انور مسعود اورپنجابی زبان

مصنف : اظہار الحق

سلسلہ : شخصیات

شمارہ : دسمبر 2025

شخصيات

 انور مسعود اورپنجابی زبان

اظہار الحق

برج نرائن چکبست کا مشہور شعر ہے:اس کو ناقدریٔ عالم کا صلہ کہتے ہیں---مر گئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا-مگر انور مسعود کے بچوں نے ایسا نہیں ہونے دیا! انور مسعود صاحب نوّے برس کے ہوئے تو ان کے بچوں اور بچوں کے بچوں نے ایک یادگار تقریب منعقد کی۔ اس میں اسلام آباد کی ادبی اور سماجی شخصیات تو مدعو تھیں ہی‘ لاہور سے سہیل احمد (عزیزی) بطورِ خاص تشریف لائے۔ انور صاحب کے فرزند‘ کالم نگار اور میڈیا پرسن‘ عمار مسعود نے شگفتہ انداز میں نظامت کی۔ شنیلہ عمار مسعود نے اپنے بابا کے فن پر ڈاکیومنٹری پیش کی۔ دوسری بہو‘ روشین عاقب‘ جو امجد اسلام امجد کی صاحبزادی ہیں‘ اس تقریب کے انتظام وانصرام میں پیش پیش تھیں! انور صاحب کی زبان ذکرِ الٰہی سے تر رہتی ہے۔ ان پر خدا کا خصوصی کرم ہے۔ دنیا بھر میں مقبولیت تو ہے ہی‘ ان کے بچے‘ بہوئیں اور داماد ان پر جان چھڑکتے ہیں! میرا اعزاز کہ اس تاریخی فنکشن میں مَیں بھی شریک تھا اور جن چند افراد نے انور مسعود کے حوالے سے گفتگو کی ان میں بھی شامل تھا!! والد گرامی مرحوم‘ حافظ محمد ظہور الحق ظہور فارسی کے شاعر استاد اور سکالر تھے۔ اس حوالے سے ان کے انور مسعود صاحب سے بہت اچھے مراسم تھے۔ مجھ بے بضاعت پر بھی انور مسعود صاحب ہمیشہ سے شفقت اور محبت کرتے آئے ہیں۔

انور مسعود صاحب کی شاعری‘ علم اور شخصیت کی بہت سی جہات ہیں! ہر جہت پر بات کی جائے تو بہت سے صفحات اور بہت سا وقت درکار ہو گا! پروفیشن کے اعتبار سے وہ فارسی زبان وادب کے استاد ہیں۔ ان کی اہلیہ مرحومہ بھی فارسی کی پروفیسر تھیں۔ ان کی ایک دختر نیک اختر بھی اسی شعبے سے منسلک ہیں۔ ''فارسی ادب کے چند گوشے‘‘ انور مسعود صاحب کی معروف تصنیف ہے۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ ہماری قدیم روایت کے عین مطابق وہ بہت اچھے خطّاط بھی ہیں۔ انور صاحب لفظوں کی ساحری کرتے ہیں۔ اس ساحری میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ ساحری ہی ان کی شاعری کی اصل بنیاد ہے۔ چار زبانوں پر عبور ہے اور چاروں زبانوں سے اس طرح کام لیتے ہیں جیسے زبانیں نہ ہوں‘ زرخرید کنیزیں ہوں! یہ کنیزیں ان کے حضور دست بستہ کھڑی رہتی ہیں اور حکم کی منتظر!! ایران کے سفر کے دوران ان کے لباس پر دہی گر پڑا۔ ایرانی میزبانوں کو فوراً کہا ''از ماست کہ بر ماست‘‘۔ پہلے ماست کا معنی دہی ہے۔ ''برماست‘‘ کا مطلب ''ہمارے اوپر‘‘ ہے۔ ایسی نکتہ وری شاید اہلِ زبان بھی نہ دکھا سکیں! ایک قطعہ دیکھیے‘ کس طرح لفظوں سے کھیلتے ہیں اور لفظ لفظ معنی نکالتے جاتے ہیں:

اگر ہیں تیغ میں جوہر‘ جواہر میں خمیرے ہیں--ادھر زور آزمائی ہے‘ اُدھر طاقت کے نسخے ہیں--مطب میں اور میدانِ وغا میں فرق اتنا ہے---وہاں کُشتوں کے پُشتے ہیں‘ یہاں پُشتوں کے کُشتے ہیں--(وغا جنگ کو کہتے ہیں)۔ ایک اور قطعہ ملاحظہ کیجیے۔ نان اور Non commitment کو کس ذہانت‘ کس مہارت اور کس چابک دستی سے استعمال کرتے ہیں۔

