فتنہ اور آزمائش

ج: حق و باطل کی جو کشمکش رسول اللہ ﷺ کے ذریعے سے عرب میں برپا ہوئی اس میں ایک موقع ایسا بھی آیا تھا کہ جس میں اولاد کا رویہ بالکل اور تھا اور بیویوں کا بالکل اور ۔ وہ نہ صرف دشمنی پر ادھار کھائے بیٹھی تھیں بلکہ اپنے شرک پر اصرار بھی کر رہی تھیں۔ اس پس منظر میں اللہ تعالی نے کچھ ہدایات دی ہیں ۔یہ جوفرمایا کہ مال اور اولاد فتنہ اور آزمائش ہیں تو یہ بطور مقدمہ ہے اور بڑی بے نظیر بات ہے۔ضروری ہے کہ انسان ہمیشہ اس بات کو ملحوظ رکھے کہ اللہ نے یہ دنیافرحت اور آسائش کے اصول پر نہیں بنائی بلکہ آزمائش کے اصول پر بنائی ہے ۔اصولی بات یہ ہے کہ انسان اپنی اولاداور اپنی بیویوں کو آزمائش سمجھے۔جب انسان آزمائش سمجھے گا تو اس کا رویہ بالکل دوسرا ہو جائے گا ۔پھروہ ہٹ دھرمی نہیں کرے گا ،ضد نہیں کرے گا۔ بلکہ خدا کا امتحان سمجھ کر اس کے سامنے سر جھکانے کی پوری کوشش کرے گا۔رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں حق و باطل کی جو کشمکش برپا ہو گئی تھی اس کشمکش میں ان عورتوں کا مشرکین سے رشتہ داری کا تعلق تھا یعنی وہ ان کی بیٹیاں اور بہنیں تھیں ۔اس پس منظر میں مسلمانوں سے یہ کہا گیا کہ کیونکہ یہ دشمنوں کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہیں اور بیوی بچے ہونے کی وجہ سے تمہارے ساتھ بھی تو تم اپنے ایمان کے معاملے میں محتاط رہنا۔ یعنی ایمان کے معاملے میں احتیاط سے کام لیناہے البتہ ان سے دشمنی نہیں بلکہ عفوو درگزر سے کام لینا ہے ۔

(جاوید احمد غامدی)