جنت

جواب۔ اسلام کی حقیقت حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔ قرآن مجید کو اپنی دعوت پر اصرار اسی بنا پر تھا کہ یہ خدا کی جانب سے ایک حق ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد فرمایا:‘‘لقد جاء ک الحق من ربک فلا تکونن من الممترین’’۔(یونس۱۰:۹۴)بے شک تم پر تمھارے رب کی طرف سے حق نازل ہوا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ بننا۔

            اللہ تعالیٰ نے لوگوں سے یہ ارشاد فرمایا:

            ‘‘یایھا الناس قد جاء کم الرسول بالحق من ربکم فآمنوا خیرا لکم’’۔ (النساء۴:۱۷۰)اے لوگو ! تمھارے رب کی طرف سے یہ رسول تمھارے پاس حق لے کر آ گیا ہے، پس (اس پر) ایمان لاؤ، اسی میں تمھاری بہتری ہے۔کلام الہی دیکھ کر مومنین نے یہ جان لیا کہ‘‘فاما الذین اٰمنوا فیعلمون أنہ الحق من ربہم’’۔ (البقرۃ۲:۲۶)پس جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان کے رب کی جانب سے یہی بات حق ہے ۔

            اس کلام الہی کو سننے کے بعد اہل کتاب میں سے بعض لوگوں کے احساسات یہ تھے کہ

            واذا سمعوا ما انزل الی الرسول تری اعینہم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق یقولون ربنا آمنا فاکتبنا مع الشاہدین۔وما لنا لا نومن باللہ وما جاء نا من الحق ونطمع ان یدخلنا ربنا مع القوم الصالحین۔ (المائدہ ۵:۸۳،۸۴)

            اور جب یہ سنتے ہیں اس چیز کو جو رسول کی طرف اتاری گئی ہے تو تم دیکھو گے کہ حق کو پہچان لینے کے سبب سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے ، پس تو ہمیں اس کی گواہی دینے والوں میں لکھ لے اور آخر ہم اللہ اور اس حق پر جو ہم تک پہنچا ہے کیوں نہ ایمان لائیں، جب کہ ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں نیکو کاروں کے زمرے میں شامل کرے گا۔

            یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:عن ابن عباس قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم --- اللہم لک الحمد --- أنت الحق ووعدک الحق ولقاؤک حق وقولک حق والجنۃ حق والنار حق والنبیّون حق ومحمد حق والساعۃ حق ---۔(بخاری ، رقم:۱۱۲۰)ابن عباس سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا --- اے اللہ ساری حمد تیرے ہی لیے ہے --- تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تجھ سے ملاقات حق ہے، تیری بات حق ہے، جنت حق ہے، دوزخ حق ہے، انبیا حق ہیں، محمد حق ہے اور قیامت حق ہے ----۔

            پس اُس وقت بھی مسئلہ سر تاسر دین کے حق ہونے ہی کا تھا اور آج بھی اصل بات یہی ہے کہ یہ دین حق ہے اسے قبول کرو۔

            لیکن قبولِ حق کے حوالے سے یہ بات بنیادی اہمیت کی حامل ہے کہ کیا آدمی کو کسی حق کا حق ہونا واقعتاً معلوم ہے۔ اگر ایک حق پرست آدمی کسی غلط فہمی کی بنا پر ایک حق بات کو ناحق سمجھ رہا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ اس کی مخالفت ہی کرے گا اور اسے کرنا بھی ایسا ہی چاہیے۔ ہمارے خیال میں ایسا آدمی اللہ تعالیٰ سے اپنی نیت کے مطابق اجر پائے گا۔ اسی طرح اگر ایک حق پرست شخص کسی ناحق بات کو حق سمجھ رہا ہے تو وہ اس کی حمایت ہی کرے گا اور ظاہر ہے اسے کرنا بھی ایسا ہی چاہیے۔چنانچہ ہمارے خیال میں یہ آدمی بھی اپنی نیت ہی کے مطابق اجر پائے گا۔

            نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

            عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا تزول قدم ابن آدم یوم القیامۃ من عند ربہ حتیٰ یسئل عن خمس عن عمرہ فیما أفناہ و عن شبابہ فیم أبلاہ ومالہ من این اکتسبہ وفیم انفقہ وماذا عمل فیما علم۔ (ترمذی، رقم۲۴۱۶)نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ قیامت کے دن ابن آدم کے قدم اس کے رب کے ہاں سے ہل نہ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے، اس نے اپنی عمر کس کام میں کھپائی، جوانی کس کام میں گنوائی ، مال کہاں سے کمایا ، اسے کن کاموں میں خرچ کیا اور جو کچھ وہ جانتا تھا اس پر کیا عمل کیا۔

