عورتوں کے مسائل

فقہِ حنفی کا اصولی مسئلہ تو یہی ہے کہ سفرحج و عمرہ کا ہو یا دیگر مقاصد کے لیے، اگر اس کی مسافت اٹھانوے کلومیٹر کے برابر ہے، تو عورت شوہر یا محرم کی رفاقت کے بغیر سفر نہیں کرسکتی۔ لیکن عورتوں کو مشکلات درپیش ہیں کہ یا تو وہ کسی محرم کا خرچ برداشت کریں یا اس عذر کے سبب حج و عمرے پر جانے سے محروم رہیں۔ نیز ہمارے فقہائے کرام نے اس مسئلے پر بھی بحث کی ہے کہ اگر عورت کو شوہر یا محرم کی رفاقت دستیاب نہیں ہے، اور وہ اپنی زندگی میں فریضہ حج ادا نہیں کرسکتی، تو کیا اس پر حجِ بدل کی وصیت کرنا یا کسی کو فرض حجِ بدل کے لیے بھیجنا لازم ہے۔ فقہائے کرام میں سے جن کا مؤقف یہ ہے کہ عورت کے لیے محرم کی رفاقت حج کے فرض ہونے کی شرط ہے، اُن کے نزدیک اس پر نہ کسی کو حجِ بدل پر بھیجنا اور نہ اس کی وصیت کرنا لازم ہے، البتہ جن کا مؤقف یہ ہے کہ عورت کے لیے شوہر یا محرم کی رفاقت حج کے ادا کرنے کی شرط ہے، تو اُن کے نزدیک اس کے لیے فرض حجِ بدل کرانا یا اس کی وصیت کرنا لازم ہے، ورنہ گناہگار ہوگی۔امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر ثقہ عورتوں کی ایک جماعت حج یا عمرے پر جا رہی ہے، توجس عورت کو شوہر یا محرم کی رفاقت میسر نہیں ہے، وہ اُن کے ساتھ جا سکتی ہے۔ بعض حالات میں ہمارے فقہائے کرام نے دفعِ حرج اور یُسر کے لیے دوسرے ائمہ کے مذہب پر عمل کی اجازت دی ہے، اور ہمارے معاصر فقہاء میں سے مفتی محمد رفیق حسنی نے لکھا ہے: ‘‘اب احناف کو موجودہ دور میں امام شافعی کے مذہب کے مطابق فتویٰ دینا چاہیے، اگر ثقہ خواتین عورتوں کا کوئی گروپ ہو تو وہ عورت جسے شوہر یا محرم کی رفاقت میسر نہیں ہے، اُن کی رفاقت میں فریضہ حج ادا کرلے۔(رفیق المناسک،ص: 481) 
ہماری رائے میں اب مفتیانِ کرام کو اس مسئلے پر غور کرنا چاہیے، اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ ماضی کے مقابلے میں سفر آسان ہے، بس یا ہوائی جہاز میں عورتوں کو ایک ساتھ بٹھا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ ٹورسٹ گروپوں میں یا سرکاری اسکیم میں حج پرجاتے ہیں، اُن میں بھی عورتوں کو الگ کمرے میں ٹھہرایا جاتا ہے اور اس میں مردوں کے ساتھ اختلاط نہیں ہوتا۔ سو بجائے اس کے کہ گروپ لیڈر جھوٹ کا سہارا لے کر کسی مرد کو کسی عورت کا محرم ظاہر کرے، بعض مخصوص صورتوں میں اس رخصت پر غور کرنا چاہیے۔

(مفتی منیب الرحمان)

جواب : میرے بھائی نے ایک بہت اہم سوال پوچھا ہے کہ دو خواتین کی گواہی اسلام میں ایک مرد کی گواہی کے برابر کیوں ہے؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر جگہ اور ہر معاملے میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر نہیں قرار دی جاتی۔ ایسا صرف چند مخصوص صورتوں میں ہی ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں کم از کم پانچ مقامات ایسے ہیں جہاں گواہی کا ذکر موجود ہے بغیر کسی قسم کی جنسی تفریق کے۔

