رشوت

ج: حرام رزق کے ساتھ جو نماز پڑھی جاتی ہے، وہ اللہ کے ہاں مقبولیت نہیں پاتی، لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے، بلکہ انسان کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے جس عمل کے ساتھ بھی دل کی گہرائی کے ساتھ چپکا ہوتا ہے، وہی عمل بالآخر دوسرے اعمال پر غلبہ پا لیتا ہے۔یہ بات تو ظاہر ہے کہ اس وقت اس شخص کی نماز سچے عابد کی نماز نہیں ہے، کیونکہ خدا کا سچا بندہ اپنے دل سے خدا کا فرماں بردار بھی ہوتا ہے، لیکن اگر یہ شخص اپنے جرائم کو آج یا آیندہ کسی وقت دل سے ناگوار جانتا، خود کو غلط قرار دیتا اور اللہ کے سامنے شرمندہ ہوتا رہتا ہے، گو یہ ابھی ان سے باز نہیں بھی آ رہا تو یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کی نماز اس کی بد اعمالیوں پر غلبہ پا لے، یہ توبہ کر لے اور اپنے اچھے انجام کو پہنچے۔ البتہ، اگر معاملہ برعکس ہوا تو پھر توقع بھی برعکس ہی کی ہے،کیونکہ ارشاد باری ہے:''البتہ جس نے کمائی کوئی بدی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیاتو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔'' (بقرہ2: 81)
یعنی انسان خواہ کیسا ہی نمازی یا روزے رکھنے اور حج کرنے والا کیوں نہ ہو، اگر اس نے کسی ایک برائی کو سچے دل کے ساتھ اس طرح سے چمٹ کر اختیار کر لیا کہ وہ برائی اس پر چھا گئی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیا تو اب اس کی سب نیکیاں برباد ہو جائیں گی اور وہ جہنم میں جائے گا۔

(محمد رفیع مفتی)

ج-85 رشوت لینے والا تو ہر حال میں ‘‘فی النار’’ کا مصداق ہے، اور رشوت دینے والے کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ دفعِ ظلم کے لئے رشوت دی جائے تو اْمید ہے کہ اللہ تعالیٰ مواخذہ نہیں فرمائیں گے۔ رشوت دے کر جو نوکری حاصل کی گئی ہو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر یہ شخص اس ملازمت کا اہل ہے اور جو کام اس کے سپرد کیا گیا ہے اسے ٹھیک ٹھیک انجام دیتا ہے تو اس کی تنخواہ حلال ہے، (گو رشوت کا وبال ہوگا)، اور اگر وہ اس کام کا اہل ہی نہیں تو تنخواہ بھی حلال نہیں۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

ج- رشوت کے بارے میں جناب نے مجھ پر جو اعتراض کیا تھا، میں نے اعترافِ شکست کے ساتھ اس بحث کو ختم کردینا چاہا تھا، لیکن آنجناب نے اس کو بھی محسوس فرمایا، اس لئے مختصراً پھر عرض کرتا ہوں کہ اگر اس سے شفا نہ ہو تو سمجھ لیا جائے کہ میں اس سے زیادہ عرض کرنے سے معذور ہوں۔

 جناب کا یہ ارشاد بجا ہے کہ رشوت قطعی حرام ہے، خدا اور رسول نے راشی اور مرتشی دونوں پر لعنت کی ہے، اور اس پر دوزخ کی وعید سنائی ہے۔ لیکن جناب کو معلوم ہے کہ اضطرار کی حالت میں مردار کی بھی اجازت دے دی جاتی ہے، کچھ یہی نوعیت رشوت دینے کی ہے۔ ایک شخص کسی ظالم خونخوار کے حوالے ہے، وہ ظلم دفع کرنے کے لئے رشوت دیتا ہے، فقہائے اْمت اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ‘‘اْمید ہے کہ اس پر مواخذہ نہ ہوگا’’ اور یہی میں نے لکھا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس پر عام حالات کا قانون نافذ نہیں ہوسکتا، اس لئے رشوت لینا تو ہر حال میں حرام ہے اور گناہِ کبیرہ ہے، اور رشوت دینے کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ جلبِ منفعت کے لئے رشوت دے، یہ حرام ہے، اور یہی مصداق ہے ان احادیث کا جن میں رشوت دینے پر وعید آئی ہے۔ اور دْوسری صورت یہ کہ دفعِ ظلم کے لئے رشوت دینے پر مجبور ہو، اس کے بارے میں فقہاء فرماتے ہیں کہ: ‘‘اْمید ہے کہ مواخذہ نہ ہوگا’’۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

ج- شوہر اگر حرام کا روپیہ کماکر لاتا ہے تو عورت کو چاہئے کہ پیار محبت سے اور معاملہ فہمی کے ساتھ شوہر کو اس زہر کے کھانے سے بچائے، اگر وہ نہیں بچتا تو اس کو صاف صاف کہہ دے کہ: ‘‘میں بھوکی رہ کر دن کاٹ لوں گی، مگر حرام کا روپیہ میرے گھر نہ لایا جائے، حلال خواہ کم ہو میرے لئے وہی کافی ہے۔’’ اگر عورت نے اس دستور العمل پر عمل کیا تو وہ گناہگار نہیں ہوگی، بلکہ رشوت اور حرام خوری کی سزا میں صرف مرد پکڑا جائے گا، اور اگر عورت ایسا نہیں کرتی بلکہ اس کا حرام کا لایا ہوا روپیہ خرچ کرتی ہے تو دونوں اکٹھے جہنم میں جائیں گے۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

ج- رشوت لینا حرام ہے، اور اس حرام روپے سے کسی کی خدمت کرنا اور اس پر ثواب کی توقع رکھنا بہت ہی سنگین گناہ ہے۔ بعض اکابر نے لکھا ہے کہ حرام مال پر ثواب کی نیت کرنے سے ایمان سلب ہوجاتا ہے۔ آپ کے حاتم طائی کو چاہئے کہ رشوت کا روپیہ اس کے مالک کو واپس کرکے اپنی جان پر رحم کریں۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

