲ حصے کئے جائیں گے ان میں تین بیوہ کے، ۲۱ لڑکی کے، ۴ماں کے اور ۵ والد کے۔اور اگر سامان خود آپ کی اپنی ملکیت ہے، آپ کا بیٹا بھی اس کا مالک نہیں تھا تو بیوہ کا اس میں کوئی حصہ نہیں، آپ اس کا جو چاہیں کریں۔ آپ کی جائیداد آپ کے انتقال کے بعد دو تہائی آپ کی تینوں لڑکیوں کو ملے گی (آپ کی اہلیہ زندہ ہیں تو آٹھواں حصہ ان کو ملے گا) اور باقی آپ کے جدی وارثوں کو دی جائے گی۔ آپ کی پوتی کو کچھ نہیں ملے گا۔ اگر آپ پوتی کو بھی کچھ دینا چاہیں تو اس کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ آپ اپنی زندگی میں مناسب حصہ اس کے نام کردیں۔ دْوسری صورت یہ کہ آپ وصیت کرجائیں کہ آپ کی پوتی کو اتنا حصہ دیا جائے (تہائی مال کے اندر اندر وصیت کرسکتے ہیں)، اور اس پر گواہ بھی مقرّر کرلیں۔ اگر آپ نے ایسی وصیت کردی تو جائیداد کی تقسیم سے پہلے آپ کی پوتی کو وہ حصہ دیا جائے گا، وارثوں کو بعد میں دیا جائے گا۔بچی کے لئے حکم تو یہ ہے کہ بالغ ہونے تک اپنی والدہ کے پاس رہے، لیکن اگر والدہ کا مطالبہ نہ ہو یا اس نے کسی ‘‘غیرجگہ’’ نکاح کرلیا ہو تو آپ رکھ سکتے ہیں۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

جواب: عطیہ میں بیٹے بیٹیوں میں برابری کا حکم ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس حدیث میں لا أشھد علی جور فرمایا ہے، اس میں یہ بھی ہے: أکل ولدک نحلت مثلہ (صحیح مسلم: ۱۶۲۳) یعنی نعمان بن بشیرؓ کہتے ہیں: جب میرے والد نے مجھے ایک غلام ہبہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ بنانا چاہا تو آپؐ نے فرمایا: کیا اپنی تمام اولاد کو تو نے اس کے مثل ہبہ کیا ہے؟’’ میرے والد نے کہا: نہیں۔ تو آپ نے فرمایا: اس ہبہ سے رجوع کرلے اور ایک روایت میں ہے کہ کیا تو نے اپنی باقی اولاد کو بھی اس کی مثل دیا ہے؟ کہا: نہیں، تو فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اولاد میں عدل کرو۔ ان الفاظ ‘‘اس کے مثل ہبہ کیا ہے یا اس کی مثل دیا ہے؟’’ سے معلوم ہوتا کہ اس بارے میں ذکور وأناث میں کوئی فرق نہیں کیونکہ اولاد کا لفظ لڑکے اور لڑکیوں سب کو شامل ہے اور اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں:

قال: ‘‘أیسرک أن یکونوا الیک فی البرّ سواء’’ قال: بلی قال: ‘‘فلا اذًا’’

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ تیری اولاد تیرے ساتھ برابر نیکی کرے؟ کہا: ہاں، تو آپؐ نے فرمایا: پس میں اس ہبہ پر گواہ نہیں بن سکتا’’۔ (ایضاً)

