نکاح و طلاق

جواب: بیوہ عورت کے لیے اپنے اسی گھر میں عدت گزارنا واجب ہے جس گھر میں رہائش رکھے ہوئے اسے خاوند کی وفات کی اطلاع ملی تھی، کیونکہ رسول کریمؐ نے یہی حکم دیا ہے۔ کتب ِ سنن میں نبی کریمؐ کی درج ذیل حدیث مروی ہے کہ آپؐ نے فریعۃ بنت مالکؓ کو فرمایا تھا:

‘‘تم اسی گھر میں رہو جس گھر میں تمہیں خاوند فوت ہونے کی اطلاع ملی تھی، حتیٰ کہ عدت ختم ہوجائے۔ فریعۃؓ کہتی ہیں: چنانچہ میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت بسر کی تھی’’۔

اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اکثر اہلِ علم کا بھی یہی مسلک ہے، لیکن اُنھوں نے یہ اجازت دی ہے کہ اگر کسی عورت کو اپنی جان کا خطرہ ہو یا پھر اس کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئی دوسرا شخص نہ ہو اور وہ خود بھی اپنی ضروریات پوری نہ کرسکتی ہو تو کہیں اور عدت گزار سکتی ہے۔

علامہ ابن قدامہؒ کہتے ہیں:

‘‘بیوہ کے لیے اپنے گھر میں ہی عدت گزارنے کو ضروری قرار دینے والوں میں عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم شامل ہیں، اور ابن عمر اور ابن مسعود اور اُم سلمہ رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے، اور امام مالک، امام ثوری، امام اوزاعی، امام ابوحنیفہ،امام شافعی اور امام اسحاقؒ کا بھی یہی قول ہے’’۔

ابن عبدالبرؒ کہتے ہیں:

‘‘حجاز، شام اور عراق کے فقہائے کرام کی جماعت کا بھی یہی قول ہے’’۔

اس کے بعد لکھتے ہیں:

‘‘چنانچہ اگر بیوہ کو گھر منہدم ہونے یا غرق ہونے یا دشمن وغیرہ کا خطرہ ہو تو اس کے لیے وہاں سے دوسری جگہ منتقل ہونا جائز ہے، کیونکہ یہ عذر کی حالت ہے اور اسے وہاں سے منتقل ہوکر کہیں بھی رہنے کا حق حاصل ہے’’۔ (مختصراً)

سعودی عرب کی مستقل فتویٰ کونسل کے علمائے کرام سے درج ذیل سوال کیا گیا کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا ہے اور جس علاقے میں اس کا خاوند فوت ہوا ہے وہاں اس عورت کی ضرورت پوری کرنے والا کوئی نہیں، کیا وہ دوسرے شہرجاکر عدت گزار سکتی ہے؟

کونسل کے علمائے کرام کا جواب تھا:

‘‘اگر واقعتا ایسا ہے کہ جس شہر اور علاقے میں خاوند فوت ہوا ہے، وہاں اس بیوہ کی ضروریات پوری کرنے والا کوئی نہیں، اور وہ خود بھی اپنی ضروریات پوری نہیں کرسکتی تو اس کے لیے وہاں سے کسی دوسرے علاقے میں جہاں وہ محفوظ ہو اور اس کی ضروریات پوری کرنے والا ہو، منتقل ہونا شرعاً جائز ہے’’۔ (فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء، ۴۷۳/۲۰)

اور اُن فتاویٰ جات میں ساتھ ہی یہ بھی درج ہے:

‘‘اگر آپ کی بیوہ بہن کو دورانِ عدت اپنے خاوند کے گھر سے کسی دوسرے گھر میں ضرورت کی بنا پر منتقل ہونا پڑے، مثلاً وہاں اسے اکیلے رہنے میں جان کا خطرہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، وہ دوسرے گھر میں منتقل ہوکر عدت پوری کرلے’’۔

اس بنا پر اگر یہ عورت اکیلے رہنے سے ڈرتی ہے، یا پھر گھر کا کرایہ نہیں اداکرسکتی تو اپنے میکے جاکر اُسے عدت گزارنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ واللہ اعلم!

(شیخ محمد صالح المنجد)

جواب: اوّل: اگر خاوند تباہی والے کام مثلاً شراب نوشی یا نشہ کرنے پر اصرار کرے تو بیوی کے لیے خاوند سے طلاق طلب کرنا جائز ہے، اور اگر خاوند طلاق دینے سے انکار کردے تو پھر شرعی عدالت میں قاضی کے سامنے معاملہ پیش کیا جائے تاکہ وہ خاوندپر طلاق لازم کرے، یا پھر خاوند کے طلاق دینے سے انکار کرنے کی صورت میں شرعی قاضی نکاح فسخ کردے۔