جنت سے نکالا ہمیں گندم کی مہک نے؍ گوندھی ہوئی گیہوں میں کہانی ہے ہماری

روٹی سے ہمیں رغبت دیرینہ ہے انورؔ؍ یہ نان کمٹمنٹ پرانی ہے ہماری

دوسرے مصرعے کی چستی اور خوبصورتی پر غور کیجیے اور سر دھنیے۔

انور مسعود صاحب کا اصل کمال یہ ہے کہ اپنی پنجابی شاعری کے ذریعے انہوں نے اُس اصل پنجابی ثقافت کو زندہ کرنے اور زندہ رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے جو بدقسمتی سے ہمارے ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے۔ مشرقی پنجاب کی پنجابی کے برعکس ہماری پنجابی کے خیمے میں اردو اور انگریزی کا اونٹ گھس چکا ہے۔ ایک المیہ تو یہ ہے کہ سندھیوں اور پٹھانوں کے بر عکس‘ پنجابی اپنے بچوں کے ساتھ پنجابی بولنے سے مکمل پرہیز کرتے ہیں۔ اس کالم نویس کے بچے اسلام آباد میں پیدا ہوئے‘ پلے بڑھے اور گھر میں پنجابی بولتے ہیں۔ میرے پوتیاں پوتے بھی‘ جو دساور میں پیدا ہوئے اور وہیں رہتے ہیں‘ گھر میں پنجابی بولتے ہیں۔ کم ازکم مجھے ابھی تک کوئی پنجابی خاندان اسلام آباد میں ایسا نہیں ملا جس کے بچے گھر میں پنجابی بولتے ہوں۔ پوچھا جائے تو پھسپھسے لہجے میں لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ''بچے پنجابی سمجھ لیتے ہیں‘‘۔ اس پنجابی کُش ماحول میں انور مسعود نے غضب کی پنجابی شاعری کی اور اس شاعری کے ذریعے ڈوبتی پنجابی ثقافت کو بچانے کی کوشش کی۔ تنور ہمارے کلچر کا ایک اہم حصہ تھا۔ میری نسل کے لوگ بچپن میں گھر سے گُندھا ہوا آٹا لے کر جاتے تھے اور محلے کے تنور سے روٹی پکوا کر لاتے تھے۔ تنور والی (ماچھن یا ڈھینوری Dheenwri) معاوضے میں ایک پیڑا رکھ لیتی تھی۔ تنور پر آئی ہوئی عورتوں کی گفتگو کمال کی ہوتی تھی۔ انور صاحب کی نظم ''تندور‘‘ ادب اور ثقافت کا ایک شہکار ہے۔ مشہور نظم ''پنچایت‘‘ انہوں نے بی اے میں کہی تھی۔ سنا ہے ایک ''لڑکے‘‘ کی کہی ہوئی اس نظم نے مشاعرے کو تلپٹ کر کے رکھ دیا تھا۔ بڑے بڑے پرانے برج الٹ گئے تھے۔ داد سے چھت اُڑ گئی تھی۔ مجھے نہیں معلوم یہ نظم پنجابی کے بی اے اور ایم اے کے نصاب میں شامل ہے یا نہیں! یہ نظم ہمارے گمشدہ پنجابی کلچر کا انسائیکلوپیڈیا ہے! اس میں لڑائی بھی ہے‘ کھیتی باڑی بھی ہے‘ حوالات بھی ہے‘ پنجابی کی بددعائیں اور طعنے بھی ہیں اور گاؤں کا لینڈ سکیپ بھی ہے! میری طرح کے جو پنجابی اپنے گاؤں اور کھیت کھلیان چھوڑ کر شہروں میں آبسے ہیں ان کیلئے اس عظیم الشان نظم میں آنسو‘ آہیں اور کراہیں ہیں اور ناسٹلجیا کی شدید ضربیں! میں یہ نظم بیسیوں مرتبہ سن چکا ہوں۔ ہر بار میرے سینے سے ہُوک اٹھتی ہے۔ انور مسعود اگر اور کچھ بھی نہ لکھتے تو یہ ایک نظم ہی انہیں ادب میں زندہ رکھنے کیلئے کافی تھی! بقول ہمارے دوست معین نظامی کے ''حد ہے اور بے حد ہے‘‘! اس نظم میں ہمارے گمشدہ کھیلوں کا ذکر ہے۔ گولی پلّا‘ گجی چارہ اور گلی ڈنڈا کے نام ہیں۔ فارسی محاورے ''کاسہ از آش گرم تر‘‘ کا انور صاحب نے کیا خوبصور ت ترجمہ کیا ہے۔ ساگ نالوں بھانڈا تتا اے!! قوتِ اظہار کو اوجِ کمال پر دیکھیے:

''پرسوں دی گل اے‘‘ پیشی ویلے ڈنگراں نوں‘ پانی شانی لّا کے

امبیاں دے بوٹے تلے‘ واری پیا لاندا ساں میں‘ حقہ شقہ پا کے

باجرے دے اوہلے اوہلے‘ لب لئی جے چودھری جی؟ او جیڑھی تھاں اے

کھوہ جتھے وگدا اے‘ میلہ جتھے لگدا اے‘ تے پِپلے دی چھاں اے

اس کے بعد بچوں کی آپس میں لڑائی ہو جاتی ہے۔ نظم کا ایک کردار بچوں کو چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ چھڑانے کا منظر دیکھیے:

انہاں نوں چھڑاندیاں‘ رولا رپا پاندیاں‘ ہوئی کیہڑی گھٹ اے

نیل میرے متھے اُتے‘ روڑ میرے سر وچ‘ پٹ اُتے پھَٹ اے

یعنی ماتھے پر نیل پڑ گیا‘ سر میں سوجن ہو گئی اور ران پر زخم آ گیا! ایک ہی مصرعے میں سب کچھ جامعیت سے سمو دیا! واہ! انور صاحب! یہ آپ ہی کا حصہ ہے! آگے چلنے سے پہلے دو لفظ سمجھ لیجیے۔ وسطی پنجاب میں ناشتے کے وقت کو ''چھا ویلا‘‘ کہتے ہیں اور دن کے کھانے کے وقت کو ''بھتا ویلا‘‘ کہا جاتا ہے! بھتا ابلے ہوئے چاولوں کو بھی کہتے ہیں۔ (بنگالی میں بھات کھانے کیلئے بولا جاتا ہے)۔ اب پنچایت نظم کا شعر پڑھیے:

لوکی اے سمجھدے نے‘ گوانڈیاں دے پنڈ وچ‘ جِن بھوت نچدا اے

چھا ویلے‘ بھتے ویلے‘ دیگر ویلے‘ شام ویلے‘ روز جنگ مچدا اے

آپ دوسرے مصرعے کو روانی سے پڑھیے! کیا طمطراق‘ شکوہ اور گرینجر (grandeur) ہے! غرض یہ نظم اپنے اندر اتنا کچھ لیے ہوئے کہ ایک مختصر مضمون بیان کرنے سے قاصر ہے -

مسافروں سے بھری بس کسی سٹاپ پر یا ریلوے پھاٹک پر یا پُل پر رکتی تھی تو اس میں کوئی نہ کوئی پھیری والا آ جاتا تھا۔ کوئی دانتوں کی دوا بیچنے والا یا سرمہ فروخت کرنے والا! یہ ہمارے قصباتی کلچر کا حصہ تھا۔ وہ اپنی شے بیچنے کیلئے فصیح و بلیغ تقریر کرتا تھا۔ مسافر سنتے تھے۔ کچھ سادہ لوح اس کی شے خرید لیتے تھے۔ باقی اس کی تقریر سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ انور مسعود صاحب نے اپنی مشہور نظم ''جہلم دا پُل‘‘ میں اس مٹتے ہوئے کلچر کو محفوظ کر لیا ہے۔ ان کا مشاہدہ غضب کا ہے۔ اس میں ایک جنتری بیچنے والا بھی ہے۔ آج کی نسل کو نہیں معلوم جنتری کس چڑیا کا نام تھا۔ نئے سال کی جنتری تقریباً ہر گھر میں ہوتی تھی۔ میرے دادا جان بھی باقاعدگی سے منگواتے تھے اور میں اسے دلچسپی سے پڑھا اور دیکھا کرتا تھا۔ جنتری میں کیا کیا معلومات ہوتی تھیں؟ انور صاحب کی زبانی سنیے:

ایہدے وچ لکھیا اے جس ویلے لگنا اے--چن نو گرہن کدوں کس ویلے لگنا اے

روزیاں دے وچ گھگھو کہیڑے ویلے بولنا اے--کنے وَجے رکھنا اے تے کہیڑے ویلے کھولنا اے