ان الفاظ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ تحفہ/ہبہ وغیرہ میں لڑکے اور لڑکیوں میں فرق نہیں، کیونکہ عموماً والدین چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد ہمارے ساتھ برابر نیکی کرے، خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں۔ پس ترجیح اسی کو ہے کہ اس بارے میں لڑکے اور لڑکیوں میں برابری کی جائے۔ مذکورہ حدیث کی بعض روایتوں میں اگرچہ اولاد کے عام لفظ کی جگہ بیٹوں کا لفظ بھی آیا ہے مگر حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری (۱۰؍۵۳۹) میں کہا ہے کہ اگر صرف لڑکے ہی ہوں اور اگر لڑکے لڑکیاں دونوں ہوں تو پھر لڑکوں کا ذکر محض غلبہ کی بنا پر ہے، اس کے بعد حافظ ابن حجرؒ نے بحوالہ ابن سعدؒ، نعمانؓ کے والد کی ایک بیٹی کا بھی تذکرہ ہے جس کا نام اُبیہ ہے جس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جن روایتوں میں لڑکوں کا ذکر ہے وہ محض غلبہ و اکثریت کی بنا پر ہے جیسے والد اور والدہ، دونوں کو والدین ہی کہہ دیتے ہیں اور حافظ ابن حجرؒ نے یہ بھی کہا ہے کہ حدیث میں تسویہ (برابری کرنے کا حکم) اسی امر کی طرف شہادت دیتا کہ لڑکے لڑکیوں میں فرق نہیں، پھر اس کی تائید میں ایک روایت بھی ذکر کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: سووا بین أولادکم فی العطیۃ فلو کنت مفضلا أحدا لفضلت النساء (بیہقی: ۶؍۱۷۷) یعنی ‘‘اولاد کو عطیہ دینے میں برابری کرو۔ پس اگر علامہ شوکانی نے نیل الاوطار (۵؍۲۴۲) میں سعید بن یوسف نامی راوی ضعیف بتایا ہے مگر حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں: واسنادہ حسن ، یعنی اس کی اسناد حسن ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معمولی ضعف ہوگا جس سے حدیث صحت کے درجہ سے نکل کر حسن کے درجہ کو پہنچ گئی، مثلاً حافظہ میں معمولی نقص ہوگا وغیرہ۔ بہرصورت اس حدیث سے تائید ضرور ہوتی ہے۔ پس ترجیح اسی کو ہے کہ عطیہ میں لڑکے اور لڑکیوں میں برابری کی جائے۔

نوٹ: اس حدیث سے اس بات کی بھی تائید ہوتی ہے کہ اولاد میں ضروریات اور حوائج کے اندر برابری کا حکم نہیں بلکہ عطیہ میں برابری کا حکم ہے، جیساکہ اُوپر تحقیق ہوچکی ہے کیونکہ اس حدیث میں صراحت موجود ہے کہ اولاد میں عطیہ کے اندر برابری کرو۔

( حافظ عبداللہ محدثؒ روپڑی)

جواب: صورتِ مسؤلہ میں بیوی کی عدت پوری ہوچکی ہے، اس لیے اب وہ بیوی نہیں رہی۔ اب اس کا کوئی حق نہیں اور بیٹا مشرک ہے اور مشرک کافر ہے اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔ البتہ لڑکی وارث ہوسکتی ہے، اگرچہ اس کو دو ہزار روپیہ دے کر الگ کردیا ہے لیکن اس سے اس کی وراثت کا حق منقطع نہیں ہوتا کیونکہ وراثت موت کے وقت ہوتی ہے، اگر موت کے وقت زید کے پاس کچھ مال ہوگا تو لڑکی وارث ہوگی اور اگر موت سے پہلے صحت اور تندرستی میں زید سارا مال کسی ادارہ وغیرہ کو دے دے تو اس صورت میں لڑکی کا کوئی حق نہیں کیونکہ اس کی زید کو شرعاً اجازت ہے جیسے مشہور ہے کہ حضرت عمرؓ نے فی سبیل اللہ نصف مال دیا اور حضرت ابوبکرؓ نے سارا مال دیا۔ رہا بیماری میں دینا تو اس کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ بیماری لمبی ہو جس میں موت کا واقع ہونا کم ہوتا ہے، جیسے دمہ، کھانسی، بواسیر وغیرہ جو عمربھر ساتھ رہتی ہیں اور کچھ علاج معالجہ سے صحت بھی ہوجاتی ہے تو ایسا بیمار تندرست کے حکم میں ہی ہے کیونکہ عموماً انسان تھوڑا بہت بیمار رہتا ہی ہے، جیساکہ حضرت ابوبکرؓ اس زہر سے فوت ہوئے جو ہجرت کے موقعہ پر غارِ ثور میں کسی شے کے کاٹنے سے جسم میں سرایت کرگیا تھا۔ اسی طرح رسولؐ اللہ اسی زہر سے فوت ہوئے جو ۷ہجری میں خیبر کے موقع پر یہود نے دعوت کے بہانے سے بکری کے گوشت میں آپ کو کھلا دیا تھا۔ آپؐ کے تالو کا گوشت جس کو پنجابی میں ‘کامی’ کہتے ہیں، اس زہر کے اثر سے سیاہ پڑ گئی تھا۔ حضرت عائشہؓ کو آپؐ نے فرمایا کہ ہمیشہ مجھے اس سے دکھ رہتا ہے اور وفات کے وقت فرمایا کہ اب اس زہر کے اثر سے میری شہ رگ کٹ گئی ہے۔ اس قسم کے واقعات سے ثابت ہوا کہ لمبی بیماری تندرستی کے حکم میں ہے، ورنہ نہ حضرت ابوبکرؓ سارا مال دیتے اور نہ رسولؐ اللہ قبول فرماتے۔