اس حدیث میں یہ بات زیر بحث مسئلے سے متعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص سے اس کے علم کے حوالے سے سوال کرے گا، یعنی جو کچھ وہ جانتا تھا اس پر کیا عمل کیا۔چنانچہ اگر ایک عیسائی جان بوجھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا منکر ہے حالانکہ اسے آپ کا سچا رسول ہونا واضح طور پر معلوم ہے، تو وہ بہت بڑے حق کا منکر ہونے کی وجہ سے خدا کی سخت ناراضی کا شکار ہو گا خواہ وہ بظاہر کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، اور اگر کسی عیسائی کو اس کے علما وغیرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گمراہی میں ڈال رکھا ہے ، مثلا یہ کہ آپ سچے نبی نہیں ہیں تو اس عیسائی کا کوئی قصور نہیں ہو گا، اسے کوئی سزا نہیں ملے گی اور اس کی نیکیاں ان شاء اللہ قبول ہوں گی بشرطیکہ اس نے مکمل خلوص سے حق کی تحقیق کر لی ہو۔وہ یہود و نصاریٰ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے، ان پر آپ نے براہِ راست اتمام حجت کر دیا تھا، انھیں اب حق کے بارے میں کسی نوعیت کا کوئی تردد نہیں تھا، چنانچہ ان کے لیے یہ لازم تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لاتے، ان میں سے جو ایمان نہیں لائے قرآن مجید نے ان کے بارے میں وہ سخت باتیں کہی ہیں جنھیں ہم قرآن مجید میں پاتے ہیں۔ سارے زمانوں کے یہود و نصاریٰ ان آیات کے مخاطب نہیں ہیں۔

             ہماری مراد یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ سے متعلق آیات کے اصل مخاظب دور نبوی کے یہود و نصاریٰ ہیں، بعد میں آنے والے یہودی یا نصرانی اقرارِ حق یا تکذیبِ حق کے حوالے سے اس درجے پر شمار کیے جائیں گے جس پر فی الحقیقت وہ خود کھڑے ہیں۔یہی معاملہ عام لوگوں کے عقائد و اعمال کا بھی ہے، ان کے بارے میں بھی یہی دیکھا جائے گا کہ وہ کسے حق سمجھتے رہے ہیں اور اس حق کے حوالے سے انھوں نے کیا رویہ اختیار کیا ہے۔ بہرحال، اصول یہ ہے کہ اخروی کامیابی حق پرستی کے ساتھ وابستہ ہے۔ ہذا ما عندی والعلم عنداللہ۔

(محمد رفیع مفتی)

جواب: یہ نقطۂ نظر کہ حضرت حوابہ الفاظ دیگر عورت تمام نسل انسانی کی بدبختی اور بربادی کی ذمہ دار ہے، بلاشبہ غیر اسلامی نقطۂ نظر ہے۔ اس نقطۂ نظر کا ماخذ تحریف شدہ تورات ہے جس پر یہود و نصاریٰ ایمان رکھتے ہیں اور اسی کے مطابق ان کے دانشور اور مفکرین لکھتے اور بولتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض نام نہاد مسلم دانشور بھی بلا سوچے سمجھے ان کے راگ میں راگ ملاتے ہیں۔

            قرآن کریم کی متعدد سورتوں میں حضرت آدمؑ اور ان کے جنت سے نکالے جانے کا قصہ بیان ہوا ہے۔ اس قصے سے متعلق آیتوں کو یکجا کرنے اور ان کے مطالعے سے درج ذیل حقائق سامنے آتے ہیں:

(1) اللہ تعالیٰ نے ممنوعہ درخت کا پھل نہ کھانے کا حکم بیک وقت حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ دونوں کو دیا تھا۔ اللہ کے حکم کے مطابق دونوں ہی اس بات کا مکلّف تھے کہ اس درخت کے قریب بھی نہ جائیں۔ اللہ فرماتا ہے:

وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَامِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا    ۠وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ؀ (البقرۃ: 35)

”اور ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور یہاں بہ فراغت جو چاہو کھاؤ مگر تم دونوں اس درخت کا رخ نہ کرنا ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے“

(2) آدمؑ کو ورغلانے والی حضرت حوا نہیں تھیں بلکہ ان دونوں کو بہکانے والا اور جنت سے نکلوانے والا شیطان تھا۔ اس سلسلے میں اللہؑ کا فرمان ملاحظہ ہو:

فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَاَ خْرَ جَهُمَا  مِمَّا كَانَا فِيْهِ     ۠ (البقرۃ: 36)

