ستمبر 2008
وہ ایک خوشحال گھرانے میں پیداہوا۔اس کے والد ہندوؤں سے بھرے شہرمیں پہلے مسلمان وکیل تھے۔زندگی کا جبر مسلسل اس کے قریب سے بھی نہ گزرا تھا۔ اس کے باوجود نہ جانے کیا بات تھی کہ وہ ان لوگوں کادرد بری طرح محسوس کرتاتھا کہ جن کی زیست بس ایک مفلس کی ردا ت...
جنوری 2005
۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی کا آغاز ہوا تو ریاست باند ہ میں بعض نادان مسلمان جو ش میں آ کرہو ش کھو بیٹھے اور انگریزوں کے بے گناہ بچوں اور عورتوں پر دست درازی کی کوشش کرنے لگے ۔ ایسے میں یہ مرد ِ اخلاص اپنے ہی بھائیوں کے خلاف میدا...
فروری 2005
باپ کو طوطے پالنے کا بہت شوق تھا۔ ایک سفر پہ چلتے ہوئے جہاں اس نے اپنے سات سالہ بیٹے کو ساتھ لیا وہیں طوطے کا پنجرہ بھی ہاتھ میں لٹکا لیا۔ راستے میں ایک باغ پر گز ر ہوا۔ باپ نے ایک کچا امرود توڑ کر پنجرے میں ڈال دیا۔ بیٹے نے اد ب سے کہ...
مارچ 2005
گاڑی آنے میں تھوڑا وقت باقی تھا۔مسافر نے کہا کہ میرے ساتھ گنے ہیں انہیں بھی تلوا لو۔ اور ریلوے کے قانون کے تحت جو کرایہ بنتا ہے وہ ادا کردو۔ریلوے کا عملہ مسافر کے مقام و مرتبے سے بخوبی آگاہ تھا۔ انہوں نے کہا حضرت اس کی ضرورت نہیں۔ ہم گارڈ کو کہہ د...
اپریل 2005
اس دن بھی شہر کی مسجد وں میں معمول کے مطابق عصر کی اذان ہوئی مگر کسی مسجد میں جماعت نہ ہو سکی ۔ جماعت کیسے ہوتی کہیں کوئی بالغ مرد موجو د ہی نہ تھا وہ تو سب کے سب مرکزی مسجد میں جمع ہو رہے تھے ۔جہاں نماز کے ساتھ حق اور سچ کے ساتھی کا ...
مئی 2005
خلیفہ وقت نے اپنے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا اور انہیں نہایت عزت و احترام سے شاہی مہمان خانے میں ٹھیرایا۔مہمان کے ساتھ ان کا نوجوان بیٹا بھی تھا۔ یہ ایک دن شاہی اصطبل میں داخل ہوا ۔ وہاں ایک گھوڑے پر سوار ہونے کی کوشش کی لیکن گھوڑا من...
جون 2005
قیدی کو بیڑیوں میں جکڑ کر لایا گیا۔ سامنے بہت ہیبت ناک منظر تھا۔ کھلے میدان میں حکمران کے حکم پر ڈھیروں لکڑیا ں جمع کر کے ایک خوفناک آگ جلا دی گئی تھی اور چھوٹے بڑے سب اس میدان میں جمع تھے تا کہ وہ اس قید ی کی ‘‘توبہ’’کا منظر دیکھیں یا...
جولائی 2005
بیٹے نے قاضی القضاۃ باپ سے کہا کہ ابا جان میرا فلاں قوم سے یہ جھگڑا ہے ( اور پوری تفصیل بیان کی ) ۔ اگر تو فیصلہ میرے حق میں ہو تو میں معاملہ عدالت میں لے آؤں۔اور اگر اس کے برعکس ہو تو میں عدالت سے باہر ہی ان سے تصفیہ کر لوں۔ باپ نے کہ...
ستمبر 2004
وہ لینا نہیں دینا جانتا تھا۔ اسے لینے کی ضرورت بھی کیا تھی خود اس کے پاس دینے کو بہت کچھ تھا مگر لینے والے اس وقت بھی تھوڑے تھے اور اب بھی کم ہی ہیں مگر کمی یا بیشی سے کیا ہوتا ہے سونے کا ایک تولہ خس و خاشاک کے بہت سے ڈھیروں پہ بھاری ہوا کرتا ہے ۔...
اکتوبر 2004
آدھی سے زیاد ہ شب بیت چکی تھی مگر نیند تھی کہ اس کی آنکھوں سے کوسوں دور’ آخر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور جب بیٹھنے سے بھی بے چینی کم نہ ہوئی تو وہ اٹھ کر ٹہلنے لگا۔ اسی چلت پھر ت سے بیوی کی آنکھ کھل گئی ۔ بیوی نے پوچھا کہ آپ کو کس درد نے بے...
نومبر 2004
ابھی پوبھی نہ پھوٹی تھی۔رات کے اندھیرے میں وہ چلا جا رہاتھا۔ بہت گھبرایا ہوا ’ پریشان اور بے قرار۔اس کی منزل جیل تھی جہاں اس کا عزیز ترین دوست قید تھا۔اس نے طے کر لیا تھاکہ وہ اپنے عزیز ترین دوست کو موت کی سزا نہیں ہونے دے گا۔اور راتوں...
دسمبر 2004
یہ ۱۹۲۱کی بات ہے۔ لدھیانہ کے کھلے میدان میں ہزاروں کا مجمع بت بنا بیٹھا ہے ۔اور ایک درویش منش انسان اسٹیج پر بیٹھا، لاؤڈ اسپیکر سے بے نیاز، بلند آواز میں تقریر کر رہا ہے’ اسٹیج سے ذرا ہٹ کر مقامی تھانے کا انچارج بیٹھا ہے ۔ وہ جلسے کی ...