اور اگر شرعی عدالت اور شرعی قاضی نہ ہو تو پھر اس معاملہ کو اپنے علاقے میں موجود اسلامی مرکز یا اسلامک سینٹر میں اُٹھانا چاہیے تاکہ وہ خاوند کو طلاق دینے پر راضی کریں، یا پھر اُسے خلع کی دعوت دیں، اور اس شرعی طلاق کے بعد ضرورت کی بنا پر اسے غیرشرعی عدالت سے تصدیق کرانا جائز ہے۔

دوم: جب آپ نے غیرشرعی عدالت کا سہارا لیا اور عدالت نے خاوند کو طلاق دینے کا کہا تو خاوند نے طلاق کے الفاظ بولے یا پھر طلاق کی نیت سے طلاق کے الفاظ لکھ دیے تو طلاق واقع ہوگئی ہے۔

اور اگر خاوند نے نہ تو طلاق کے الفاظ بولے اور نہ ہی طلاق کی نیت سے طلاق کے الفاظ لکھ کر دیے، بلکہ عدالت نے طلاق کا فیصلہ کردیا تو کافر جج کی طلاق واقع نہیں ہوتی، کیونکہ فقہائے کرام کا اتفاق ہے کہ قاضی کو مسلمان ہونا چاہیے جومسلمانوں کے فیصلے کرے۔ بایں وجہ کہ قضا ایک قسم کی ولایت ہے اور کافر شخص کسی مسلمان شخص کا ولی نہیں بن سکتا۔

فقہائے شریعت کونسل امریکہ کی دوسری کانفرنس جو کوپن ہیگن، ڈنمارک میں رابطہ عالم اسلامی کے تحت ۴ تا ۷ جمادی الاولیٰ ۱۴۲۵ھ بمطابق ۲۲ تا ۲۵ جون ۲۰۰۴ء میں منعقد ہوئی، اس کا اختتامی بیان یہ تھا:

‘‘جب کسی ایسے ملک میں جہاں اسلامی قوانین اور شرعی عدالتیں نہ ہوں اور کسی حق کو حاصل کرنا متعین ہوجائے یا پھر اپنے سے ظلم روکنا مقصود ہو تو غیرشرعی عدالت سے رجوع کرنے کی اجازت ہے’’۔

لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ شرعی علمائے کرام سے اس سلسلہ میں رجوع ضرور کیا جائے تاکہ اس موضوع کے بارے میں واجب کردہ شرعی حکم کو نافذ کیا جاسکے، اور دوسری عدالتوں سے صرف تنقیذ کی سعی کی جائے’’۔

اور اسی اختتامی بیان کے ساتویں بند میں اسلامی ممالک سے باہر دوسرے ممالک کی سول کورٹس میں جاری ہونے والی طلاق کے متعلق درج ہے:

‘‘جب مرد اپنی بیوی کو شرعی طلاق دے دے تو اس کے لیے ان غیرشرعی عدالتوں سے طلاق توثیق کرانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن جب خاوند اور بیوی کا طلاق کے متعلق آپس میں جھگڑا اور تنازع ہو تو پھر شرعی عدالت نہ ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی پوری کرنے کے بعد اسلامی مراکز شرعی عدالت کے قائم مقام ہوں گے’’۔

اور شادی کو ختم کرنے کے لیے صرف یہ قانونی کارروائی مکمل کرنے سے ہی شرعی طور پر شادی ختم نہیں ہوگی۔ اس لیے جب عورت سول کورٹ سے طلاق حاصل کرلے تو وہ اسلامی مراکز جاکر اس طرح کے معاملات کا فیصلہ کرنے والے اہلِ علم سے رجوع کرے تاکہ شرعی طور پر اس معاملہ کو پورا کیا جاسکے۔ مختلف جگہوں پر اسلامی مراکز ہونے کی وجہ سے اور ان سے رجوع کرنے میں سہولت ہونے کی بنا پر اس سے انحراف نہیں کیا جاسکتا۔

اس بنا پر آپ کو اپنے علاقے کے اسلامی مرکز یعنی اسلامک سنٹر سے رابطہ کرنا چاہیے، وہ آپ کے اس معاملہ کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔

سوم: جب عورت کو اپنے خاوند سے پہلی یا دوسری طلاق ہوجائے اور اس کی عدت گزر جائے تو اس کے لیے اسی خاوند سے نئے مہر کے ساتھ ولی اور گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرنا جائز ہے۔ لیکن اگر اسے تیسری طلاق ہوچکی ہو تو خاوند کے لیے اپنی مطلقہ عورت کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں حتیٰ کہ وہ عورت کسی دوسرے شخص سے بہ رغبت نکاح کرے اور یہ نکاحِ حلالہ نہ ہو، پھر وہ شخص اپنی مرضی سے اسے طلاق دے دے یا فوت ہوجائے تو پہلے خاوند کے لیے اس سے نکاح کرنا جائز ہوجائے گا۔ واللہ اعلم!

(شیخ محمد صالح المنجد)