بعض مقامات ایسے ہیں جہاں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر قرار دی گئی ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت میں ارشاد ہوتا ہے : وَاستَشھِدْوا شَھِیدَینِ من رِّجَالِکْم فَاِن لَّم یکْونَا رَجْلیَنِ فَرَجْل وَامرَاَتَانِ مِمَّن تَرضَونَ مِنَ الشّْھَدَاءِ اَن تَضِلَّ احدَاھْمَا فَتْذکَِّرَ ااِحدَاھْمَا الاْخریَ ۔ سورہ 2، آیہ 282)

"اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے میں) گواہ کر لیا کرو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلا دے گی۔"

سورہ بقرہ کی اس آیت میں ذکر صرف مالی معاملات کا ہو رہا ہے۔ صرف مالی اور معاشی نوعیت کے معاملے میں ایک مرد کی گواہی دو عورتوں کے برابر دی جا رہی ہے۔ بلکہ کہا یہ جا رہا ہے کہ مالی معاملات میں دو مردوں کی گواہی بہتر ہے اور اگر دو مرد گواہی دینے والے نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بنیں۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے میں ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ فرض کریں آپ کوئی سرجری کروانا چاہتے ہیں یا کوئی آپریشن کروانا چاہتے ہیں۔ اب ظاہر ہے آپ کی خواہش ہو گی کہ سرجری سے قبل کم از کم دو ماہر ڈاکٹروں کے ساتھ مشورہ کریں۔ اب فرض کیجیے آپ کو صرف ایک ماہر سرجن دستیاب ہے۔ اس صورت میں آپ ایک سرجن کی رائے کے ساتھ دو عام ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی رائے بھی جاننا چاہیں گے۔ اس کا سبب یہی ہو گا کہ آپریشن کے بارے میں ایک عام ایم بی بی ایس ڈاکٹر کے مقابلے میں ایک سرجن کا علم زیادہ ہوتا ہے۔

ایسا ہی معاملہ گواہی کا ہے۔ چونکہ اسلام نے فکر معاش کا ذمہ دار مرد کو بنایا ہے لہذا ظاہر ہے کہ ایک اسلامی معاشرے میں معاشی معاملات کے بارے میں مرد کو علم زیادہ ہو گا اور یہی وجہ ہے کہ معاشی معاملات میں دو مردوں کی گواہی کو ترجیح دی گئی ہے اور اگر آپ سورہ مائدہ کی تلاوت کریں تو وہاں یہ ارشاد باری تعالٰی موجود ہے : یاَا اَیّْھَا الَّذِینَ آمَنْوا شَھَادَۃ بَینِکْم اِذَا حَضَرَ اَحَدَکْمْ المَوتْ حِینَ الوَصِیۃَِّ اثنَانِ ذَوَا عَدلٍ مِّنکْم و آخَرَانِ مِن غَیرِکْم اِن اَنتْم ضَرَبتْم فیِ الاَرضِ فَاَصَابَتکْم مّْصِیبَۃْ المَوتِ (سورۃ 5، آیہ 106)

"مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت آ موجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم مسلمانوں میں سے دو مرد عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر (مسلمان گواہ نہ ملیں اور) تم سفر کر رہے ہو اور (اس وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو)۔"

یہاں بھی چونکہ معاملہ معاشی نوعیت کا ہے لہذا مرد کی گواہی کو ترجیح دی گئی ہے۔ بعض علمائے قانون کی رائے یہ ہے کہ "قتل " کے معاملے میں بھی جرم کی مخصوص نوعیت کے پیش نظر اور عورت کی فطرت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے یہی اْصول لاگو ہونا چاہیے۔ یعنی دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے مساوی قرار دی جانی چاہیے۔

صرف دو معاملات ایسے ہیں جہاں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر قرار دی گئی ہے یعنی :

(1) مالی معاملات

 (2) قتل کا معاملہ

کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر جگہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہو گی لیکن اگر قرآنی ہدایات کی مجموعی طور پر پیش نظر رکھا جائے تو یہ بات درست ثابت نہیں ہوتی۔

آیئے دیکھتے ہیں قرآن ہمیں اس بارے میں کیا احکامات دیتا ہے :