ڈیوڑھا کنا لگدا‘ سوایا کنا لگدا اے--لاہور تو کراچی دا کرایہ کنا لگدا اے

تے مومنو قرآن دیاں کنیاں نے سورتاں--دیس دیاں نامی پہلواناں دیاں مورتاں

ریل دے کرائے دا تے سفر دا حساب اے--رمل تے نجوم‘ جادو‘ جفر دا حساب اے

دنیا دے وڈے وڈے مُلکاں دے حال نے --پندرہ بماریاں دے نسخے وی نال نے

جیسا کہ گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا‘ ہماری پنجابی کے خیمے میں دوسری زبانوں کا اونٹ گھس چکا ہے۔ ڈڈّو کو ہم مینڈک کہتے ہیں۔ باری کو کھڑکی‘ بُوئے کو دروازہ‘ پِیڑ کو درد‘ مسیت کو مسجد‘ مِزمان یا پروہنے کو مہمان‘ پوترے کو پوتا‘ دوہتری کو نواسی‘ نُوں کو بہو‘ کُڑم کو سمدھی اور ساڈھو کو ہم زلف کہنے لگے ہیں۔ وہ تو بھلا ہو گیت گانے والوں کا کہ چند الفاظ سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ جو مشہور گیت ہے‘ چن کتھاں گزاری اے رات وے! تو اس کی دوسری سطر ہے ''مینڈا دل دلیلاں دے وات اے‘‘ کتنے پنجابیوں کو معلوم ہے کہ دلیلاں پنجابی میں وسوسوں کو کہتے ہیں۔ وات منہ کو یعنی دہانے کو کہتے ہیں‘ مطلب یہ ہے کہ تم نے رات کہاں گزاری‘ میرا دل وسوسوں کے دہانے میں ہے! حدیقہ کیانی نے ''بُوہے باریاں‘‘ زندہ کر دی ہیں! انور مسعود صاحب نے اصل پنجابی ناموں کو بہت بڑے پیمانے پر اپنی شاعری میں زندہ بھی کیا ہے اور محفوظ بھی! نظم ''اَج کی پکائیے‘‘ میں لسوڑیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ جھڑی کا نام لیتے ہیں۔ یعنی بارش کا لمبا سلسلہ! وہ ڈھِڈ کا لفظ برتتے ہیں جسے ہم پیٹ کہتے ہیں۔ پھر وہ ''وتؤں‘‘ کا ذکر کرتے ہیں۔ ہم تو وتؤں کا لفظ ہی بھول چکے۔ اب اسے بینگن کہتے ہیں۔ گونگلو یا ٹھپر بھی نہیں کہتے‘ شلغم کہتے ہیں!! انور صاحب کی نظم ''تُوں کی جانیں بھولیے مجے! انار کلی دیاں شاناں‘‘ بھی ہمیں بہت سی بھولی بسری لفظیات یاد کراتی ہے۔ ''پنج کلیان‘‘ وہ بھینس جس کے چاروں کھر اور تھوتھنی سفید ہو! پٹولے رنگین کپڑوں کے وہ ٹکڑے ہوتے تھے جن سے بچیاں کھیلتی تھیں اور گڑیا کا لباس بناتی تھیں۔ غلاف پنجابی کا لفظ نہیں۔ پنجابی میں یہ اُچھاڑ ہے۔ بٹن کو پنجابی میں بِیڑا کہتے ہیں اور اچانک کو اَچن چیتی!!

انور صاحب کا ایک اور شہکار ان کی نظم ''گل کسے کیتی سی‘‘ ہے۔ میں نے جسارت کی ہے کہ اس کا اردو ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش کروں!

کسی نے بات کی تھی--نہ جانے کون سی بات تھی؟؍

نہ جانے کس نے کی تھی؟-- نہ جانے کب کی تھی؟

نہ جانے کیا تاریخ تھی ؟-- نہ جانے دن کون سا تھا ؟

خدا ہی کو معلوم ہے بدھ تھا یا ایتوار تھا؟--نہ جانے کون سا وقت تھا؟

شام کا جھٹپٹا تھا یا فجر کا نور تھا؟--کچھ معلوم نہیں‘ ٹھنڈک تھی یا حرارت تھی؟

دھوپ تھی یا چھاؤں تھی؟--نہ جانے کون سی جگہ تھی؟

شہر تھا یا گاؤں تھا؟--نہ جانے رت کون سی تھی؟

آم کے درختوں پر آم لگ چکے تھے-- یا ابھی صرف بُور لگا تھا؟

یاد داشت کی ''بھڑولی‘‘ کے کونے کھدرے چھان رہا ہوں--وقت کے چیتھڑوں والا ''کھینو‘‘ کھول رہا ہوں!--

کسی نے بات کی تھی تو کیوں کی تھی اور کس طرح کی تھی؟--جس نے بات کی تھی‘ وہ نزدیک تھا یا دور تھا؟

بات کا تو ذائقہ بھی ہوتا ہے! نہ جانے کیسا ذائقہ تھا؟--پھیکی تھی؟ نمکین تھی؟ کھٹی تھی؟ یا کھاری تھی؟

تنبے کی طرح کڑوی تھی یا موتی چُور تھی؟--بات کوئی ضرور تھی!!