اور اگر خطرناک بیماری ہو جس میں عموماً موت واقع ہوتی ہے تو اس کی پھر دو حالتیں ہیں ایک یہ کہ اس کے بعد صحت ہوجائے تو اس بیماری کے اندر تصرفات تندرستی والا ہی حکم رکھتے ہیں اور اگر اس بیماری میں موت واقع ہوگئی تو یہ مرض الموت ہے۔ چنانچہ تلخیص الحبیر اور مُحلّی ابن حزم وغیرہ میں لکھا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عائشہؓ کو باغ کی کھجوریں ہبہ کیں۔ حضرت عائشہؓ سے کسی وجہ سے کاٹنے میں دیر ہوگئی۔ اسی اثناء میں حضرت ابوبکرؓ مرض الموت سے بیمار ہوگئے جس میں موت کے آثار ظاہر ہوگئے، چونکہ ہبہ میں قبضہ شرط ہے اور بغیر قبضہ کے ہبہ نہیں ہوتا اس لیے حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: اے بیٹی! اگر تو میری بیماری سے پہلے قبضہ کرلیتی تو یہ تیری چیز ہوجاتی۔ اب یہ مال وارث کا ہے یعنی دوسرے وارثوں کی طرح ہی تجھے اس سے حصہ ملے گا، اب یہ ہبہ نہیں رہا اور اس کو وصیت اس لیے نہیں بنایا کہ وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں۔ خلاصہ یہ کہ صورتِ مسؤلہ میں دیکھنا چاہیے کہ بیماری کس قسم کی ہے، سو اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔

( حافظ عبداللہ محدثؒ روپڑی)

جواب: ہندہ بقائمی ہوش و حواس صحت و تندرستی میں ہر ایک کو ہبہ کرسکتی ہے، صرف اولاد میں برابری کا حکم آیا ہے، دوسرے ورثا کے متعلق رسول اللہﷺ نے کچھ نہیں فرمایا۔ ہاں مرضِ موت میں اس کی اجازت نہیں کیونکہ مرضِ موت کا ہبہ درحقیقت وصیت ہے، ایسے ہی حدیث میں ہے کہ لاوصیۃ لوارث، یعنی وارث کے لیے وصیت نہیں۔ (ترمذی:۲۱۲۰)

ہندہ کا ہبہ مذکورہ تکمیل کو نہیں پہنچا کیونکہ ہبہ میں موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیا ہے) کا قبضہ شرط ہے جو ہبہ مذکورہ میں نہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عائشہؓ کو کچھ ہبہ کیا، مگر حضرت عائشہ نے اس پر قبضہ نہ کیا، اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ بیمار ہوگئے، موت کے آثار نمودار ہوئے تو فرمایا: اے عائشہؓ! تو نے قبضہ نہیں کیا۔ اب یہ مال ترکہ میں شامل ہے اور اس میں تجھے کوئی خصوصیت حاصل نہیں۔ یہ روایت تلخیص الحبیر کتاب الہبہ میں مذکور ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ہندہ کا ہبہ مکمل نہیں، اس لیے دیگر ورثاء بھی اس میں حصہ دار ہیں۔

( حافظ عبداللہ محدثؒ روپڑی)

