امام كسائی

مصنف : ڈاکٹر عالم خان

سلسلہ : شخصیات

شمارہ : دسمبر 2025

شخصيات

امام كسائی

عالم خان

عوام و خواص سب امام کسائیؒ [ت ٨٠٤م/١٨٩ھ] سے واقف ہیں۔ لیکن کیا کوئی جانتا ہے کہ یہ عظیم امام کس طرح ایک عام چرواہے سے علم و فضیلت کے اس بلند مقام تک پہنچے؟امام کسائیؒ نے علم کی دنیا میں قدم اس وقت رکھا جب زندگی کے چالیس بہار گزر چکے تھے۔ چالیس سال تک ان کی زندگی کا معمول بس ریوڑ چرانا تھا؛ صبح اٹھتے، اپنے جانوروں کی دیکھ بھال کرتے اور شام کو واپس لوٹ آتے۔ دنیا ان کے لیے بس یہی معمولی سا دائرہ تھی۔ایک دن، اپنی روزمرہ کی عادت کے مطابق وہ جانور چرا رہے تھے کہ ان کی نظر ایک گھر کی کھڑکی پر پڑی۔ اندر سے ایک ماں کی آواز آ رہی تھی جو اپنے بیٹے کو ڈانٹ رہی تھی:"اگر تم قرآن نہیں پڑھو گے تو کل تم بھی اسی چرواہے کی طرح جانور چراؤ گے!"یہ الفاظ امام کسائیؒ کے دل و دماغ پر بجلی کی طرح گرے۔ ان کے اندر ایک غیر معمولی جھنجھلاہٹ اور شعور کی روشنی جاگ اُٹھی۔ وہ لمحہ ایک انقلاب تھا، ایک ایسا لمحہ جو زندگی کی سمت مکمل طور پر بدل دینے والا تھا۔

اسی دن، انہوں نے اپنے جانور فروخت کر دیے اور علم کی راہوں پر قدم رکھا۔ وہ عام کسائی سے امام کسائیؒ بن گئے؛ ایک ایسا امام جو علم نحو و قراءت میں بلند مقام رکھتا تھا، جس کے امامت میں خلیفہ وقت ہارون الرشید بھی نماز پڑھنا سعادت سمجھتے تھے۔ آج، جب لوگ علم کی گہرائی، عظمت اور حصولِ علم کے لیے انتھک محنت کی مثالیں دیتے ہیں، تو فورا امام کسائیؒ کا نام سرفہرست لیتے ہیں۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عظمت کبھی کبھار ایک لمحے کی آنکھ کھول دینے والی حقیقت سے جنم لیتی ہے، اور ایک لمحے کا اثر انسان کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔ عزم و ہمت ہو تو کسی بھی عمر میں علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