ج-  رشوت کا پیسہ حرام ہے، اور حدیث میں ارشاد ہے کہ: ‘‘آدمی حرام کماکر اس میں سے صدقہ کرے، وہ قبول نہیں ہوتا’’ حضراتِ فقہاء نے لکھا ہے کہ مالِ حرام میں صدقے کی نیت کرنا بڑا ہی سخت گناہ ہے، اس کی مثال ایسی ہے کوئی شخص گندگی جمع کرکے کسی بڑے آدمی کو ہدیہ پیش کرے، تو یہ ہدیہ نہیں گا بلکہ اس کو گستاخی تصوّر کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ عالی میں گندگی جمع کرکے پیش کرنا بھی گستاخی ہے۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

س- میں سرکاری ٹھیکے دار ہوں، مختلف محکموں میں پانی کی ترسیل کی لائنیں بچھانے کے ٹھیکے ہم لیتے ہیں، ہم جو ٹھیکے لیتے ہیں وہ باقاعدہ ٹینڈر فارم جمع کراکے مقابلے میں حاصل کرتے ہیں، مقابلہ یوں کہ بہت سے ٹھیکے دار اس ٹھیکے کے لئے اپنی اپنی رقم لکھتے ہیں اور بعد میں ٹینڈر سب کے سامنے کھولے جاتے ہیں، جس کی قیمت کم ہوتی ہے، سرکار اسے ٹھیکہ دے دیتی ہے۔ اس کام میں ہم اپنا ذاتی حلال کا پیسہ لگاتے ہیں اور سرکار نے پانی کے پائپوں کا جو معیار مقرّر کیا ہے وہی پائپ لیتے ہیں جو کہ محکمے سے منظور شدہ کمپنی سے خریدا جاتا ہے، اور جو قسم محکمے والے مقرّر کرتے ہیں، وہی خریدتے ہیں۔ ہم اپنے طور پر کام ایمان داری سے کرتے ہیں، مگر چند ایک چھوٹی چیزیں مثلاً پائپ جوڑنے والا آلہ جس کی موٹائی محکمے والے ۱۰، اِنچ مقرّر کرتے ہیں، وہ ہم پانچ اِنچ موٹائی کا لگادیتے ہیں۔ اس سے لائن کی مضبوطی میں فرق نہیں پڑتا لیکن ہمارے ساتھ مجبوری یہ ہے کہ محکمے کے افسران جو کہ اس کام پر مامور ہوتے ہیں ان کو ہمیں لازماً افسران کے عہدوں کے مطابق ٹینڈر کی قیمت کے ۲ فیصد سے ۵ فیصد تک پیسے دینے پڑتے ہیں، جبکہ وہ سرکاری ملازم ہیں اور محکمے سے تنخواہ لیتے ہیں، اور جو پیسے وہ ہم سے لیتے ہیں وہ سرکار کے خزانے میں نہیں بلکہ ان کی جیبوں میں جاتے ہیں۔ اگر ہم انہیں یہ پیسے نہ دیں تو وہ کام میں رْکاوٹ ڈالتے ہیں، اور اگر ہم سو فیصد کام صحیح کریں جب بھی اس میں نقص نکال کر ہمارے پیسے رْکوادیتے ہیں اور آئندہ کے لئے کاموں میں رْکاوٹ ڈال دیتے ہیں۔ آپ سے گزارش یہ ہے کہ آپ یہ بتائیے کہ ہماری یہ آمدنی حلال ہے کہ نہیں؟ کیونکہ اگر ہم افسران کو پیسہ نہ دیں تو وہ ہماری سو فیصد ایمان داری کے باوجود ہمارے کام بند کرادیتے ہیں اور ہمارے بل رْکوادیتے ہیں۔ کام شروع سے ہم اپنے ذاتی پیسوں سے کرتے ہیں، اور تکمیل کے دوران سرکار ہمیں کچھ ادائیگی کرتی رہتی ہے، جبکہ رقم کا بڑا حصہ ہمارا ذاتی پیسہ ہوتا ہے۔

ج- رشوت ایک ایسا ناسور ہے جس نے پورے ملک کا نظام تلپٹ کر رکھا ہے، جن افسروں کے منہ کو یہ حرام خون لگ جاتا ہے وہ ان کی زندگی کو بھی تباہ کردیتا ہے اور ملکی انتظام کو بھی متزلزل کردیتا ہے، جب تک سرکاری افسروں اور کارندوں کے دِل میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور قیامت کے دن کے حساب و کتاب اور قبر کی وحشت و تنہائی میں ان چیزوں کی جواب دہی کا احساس پیدا نہ ہو، تب تک اس سرطان کا کوئی علاج نہیں کیا جاسکتا۔ آپ سے یہی کہہ سکتا ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو ان کتوں کو ہڈی ڈالنے سے پرہیز کریں، اور جہاں بے بس ہوجائیں وہاں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