سورہ نور میں ارشاد باری تعالٰی ہے : وَالَّذِینَ یَرمْونَ اَزوَاجَھْم وَلَم یْکن لَّھْم شْھَدَاء ْاِلَّا اَنفْسْھْم فَشَھَادَۃْ اَحَدِھِم اَربَعْ شَھَادَاتٍ بِاللّہَِ اِنّہْ لَمِنَ الصَّادِقِینَ۔ وَالخَامِسَۃْ اَنَّ لَعنَتَ اللَّہِ عَلَیہِ اِن کَانَ مِنَ الکَاذِبِینَ۔ وَیَدرَؤْا عَنھَا العَذَابَ اَن تَشھَدَ اَربَعَ شَھَادَاتٍ باللَّہِ اِنّہْ لَمِنَ الکاذِبِینَ۔ وَالخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللَّہِ عَلَیھَا اِن کَانَ مِنَ الصَّادِقِینَ۔ (سورہ 24، آیات 6 -96 9)

"اور جو لوگ اپنی بیویوں پر (بدکاری کی) تہمت لگائیں اور ان کے پاس سوائے اپنی ذات کے کوئی گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی بھی ایک شخص کی گواہی یہ ہے کہ (وہ خود) چار مرتبہ اللہ کی قَسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (الزام لگانے میں) سچا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ یہ (کہے) کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو۔ اور (اسی طرح) یہ بات اس (عورت) سے (بھی) سزا کو ٹال سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر (خود) گواہی دے کہ وہ (مرد اس تہمت کے لگانے میں) جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ یہ (کہے) کہ اس پر (یعنی مجھ پر) اللہ کا غضب ہو اگر یہ (مرد اس الزام لگانے میں) سچا ہو۔"

مندرجہ بالا آیت سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ بیوی شوہر پر الزام لگائے یا شوہر بیوی پر۔ دونوں کی ذاتی گواہی اس معاملے میں مساوی ہے۔

اسی طرح رویت ہلال کے معاملے میں بھی عورت اور مرد کی گواہی میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔ بعض فقہا کا کہنا ہے کہ رمضان کے چاند کی رویت کے لیے ایک اور شوال کے چاند کے لیے دو گواہ درکار ہو گے لیکن گواہ کے مرد یا عورت ہونے سے وہاں بھی فرق کوئی نہیں پڑتا۔

کچھ معاملات میں صرف عورت ہی گواہی دے سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر معاملہ غسل میت کا ہو، کیونکہ جب تک کوئی عورت دستیاب ہو عورت کو غسل میت عورت ہی دے گی۔ یعنی اس معاملے میں گواہی کی ضرورت پڑے تو عورت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

میں امید رکھتا ہوں کہ معاملہ آپ کے ذہنوں میں واضح ہو چکا ہو گا۔

(ڈاکٹر ذاکر نائیک )

جواب : میرے بھائی نے سوال پوچھا ہے کہ کیا عورت سربراہِ مملکت بن سکتی ہے؟

میرے علم کی حد تک قران میں کوئی ایسی آیت موجود نہیں، کوئی ایسا حکم موجود نہیں کہ عورت "سربراہِ حکومت نہیں بن سکتی۔"لیکن متعدد احادیث ایسی موجود ہیں مثال کے طور پر ایک حدیث جس کا مفہوم ہے :"وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے اپنا سربراہ عورت کو بنایا۔"

بعض علماء کا کہنا ہے کہ ان احادیث کا تعلق اسی زمانے سے ہے۔ یعنی ان کا حکم اسی زمانے کے لیے محدود ہے جس زمانے میں فارس میں عورت حکمران تھی۔ جب کہ دیگر علماء کی رائے مختلف ہے۔ وہ اس حکم کو ہر زمانے کے لیے عام سمجھتے ہیں۔