سوال: زید کا ایک بیٹا بکر اور تین بیٹیاں ہندہ، کلثوم اورخدیجہ ہیں۔ زید اپنے لڑکے بکر کے ساتھ رہتا ہے۔ بیٹے بکر نے اپنی بہنوں اور اپنی بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنے کی غرض سے اپنے باپ زید پر ناجائز دباؤ ڈال کر کل جائیداد منقولہ و غیرمنقولہ کو اپنے بیٹوں کے نام سے ہبہ بلامعاوضہ کرا لیا جس کو تقریباً آٹھ نو سال گزر گئے۔ لیکن عملاً زید اسی مکان میں بودوباش رکھتا ہے اور اس نے کبھی مکان کا تخلیہ کر کے اسے خالی نہیں کرایا۔ چند روز ہوئے کہ زید فوت ہوگیا اور اس کے وارث مذکورہ تینوں لڑکیاں اور ایک لڑکا بکر ہے۔ ہندہ نے جب اپنے بھائی بکر سے ترکہ طلب کیا تو بکر نے جواب دیا کہ والد کی جو کچھ جائیداد تھی، خود ان کے حین حیات میں ہبہ ہوچکی ہے، البتہ انہوں نے کچھ ذاتی رقم خرچ کے لیے علیحدہ رکھی ہوئی تھی، ان میں سے جو کچھ بچا ہوگا، اس میں سے تم کو حصہ مل جائے گا، سوال یہ ہے کہ:

۱- ایسا ہبہ جس سے ورثاء شرعی محروم ہوں اور وہ غیروارث کو مل جائے، کیا جائز ہے یا نہیں؟

۲- آیا بیٹیوں کو اپنے باپ کی وراثت میں سے حصہ ملے گا یا نہیں اور یہ حضرت نعمان بن بشیرؓ کے واقعہ أکل أولادک نحلت (کیا تم نے تمام اولاد کو ایسا ہی تحفہ دیا ہے؟) کے ضمن میں داخل ہے یا نہیں؟

۳- ہبہ بلاقبضہ کا کیا حکم ہے؟

جواب: نعمان بن بشیرؓ کی حدیث میں صراحت ہے کہ اولاد میں عدل کرو۔ پس کسی ایک کے نام جائیداد کر دینا، چاہے وہ بیٹی ہو یا بیٹا ہو، یہ امرحدیث کے خلاف ہے۔ زید کو کوئی حق نہیں تھا کہ وہ تمام جائیداد بکر کے نام کرتا اور اب بکر کو بھی اجازت نہیں کہ وہ اس جائیداد پر قبضہ کرے۔ تلخیص الحبیر میں ہے:

ان أبابکر نحل عائشۃ جذاذ عشرین وسقا فلما مرض قال ودِدت أنک حزیتیۃ أو قبضتیہ وانما ھو الیوم مال الوارث، مالک فی الموطاء عن شھاب بن عروۃ عن عائشۃ بہ وأتم منہ رواہ البیھقی من طریق ابن وھب عن مالک وغیرہ عن ابن شھاب عن حنظلۃ بن أبی سفیان عن القاسم بن محمد نحوہ وقد روی الحاکم أن النبیؐ أھدی الی النجاشی ثم قال لأم سلمۃ انی لأری النجاشی قد مات ولأری الھدیۃ التی أہدیت الیہ الا ستردد فاذا رددت الی فھی لک فکان کذلک…… الحدیث (رقم: ۱۳۲۸، ۱۳۲۹)

‘‘حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عائشہؓ کو اسّی من کھجور ہبہ کی۔ جب آپؓ بیمار ہوگئے تو فرمایا: میں چاہتا تھا کہ تو کھجوروں کو اپنے قبضہ میں کرلیتی کیونکہ آج وہ وارث کا مال ہے۔ امام مالکؒ نے اس کو موطأ میں روایت کیا ہے اور امام بیہقی ؒ نے بھی اس کو بطریق وہب، امام مالک وغیرہ سے روایت کیا ہے اور حاکمؒ نے یہ بھی روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کو ایک تحفہ بھیجا۔ پھر اُم سلمہؓ کو کہا: میں دیکھتا ہوں کہ نجاشی فوت ہوگیا ہے اور جو تحفہ میں نے اس کو بھیجا تھا، وہ ضرور لوٹا دیا جائے گا۔ پس جب وہ واپس آئے گا تو وہ تیرے لیے ہے، چنانچہ اسی طرح ہوا’’۔

