سلام کے مسائل

جواب: صحیح بخاری (ج:۲ ص:۶۲۹) میں حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
‘‘علمنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم التشھد وکفّی بین کفّیہ‘‘ 
ترجمہ:مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے التحیات سکھائی، اور اس طرح سکھائی کہ میرا ہاتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا۔’’
اِمام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث ‘‘باب المصافحۃ’’ کے تحت ذکر فرمائی ہے، اور اس کے متصل ‘‘باب الاخذ بالیدین’’ کا عنوان قائم کرکے اس حدیث کو مکرّر ذکر فرمایا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا سنتِ نبوی ہے، علاوہ ازیں مصافحہ کی رْوح، جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے تحریر فرمایا ہے:
اپنے مسلمان بھائی سے بشاشت سے پیش آنا، باہمی اْلفت و محبت کا اظہار ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ ص:۸۹۱)
اور فطرتِ سلیمہ سے رْجوع کیا جائے تو صاف محسوس ہوگا کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں اپنے مسلمان بھائی کے سامنے تواضع، انکسار، اْلفت و محبت اور بشاشت کی جو کیفیت پائی جاتی ہے، وہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں نہیں پائی جاتی۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)


جواب:سلام اور مصافحہ ان لوگوں کے لئے مسنون ہے جو باہر سے مجلس میں آئیں۔ فجر و عصر کے بعد سلام اور مصافحہ کا جو رواج آپ نے لکھا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے یہاں اس کا معمول نہیں تھا، لہٰذا یہ رواج بدعت ہے۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

جواب: عیدین کا معانقہ کوئی دِینی، شرعی چیز تو ہے نہیں، محض اظہارِ خوشی کی ایک رسم ہے، اس کو سنت سمجھنا صحیح نہیں، اگر کوئی شخص اس کو کارِ ثواب سمجھے تو بلاشبہ بدعت ہے، لیکن اگر کارِ ثواب یا ضروری نہ سمجھا جائے محض ایک مسلمان کی دِلجوئی کے لئے یہ رسم ادا کی جائے تو اْمید ہے گناہ نہ ہوگا۔

(مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)

جواب:عید کے بعد مصافحہ یا معانقہ کرنا محض ایک رواجی چیز ہے، شرعاً اس کی کوئی اصل نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں، اس لئے اس کو دِین کی بات سمجھنا بدعت ہے، لوگ اس دن گلے ملنے کو ایسا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی اس رواج پر عمل نہ کرے تو اس کو بْرا سمجھتے ہیں، اس لئے یہ رسم لائقِ ترک ہے۔

(مولانا یوسف لدھانی)

جواب:مندرجہ ذیل اشخاص کو سلام کرنا مکروہ ہے: ایسے شخص کو جو نماز میں یا تلاوت میں یا کھانے پینے میں مشغول ہویا وعظ ودرس میں مشغول ہو اسی طرح ایسے شخص کو جو اذان دے رہا ہو یا خطبہ دے رہا ہو یا فریقین کے درمیان فیصلے کے لیے بیٹھا ہو یا شطرنج وغیرہ کھل رہا ہو یا بول وبراز (پیشاب، پاخانہ) کے لیے بیٹھا ہو یا کشف عورت کی حالت میں ہو وغیرہ۔

(دارالافتا ، دارالعلوم دیوبند )

ج : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانا کھانے کے حوالے سے جو کچھ منقول ہے میرے مطالعے کی حد تک یہ ہے:

1۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا

2۔ دائیں ہاتھ سے کھانا

3۔ اپنے آگے سے کھانا

4۔ مشروبات میں پھونک نہ مارنا

کھانا کھانے کے دوران میں گفتگو نہ کرنا میرے مطالعے میں اس مضمون کی کوئی روایت نہیں ہے۔میرا خیال یہ ہے کہ کھانا کھاتے ہوئے بولنے میں گلے میں لقمہ پھنسنے کا خدشہ ہوتا ہے اس لیے بڑے ایسا کرنے سے منع کرتے ہیں۔ غالباً اسی بات نے بڑھتے بڑھتے وہ صورت اختیار کر لی ہے جو آپ نے بیان کی ہے۔ میرے خیال میں سلام کرنے اور سلام کا جواب دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بس یہ خیال رکھیں کہ لقمہ منہ میں صحیح جگہ پر ہو۔           

(مولانا طالب محسن)

جواب۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر ‘‘السلام علیکم یا ایھاالنبی’’ کہنا ہرگز شرک نہیں ہے۔

(محمد رفیع مفتی)

جواب: کہہ سکتے ہیں یعنی آپ اس اہتمام کے ساتھ یہ بات کر سکتے ہیں کہ پروردگار اس کے لئے سلامتی کا اہتمام کر۔اسکو ہدایت دے یہ توآ پ کی نیت پر ہے۔کوئی ممانعت نہیں ہے۔

(جاوید احمد غامدی)