آئیے ہم تجزیہ کر کے دیکھتے ہیں کہ ایک عورت کے لیے سربراہِ حکومت بننا اچھا ہے یا نہیں؟ اگر ایک اسلامی ریاست میں عورت سربراہِ حکومت ہو گی تو لازماً اسے نمازوں کی امامت بھی کروانی ہو گی۔ اور اگر ایک عورت نماز باجماعت کی امامت کرواتی ہے تو اس سے لازماً نمازیوں کی توجہ بھٹکے گی۔ کیونکہ نماز کے متعدد ارکان ہیں۔ مثلاً قیام، رکوع، سجدہ وغیرہ۔ جب ایک عورت مرد نمازیوں کی امامت کروائے گی اور یہ ارکان ادا کرے گی تو مجھے یقین ہے کہ نمازیوں کے لیے پریشانی پیدا ہو گی۔اگر عورت ایک جدید معاشرے میں سربراہِ حکومت ہو گی، جیسا کہ ہمارا آج کل کا معاشرہ ہے تو بسا اوقات اسے بحیثیت سربراہِ حکومت دوسرے سربراہان مملکت سے ملاقاتیں کرنی ہوں گی جو کہ بالعموم مرد حضرات ہوتے ہیں۔ اس طرح کی ملاقاتوں کا ایک حصہ عموماً بند کمرے کی ملاقات بھی ہوتا ہے۔ جس میں دونوں سربراہان تنہائی میں ملاقات کرتے ہیں جس کے دوران کوئی اور موجود نہیں ہوتا۔ اسلام ایسی ملاقات کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کسی عورت کو تنہائی میں کسی نامحرم سے ملاقات کی اجازت نہیں دیتا۔

اسلام مرد و عورت کے اختلاط کو ناجائز قرار دیتا ہے۔ بحیثیت سربراہ حکومت عورت کو منظر عام پر رہنا ہوتا ہے۔ اس کی تصاویر بنتی ہیں۔ اس کی ویڈیو بنتی ہیں۔ ان تصاویر میں وہ نامحرم مردوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ کوئی بھی عورت مثال کے طور پر مارگریٹ تھیچر اگر سربراہِ حکومت ہو تو آپ کو اس کی بے شمار تصاویر مل سکتی ہیں جن میں وہ مردوں سے ہاتھ ملا رہی ہو گی۔ اسلام اس طرح کے آزادانہ اختلاط کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔بحیثیت سربراہِ مملکت ایک عورت کے لیے عوام کے قریب رہنا اور ان سے مل کر ان کے مسائل معلوم کرنا بھی مشکل ہو گا۔جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ایام حیض کے دوران عورت میں متعدد نفسیاتی، ذہنی اور رویے سے متعلق تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ جس کی وجہ ہارمون ایسٹوجن ہوتے ہیں۔ اب اگر یہ عورت سربراہِ مملکت ہے تو یہ تبدیلیاں یقیناً اس کی قوت فیصلہ پر اثر انداز ہوں گی۔ سائنس ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ عورت میں بولنے کی، گفتگو کی صلاحیت مرد کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ جبکہ مرد میں ایک خاص صلاحیت Special agility زیادہ ہوتی ہے۔ اس صلاحیت سے مراد ہوتی ہے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے، مستقبل کو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت۔ یہ صلاحیت ایک سربراہِ حکومت کے لیے از حد ضروری ہے۔ عورتوں کو گفتگو کی صلاحیت مردوں کے مقابلے میں زیادہ دی گئی ہے کیونکہ یہ صلاحیت بحیثیت ماں کے اس کے لیے ضروری ہے۔

 ایک عورت حاملہ بھی ہو سکتی ہے اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں اسے چند ماہ کے لیے آرام کرنا ہو گا، اس دوران اس کے فرائض کون ادا کرے گا۔ اس کے بچے ہوں گے اور ماں کے فرائض نہایت اہم ہیں۔ ایک مرد کے لیے سربراہِ حکومت کی ذمہ داریاں اور ایک باپ کی ذمہ داریاں بیک وقت ادا کرنا زیادہ قابل عمل ہے۔ جب کہ ایک عورت کے لیے سربراہِ مملکت اور ماں کی ذمہ داریاں بیک وقت ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ان وجوہات کے باعث میری رائے ان علمائے کرام کے زیادہ قریب ہے جو کہتے ہیں کہ عورت کو سربراہِ مملکت نہیں بنایا جانا چاہیے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عورت فیصلوں میں حصہ نہیں لے سکتی یا قانون سازی کے عمل میں شریک نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا عورت یقیناً قانون سازی کے عمل میں حصہ لے سکتی ہے۔ اسے ووٹ دینے کا حق بھی حاصل ہے۔ صلح حدیبیہ کے دوران حضرت اْم سلمٰی رضی اللہ تعالٰی عنہا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیتی رہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب تمام مسلمان پریشان تھے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی بھی فرمائی اور انہیں مشورے بھی دیے۔