”مگر شیطان نے ان دونوں کو اسی درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اس حالت سے نکلوا چھوڑا جس میں وہ تھے۔“

سورہ بقرہ کے علاوہ سورہ اعراف میں بھی اس واقعے کی تفصیل ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

وَيٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِـئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ؀ فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطٰنُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَاوٗرِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِيْنَ ؀  وَقَاسَمَهُمَآ اِنِّىْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ ؀ (الاعراف: 19-21)

”اور اے آدم تم اور تمہاری بیوی تم دونوں اس جنت میں رہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ لیکن اس درخت کے قریب تم دونوں نہ جانا ورنہ تم دونوں اپنے آپ پر بڑا ظلم کرو گے۔ چنانچہ شیطان نے ان دونوں کو بہلایا پھسلایا تا کہ ان کی جو شرم گاہیں ڈھکی ہوئی ہیں وہ کھول دے اس نے ان دونوں سے کہا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہیں تم فرشتہ نہ بن جاؤ یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی نہ عطا ہو جائے۔ اور اس نے ان دونوں سے قسمیں کھا کھا کر کہا میں تمہیں بہت خلوص کے ساتھ نصیحت کر رہا ہوں۔“

سورہ طہٰ میں بھی اس واقعہ کا تذکرہ ہے اور اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے جو تعبیر اختیار کی ہے اس کے مطابق بہکنے اور گمراہ ہونے کی پہلی ذمے داری آدمؑ پر عاید ہوتی ہے نہ کہ حضرت حوا پر اور یہی وجہ ہے کہ اللہ کی سرزنش اور تنبیہ کا سارا رخ حضرت آدمؑ کی طرف ہے نہ کہ حواکی طرف۔ ملاحظہ ہو:

فَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰي ؀ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَلَا تَعْرٰى  ؀ وَاَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِيْهَا وَلَا تَضْحٰي ؀ فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطٰنُ قَالَ يٰٓاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰي شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلٰى ؀ فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى ؀ (طہٰ: 117-121)

”پس ہم نے آدم سے کہا کہ اے آدم یہ ابلیس تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، دیکھو یہ تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے ورنہ تم بڑے بد بخت ہوگے۔ اس جنت میں تمہارے لیے یہ نعمت ہے کہ نہ تمہیں بھوک لگے گی اور نہ ننگے ہو گے۔ نہ پیاس لگے گی اور نہ دھوپ ستائےگی۔ چنانچہ شیطان نے آدم ؑ کو بہلایاپھسلایا۔ اس نے کہا اے آدم کیا میں ہمیشگی والے درخت اور نہ ختم ہونے والی بادشاہت کا تمہیں پتا نہ بتاؤں۔ چنانچہ ان دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ تو ان کی شرم گاہیں کھل گئیں اور یہ دونوں اپنی شرم گاہوں پر جنت کےپتے ڈالنے لگے۔ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور گمراہ ہو گیا۔“

مذکورہ آیت میں نافرمانی اور گمراہی کی نسبت واضح طور پر آدمؑ کی طرف کی گئی ہے۔

(3) وہ جنت جس میں آدمؑ تخلیق کے بعد رکھے گئے تھے اور جس کے درخت کا پھل کھانے کی وجہ سے زمین پر بھیج دیے گئے تھے۔ کوئی ضروری نہیں ہے کہ یہ وہی جنت ہو ، جو آخرت میں نیک اور صالح بندوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ جس جنت میں حضرت آدمؑ تخلیق کے بعد رکھے گئے تھے وہ اسی زمین کی کوئی جنت ہے اور جنت سے مراد خوبصورت باغ اور سرسبز و شاداب علاقہ ہے، کیوں کہ عربی زبان میں جنت خوبصورت باغ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن میں متعدد مقامات پر لفظ جنت کو ایس زمینی باغ کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ ملاحظہ ہو سورہ قلم کی آیت:

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ  ۚ (القلم:17)

”ہم نے ان لوگوں کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا۔“

وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّحَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا    ۭ ؀ (الکہف: 32)

”ان کے سامنے ایک مثال پیش کرو۔ ان دو لوگوں کی جن میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے او رگرد کھجور کے درخت کی باڑ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی۔ دونوں باغ خوب پھلے اور پھل دینے میں کوئی کمی نہیں کی۔“لہذا یہ ثابت ہوا کہ یہ تصور گمراہ کن ہے کہ حوا جنت سے  نکلوائے جانے کی ذمہ دار ہے -

(علامہ یوسف القرضاوی)