ان دونوں روایتوں سے ثابت ہوا کہ ہبہ میں قبضہ ضروری ہے۔ اگر صرف ہبہ کردینے سے ہبہ مکمل ہوجاتا تو حضرت ابوبکرؓ حضرت عائشہؓ کو یہ نہ کہتے کہ ‘‘آج وہ مال وارث کا ہے’’۔ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اُم سلمہؓ کو یہ کہتے کہ ‘‘جب واپس آئے تو وہ تیرے لیے ہے’’۔ بلکہ اس کے حق دار نجاشی کے ورثا ہوتے۔

( حافظ عبداللہ محدثؒ روپڑی)

جواب: اولاد میں سے بعض کو دینا اور بعض کو نہ دینا یہ شرعاً ناجائز، جیساکہ نعمان بن بشیرؓ والی مشہور حدیث اس سلسلے میں بالکل واضح ہے۔ البتہ بیٹوں کی موجودگی میں پوتوں کو کچھ ہبہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ پوتے شرعاً وراثت سے محروم ہیں۔ پس پوتوں کو جو دادا نے دیا ہے، وہی ان کا حق ہے۔ بعض بیٹوں کا ہبہ بغیر دوسرے کی رضامندی کے صحیح نہیں۔ پس جو کچھ باپ دے گیا، وہ بھی ترکہ میں شامل کرکے بدستور ترکہ /قبضہ تقسیم ہونا چاہیے۔

( حافظ عبداللہ محدثؒ روپڑی)

ج: ان کی یہ رائے قرآن کے بالکل خلاف ہے ۔ اجتہاد ان معاملات میں ہوتا ہے جہاں قرآن وسنت بالکل خاموش ہوتے ہیں ۔جہاں خدا نے قانون بیان کر دیا ہے وہاں سرتسلیم خم کرنا چاہیے۔ وراثت کاقانون ہی صحیح قانون ہے۔ اور صحیح معاشرت کے اندرایک فطر ی چیز بھی۔ لڑکی نے بہرحال دوسرے گھر میں جاناہوتا ہے اور ادھر سے بھی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے اسے بہت کچھ حاصل ہوتا ہے ۔ مردوں پر معاش کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس لیے ان کا حصہ بھی زیادہ رکھا گیا ہے ۔یہ حصہ بھی بیٹی کے معاملے میں ہے ، اس میں عورت اور مرد کی کوئی تفریق نہیں کیونکہ ماں اور باپ کا حصہ برابر ہے۔ یعنی جہاں معاش کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس حساب سے اس کاحصہ بھی زیادہ رکھا گیاہے۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: بیوی کے نام کرنے کا مطلب اگریہ ہے کہ اس نے باقاعدہ اسے مالک بنا دیا تھا تو اب یہ بیوی کی میراث ہے اور یہ میراث بیوی کے وارثوں ہی میں تقسیم ہو گی اور اس میراث میں شوہر کا بھی ایک حصہ مقرر ہے جو اس کو مل جائے گا ، واپس ملنے کا کوئی سوال نہیں۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: زندگی میں کوئی پابندی نہیں ہے ، آپ ساری کی ساری جائیداد بیٹی کو دے دیں یا جس کو چاہیں دے دیں۔زندگی میں صرف ایک شرط ہے کہ بے انصافی نہ کریں۔زندگی میں اللہ تعالی نے کسی بندے کیلیے اپنے مال پر تصرف پر کوئی پابندی سوا اس کے نہیں لگائی کہ انصاف کے ساتھ معاملہ کیا جائے ۔مرنے کے بعد وراثت کے احکام کے مطابق ہی جائداد تقسیم ہو گی۔ اگر ایک ہی بیٹی ہے تو آدھی جائیداد اس کی ہے اور باقی آدھی اقربا میں چلی جائے گی۔

(جاوید احمد غامدی)