آپ جانتے ہیں کہ سربراہِ حکومت تو صدر یا وزیر اعظم ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات سیکریٹری یا PA کو بہت سے فیصلے کرنے ہوتے ہیں لہذا یقیناً ایک عورت مرد کی مدد ضرور کر سکتی ہے۔ اور اہم فیصلے کرنے میں اسے مفید مشورے اور رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔

(ڈاکٹر ذاکر نائیک )

جواب : میری بہن نے ایک بہت اچھا سوال پوچھا ہے کہ اگر اسلام حقوق نسواں میں یقین رکھتا ہے، اگر اسلام مرد اور عورت کو برابر سمجھتا ہے تو پھر اسلام پردے کا حکم کیوں دیتا ہے؟ اور دونوں جنسوں یعنی مرد اور عورت کو الگ رکھنے کی تاکید کیوں کرتا ہے۔اگر آپ قرآن کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ عورت کو حجاب کا حکم دینے سے پہلے قرآن مرد کو حجاب کا حکم دیتا ہے :

سورہ نور میں ارشادِ باری تعالٰی ہے : قْل لِّلمْؤمنیِنَِ یَغْضّْوا مِن اَبصَارِھِم وَیَحفَظْوا فْرْوجَھْم ذَلِکَ اَز کی لَھْم اِنَّ اللَّہَ خَبِیر بِمَا یَصنَعْونَ۔ (سورہ نور (24)، آیہ 30)

"آپ مومن مَردوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں، یہ ان کے لئے بڑی پاکیزہ بات ہے۔ بیشک اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو یہ انجام دے رہے ہیں۔"

اور اس کے بعد اگلی ہی آیت میں ارشاد ہوتا ہے : وَقْل لِّلمْؤمِنَاتِ یَغضْضنَ مِن اَبصَارِھِنَّ ویَحفَظنَ فْرْوجَھْنَّ وَلَا یْبدِینَ زِینَتَھْنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنھَا وَلیَضرِبنَ بِخْمْرِھِنَّ عَلَی جْیْوبِھِنَّ۔۔۔۔۔۔ (سورہ نور (24)، آیہ 31)

"اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں۔۔۔۔۔۔۔"

اس کے بعد رشتہ داروں کی ایک طویل فہرست دی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ خواتین بھی اس میں شامل لیں۔ ان کے علاوہ اسے تمام لوگوں سے پردہ کرنا ہے۔ یعنی "حجاب" کے اْصولوں پر عمل کرنا ہے۔ اسلامی حجاب کے یہ اْصول قرآن مجید اور احادیث میں بیان کیے گئے ہیں۔ یہ اْصول تعداد میں چھ ہیں :

٭ پہلا اْصول حجاب کی حد یا معیار کا ہے۔ جو کہ مرد اور عورت کے لیے مختلف ہیں۔ مرد کے لیے ستر کی حد ناف سے گھٹنے تک ہے جبکہ عورت کے لیے سارا جسم ہی سترِ عورت میں شامل ہے۔ جو اعضا نظر آ سکتے ہیں وہ صرف چہرہ اور کلائیوں تک ہاتھ ہیں۔ ان کے علاوہ سارے جسم کا حجاب یعنی چھپایا جانا ضروری ہے۔ اگر وہ چہرہ اور ہاتھ بھی چھپانا چاہے تو اسے منع نہیں کیا گیا لیکن ان اعضا کا محرم کے سامنے چھپانا لازم نہیں ہے۔ یہ وہ واحد اْصول ہے جو مرد اور عورت کے لیے مختلف ہے۔ باقی تمام اْصول دونوں کے لیے یکساں ہیں۔