 بلاشبہ والدین اور خاص کر ماں کی نافرمانی شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔یہ بات کسی مزید وضاحت کی محتاج نہیں ہے۔کیونکہ والدین کے بے پناہ حقوق سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے۔بچے کی نافرمانی اور گمراہی جب حد سے تجاوز کرجائے تو اللہ تعالیٰ نے والدین کو یہ حق عطا کیا ہے کہ وہ اپنے بچے کو عاق کر دیں ۔ لیکن اس کے باوجود والدین میں سے کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اپنے کسی بچے کو اپنی جائیداداور وراثت سے محروم کردے ۔ وارثوں کی نامزدگی اوروراثت کی تقسیم تو اللہ کی جانب سے ہے۔یہ اللہ کا فیصلہ اورحکم ہے اور کسی بندے کے لیے جائزنہیں ہے کہ اس فیصلہ کو بدل سکے اور اس حکم کی نافرمانی کرے۔اسلامی شریعت نے صرف ایک صورت میں وارث کو اس کی وراثت سے محروم کیا ہے اور وہ یہ کہ وراثت جلد از جلد پانے کی غرض سے وارث اپنے مورث کو قتل کرڈالے۔آپ نے اپنے سوال میں جس واقعہ کا تذکرہ کیا ہے کہ اس میں بچہ اپنی ماں کو قتل نہیں کرتا ہے صرف اس کی نافرمانی کرتا ہے اس لیے ماں یا کسی اور کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ بچے کو وراثت سے محروم کردے۔
وصیت کے سلسلے میں چند باتوں کا دھیان ضروری ہے:
(1) ایک تہائی سے زیادہ وصیت کرنا جائز نہیں ہے ۔کیونکہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:الثُّلُثُ والثُّلُثُ كَثيرٌ ۔  (بخاری ومسلم)”ایک تہائی وصیت کرو اور ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے۔“
(2) کسی وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں ہے۔وصیت اس شخص کے لیے کرنی چاہیے جسے وراثت میں سے کچھ نہ مل رہا ہو۔کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے:
لاوصية لوارث۔  (دارقطنی)
”کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے“
مذکورہ واقعہ میں اس عورت نے دونوں غلطیاں کرڈالیں۔پہلی غلطی اس نے یہ کی کہ جائیداد کا ایک تہائی نہیں بلکہ پوری جائیداد کی وصیت کرڈالی۔اوردوسری غلطی اس نے یہ کی کہ وارثین یعنی اپنی بیٹیوں کے حق میں وصیت کرڈالی۔چونکہ یہ وصیت شریعت کے مطابق نہیں ہے اس لیے اس وصیت کانفاذ نہیں ہوگا۔
(3) کوئی وارث اگراپنی مرضی سے اپنے حق وراثت سے دست بردار ہونا چاہیے اور اپنا حق کسی اور کودینا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ایک وارث دوسرے وارث کے حق میں بھی دست بردار ہوسکتا ہے۔
مذکورہ واقعہ میں بیٹا اگر اپنی مرضی سے اپنے حق سے دست بردار ہوجاتا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن اگر وہ اپنا حق لینے کے لیے مصر ہے تو بیٹیوں پر فرض ہے کہ اس جائیداد میں سے اپنے بھائی کو اس کاحق ادا کردیں۔
اس کے باوجود کہ ماں نے غیر شرعی وصیت کرکے ا پنے بیٹے پر ظلم کیا ہے،لیکن یہ بات پورے وثوق کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی کہ مرنے کے بعد آخرت میں ماں کو اس کی سزا بھگتنی ہوگی کیونکہ سزا دینا یا نہ دینا مکمل  طور پر اللہ کی مرضی پر منحصر ہے۔اور اس لیے بھی کہ نیکیاں برائیوں کودھو ڈالتی ہیں جیسا کہ اللہ کافرمان ہے:
اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْہِبْنَ السَّـيِّاٰتِ      ۭ (ہود: 114)”بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو مٹاتی ہیں۔“
ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی دوسری نیکیوں کے عوض اسکے گناہوں کو معاف کردے۔ہم کسی بھی شخص کے سلسلے میں پورے وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ شخص قیامت میں عذاب میں ڈالا جائے گا لیکن کسی کی حق تلفی اتنابڑا گناہ ہے کہ اس کی سزا سے بچنابہت مشکل ہے۔
بہرحال ان بیٹیوں کو چاہیے کہ اس جائیداد میں سے اپنے بھائی کا حق ادا کردیں اور اپنی مرحومہ ماں کے حق میں دعا استغفار کرتی رہاکریں۔

 

(علامہ یوسف القرضاوی)