جواب۔ اُنہی دلائل کی بنا پر لے پالک سے بھی وعدہ پورا ہونا چاہیے۔ دوسری بیوی کی اولاد کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ان کی آپس میں مساوات ضروری ہے، لے پالک سے تعلق نہیں۔

(مولانا حافظ ثناء اللہ خاں مدنی)

جواب: بچے کی حضانت(تربیت) کی سب سے زیادہ حق دار یا ذمہ دار ماں ہوتی ہے، اگر وہ موجود نہ ہو تو اس کے بعد نانی حق دار ہوا کرتی ہے، اگر وہ بھی نہیں تو خالہ۔ اس لیے کہ نانی ماں سمجھی جاتی ہے اور خالہ بھی ماں کے مرتبہ میں ہے۔ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: اَلْخَا لَۃُ بِمَنْزِلَۃِالّاُمِّ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اگریہ رشتے دار نہیں تو دادی تربیت کرے گی، وہ بھی نہیں تو بہن اور اگر یہ بھی نہیں ہے تو پھوپھی ۔ اگر ان میں سے بھی کوئی تربیت کے لیے موجود نہ ہو تو بچے کی حضانت باپ کی طرف منتقل ہوگی۔موجودہ صورت میں چونکہ بچی کی نانی موجود ہے لہٰذا تربیت کی وہی حقدار ہے۔ شاہ ولی اللہ المسویٰ میں فرماتے ہیں۔:‘‘فالام وام الام اولی بالحضانۃ من الاب۔’’‘‘بچے کی تربیت کی ماں اور نانی زیادہ حق دار ہے۔’’

            پھر حضرت عمرؓ کے قصہ سے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے ایک انصاری عورت کوطلاق دی تو اس سے عاصم بن عمر تولد ہوئے۔ حضرت عمرؓ نے اس کو لینا چاہا تونانی رکاوٹ بن گئی ۔ پھر ابو بکرؓ نے ماں کے حق میں فیصلہ صادر فرمایا۔

            بچی کا خرچہ باپ کے ذمہ ہے، اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: وارزقواھم فیھا واکسوھم وقولوا لھم قولا معروفا ‘‘اور اس میں سے ان (اولاد) کو روزی دو اور لباس مہیا کرو اور ان کے لیے اچھی بات کہو۔’’

            شوہر مرحومہ کے ترکے میں سے چوتھے حصے کا حق دار ہے اور آدھے کی بیٹی ہے، باقی دیگر ورثا کے لیے اپنے اپنے حصص کے مطابق ہے۔

(مولانا حافظ ثناء اللہ خاں مدنی)