٭ دوسرا اْصول یہ ہے کہ عورت کا لباس تنگ اور چست نہیں ہونا چاہیے۔ یعنی اس قسم کا لباس نہیں پہننا چاہیے جس سے جسم کے نشیب و فراز واضح طور پر نظر آنے لگیں۔

٭ تیسرا اْصول یہ ہے کہ عورت کا لباس شفاف نہیں ہونا چاہیے۔ یعنی ایسا لباس نہیں پہننا چاہیے جس میں سے آرپار نظر ائے۔

٭ چوتھا اْصول یہ ہے کہ لباس بہت زیادہ شوخ اور بھڑکیلا نہیں ہونا چاہیے یعنی ایسا لباس بھی نہیں ہونا چاہیے جو جنس مخالف کو ترغیب دینے والا ہو۔

٭ پانچواں اْصول یہ ہے کہ جنس مخالف سے مشابہت رکھنے والا لباس نہیں پہننا چاہیے یعنی مردوں کو عورتوں جیسے اور عورتوں کو مردوں جیسے لباس پہننے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ جس کی ایک مثال مردوں کا کانوں میں بالیاں وغیرہ پہننا ہے۔ اگر آپ ایک کان میں بالی پہنتے ہیں تو اس سے مراد کچھاور لی جاتی ہے لیکن اگر دونوں کانوں میں پہنی جائے تو اس کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے۔ اس سے اسلام میں منع کیا گیا ہے۔

٭ چھٹا اور آخری اْصول یہ ہے کہ آپ کو ایسا لباس بھی نہیں پہننا چاہیے جس میں کفار سے مشابہت ہوتی ہو۔

مندرجہ بالا نکات میں اسلامی حجاب کے بنیادی اْصول بیان کر دیے گئے ہیں۔ اب ہم اصل سوال کی جانب آتے ہیں۔ یعنی یہ کہ عورتوں پر پردے کی پابندی کیوں لگائی گئی ہے اور دوسرے یہ کہ دونو ں جنسوں کے اختلاط سے کیوں روکا گیا ہے؟

اس مقصد کے لیے ہم دونوں طرح کے معاشروں کا تجزیہ کرتے ہیں یعنی وہ معاشرے جن میں پردہ کیا جاتا ہے اور وہ معاشرے جن میں پردہ موجود نہیں ہے۔ دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ جرائم جس ملک میں ہوتے ہیں وہ ملک امریکہ ہے۔

امریکی تحقیقاتی ادارے "فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن" کی 1990 میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس ایک سال کے دوران ایک ہزار دو سو پچاس زنا بالجبر کی وارداتیں ہوئیں۔ یہ وہ واقعات ہیں جن کی رپورٹ ہوئی۔ اور یہی رپورٹ کہتی ہے کہ صرف 16 فی صد واقعات رپورٹ ہوئے۔ اس حساب سے اگر آپ اصل تعداد معلوم کرنا چاہیں تو وہ خود ضرب تقسیم کر لیں۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ صرف ایک سال کے عرصے میں کتنی خواتین کے ساتھ زنا بالجبر کے واقعات ہوئے۔ بعد میں یہ تعداد بڑھ گئی اور یہاں تک پہنچی کہ روزانہ ایک ہزار نو سو واقعات ہونے شروع ہو گئے۔شاید امریکی زیادہ بولڈ ہو گئے ہوں گے۔

1993 کی رپورٹ کے مطابق ہر 13 منٹ کے بعد ایک خاتون کے ساتھ زنا بالجبر کا واقعہ ہو رہا ہے۔

لیکن ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

امریکہ نے خواتین کو زیادہ حقوق دیے ہیں اور وہاں زیادتی کے واقعات زیادہ ہو رہے ہیں۔

مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ صرف دس فیصد مجرم گرفتار ہوتے ہیں۔ یعنی صرف 16 فیصدواقعات رپورٹ ہوتے اور دس فیصد گرفتاریاں ہوتی ہیں یعنی عملاً صرف 16 فی صد ملزم گرفتار ہوتے ہیں۔ ان گرفتار ہونے والوں میں سے بھی نصف باقاعدہ کوئی کیس چلنے سے قبل ہی رہا کر دیے جاتے ہیں یعنی اعشاریہ آٹھ فیصد مجرموں کے خلاف باقاعدہ کیس چلتا ہے۔اس سارے تجزیے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سو پچیس خواتین کے ساتھ زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے تو امکان یہ ہے کہ ایک دفعہ اس کے خلاف باقاعدہ قانونی کاروائی کی جائے گی۔اس صورت میں بھی پچاس فی صد امکان یہ ہے کہ اسے ایک سال سے بھی کم قید کی سزا ہو گی۔

اگر امریکی قانون میں زنا بالجبر کی سزا عمر قید ہے لیکن اگر مجرم پہلی مرتبہ گرفتار ہوا ہے تو قانون اسے ایک موقع دینے کے حق میں ہے اور اسی لیے پچاس فی صد واقعات میں مجرم کو ایک سال سے بھی کم سزا سنائی جاتی ہے۔

خود ہندوستان میں صورتِ حال یہ ہے کہ نیشنل کرائم بیورو کی ایک رپورٹ کے مطابق جو یکم دسمبر 1992 کو شائع ہوئی ہے، ہندوستان میں ہر 54 منٹ کے بعد زنا بالجبر کا ایک کیس رپورٹ ہوتا ہے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر 26 منٹ کے بعد جنسی استحصال کا ایک واقعہ ہوتا ہے اور ہر ایک گھنٹہ 43 منٹ کے بعد جہیز کی وجہ سے قتل کی ایک واردات ہوتی ہے۔اگر ہمارے ملک میں ہونے والی زنا بالجبر کی وارداتوں کی کل تعداد معلوم کی جائے تو تقریباً ہر دو منٹ کے بعد ایک واردات کی اوسط نکلے گی۔

اب میں ایک سادہ سا سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ یہ بتائیے کہ اگر امریکہ کی ہر عورت پردہ کرنا شروع کر دے تو کیا ہو گا؟کیا زنا بالجبر کی وارداتوں کی شرح یہی رہے گی؟کیا ان وارداتوں میں اضافہ ہو گا؟یا ان وارداتوں میں کمی واقع ہو گی؟

پھر یہ کہ اسلامی تعلیمات کو ان کے مجموعی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اسلام حکم دیتا ہے کہ قطع نظر اس کے کہ کوئی عورت پردہ کرے یا نہ کرے، مرد کے لیے بہرحال لازم ہے کہ وہ نظریں نیچی رکھے۔اور اگر کوئی مرد زنا بالجبر کا مرتکب ہوتا ہے تو اسلام میں اس کے لیے سزائے موت ہے۔ کیا آپ کے خیال میں یہ "وحشیانہ سزا" ہے؟میں نے یہ سوال بہت سے لوگوں سے کیا ہے اور آپ سے بھی کرنا چاہتا ہوں۔ فرض کیجیے آپ کی بہن کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اور آپ کو جج بنا دیا جاتا ہے۔ اب اس سے قطع نظر کہ اسلامی قانون کیا کہتا ہے اس سے بھی قطع نظر کہ ہندوستانی قانون کیا کہتا ہے اور اس سے بھی قطع نظر کہ امریکی قانون کیا کہتا ہے؟ اپ بتائیے کہ اگر آپ کو جج بنا دیا جاتا ہے تو آپ مجرم کو کیا سزا سنائیں گے؟

ہر کسی نے ایک ہی جواب دیا : "سزائے موت"بعض تو اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور کہا کہ وہ مجرم کو اذیتیں دے دے کر ہلاک کرنا پسند کریں گے۔

میں دوبارہ پوچھتا ہوں کہ اگر امریکہ میں اسلام شریعت نافذ کر دی جائے تو ان وارداتوں میں اضافہ ہو گا؟ کمی ہو گی؟ یا ان کی تعداد یہی رہے گی؟اگر ہندوستان میں اسلامی قانون کا نفاذ کر دیا جائے تو پھر کیا ہو گا؟ کیا زنا بالجبر کی شرح یہی رہے گی؟ کمی ہو گی یا بڑھ جائے گی؟