س- میں بلڈنگ ڈپارٹمنٹ میں سب انجینئر ہوں، ملازمت کی مدّت تین سال ہوگئی ہے، ہمارے یہاں جب کوئی سرکاری عمارت تعمیر ہوتی ہے تو ٹھیکے دار کو ٹھیکے پر کام دے دیا جاتا ہے، اور ہم ٹھیکے دار سے ایک لاکھ۰ ۲ ہزار روپے کمیشن لیتے ہیں، جس میں سب کا حصہ ہوجاتا ہے (یعنی چپراسی سے لے کر چیف انجینئر تک)، اس میں ۲ فیصد حصہ میرا بھی ہوتا ہے، ایک لاکھ پر دو ہزار، یہ ماہانہ تنخواہ کے علاوہ ہوتا ہے۔ اس وقت میرے زیر نگرانی ۲۰ لاکھ کا کام ہے اور ہر ماہ ۴ لاکھ کے بل بن جاتے ہیں، اس طرح ۸ہزار روپے تنخواہ کے علاوہ مجھ کو مل جاتے ہیں، جبکہ تنخواہ صرف ۱۷۰۰ روپے ہے۔ ٹھیکے دار حضرات کام کو دئیے ہوئے شیڈول کے مطابق نہیں کرتے، اور ناقص مٹیریل استعمال کرتے ہیں۔ سیمنٹ، لوہا وغیرہ گورنمنٹ کے دئیے ہوئے معیار کے مطابق نہیں لگاتے، حتیٰ کہ بہت سی اشیا ایسی ہوتی ہیں جن کا صرف کاغذات پر اندراج ہوتا ہے اور درحقیقت جائے وقوع پر اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ لیکن ہم لوگوں کو غلط اندراج کرنا پڑتا ہے اور غلط تصدیق کرنا پڑتی ہے۔ جب ہم کسی منصوبے کا اسٹیٹمنٹ بناتے ہیں تو اس کو پہلے سپرنٹنڈنگ انجینئر کے پاس لے جانا پڑتا ہے، جہاں پر سائٹ انچارج سے اس کو پاس کرانے کے لئے آفیسر اور اسٹاف کو کام کی نسبت سے کمیشن دینا پڑتا ہے۔ اس کے بعد وہ فائل چیف انجینئر کے آفس میں جاتی ہے، وہاں اس کو بھی کام کی نسبت سے کمیشن دینا پڑتا ہے۔ اور اس کا ایک اْصول بنایا ہوا ہے، اس کے بغیر اسٹیٹمنٹ پاس نہیں ہوسکتا۔ اس اعتبار سے ہم لوگوں کو بھی ٹھیکے داروں سے مجبوراً کمیشن لینا پڑتا ہے، ورنہ ہم اگلے مراحل میں ادائیگی کہاں سے کریں۔ ٹھیکے دار اس کمی کو پورا کرتا ہے خراب مال لگاکر اور کام میں چوری کرکے، جس کا ہم سب کو علم ہوتا ہے۔ لہٰذا اس طرح ہم جھوٹ، بددیانتی، رشوت، سرکاری رقم (جو کہ درحقیقت عوام کی ہے) میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ عام طور پر اس کو بْرا بھی نہیں سمجھا جاتا۔ میرا دِل اس عمل سے مطمئن نہیں ہے۔ براہِ کرم میری سرپرستی فرماویں کہ آیا میں کیا کروں؟ کیا دْوسروں کو ادا کرنے کے لئے کمیشن لے لوں اور اس میں سے اپنے پاس بالکل نہ رکھوں؟ یا کچھ اپنے پاس بھی رکھوں؟ یا ملازمت چھوڑ دْوں؟ کیونکہ مذکورہ بالا حالات میں سارے غلط اْمور کرنا پڑتے ہیں۔

ج- جن قباحتوں کا آپ نے ذکر کیا ہے، ان کی اجازت تو نہ عقل دیتی ہے نہ شرع، نہ قانون نہ اخلاق، اگر آپ ان لعنتوں سے نہیں بچ سکتے تو اس کے سوا اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ نوکری چھوڑ دیجئے، اور کوئی حلال ذریعہ معاش اپنائیے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوگا کہ آپ نوکری چھوڑ دیں گے تو بچوں کو کیا کھلائیں گے؟ اس کے دو جواب ہیں۔ ایک یہ کہ دْوسری جگہ حلال ذریعہ معاش تلاش کرنے کے بعد ملازمت چھوڑئیے، پہلے نہ چھوڑئیے۔ دْوسرا جواب یہ ہے کہ آپ ہمت سے کام لے کر اس بْرائی کے خلاف جہاد کیجئے اور رشوت کے لینے اور دینے سے انکار کردیجئے۔ جب آپ ایسا کریں گے تو آپ کے محکمے کے تمام شریکِ کار افسرانِ بالا سے لے کر ماتحتوں تک آپ کے خلاف ہوجائیں گے، اور آپ کے افسر آپ کے خلاف جھوٹے سچے الزامات عائد کرکے آپ کو برخاست کرانے کی سعی کریں گے۔ اس کے جواب میں آپ اپنے مندرجہ بالا خط کو سنوار کر مع ثبوتوں کے صفائی نامہ پیش کردیجئے، اور اس کی نقول صدرِ مملکت، وزیراعظم، صوبائی حکومت کے اَربابِ اقتدار اور ممبران قومی و صوبائی اسمبلی وغیرہ کو بھیج دیجئے۔ زیادہ سے زیادہ آپ کا محکمہ آپ کو نوکری سے الگ کردے گا، لیکن پھر اِن شاء اللہ آپ پر زیادہ خیر و برکت کے دروازے کھلیں گے۔ اگر آپ محکمے کی ان زیادتیوں سے کسی بڑے اَربابِ حل و عقد کو اپنا ہم نوا بنانے میں کامیاب ہوگئے تو آپ کی نوکری بھی نہیں جائے گی، البتہ آپ کو کسی غیراہم کام پر لگادیا جائے گا اور آپ کو ۱۷۰۰ روپے میں گزر اوقات کرنی پڑے گی، جس میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے، بشرطیکہ آپ خالی وقت میں کوئی کام کرسکیں۔ تو میرے عزیز! جس طرح آپ ہزاروں میں سے ایک ہیں جو مجھ کو ایسا تقوے والا خط لکھ سکتے ہیں، اسی طرح کسی نہ کسی کو اس اندھیرنگری میں حق کی آواز اْٹھانی ہے، اللہ کی مدد آپ کے شاملِ حال ہو اور ہم خیال بندے آپ کی نصرت کریں۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

