جہیز کے مسائل

ج-85 ‘‘جہیز’’ ان تحائف اور سامان کا نام ہے جو والدین اپنی بچی کو رْخصت کرتے ہوئے دیتے ہیں، یہ رحمت و محبت کی علامت ہے، بشرطیکہ نمود و نمائش سے پاک ہو اور والدین کے لئے کسی پریشانی و اذیت کا باعث نہ بنتا ہو، لیکن مسلمانوں کی شامتِ اعمال نے اس رحمت کو زحمت بنادیا ہے۔ اب لڑکے والے بڑی ڈھٹائی سے یہ دیکھتے ہی نہیں بلکہ پوچھتے بھی ہیں کہ جہیز کتنا ملے گا؟ ورنہ ہم رشتہ نہیں لیں گے۔ اسی معاشرتی بگاڑ کا نتیجہ ہے کہ غریب والدین کے لئے بچیوں کا عقد کرنا وبالِ جان بن گیا ہے۔ فرمائیے! کیا اس جہیز کی لعنت کو ‘‘کافرانہ رسم’’ اور ‘‘رَسمِ بد’’ سے بھی زیادہ سخت الفاظ کے ساتھ یاد نہ کیا جائے۔

آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت فرمایا ہے کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحب زادیوں کو جہیز دیا تھا؟ جی ہاں! دیا تھا، لیکن کسی سیرت کی کتاب میں یہ پڑھ لیجئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چہیتی بیٹی خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو کیا جہیز دیا تھا؟ دو چکیاں، پانی کے لئے دو مشکیزے، چمڑے کا گدا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اور ایک چادر۔ کیا آپ کے یہاں بھی بیٹیوں کو یہی جہیز دیا جاتا ہے؟ کاش! ہم سیرتِ نبوی کے آئینے میں اپنی سیرت کا چہرہ سنوارنے کی کوشش کریں۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

ج- جہیز کی جو چیزیں جس حالت میں ہیں وہ عورت کا حق ہے، لیکن استعمال سے جو نقصان ہو، وہ شوہر سے وصول نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ استعمال عورت کی اجازت سے ہوا ہے۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

ج- والدین کا جہیز کی واپسی کا مطالبہ غلط ہے۔ مرحومہ کی ملکیت میں جو چیزیں تھیں ان کو شرعی وارثوں پر تقسیم کیا جائے گا، چنانچہ مرحومہ کا ترکہ ۲۷ حصوں پر تقسیم ہوگا، ان میں سے ۲۱ - ۲۱ حصے مرحومہ کے والدین کے ہیں، اَٹھارہ حصے شوہر کے، دس دس حصے دونوں لڑکوں، اور پانچ پانچ دونوں لڑکیوں کے، نقشہ حسب ذیل ہے:

۲۷ = والد۲۱، والدہ ۲۱، شوہر ۸۱، بیٹا۰۱، بیٹا۰۱، بیٹی۵، بیٹی۵

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)