اگر ہم عملی تجزیہ کریں تو جواب واضح ہے۔

آپ کہتے ہیں کہ آپ نے عورت کو حقوق دیے ہیں۔ مگر یہ حقوق محض نظری طور پر دیے گئے ہیں عملاً آپ نے عورت کو ایک طوائف اور ایک داشتہ کی حیثیت دے دی ہے۔میں محض پردے کے موضوع پر کئی دن تک گفتگو کر سکتا ہوں۔ لیکن میں اپنا جواب مختصر رکھتے ہوئے ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا۔فرض کیجیے دو خواتین ہیں جو آپس میں جڑواں بہنیں ہیں۔ اور دونوں خواتین یکساں خوبصورت ہیں۔ دونوں ایک گلی میں سے گزر رہی ہیں۔ گلی کی نکڑ پر ایک بدمعاش کھڑا ہے۔ جو لڑکیوں کو چھیڑتا ہے، تنگ کرتا ہے۔ یہ دونوں خواتین یکساں خوبصورت ہیں لیکن ایک اسلامی لباس میں ہے، یعنی اس نے پردہ کیا ہوا ہے جب کہ دوسرے مغربی لباس میں ہے یعنی اس نے منی سکرٹ وغیرہ پہنا ہوا ہے۔ اب یہ بدمعاش ان میں سے کسے چھیڑے گا؟ ظاہر ہے کہ مغربی لباس والی خاتون کو۔یا فرض کیجیے کہ ان میں سے ایک خاتون تو پردے میں ہے اور دوسری بھی شلوار قمیص میں ہے لیکن اس کا لباس تنگ ہے، سر سے دوپٹہ غائب ہے، اس صورت میں بھی وہ کسے چھیڑے گا؟ پردہ دار خاتون کو یا بے حجاب خاتون کو؟ صاف ظاہر ہے کہ دوسری خاتون کو۔یہ اس بات کا ایک عملی ثبوت ہے کہ اسلام نے عورت کو حجاب کا حکم اس کی عزت اور وقار کی حفاظت کے لیے دیا ہے اس کی عزت گھٹانے کے لیے نہیں۔

(ڈاکٹر ذاکر نائیک )

ج: ولادت کے بعد جب تک خون کی آلایش باقی رہے ، اُس وقت تک نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ جس نوعیت کے پانی کا آپ نے ذکر کیا ہے اس سے غسل لازم نہیں ہوتا۔ پیدایش کے بعد بچوں کو چالیس دن تک گھر سے باہر نہ نکالا جائے ، یہ محض توہمات ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسا اور اعتماد کر کے اپنے بچوں کو باہر لے جائیے۔ یہ ہندوانہ نوعیت کے توہمات ہیں، جن کی وجہ سے لوگ اس طرح کرتے ہیں۔

(جاوید احمد غامدی)

ج:اسلام نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ایسے کام عورت کی فطرت کے خلاف ہیں۔ اسلام نے صرف یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کی فطرت کے اندر گھر بنانے ، گھر کو چلانے اور بچوں کی پرورش کرنے کے لیے غیر معمولی صلاحیت رکھی ہے۔عورت کی فطرت میں فلاں فلاں چیز نہیں رکھی، ایسی کوئی بات نہ قرآن میں ہے ، نہ حدیث میں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں بہت سارے کام کرتی رہی ہیں اور آج کے زمانے میں بھی کر رہی ہیں۔ ہمارے دیہاتی معاشرے میں ہمیشہ سے عورتیں مردوں کے ساتھ معاشی زندگی میں بالکل برابر کی شریک رہی ہیں۔ یہ اشرافیہ کی معاشرت ہے جس میں پالکیوں میں بیٹھ کر عورتیں نکلتی رہی ہیں۔ اس کا اسلام یا اسلامی تہذیب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ عورت اس شعبے میں کام کر سکتی ہے کہ جہاں اس کی عزت و عصمت محفوظ رہے اور جہاں کام کرنے کے لیے اس کو اپنادین قربان نہ کرنا پڑے۔بلکہ یہ بات تو مردوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ انہیں ہر وہ شعبہ ترک کر دینا چاہیے جہاں ان کادین او رآخرت محفوظ نہ ہو۔

(جاوید احمد غامدی)