مرد اور عورت

جواب :بطور انسان سب برابر ہیں۔ جس طرح معاشرے میں صلاحیت ، تعلیم اور حیثیت سے حقوق وفرائض میں فرق واقع ہو جاتا ہے اسی طرح خاندان میں بھی یہ فرق واقع ہوتا ہے۔ بطور انسان اولاد اور والدین بھی برابر ہیں لیکن حیثیت اور مرتبے میں اولاد پر والدین کو فوقیت حاصل ہے اور دین میں بھی یہ فوقیت قائم رکھی گئی ہے۔بطور انسان عوام اور حکمران بھی برابر ہیں لیکن حکمرانوں کو عوام پر ایک فوقیت حاصل ہے اور دین میں بھی یہ فوقیت قائم رکھی گئی ہے۔ اسی طرح جب دو مرد وعورت میاں بیوی بن کر رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان میں سے مرد کو برتر حیثیت حاصل ہے۔ دین میں بھی یہ حیثیت مرد کو دی گئی ہے اور اس کی وجہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ یہ ایک انتظامی حیثیت ہے۔ اس کو سمجھنے اور ماننے میں گھر کی زندگی کی ترقی اور سکون کا راز مضمر ہے۔

(مولانا طالب محسن)

جواب : یہ کوئی شریعت کا مسئلہ نہیں ہے ۔ شریعت میں عورت اور مرد دونوں کو یکساں کھڑا کر کے ان کو اللہ کے احکام دیئے گئے ہیں ۔اللہ کی ہدایت پہنچائی گئی ہے۔قرآن نے کہیں یہ بات نہیں کہی، کسی حدیث میں بھی یہ بات بیان نہیں ہوئی ۔اچھی عربی زبان نہ جاننے کی وجہ سے ایک روایت کا بالکل غلط مدعا لوگوں نے سمجھ لیا ہے ۔حضورؐ نے جو بات کہی اگر اس کی نسبت حضور ؐ کی طرف درست ہے ۔(کیونکہ اس روایت میں یہ اضطراب بھی ہے کہ وہ حضور کی بات ہے یا ایک صحابی نے اپنا تبصر ہ اس میں شامل کر دیاہے۔)تو بھی اس میں جو بات بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ عورتوں پرکم ذمہ داری ڈالی گئی ہے ۔اور یہ ٹھیک ہے ۔مثال کے طور پر آپ یہ دیکھئے کہ عورت کوکمانے سے نہیں روکا ۔وہ کاروبار کرے ، کمائے لیکن اس کے اوپر گھر چلانے کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ ذمہ داری جو ہے وہ مرد کی ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ نے بیا ن کر دیا ہے قرآن میں۔اسی طریقے سے عورت کے اوپر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ جب جہاد کے لئے نفیرِ عام ہو جائے تو وہ نکلے ذمہ داری نہیں ہے اس کے اوپر۔اسی طرح جمعے کے لئے آنا اسکے لئے لازم نہیں ہے ۔اس طرح مسجد کی نما ز اس کے لئے باعثِ فضیلت نہیں ہے ۔وہ گھر میں پڑھے تو زیادہ باعثِ فضیلت ہے ۔تو یہ ذمہ داری کا کم ڈالنا ہے ۔یعنی اس کے اوپر بوجھ کم ڈالا گیا ہے ۔ دنیوی معاملات کا بھی دینی معاملات کا بھی ۔عقل کے کم ہونے نہ ہونے کا دین سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔یہ بحث اگر کوئی ہوگی بھی تو یہ نفسیا ت میں ہونی چاہئے ۔یہ حیاتیا ت میں ہو نی چاہئے۔یہ ہمارے علم اور مشاہدے کی بات ہے کہ بچوں میں کتنی عقل ہوتی ہے ؟ عورتوں میں کتنی ہوتی ہے ؟ مردوں میں کتنی ہوتی ہے ؟ پاکستانیوں میں کتنی ہوتی ہے؟ امریکنوں میں کتنی ہوتی ہے ؟یہ آپ بحث کرسکتے ہیں۔ اسلام کا یہ مسئلہ نہیں ہے ۔اسلام میں تو جو بات اللہ تعالیٰ کی ہے وہ یکساں طور پر عورتوں اور مردوں کو مخاطب کر کے کہی گئی ہے ۔اور یکساں تقاضے ان سے کئے گئے ہیں ذمہ داریاں البتہ ان کی الگ الگ ہیں حالات کے لحاظ سے ۔

(جاوید احمد غامدی)