ج: اصل میں اس دنیا کے بارے میں اللہ کی جو سکیم ہے وہ ہمارے معاشرے میں معطل کر دی گئی ہے اس وجہ سے سوالات پیدا ہو تے ہیں ۔ مثال کے طور پر عربوں کے معاشرے میں اس بات کا کوئی تصور ہی نہیں تھا کہ بیوی نے بیوہ ہو جانے پر گھر میں بیٹھنا ہے ۔ وہ اگلے دن شادی کے لیے تیار ہوتی تھی ۔اسی لیے اللہ کو عدت کی مدت گزارنے کے بارے میں ہدایات دینی پڑیں کہ کم از کم اتنا وقت تو گزار لو۔ یہ کہنا پڑا کہ آپ نے شادی تو کرنی ہے لیکن یہ دو تین مہینے صبر کر لیں لیکن ہمارے ہاں یہ صورتحال نہیں ہے ۔ یہ ایک مسئلہ ہے اس وجہ سے بجائے اس کے کہ ساری اسکیم کو باطل کر دیا جائے ہم اپنی غلطی کی تلافی کر سکتے ہیں ۔ جب اولاد ہوتی ہے تو اصل میں جو اولاد کا ہے وہ بیوی کا ہوتا ہے وہ ماں ہوتی ہے اس وجہ سے سب کی مالک ہوتی ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ماں کی موجودگی میں اولاد سرکشی کرے لیکن اگر خاوند یہ خدشہ محسوس کرتا ہے تو وہ مرنے کا انتظار ہی کیوں کر رہا ہے ، اپنی زندگی میں جو دینا چاہتا ہے بیوی کو دے دے زندگی میں کوئی پابندی نہیں ہے ۔ جب آپ اپنی زندگی میں فیصلہ نہیں کرتے توا للہ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کی وجہ بالکل مختلف ہے ۔ اس میں یہ اصول نہیں اختیار کیا گیا کہ ضرورت کس کی زیادہ ہے ۔ اگر یہ اصول اختیار کیا جاتا تو میراث تقسیم ہی نہیں ہو سکتی تھی ۔ ضرورت کس کی زیادہ ہے اس کا توکوئی قاعدہ بنایا ہی نہیں جا سکتا ۔ اصول یہ بنایا گیا ہے کہ امکانی طور پر کس سے مادی منفعت زیادہ حاصل ہوتی ہے اس اصول پر میراث تقسیم کی گئی اور یہ اصول بالکل ٹھیک ہے کہ امکانی طور پر زیادہ منفعت انسان کو اولاد سے حاصل ہوتی ہے ، اولاد نہ ہو تو بہن بھائیوں سے ہوتی ہے ۔ بیوی کا حصہ مقرر کر دیا گیا ہے آپ بیوی کو جو دینا چاہتے ہیں دنیا میں دے دیں اس میں کوئی مانع نہیں ہے ۔ ضرورت کو اصول نہیں بنایا گیا اور ضرورت کو اصول بنانا بے انصافی بن جاتی ہے اس کا طے کرنا آسان نہیں ہے۔ ضرورت تو آپ ہی جان سکتے ہیں یا مرنے والا۔ اس کے علاوہ وصیت کا حق بھی دیا ہے ضرورت کے لحاظ سے ۔ اللہ تعالی تو جب قاعدہ بنائیں گے بہت سے پہلووں کو سامنے رکھ کربنائیں گے جو یونیورسل ہو گا ۔ انہوں نے جو پہلو رکھا وہ یہ ہے کہ کس کو زیادہ منفعت حاصل ہوتی ہے بس اس اصول پر تقسیم کر دیا گیا ہے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: اصل میں اس دنیا کے بارے میں اللہ کی جو سکیم ہے وہ ہمارے معاشرے میں معطل کر دی گئی ہے اس وجہ سے سوالات پیدا ہو تے ہیں ۔ مثال کے طور پر عربوں کے معاشرے میں اس بات کا کوئی تصور ہی نہیں تھا کہ بیوی نے بیوہ ہو جانے پر گھر میں بیٹھنا ہے ۔ وہ اگلے دن شادی کے لیے تیار ہوتی تھی ۔اسی لیے اللہ کو عدت کی مدت گزارنے کے بارے میں ہدایات دینی پڑیں کہ کم از کم اتنا وقت تو گزار لو۔ یہ کہنا پڑا کہ آپ نے شادی تو کرنی ہے لیکن یہ دو تین مہینے صبر کر لیں لیکن ہمارے ہاں یہ صورتحال نہیں ہے ۔ یہ ایک مسئلہ ہے اس وجہ سے بجائے اس کے کہ ساری اسکیم کو باطل کر دیا جائے ہم اپنی غلطی کی تلافی کر سکتے ہیں ۔ جب اولاد ہوتی ہے تو اصل میں جو اولاد کا ہے وہ بیوی کا ہوتا ہے وہ ماں ہوتی ہے اس وجہ سے سب کی مالک ہوتی ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ماں کی موجودگی میں اولاد سرکشی کرے لیکن اگر خاوند یہ خدشہ محسوس کرتا ہے تو وہ مرنے کا انتظار ہی کیوں کر رہا ہے ، اپنی زندگی میں جو دینا چاہتا ہے بیوی کو دے دے زندگی میں کوئی پابندی نہیں ہے ۔ جب آپ اپنی زندگی میں فیصلہ نہیں کرتے توا للہ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کی وجہ بالکل مختلف ہے ۔ اس میں یہ اصول نہیں اختیار کیا گیا کہ ضرورت کس کی زیادہ ہے ۔ اگر یہ اصول اختیار کیا جاتا تو میراث تقسیم ہی نہیں ہو سکتی تھی ۔ ضرورت کس کی زیادہ ہے اس کا توکوئی قاعدہ بنایا ہی نہیں جا سکتا ۔ اصول یہ بنایا گیا ہے کہ امکانی طور پر کس سے مادی منفعت زیادہ حاصل ہوتی ہے اس اصول پر میراث تقسیم کی گئی اور یہ اصول بالکل ٹھیک ہے کہ امکانی طور پر زیادہ منفعت انسان کو اولاد سے حاصل ہوتی ہے ، اولاد نہ ہو تو بہن بھائیوں سے ہوتی ہے ۔ بیوی کا حصہ مقرر کر دیا گیا ہے آپ بیوی کو جو دینا چاہتے ہیں دنیا میں دے دیں اس میں کوئی مانع نہیں ہے ۔ ضرورت کو اصول نہیں بنایا گیا اور ضرورت کو اصول بنانا بے انصافی بن جاتی ہے اس کا طے کرنا آسان نہیں ہے۔ ضرورت تو آپ ہی جان سکتے ہیں یا مرنے والا۔ اس کے علاوہ وصیت کا حق بھی دیا ہے ضرورت کے لحاظ سے ۔ اللہ تعالی تو جب قاعدہ بنائیں گے بہت سے پہلووں کو سامنے رکھ کربنائیں گے جو یونیورسل ہو گا ۔ انہوں نے جو پہلو رکھا وہ یہ ہے کہ کس کو زیادہ منفعت حاصل ہوتی ہے بس اس اصول پر تقسیم کر دیا گیا ہے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: ہمارے معاشرے کے حوالے سے یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے اگر اتنی سادہ بات ہوتی تو میں جواب دیتا کہ تحریراً یا زبانی کہہ دینے کے بعد حق واپس لینااحمقانہ بات ہے۔ہمارے ہاں توایسے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں کہ جس میں عورتیں اپنا حق دینے کے لیے نفسیاتی طور پر مجبور کر دی جاتی ہیں۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ اچھے بھلے مذہبی گھرانوں میں بھی خواتین کا میراث میں سے حصہ لینا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ وہ اگر اس کے بارے میں کوئی ذکر کر دیں تو اس کو محبت اور مودت کے جذبات کے خلاف سمجھا جاتا ہے اور ان پر ایسا ذہنی اور نفسیاتی دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ جس میں بعض اوقات وہ بیچاری اس طرح کی تحریریں بھی لکھ دیتی ہیں اور تقریریں بھی کہہ دیتی ہیں۔ حقیقت میں بات ایسے نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں تو بیویوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے یعنی شوہر دوسرے تیسرے دن ہی اپنا مہر معاف کروا لیتے ہیں ۔اس حوالے سے میرے نزدیک ان اہل علم کی رائے بالکل ٹھیک ہے کہ ہمارے معاشرے میں اگر کوئی خاتون یہ کہتی ہے کہ میں نے وہ معافی واپس لے لی ہے تو اس کا مہر ادا کیا جاناچاہیے۔ یہی معاملہ میراث کا بھی ہے اگرکوئی خاتون وہ مخصوص حالات گزرنے کے بعد اپنے حق کی واپسی کا مطالبہ کرتی ہے تو اسے حق دیا جانا چاہیے۔ یہ باتیں میں نے اصولی کہی ہیں۔اگر کوئی خاص نوعیت کا معاملہ ہے تو اسے اس کی انفرادی نوعیت کے لحاظ دیکھا جائے گا۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: یتیم پوتے کی وراثت کے بارے میں قرآن وسنت بالکل خاموش ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ کے ارشادات میں بھی اس کے متعلق کوئی بات وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کی گئی ۔ اس سلسلے میں ہمارے علما نے قرآن مجید کے اصولوں کو سامنے رکھ کر اجتہاد کیا ہے ۔ اس وجہ سے اگر اس میں کوئی اختلاف رائے ہو تو اس سے گھبرانا نہیں چاہیے اور اسے قرآن وسنت کی تردید یا تقلید کا مسئلہ بھی نہیں بنانا چاہیے ۔ جس رائے پر اطمینان ہو اس کو اختیار کر لینا چاہیے۔ جہاں تک میری رائے کا تعلق ہے تو میں میراث میں یتیم پوتے کا حق مانتا ہوں ۔

(جاوید احمد غامدی)