مرزا مظہر جان جاناں

مصنف : عبدالغنی محمدی

سلسلہ : شخصیات

شمارہ : دسمبر 2014

حضرت مرزا مظہر جان جاناں کا نام ان قابل قدر شخصیات میں سے ہے جنہوں نے ہند وستان میں دین اسلام کی حفاظت کا بیڑہ اٹھایا۔آپ بیک وقت قرآن کریم کے مفسر ،حدیث کے محدث،خانقاہ کے عظیم صوفی اور میدان جنگ کے عظیم مجاہد تھے۔آپ نے ان تمام ذرائع کو اسلام کی خدمت اور اشاعت و ترویج کے لئے استعمال کیا۔

آپ11رمضان، جمعۃالمبارک ،1111ھ کو حضرت جان کے گھر پیدا ہوئے جو کہ عظیم مغلیہ حکمران اورنگ زیب عالمگیر کے دور حکومت میں منصب قضاپر فائز تھے۔آپ کا نام اورنگ زیب عالمگیر نے ہی یہ کہہ کر کہ بیٹا باپ کی جان ہوتا ہے جان جاں رکھا۔مظہر تخلص ،شمس الدین اور حبیب اللہ لقب تھا۔آپ دراز قد تھے، عمامہ بطور سنت باندھتے تھے ، لباس بہت معمولی مگر صاف اورقمیض پیش چاک پہنتے تھے۔ بال پٹے ،کشادہ پیشانی ، باریک بھنویں ،بڑی بڑی آنکھیں ،لمبی ناک ،گھنی داڑھی ،بہت خوبصورت وجیہ اور تندرست و توانا انسان تھے۔ فطرتاً آپ بہت نفیس تھے۔آپ کی نفاست کے واقعات بہت مشہور ہیں۔

مرزا صاحب کے والد نے بچپن ہی سے ان کی تعلیم و تربیت کا بہت اہتمام کیا تھا اور کم عمری میں ہی یہ سلسلہ شروع کردیا تھا۔آپ نے رسائل فارسی اپنے والد سے محاورۃ پڑھے ،قرآن شریف قاری عبد الرسول سے پڑھا اورتجوید و قراء ت کی سند بھی انہی سے حاصل کی۔والد مرحوم کی وفات کے بعد حدیث و تفسیر کا علم حاجی محمد افضل سیالکوٹی سے حاصل کیا۔آپ کے اکثر معاصرین نے جن میں گردیزی،تہام الدین قائم،عنایت اللہ اور شاہ عبدالعزیزشامل ہیں،آپ کے علم و فضل کا اعتراف کیا ہے اور آپ کو علم تفسیر،فقہ اور سیر و تواریخ میں مہارت رکھنے والا ایک کامل عالم،عارف اور عامل قرار دیا ہے۔علوم ظاہریہ کے ساتھ ساتھ علوم باطنیہ میں بھی آپ کو نمایاں مقام حاصل ہے اور آپ سلسلہ نقشبندیہ کے ایک بلند پایہ صوفی کی حیثیت سے تاریخ میں پہچانے جاتے ہیں۔علوم باطنیہ کی تحصیل کے لئے بھی آپ نے خاصی جدوجہد کی۔سب سے پہلے آپ سیدنور محمد بدایونی سے بیعت ہوئے ۔ان کا طریقہ یہ تھا کہ بیعت کے لئے آنے والے شخص کی صلاحیتوں کا اولاً اندازہ کرتے پھر استخارہ کرتے،اگر استخارہ حق میں آتا تو مرید کرتے تھے ورنہ انکار کر دیتے تھے۔لیکن مرزا صاحب کی صلاحیت اور استعداد سے متاثر ہو کر انھوں نے فوراً اپنا مرید بنا لیا۔

چار سال پیر و مرشد کی خدمت میں رہ کر انھیں ولایت کبری و خرقہ و اجازت مطلقہ حاصل ہو گئی۔1135ھ میں حضرت سید نور محمد بدایوانی کا انتقال ہو گیا۔مرزا صاحب 6 سال تک اپنے مرشد کے مزار کی مجاوری کرتے رہے ،اس کے بعد حضرت جیو ،حضرت شاہ گلشن ،حضرت سید محمد زبیر اور حافظ سید سعد اللہ جیسے نامور صوفیا سے بھی استفادہ کیا۔مدتوں بزرگوں سے کسب فیض کے بعد مرزا صاحب نے خود رشد و ہدایت کا کام شروع کیا۔آپ کے نام کی رعایت سے آپ کے طریقے کو شمسیہ مظہریہ کہتے ہیں۔

تعلیم تزکیہ کے ساتھ آپ کو جہاد میں بھی خاصا شغف تھا ،اسلحہ میں بہت مہارت رکھتے تھے۔خود فرماتے تھے کہ "اسلحہ کے استعمال میں مجھے ایسی مہارت ہے کہ اگر بیس آدمی تلواروں سے مجھ پر حملہ کریں اور میرے ہاتھ میں صرف لاٹھی ہو تو کوئی میرا بال بیکا نہیں کر سکتا۔

