حمد


مضامین

حمد باری تعالیٰ صد شکر کہ یوں وردِ زباں حمدِ خدا ہے وہ سب سے بڑا سب  سےبڑا سب سے بڑا ہے اس کا کوئی ثانی، نہ مشابہ، نہ مقابل وہ سب سے جدا سب سے جدا سب سے جدا ہے کافر ہو کہ مسلم، کوئی مشرک ہو کہ مومن وہ سب کا خدا سب کا خدا سب کا خداہے وہ خالق...


حمد رب  جليل اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں اور اُن کے درمیاں جو ہے مکینوں و مکانوں میں ہوا چلتی ہے باغوں میں تو اُس کی یاد آتی ہے ستارے چاند سورج ہیں سبھی اُس کے نشانوں میں اُسی کے دم سے طے ہوتی ہے منزل خوابِ ہستی کی وہ ...


حمد  رب جليل (آزاد نظم) نہ صدا کا سمت کشا ہوں میں نہ ورق پہ میرا وجود ہے مرے حرف میں وہ چمک نہیں جو ترے خیال کی چھب میں ہے مرا انگ کیا مرا ڈھنگ کیا سرِ خامہ روح کا دُود ہے یہی میرا رازِ شہود ہے میں شکست خوردہ خیال ہوں مجھے آیت...


حمدِ باری تعالیٰ حدِ قیاس کے ہر انتخاب میں تُو ہے حدیثِ ماضی و فردا کے باب میں تُو ہے سحَر سحَر کے اجالوں میں، ظلمتِ شب میں کِرن کِرن میں ترا عکس، تاب میں تُو ہے کمالِ حسنِ صناعت میں، نقشِ فطرت میں جمالِ قوسِ قُزح میں، شِہاب میں تُو ہے فُرو...


حمد رب جليل خالقِ کن فکاں، مالکِ دو جہاں کوئی کیسے کرے حمدِ کامل بیاں یہ زمین و زماں، یہ مکاں لامکاں تیرے جلووں کی پیہم نمائش یہاں رنگ تیرے ہی بکھرے کراں تا کراں برگ و بار و حجر، ریگ و آبِ رواں تیری ہی کبریائی کا اعلان اذاں ہے ترا ذکر ہی...


حمد باری تعالیٰ ہے تُو ہی نہاں ، ہے تو ہی عیاں ، تری شان جل جلالہ تُو کہاں نہیں ، نہیں تُو کہاں ، تری شان جل جلالہ ترے نور ہی کا ظہور ہیں ، یہ جو جن و انس و طیور ہیں یہ شجر حجر ، یہ زمیں زماں ، تری شان جل جلالہ تُو ہی ڈوبتوں کا سہار...


حمد رب جليل آرزوئے چشمِ تر کی انتہا سجدے میں ہے ہر نوا، ہر ضابطہ، ہر التجا سجدے میں ہے سنگِ اسود چوم کر مَیں آج بھی رویا بہت سنگِ اسود چوم کر میری انا سجدے میں ہے قافلے والو! ذرا ٹھہرو حطیمِ پاک میں آنسوئوں میں تر ابھی میری دعا سجدے م...


  حمد باری تعالی كونین کی ہر شے میں وہی جلوہ نما ہے جتنی بھی ہو توصیفِ خدا، حق ہے بجا ہے یہ ابر، یہ کہسار، یہ صحرا، یہ گلستاں جو کچھ بھی ہے سب اُس کا کرم اس کی عطا ہے ہر گل کے تبسم میں عیاں حُسن ہے اُس کا بلبل کے ترنم میں نہاں...


حمد باری تعالیٰ رائی ہو یا جبل ہو سب میں کمال تیرا ہر کام اے الٰہی ہے بے مثال تیرا ٹوٹے گلاب جتنے بھی شاخسارِ کُن سے سب میں تری مہک ہےسب میں جمال تیرا تاجِ انا فنا کی لَو سے پگھل اٹھے گا باقی رہے گا بس تو جاہ و جلال تیرا پھر ا...