وتر

جواب: اس مسئلے میں ہمارے فقہاء-04 کرام کی دو آراء ہیں، ایک یہ کہ ماہ ِرمضان المبارک میں فرض نماز جماعت کے ساتھ نہ بھی پڑھی ہو تو اس کا وتر جماعت کے ساتھ پڑھنا بلا کراہت جائز ہے، اور دلائل کے اعتبار سے یہی نظریہ راجح ہے، جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ ‘‘فرضِ عشاء’’ جماعت کے ساتھ نہ پڑھے ہوں، تو وتر بھی جماعت کے ساتھ نہ پڑھے بلکہ تنہا پڑھے، دلائل کے اعتبار سے یہ نظریہ مرجوح ہے۔

فقہاء ِکرام میں یہ اختلاف آراء ایک اور اختلاف پر مبنی ہے، وہ یہ کہ آیا رمضان المبارک میں وتر کی جماعت، ‘‘فرضِ عشاء ’’ کی جماعت کے تابع ہے یا تراویح کی جماعت کے۔ قول صحیح یہ ہے کہ فی نفسہ نماز وتر تو فرض عشاء کے تابع ہے، لیکن وتر کی جماعت کا مسنون ہونا تراویح کی جماعت کے مسنون ہونے کے تابع ہے، کیونکہ اگر وتر کی جماعت عشاء کی جماعت کے تابع ہوتی تو وتر سارا سال جماعت کے ساتھ مسنون ہوتے، اس لئے کہ عشاء کی نماز میں جماعت سارا سال واجب ہے، جبکہ وتر تو صرف رمضان المبارک میں جماعت کے ساتھ مسنون ہیں، پس ثابت ہوا کہ وتر کی جماعت کا مسنون ہونا تراویح کی جماعت کے مسنون ہونے کے تابع ہے۔

(مفتی منیب الرحمان)

جواب :اہل حدیث حضرات کا نقطہ نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ماخوذ نہیں ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کے فہم پر مبنی ہے۔ بعض روایات میں اوتر بواحدۃ (ایک سے طاق کر لو)کے الفاظ آئے ہیں۔اگر اس کا ترجمہ یہ کیا جائے کہ ایک رکعت پڑھ لوجیسا کہ اہل حدیث حضرات نے سمجھا ہے تو ایک وتر پڑھنا حدیث سے ثابت ہو جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک اس جملے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تہجد کی نماز کو طاق پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ کسی نماز کو طاق کرنے کا کم از کم مطلب یہ ہے کہ دو کو تین کیا جائے۔ امام مالک نے یہی رائے دی ہے کہ یہ نماز کم از کم تین رکعت ہے۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ اس کا اصل وقت طلوع فجر سے پہلے ہے۔ عام مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخصت دینے کی وجہ سے اسے عشا کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں۔ہمارے نزدیک ایک رکعت پڑھنا درست نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاوہ نہیں ہے جسے بعض لوگ نے اس جملے سے اخذ کیا ہے۔

(مولانا طالب محسن)

جواب: اہل حدیث حضرات کا نقطہ نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ماخوذ نہیں ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کے فہم پر مبنی ہے۔ بعض روایات میں اوتر بواحدۃ (ایک سے طاق کر لو)کے الفاظ آئے ہیں۔اگر اس کا ترجمہ یہ کیا جائے کہ ایک رکعت پڑھ لوجیسا کہ اہل حدیث حضرات نے سمجھا ہے تو ایک وتر پڑھنا حدیث سے ثابت ہو جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک اس جملے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تہجد کی نماز کو طاق پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ کسی نماز کو طاق کرنے کا کم از کم مطلب یہ ہے کہ دو کو تین کیا جائے۔ امام مالک نے یہی رائے دی ہے کہ یہ نماز کم از کم تین رکعت ہے۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ اس کا اصل وقت طلوع فجر سے پہلے ہے۔ عام مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخصت دینے کی وجہ سے اسے عشا کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں۔ہمارے نزدیک ایک رکعت پڑھنا درست نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاوہ نہیں ہے جسے بعض لوگ نے اس جملے سے اخذ کیا ہے۔

(مولانا طالب محسن)

ج: اگر صبح اٹھنے کا امکان نہیں تو پھر وتر کو ترجیح دینی چاہیے ۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: وتر میں دعائے قنوت پڑھنا لازم نہیں ہے ، اگر آتی ہے تو پڑھ لیجیے اچھی بات ہے ، نہیں آتی تو نہ پڑھیے ،کوئی اور دعا پڑھ لیجے ۔ اس سے نماز میں کوئی کمی نہیں واقع ہوتی ، ایک دعا ہے کریں گے تو بہت اچھی دعا ہے ، نہ کریں تو نمازالبتہ ہو جاتی ہے۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: وتر میں دعائے قنوت پڑھنا لازم نہیں ہے ۔ اگر آپ کو آتی ہے پڑھ لیجیے اچھی بات ہے ، نہیں آتی تو نہ پڑھیے اس سے نماز میں کوئی کمی نہیں واقع ہوتی یہ ایک دعا ہے اور دعا کی جائے تو بہت اچھی بات ہے ۔ نہ کریں تو نماز ہو جاتی ہے۔

(جاوید احمد غامدی)


جواب:نمازِ وتر میں دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے، اور قاعدہ یہ ہے کہ واجب کے رہ جانے پر سجدہ سہو ادا کرنا لازم ہے، سجدہ سہو سے نماز ادا ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگرکوئی شخص وتر میں سورہ فاتحہ اور تلاوت کے بعد دعائے قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میں چلاگیا تو قعدہ اخیرہ میں تشہد پڑھ کر سجدہ سہو کر لے، وتر کی ادائیگی درست ہوگی۔ دعائے قنوت بھول جانے کی صورت میں سجدہ سہو کرنے کے بعد وتر لوٹانے کی ضرروت نہیں ہے۔ رکوع سے قیام کی طرف لوٹنے کی بھی حاجت نہیں۔ سجدہ سہو سے وتر کی ادائیگی ہو جائے گی۔
 

(منہاج القرآن)