شاہ غلام علی آپ کے مرید خاص لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز مغرب کے سلام کے وقت ایک شخص نے خنجر سے آپ پر حملہ کرنا چاہا آپ نے لپک کر اس سے خنجر چھین لیا اور پھر واپس کردیا ،اس نے پھر وار کیا آپ نے پھر چھین کر واپس کردیا ، سات مرتبہ ایسا ہوا ،آخر وہ آپ کے قدموں میں گر پڑا۔

آپ نے اپنے عہد کی جنگوں میں بھی حصہ لیا اور بڑی بہادری و بے جگری سے لڑے۔"

اللہ رب العزت نے آپ کو علوم متعارفہ تک ہی محدود نہ رکھا تھا بلکہ آداب شاہی، فنون سپہ گری اور صنائع ہنروری سے بھی نوازا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا صاحب امور سلطنت سے بھی بہرہ مند تھے اور آپ کے دور کا صاحب اقتدار طبقہ آپ سے امور مہمہ میں مشورہ کرتا تھا۔آپ کے خطوط میں وہ خطوط بھی شامل ہیں جوانتظام الدولہ اور نواب عمادالملک کے نام لکھے تھے۔

خود فرماتے ہیں کہ اورنگ زیب سے لیکر شاہ عالم ثانی تک تقریباً 15 بادشاہوں کا زمانہ میں نے پایا اور سبھی کی امور سلطنت میں رہنمائی کی۔

آپ کی ازدواجی زندگی بہت تلخ تھی ،آپ کی شریک حیات بہت تیز مزاج تھیں ،بات بات پر لڑتی تھیں۔ آپ کے تین صاحبزادوں کا نام تاریخ میں پیر علی ،عبداللہ اور نظامی ملتا ہے ،لیکن ان میں سے کسی نے بھی شہرت نہیں پائی۔

آپ نے خاصی عمر پائی ،آخر عمر میں صحت گر گئی تھی ،بہت ضعیف اور ناتواں ہو چکے تھے ،نظر کمزور ہو چکی تھی ،کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتے تھے ،آپ کو شہادت کی بہت تمنا رہتی تھی۔ اللہ رب العزت نے بڑھاپے میں آپ کی اس خواہش کو پورا کیا۔ 7 محرم الحرام 1195ھ کچھ لوگوں نے آپ کے دروازے پر دستک دی ، رات کا کچھ حصہ بیت چکا تھا ،خادم نے عرض کیا کہ کچھ مرید ملاقات کو آئے ہیں ،حضرت نے فرمایا کہ لے آ ؤ ،تین آدمی دروازے کے اندر آگئے ،حضرت خوابگاہ سے باہر آئے اور ان لوگوں کے برابر کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے تصدیق کرکے آپ ہی مرزا صاحب ہیں،حضرت کو گولی ماردی جو کہ آپ کے سینے پر دائیں طرف لگی، کمزوری کی وجہ سے حضرت زمین پر گر گئے۔ تین دن بستر مرگ پر رہنے کے بعد دس محرم الحرام 1195ھ کو سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی یہ آفتاب رشدوہدایت بھی ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا۔

مولانا فخرالدین نے آپکا جنازہ پڑھایا جو کہ ایک دیدنی جنازہ تھا جس میں ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل غمگین تھا۔دہلی میں آپ کی آخری خوابگاہ ہے۔

آخر میں آپ کی عظمت سے متعلق حضرت شاہ ولی اللہ کا فرمان لکھنا ضروری سمجھتا ہوں :شاہ صاحب فرماتے ہیں " اس وقت مرزا مظہر جان جاناں کی مثل دنیا کے کسی اقلیم اور شہر میں نہیں ہے۔شاید مرحومین میں بھی نہ ملے بلکہ زمانے کے ہر حصے میں ایسے عزیز الوجود لوگ کم ہو تے ہیں۔"اللہ رب العزت آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین )

مزرا صاحب کے بارے میں قاری حنیف ڈار صاحب کہتے ہیں کہ مرزا مظہر جانِ جاناں ایک مشہور صوفی تھے۔ مرزا مظہر اکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے کہ ‘‘ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا، ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا’’۔ پھر غش کھا جاتے- ایک دن ان کے مریدوں نے پوچھ لیا کہ حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیا ماجرا ہے؟