س- میں جس فرم میں ملازم ہوں، وہاں اشیاء کی نقل و حرکت کے لئے ٹرانسپورٹرز سے معاہدہ ہے، جن کا کرایہ حکومت سے منظور شدہ ہوتا ہے اور انہیں ماہانہ ادائیگی کی جاتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل ان کے کرایوں کے نرخ میں اضافہ کردیا گیا، لیکن منظوری میں تاخیر کی وجہ سے اس دوران کا حساب کرکے ان کو بقایا جات ادا کئے گئے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جس وقت ادائیگی کے بل ادا کئے گئے، لوگوں نے ان سے مٹھائی کا مطالبہ شروع کردیا، جس پر انہوں نے رضامندی ظاہر کی، لیکن ان سے کہا گیا کہ ہمیں کچھ رقم دے دی جائے جس سے ہم پانچ چھ افراد پارٹی (لنچ یا ڈنر) کرسکیں۔ ان سے یہ رقم وصول کی گئی اور اس وقت یہ صاف طور پر کہہ دیا گیا کہ یہ پیسے کسی اور ضمن میں نہیں بلکہ آپ کی خوشی سے مٹھائی کے طور پر لئے جارہے ہیں۔ جس پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ نہیں ہم اپنی خوشی سے دے رہے ہیں۔ ایک ٹرانسپورٹر نے اچھی خاصی رقم دی جسے تین افراد نے آپس میں تقسیم کرلیا اور باقی وصول ہونے والی رقم سے چار پانچ مرتبہ لنچ کیا گیا۔ برائے مہربانی آپ یہ وضاحت کردیں کہ یہ رقم کھانا جائز ہے جبکہ کھانے والے حضرات یہ بھی چاہتے ہیں کہ یہ آفس میں افسرانِ بالا کو یا اور لوگوں کو اس بات کا علم نہ ہو، جبکہ اس میں کسی اور منفعت کو دخل نہیں، ہمارا ادارہ ایک نجی ادارہ ہے۔

ج- اس قسم کی شیرینی جو سرکاری اہل کاروں کو دی جاتی ہے، رشوت کی مد میں آتی ہے، اس سے پرہیز کرنا چاہئے، کیونکہ یہ شیرینی نہیں بلکہ زہر ہے۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

ج- کام کے عوض جو روپیہ اس کو دیا جاتا ہے وہ رشوت ہے، اس کا لینا اس کے لئے جائز نہیں، اگر بعینہ اسی رقم سے کوئی چیز خرید کر وہ کسی کو تحفہ دیتا ہے تو اس کا لینا بھی جائز نہیں، اور اگر اپنی تنخواہ کی رقم سے یا کسی اور جائز آمدنی سے تحفہ دیتا ہے تو اس کا لینا دْرست ہے۔ اور اگر یہ معلوم نہ ہو کہ یہ تحفہ جائز آمدنی کا ہے یا ناجائز کا؟ تو اگر اس کی غالب آمدنی صحیح ہے تو تحفہ لے لینا دْرست ہے، ورنہ احتیاط لازم ہے، اور اگر اس کی دِل شکنی کا اندیشہ ہو تو اس سے تو لے لیا جائے مگر اس کو استعمال نہ کیا جائے، بلکہ بغیر نیتِ صدقہ کے کسی محتاج کو دے دیا جائے۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

س- حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں دوزخی ہیں۔ اگرچہ اس بارے میں بہت سی اور احادیث بھی ہوں گی۔ پاکستان میں ٹریفک پولیس اور ڈرائیور حضرات کے درمیان یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ گاڑیوں سے ماہوار رشوت لیتے ہیں، بعض جگہ جب بھی کسی چوک میں گاڑی مل جائے تو روک کر روپے لیتے ہیں۔ اگر ان کو گاڑی کے کاغذات بتادئیے جائیں، کاغذ مکمل ہونے کی صورت میں پھر بھی وہ کوئی نہ کوئی الزام لگادیتے ہیں۔ مثلاً: ‘‘گاڑی کا رنگ دْرست نہیں ہے، تم تیزرفتاری سے گاڑی چلاتے ہو۔’’ اگر ان کو رشوت نہ دی جائے اور کہہ دیا جائے کہ چالان کرو اور ہم گورنمنٹ کو فیس دیں گے تو وہ چالان سلپ پر اتنی دفعات لگادیتے ہیں کہ جب ہم مجسٹریٹ کے سامنے جاتے ہیں تو وہ کئی کئی ہزار روپے تک جرمانہ کرتا ہے۔ پھر ہوسکتا ہے کہ ایک ماہ تک لائسنس کا بھی یا گاڑی کے کاغذات کا بھی پتا نہ چلے، یہ کام وہ صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ان کو آئندہ روپے آرام سے دئیے جائیں۔ پھر ایک ڈرائیور مجبوری سے ۵۰،۱۰۰ روپے دے دیتا ہے اور اس کے عوض وہ اوور لوڈ کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ گاڑی کے کاغذ نہیں رکھتے کہ کاغذ ہوتے ہوئے بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔ میرا اس بیان سے مقصد یہ نہیں کہ ہم جرم کرتے رہیں اور روپے دیتے رہیں، بلکہ اگر کسی کا کوئی جرم ہے اور وہ روپے بھی دیتا ہے تو اسلام میں اس کا کیا مقام ہے؟ اگر سب کچھ دْرست ہونے کے باوجود صرف رشوت اس لئے دی جائے کہ وہ ناجائز تنگ کریں گے اور زیادہ روپے دینے پڑیں گے، کیا اس حدیث کی روشنی میں ڈرائیور اور پولیس والا دونوں کے لئے بس وہ حدیث ہوگی، یعنی دونوں کا جرم برابر کا ہوگا؟

ج- کوئی کام غیرقانونی تو حتی الوسع نہ کیا جائے، اس کے باوجود اگر رشوت دینی پڑے تو لینے والے اپنے لئے جہنم کا سامان کرتے ہیں، دینے والا بہرحال مجبور ہے، اْمید ہے کہ اس سے مواخذہ نہ ہوگا۔ اور اگر غیرقانونی کام کے لئے رشوت دی جائے تو دونوں فریق لعنت کے مستحق ہیں۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

س- حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں دوزخی ہیں۔ اگرچہ اس بارے میں بہت سی اور احادیث بھی ہوں گی۔ پاکستان میں ٹریفک پولیس اور ڈرائیور حضرات کے درمیان یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ گاڑیوں سے ماہوار رشوت لیتے ہیں، بعض جگہ جب بھی کسی چوک میں گاڑی مل جائے تو روک کر روپے لیتے ہیں۔ اگر ان کو گاڑی کے کاغذات بتادئیے جائیں، کاغذ مکمل ہونے کی صورت میں پھر بھی وہ کوئی نہ کوئی الزام لگادیتے ہیں۔ مثلاً: ‘‘گاڑی کا رنگ دْرست نہیں ہے، تم تیزرفتاری سے گاڑی چلاتے ہو۔’’ اگر ان کو رشوت نہ دی جائے اور کہہ دیا جائے کہ چالان کرو اور ہم گورنمنٹ کو فیس دیں گے تو وہ چالان سلپ پر اتنی دفعات لگادیتے ہیں کہ جب ہم مجسٹریٹ کے سامنے جاتے ہیں تو وہ کئی کئی ہزار روپے تک جرمانہ کرتا ہے۔ پھر ہوسکتا ہے کہ ایک ماہ تک لائسنس کا بھی یا گاڑی کے کاغذات کا بھی پتا نہ چلے، یہ کام وہ صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ان کو آئندہ روپے آرام سے دئیے جائیں۔ پھر ایک ڈرائیور مجبوری سے ۵۰،۱۰۰ روپے دے دیتا ہے اور اس کے عوض وہ اوور لوڈ کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ گاڑی کے کاغذ نہیں رکھتے کہ کاغذ ہوتے ہوئے بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔ میرا اس بیان سے مقصد یہ نہیں کہ ہم جرم کرتے رہیں اور روپے دیتے رہیں، بلکہ اگر کسی کا کوئی جرم ہے اور وہ روپے بھی دیتا ہے تو اسلام میں اس کا کیا مقام ہے؟ اگر سب کچھ دْرست ہونے کے باوجود صرف رشوت اس لئے دی جائے کہ وہ ناجائز تنگ کریں گے اور زیادہ روپے دینے پڑیں گے، کیا اس حدیث کی روشنی میں ڈرائیور اور پولیس والا دونوں کے لئے بس وہ حدیث ہوگی، یعنی دونوں کا جرم برابر کا ہوگا؟

ج- کوئی کام غیرقانونی تو حتی الوسع نہ کیا جائے، اس کے باوجود اگر رشوت دینی پڑے تو لینے والے اپنے لئے جہنم کا سامان کرتے ہیں، دینے والا بہرحال مجبور ہے، اْمید ہے کہ اس سے مواخذہ نہ ہوگا۔ اور اگر غیرقانونی کام کے لئے رشوت دی جائے تو دونوں فریق لعنت کے مستحق ہیں۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

ج-85 کسی شخص کا نمبر نکل آنا ایسی چیز نہیں کہ اس کی خرید و فروخت ہوسکے، اس لئے پیسے دے کر نمبر خریدنا جائز نہیں، اور جس شخص نے پیسے لے کر اپنا نمبر دے دیا اس کے لئے وہ پیسے حلال نہیں ہوں گے، بلکہ ان کا حکم رشوت کی رقم کا ہوگا۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

 جواب : آپ نے پوچھا ہے کہ ان حالات میں جبکہ بجلی بہت مہنگی ہے اور دوسروں کی چوری بھی ہمیں بھگتنی پڑتی ہے بجلی چوری کی جا سکتی ہے۔ آپ کا دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا رشوت دے کر نوکری حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ گھر کے حالات بہت خراب ہوں۔

 عرض ہے کہ مہنگائی ہو یا ظلم کسی شخص کے لیے حرام جائز نہیں ہو سکتا۔ وہ مجبوری جس میں حرام جائز ہو جاتا ہے بجلی چوری اس میں نہیں آتی۔ اس کا حل صرف ایک ہی ہے کہ ہم بجلی اتنی ہی استعمال کریں جتنی ہم خرید سکتے ہیں۔ رشوت کے ضمن میں عرض ہے کہ قطعی طور پر حرام وہ رشوت ہے جس میں آپ غلط کام کراتے ہیں۔ اپنا جائز حق لینے کے لیے اگر رشوت دینی پڑے تو اس میں اللہ تعالی کی طرف سے صرف نظر کی توقع ہے جبکہ رشوت دینے والا مجبور ہو۔

(مولانا طالب محسن)

جواب : بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی برائی پوری طرح سے معاشرے پر غلبہ پا لے تو سوچنا چاہیے کہ اس کے عوامل کیا ہیں؟ اس کے عوامل بہت حدتک ملک کی معیشت اور اس کے معاشی ڈھانچے میں ہوتے ہیں۔ سماجی اقدار و روایات کی اس لحاظ سے بڑی حد تک دوسری پوزیشن ہوتی ہے۔ہمارے ہاں رشوت کے فروغ کے معاملے میں صرف چند اخلاقی عوامل ہی کام نہیں کر رہے، بلکہ اس کے پیچھے بہت سے سماجی اور معاشی عوامل بھی موجودہیں۔ جس طرح کا تفاوت سوسائٹی میں پیدا کر دیا گیا ہے اور جاگیر داری پس منظر نے جس طرح کی اخلاقیات پیدا کی ہیں، اس کو اگر آپ سامنے رکھیں گے تو صورت حال بڑی حد تک واضح ہو جائے گی۔ اس کے عوامل کا ٰغیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اس کے پیچھے سیاسی اداروں نے کیا کردار ادا کیا ہے؟اس کے پیچھے معاشی اداروں نے کیا کردار ادا کیا ہے؟ یہ تفاوت جو بڑھنا شروع ہوگیا ہے، جو تبدیلیاں اس کے نتیجے میں آنا شروع ہو گئی ہیں، جیسے خاندان کے خاندان اب معاشی جدوجہد میں مصروف ہونے پر مجبور کر دیے گئے ہیں، آج سے پچاس سال پہلے یہ صورت حال نہیں تھی۔ یہ عمل جتنا آگے بڑھے گا، اسی نسبت سے تفاوت دور کرنے کے لیے لوگوں کو پیسے کی ضرورت پڑے گی۔جب آپ ایک کانسٹیبل کو۲۰۰۰ دیں اور کہیں کہ چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی دو تو وہ ہمارا لحاظ نہیں کرے گا، پھر آپ کا جو پورا جاگیر دارانہ نظام ہے، پس منظر کے لحاظ سے وہ ویسے بھی اخلاقی قدروں کی نشوونما کو کچل دیتاہے۔

 لوگوں کی معاشی ضرورتیں، ان کے معاشی مسائل اور پھر جس طریقے سے انسانوں سے معاملات کیے جارہے ہیں،وہ ایک مخصوص نفسیاتی شخصیت تخلیق کرتے ہیں، اس کو جس طرح آپ معیشت کے بوجھ تلے دبا دیتے ہیں۔ اس کے بعدآسان طریقہ رشوت لینا ہے۔ آخر لوگ رشوت کیوں نہ لیں؟میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ آپ اس کو کس طریقے سے ختم کریں گے؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان عوامل کو تقویت نہ دی جائے۔ سوسائٹی بحیثیت مجموعی ان کے خلاف آگے بڑھ کر جدوجہد کرے۔جب معیشت کے نظام میں کچھ تبدیلیوں سے سیاسی اداروں میں تبدیلیاں آئیں گی، پھر کچھ تبدیلیاں آپ کے سماجی ڈھانچے میں آئیں گی، اس کے بعد ہی اخلاقی اقدار کا نعرہ کچھ موثر ہونا شروع ہوگا۔ یہ ٹھیک ہے کہ چند لوگوں کی حد تک، جن کے اندر عزم،بڑا حوصلہ اور بڑی قوت ہوتی ہے، ہوسکتا ہے کہ وہ اخلاقی اقدارکی پاسداری کر لیں لیکن بالعموم عوام بہت مشکل حالات میں ہیں۔

(جاوید احمد غامدی)

جواب : دیکھیے بات یہ ہے کہ اخلاقی معاملات کے اندر بحث کبھی نہیں کی جاتی، ان کا جواز کبھی نہیں ہوتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان کا علمی اور نظری سطح پر بھی کوئی جواز پیش کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اور ایک چیز یہ ہے کہ ایک معاملہ ایک شخص کے لیے کیا صورت اختیار کرتا ہے۔ یعنی اگر تو محض اتنی بات ہے کہ مجھ کو فتوے دینے ہیں اور اس کے نتیجے میں رشوت ختم ہو جائے گی تو میں دے دیتا ہوں، لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ فتویٰ لوگوں کے کانوں کی دیوار سے ٹکرا کر واپس آجائے گا، اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ یہ تو بالکل ٹھیک ہے کہ مجھے جب بھی آپ پوچھیں گے کہ کیا آدمی کو جھوٹ بولنا چاہیے تو میں کہوں گا کہ نہیں بولنا چاہیے۔ آپ کہیں گے کہ رشوت لینی چاہیے؟ تو میں کہوں گا کہ نہیں لینی چاہیے۔ اس لیے کہ رشوت ایک اخلاقی برائی ہے۔ یہ سب ٹھیک ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ پیش نظر کیا ہے؟ ہم یہ کام شب و روز کر رہے ہیں،اس لڑائی میں آپ ایک عام آدمی کو کم سے کم وہاں تو کھڑا کریں، جہاں وہ اس پوزیشن میں آ سکے کہ وہ یہ بات سن سکے۔ورنہ بات یہ ہے کہ اب آدمی کیا جواب دے، بعض اوقات جب لوگ پوچھتے ہیں، اپنے حالات بتاتے ہیں تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کِیا جائے؟آپ کے معاشی معاملات کے اندر بھی تبدیلیاں نہیں آرہیں۔ اندازہ کیجیے کہ آج سے پچیس تیس سال پہلے گورنمنٹ سکول میں چند روپے فیس تھی، ہم دیہات میں جاکر ایک ڈسپنسر کے پاس سے مکسچر لے آتے تھے اور بخار اتر جاتا تھا۔ اب ذرا تعلیمی اخراجات اور علاج معالجے کو دیکھیے کہ کیا صورتِ حال ہے؟ یعنی ایک آدمی جس کے تین چار بچے ہیں، اگر وہ اپنے بچوں کوصحیح تعلیم ہی دلوانا چاہتا ہے تو آپ اسے تنخواہ کیا دے رہے ہیں؟ زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار روپے دیں گے۔ میں ایک عام آدمی کی بات کر رہا ہوں، وہ اس رقم سے کیسے گھر چلائے؟

(جاوید احمد غامدی)