آپ نے فرمایا ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑ ے دھلنے آیا کرتے تھے اور وہ میاں بیوی کپڑ ے دھو کر پریس کر کے واپس محل پہنچا دیا کرتے تھے، ان کا ایک بیٹا بھی تھا جو جوان ہوا تو کپڑ ے دھونے میں والدین کا ھاتھ بٹانے لگا، کپڑ وں میں شہزادی کے کپڑ ے بھی تھے، جن کو دھوتے دھوتے وہ شہزادی کے نادیدہ عشق میں مبتلا ہو گیا، محبت کے اس جذبے کے جاگ جانے کے بعد اس کے اطوار تبدیل ہو گئے، وہ شہزادی کے کپڑ ے الگ کرتا انہیں خوب اچھی طرح دھوتا، انہیں استری کرنے کے بعد ایک خاص نرالے انداز میں تہہ کر کے رکھتا، سلسلہ چلتا رہا آخر والدہ نے اس تبدیلی کو نوٹ کیا اور دھوبی کے کان میں کھسر پھسر کی کہ یہ تو لگتا ہے سارے خاندان کو مروائے گا، یہ تو شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے، والد نے بیٹے کے کپڑ ے دھونے پر پابندی لگا دی، ادھر جب تک لڑکا محبت کے زیر اثر محبوب کی کوئی خدمت بجا لاتا تھا، محبت کا بخار نکلتا رہتا تھا، مگر جب وہ اس خدمت سے ہٹایا گیا تو لڑکا بیمار پڑ گیا اور چند دن کے بعد فوت ہو گیا۔

ادھر کپڑ وں کی دھلائی اور تہہ بندی کا انداز بدلا تو شہزادی نے دھوبن کو بلا بھیجا اور اس سے پوچھا کہ میرے کپڑے کون دھوتا ہے؟ دھوبن نے جواب دیا کہ شہزادی عالیہ میں دھوتی ہوں، شہزادی نے کہا پہلے کون دھوتا تھا؟ دھوبن نے کہا کہ میں دھوتی تھی، شہزادی نے اسے کہا کہ یہ کپڑ ا تہہ کرو، اب دھوبن سے ویسے تہہ نہیں ہوتا تھا، شہزادی نے اسے ڈانٹا کہ تم جھوٹ بولتی ہو، سچ سچ بتاؤ ورنہ سزا ملے گی، دھوبن کے سامنے کوئی رستہ بھی نہیں تھا دوسرا کچھ دل بھی غم سے بھرا ہوا تھا، وہ زار و قطار رونے لگ گئی، اور سارا ماجرا شہزادی سے کہہ سنایا، شہزادی یہ سب کچھ سن کر سناٹے میں آ گئی۔

پھر اس نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا اور شاہی بگھی میں سوار ہو کر پھولوں کا ٹوکرا بھر کر لائی اور مقتول محبت کی قبر پر سارے پھول چڑھا دیے، زندگی بھر اس کا یہ معمول رہا کہ وہ اس دھوبی بچے کی برسی پر اس کی قبر پر پھول چڑ ھانے ضرور آتی۔

یہ بات سنانے کے بعد مرزا مظہر کہتے، اگر ایک انسان سے بن دیکھے محبت ہوسکتی ہے تو بھلا اللہ سے بن دیکھے محبت کیوں نہیں ہو سکتی؟ ایک انسان سے محبت اگر انسان کے مزاج میں تبدیلی لا سکتی ہے اور وہ اپنی پوری صلاحیت اور محبت اس کے کپڑ ے دھونے میں بروئیکار لا سکتا ہے تو کیا ہم لوگ اللہ سے اپنی محبت کو اس کی نماز پڑ ھنے میں اسی طرح دل وجان سے نہیں استعمال کر سکتے؟ مگر ہم بوجھ اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر شہزادی محبت سے تہہ شدہ کپڑوں کے انداز کو پہچان سکتی ہے تو کیا رب کریم بھی محبت سے پڑھی گئی نماز اور پیچھا چھڑانے والی نماز کو سمجھنے سے عاجز ہے؟

پھر فرماتے وہ دھوبی بچہ اس وجہ سے کامیاب ہے کہ اس کی محبت کو قبول کر لیا گیا جب کہ ہمارے انجام کا کوئی پتہ نہیں قبول ہو گی یا منہ پر ماردی جائے گی، اللہ جس طرح ایمان اور نماز روزے کا مطالبہ کرتا ہے اسی طرح محبت کا تقاضا بھی کرتا ہے، یہ کوئی مستحب نہیں فرض ہے! مگر ہم غافل ہیں۔

پھر فرماتے اللہ کی قسم اگر یہ نمازیں نہ ہوتیں تو اللہ سے محبت کرنے والوں کے دل اسی طرح پھٹ جاتے جس طرح دھوبی بچے کا دل پھٹ گیا تھا، یہ ساری ساری رات کی نماز ایسے ہی نہیں پڑ ھی جاتی کوئی جذبہ کھڑ ا رکھتا ہے، فرماتے یہ نسخہ اللہ پاک نے اپنے نبی کے دل کی حالت دیکھ کر بتایا تھا کہ آپ نماز پڑھا کیجئے اور رات بھر ہماری باتیں دہراتے رھا کیجئے آرام ملتا رہے گا، اسی وجہ سے نماز کے وقت آپ فرماتے تھے ‘‘ارحنابھا یا بلال۔ اے بلال ہمارے سینے میں ٹھنڈ ڈال دے اذان دے کر’’۔