جواب :ایک ہی چیز ہے، یعنی ایک میں آپ روپیہ استعمال کر لیتے ہیں، دوسرے میں اثر و رسوخ استعمال کر لیتے ہیں۔دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ آپ دونوں سے کیا کام لے رہے ہیں۔ کیا آپ کسی کا حق مار کر اپنے آپ کو ترجیح دلوا دے رہے ہیں؟ زیادہ تر یہ ہی ہوتا ہے۔ جب یہ چیز بہت پھیل جاتی ہے تو اصل میں اور چیز وجود میں آتی ہے۔ پہلے مرحلے میں لوگ رشوت اپنی جائز خواہشات پوری کرنے کے لیے لیتے ہیں، لیکن جس وقت وہ روپیہ تقسیم ہو جاتا ہے، رشوت بڑے پیمانے پر پھیل جاتی ہے تو اس کے بعد لوگوں کے منہ کو خون لگ جاتا ہے، پھر وہ کوئی جائز کام بھی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اب ان کی آمدنی کا ایک یہی بڑا ذریعہ ہے ۔ ایک جانب آپ ان کی آمدنی کے ذرائع محدود کرتے چلے جاتے ہیں، دوسری جانب لوگوں کے درمیان ایک بڑا تفاوت پیدا کرتے چلے جاتے ہیں۔ پھر ان کے لیے ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ نہ ان کے لیے تعلیم دلانا ممکن ہے، نہ ان کے لیے روٹی کمانا ممکن ہے اور نہ ہی ان کے لیے صحت کے مسائل حل کرنا ممکن ہے۔ اس صورت حال میں پھر کیا ہوتا ہے؟ پھر وہ جائز کاموں کے لیے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پیسے لینے چاہئیں۔ یہ ہی ان کی آمدنی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ میرے خیال میں پہلے رشوت کی تعریف کر لیں کہ رشوت اصل میں ہے کیا چیز؟... کسی ناجائز کام کرنے کے لیے روپیہ لینا اور دینا رشوت ہے، لیکن جب آپ کا حق تھا، آپ اسے لینے کے لیے گئے تھے تو وہ آپ کو ملنا چاہیے تھا، آپ کسی پر کوئی ناجائز ترجیح قائم نہیں کر رہے تھے، تو آپ بری الذمہ ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ اس کو جو لت آپ نے ڈالی ہے، وہ کیا ہے؟ اور اب وہ اس کے لیے مجبور ہے،پھر مجبوری تھوڑی دیر بعد خواہش بن جاتی ہے، اس کے بعد آدمی اسی پر نہیں رکتا کہ اچھا میرے بچے بھوکے تھے تو میں نے یہ کام کر لیا۔ اب اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ میری جو کوٹھی بن گئی ہے۔ اب مجھے اس سے بڑی کوٹھی بنانی ہے۔ تو ایکcycleہے جو پورے معاشرے میں چل رہا ہے۔ آپ سو سائٹی کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو ایک طرف آپ کو لوگوں کی فکر کی اصلاح کرنی چاہیے اور دوسری طرف ان کے سماجی حالات کی۔

(جاوید احمد غامدی)

جواب : تحفے کو نبی کریم ﷺ نے بڑی خوبی کے ساتھ واضح کیا ہے۔ جب کچھ لوگ اس طرح کے تحفے لے کر آئے تھے تو آپ ﷺ نے کہا کہ ان تحائف کو مسجد میں کیوں نہیں تقسیم کیا ؟ لوگوں نے جب یہ کہا کہ ہم یہ تحائف گورنر کی حیثیت سے یا فلاں حیثیت سے فلاں جگہ سے لے کر آئے تھے اور لوگوں نے یہ بطور تحفے ہمیں دیے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا کہ تحائف تم لوگوں کو گھروں میں بیٹھے ہوئے کیوں موصول نہیں ہو گئے؟ اگر آپ کے ایسے ہی تعلقات اور روابط تھے تو گھروں میں بیٹھ جاتے اور یہ وہیں مل جاتے۔اگر کسی ذمہ داری یا کسی منصب کی وجہ سے لوگ آپ کو تحائف دیتے ہیں تو آپ کے منصب سے رعایت یا فائدہ اٹھانے کے لیے دیتے ہیں۔

(جاوید احمد غامدی)

جواب: بے شمار ذرائع سے ملتی ہے۔ دیکھیے بات یہ ہے کہ رشوت سے منصب ملتے ہیں، اس سے ذمہ داریاں ملتی ہیں۔ رشوت سے اولاد کے لیے اچھے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اب تو اس کی اتنی قسمیں وجود میں آگئیں ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اگر آپ کو بیرون ملک کا دورہ مل جائے تو وہ بھی کافی ہے۔ آپ کی لائف بدل جائے گی، بلکہ میں نے تو یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض اوقات لوگ صاحب اقتدار کی دعوتیں کرتے ہیں یا کسی موقع پر بلاتے ہیں تو اس کا بھی مقصد ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ میں نے ایک بڑے مذہبی رہنما سے کہا کہ آپ کی سیاست کا کیا حاصل؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے بزرگ ایوان اقتدار میں جانے کا تصور بھی نہیں سکتے تھے، اب ہم جب چاہیں ایوان صدر میں جا سکتے ہیں۔ تو میں نے پھر مزید گفتگو نہیں کی، اس کی وجہ یہ ہے کہ سطح معلوم ہو گئی تھی۔نہ تو کوئی نصب العین ہے اور نہ معاشرے کی کوئی اصلاح مقصود ہے۔جب انسان کی سطح یہ ہوگی توا س کے بعد پھر وہ رشوت بھی لے گا۔ اس وقت تو حکومتیں بھی رشوت میں دی جاتی ہیں۔

(جاوید احمد غامدی)

جواب : قرآن مجید نے بیان کر دیا ہے کہ جو آدمی لوگوں کا مال، لوگوں کا حق ناجائز طریقے سے کھاتا ہے، وہ اپنے لیے جہنم خریدتا ہے۔ غریبوں کے حقوق میں جب آپ خرابی پیدا کرتے ہیں تو یہ بہت بڑا جرم ہے، اس میں اللہ تعالیٰ سے بھی معاملہ کرنا ہوگا،بندے سے بھی کرنا ہوگا۔ یہ بہت سنگین جرم ہے۔

(جاوید احمد غامدی)

جواب : اس بارے میں ایک سادہ سا اصول ہے۔ جو نبی کریم ﷺ نے بڑی خوبی کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، اپنے نفس سے مشورہ لے لیا کرو۔ اخلاقی معاملات کے لیے آپ کے دل کے اندر ہی ایک واعظ موجودہوتا ہے اور وہ آپ کو بالکل ٹھیک فتویٰ دے دیتا ہے۔ ہم بہت اچھی طرح سے یہ جانتے ہوتے ہیں کہ ہم کب کسی کی واقعی مدد کر رہے ہوتے ہیں،کب ہم کسی دوسرے کی حق تلفی نہیں کر رہے ہوتے ہیں؟ یہ سب کو معلوم ہوتا ہے۔ ایسے معاملات میں کوئی اخلاقی اصول نہیں ہوتا، وقت پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ جب مجھے ایسا معاملہ پیش آئے گا تو میں بھی یہ ہی کروں گا۔ آپ کو معاملات پیش آئیں گے تو آپ بھی کریں گے۔ آپ کسی غریب آدمی کی مددتو کریں، لیکن اس بات کا خیال بھی رکھیں کہ اس کی مدد کرنے سے کسی دوسرے پر ظلم نہ ہو۔

(جاوید احمد غامدی)

جواب: جو آدمی ناجائز کام کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق مارتا ہے۔ اس کوجان بچانی مشکل ہو گی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر کوئی آدمی لوگوں کے حقوق نہیں دیتا تو وہاں اس کے پاس دینے کو کچھ بھی نہیں بچے گا۔ سوائے نیکیوں کے کہ ان سے تبادلہ کر لے۔ اگر کوئی لوگوں کو تنگ کرتاہے، طرح طرح کے جرم کرتا ہے اور اس کے بعد وہ نماز پڑھتا ہے۔ نماز سے جو اجر ملتا ہے، روزے سے جو اجر ملتا ہے، اس کا ثواب حقوق العباد ادا نہ کرنے کی وجہ سے ختم ہو جائے گا۔ اس کی آپ کو عملی طور پر تلافی کرنی چاہیے، لوگوں سے معافی مانگنی چاہیے۔اصل میں آپ پر کچھ ذمہ داریاں اور فرائض ہیں۔ یہ فرائض آپ پر خدا کے حوالے سے بھی عائد ہوتے ہیں اور کچھ انسانوں کے حوالے سے بھی۔ لوگوں کی یہ بڑی غلط فہمی ہے کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ جنت اہلیت کے بغیر مل جائے گی، آپ پہلے اپنے آپ کو جنت میں جانے کا اہل ثابت کریں گے۔ مثال کے طور پر ایک شخص نے ساری زندگی بے شمار نمازیں پڑھی ہیں۔ کوئی لیلتہ القدر ایسی نہیں، جس میں اس نے عبادت نہیں کی، ہر سال حج کیا ہے۔لیکن ایک معصوم انسان کو قتل کر دیا ہے تو اس کا جنت میں جانے کا استحقاق ختم ہو گیا، اسی طرح ایک آدمی ظلم کرتا ہے، اس کے والد نے جو میراث چھوڑی، وہ اس کی صحیح تقسیم نہیں کرتا۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔

            پہلا مسئلہ تو جنت جانے کے لیے اہل ثابت کرنا ہے۔جنت میں جانے کا اہل ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ نے کوئی ایسا جرم نہ کیا ہو جو جنت میں جانے سے روکے۔ میں نے آپ کو دو جرائم کی مثال دی ہے۔ ان کے بارے میں قرآن مجید میں بالکل واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی آدمی جنت میں نہیں جا سکتا ۔ اسی طرح قرآن میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ وہ آدمی جو تکبر کرتا ہے اور تکبر کی تعریف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے کہ وہ کسی صحیح چیز کے مقابلے میں انانیت کی وجہ سے ڈٹ جاتا ہے اور لوگوں کو حقیر سمجھتا ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ سوئی کے ناکے میں سے اونٹ داخل ہو سکتا ہے، وہ جنت میں نہیں جا سکتا۔ اگر آپ لیلۃ القدر یا کسی اور رات میں بہت معافی مانگتے ہیں۔ بے شمار استغفار کرتے ہیں۔ آپ حج پر چلے جاتے ہیں، مگر آپ نے کسی کے پلاٹ پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے، جب تک آپ اسے مالک کو نہیں لوٹاتے، کیسی معافی اور کیسا ثواب؟

(جاوید احمد غامدی)

جواب۔  جواری، شرابی ہونے کی وجہ سے پہلے وہ جہنم میں جائے گا، پھر اجر ملے گا۔ پہلے تو وہ گناہ معاف ہوں گے، جنت میں جانے کے لیے پہلے ان گناہوں سے بچنا ہے۔ جو لوگ کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں، ان کے لیے جنت ہے، پہلے تو آپ ان باتوں سے بچیں اور اگر کوئی کام کر بیٹھے ہیں تو توبہ کیجیے اور اگر کوئی زیادتی آپ نے کسی کے ساتھ کی ہے تو تلافی کیجیے۔ مثال کے طور پر ایک شخص نے بدکاری کی تو یہ تو اللہ تعالیٰ کا جرم ہے۔ اس پر معافی مانگ لے تو ہو سکتا ہے کہ وہ کریم معاف کر دے، لیکن ایک شخص نے کسی آدمی کو مار ڈالا، کسی آدمی کا مال لوٹ لیا، کسی کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ اس میں صرف توبہ کام نہیں کر سکتی۔ تلافی کرنا پڑے گی۔ آپ کو اس بندے کو راضی کرنا ہو گا۔ دنیا میں راضی کرنا پڑے گا۔ اگر موقع نہیں ہے تو قیامت میں راضی کرنا ہو گا۔اور وہاں نیکیاں دے کر راضی کرنا ہو گا۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: صدقہ کسی ظالم خدا کو دیا جانے والاجگا ٹیکس نہیں ہے کہ وہ یہ لے اور ہم پر اپنا ظلم بند کرے اور نہ ہی رشوت ہے بلکہ صدقہ و خیرات اِس امر اور خواہش کا اظہار ہے کہ بندہ خدا کی طرف بڑھنا چاہتا ہے، اُس سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اُسے اُس کے گناہوں پر سزا نہ دی جائے۔اُس نے خدا کی مخلوق یعنی اپنے بھائی بندوں کے ساتھ اپنا رویہ درست کر لیا ہے ، وہ اُن کا حق پہچانتا ہے اور اُن کی ضروریات پورا کرنے میں اُن کا معاون بن گیا ہے۔لہذا خدا سے درخواست ہے کہ وہ اس کی مشکلات میں مدد فرمائے ۔صدقہ دعا کی عملی صورت ہے۔

(محمد رفیع مفتی)