اس نظم میں دو لفظ ایسے ہیں جو آج کل کے نام نہاد پنجابیوں کیلئے اجنبی ہوں گے! ایک بھڑولی! بھڑولی یا بھڑولا‘ مٹی کا وہ مٹکا نما گودام ہوتا ہے جس میں گندم محفوظ کرتے تھے! اٹک اور چکوال کے علاقے میں اسے سکاری کہتے تھے۔ آج کل ایلومینیم کے بنے ہوئے بھڑولے استعمال ہو رہے ہیں۔ دوسرا لفظ کھینو ہے۔ یہ تب کی بات ہے جب چیزوں کی خریداری اتنی آسان نہیں تھی۔ نقد روپیہ زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ لالٹین کا شیشہ تڑختا تھا تو کرَیک والی جگہ پر آٹے یا سریش سے کاغذ کا ٹکڑا چسپاں کر دیتے تھے کہ شیشہ کچھ دن اور نکال لے۔ آگ جلانے کیلئے دِیا سلائی ''ضائع‘‘ کرنے کے بجائے خواتین پڑوسن کے چولہے سے مٹی کے ٹھیکرے پر رکھ کر انگارہ لے آتی تھیں! اسی طرح گیند خریدنے کے بجائے مصنوعی گیند بنا لی جاتی تھی۔ چیتھڑوں کو اکٹھا کر کے گول شکل میں سی لیا جاتا تھا۔ اسے کھینو کہتے تھے۔ میرے بچپن میں گاؤں میں کھینو عام تھے اور بچے اسی سے کھیلتے تھے! انور صاحب نے اس نظم میں قوم کے اجتماعی نسیان کا ذکر کیا ہے۔ ہم سب کچھ بھول بیٹھے ہیں! کہاں سے آئے ہیں؟ کہاں جانا ہے؟ نصب العین کیا ہے؟ منزل کون سی ہے؟ ہم ہیں کون؟ ہماری اصل کیا ہے؟ کچھ یاد نہیں!!

اپنی نظم ''چاء تے لسّی‘‘ کو انور مسعود دو مختلف تہذیبوں کا مقابلہ قرار دیتے ہیں۔ لسی مقامی تہذیب کی علامت ہے اور چائے درآمد شدہ تہذیب کی۔ ریستورانوں میں میز کرسیوں پر بیٹھ کر چائے کی سُرکیاں لیتے‘ ہوائی قلعے تعمیر کرتے‘ پیالی میں طوفان اٹھاتے نام نہاد دانشور‘ غیر ممالک کی قدروں کو اچھالتے اور بحث کرتے ہیں! دوسری طرف چوپال میں بیٹھا کسان لسی پیتا ہے اور اپنی زمین سے جڑا ہے! وہ اپنی مٹی‘ اپنے کھیتوں اور اپنی جڑوں کی بات کرتا ہے۔ لسی اور چائے اپنا جھگڑا دودھ کے پاس لے جاتی ہیں! دودھ دساور سے آئی ہوئی چائے کو اپنا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ اب تو چائے بھی ہماری ہی ہے‘ اور لسی اور چائے دونوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے کو قبول کر لیں! غیرملکی تہذیب اور قدروں کی اس قبولیت کو انور صاحب اپنی تہذیب کی آلودگی قرار دیتے ہیں مگر زمینی حقائق اس آلودگی کو قبول کر رہے ہیں! اس نظم میں انور صاحب نے لسی کو ''مائی بگّو‘‘ کا خطاب دیا ہے اور چائے کو ''چینک بیگم‘‘ کا! یہ خطابات فریقین کی ماہیت‘ مزاج اور فطرت کو واضح کرتے ہیں!

ہم اہلِ پنجاب اپنی زبان اور اپنی ثقافت سے الگ ہو کر اپنی جڑوں سے بہت دور‘ خلا میں معلق ہو چکے ہیں۔ جہاں بچوں کو ان کے والدین اپنی مادری زبان بولنے کی اجازت ہی نہ دیں وہاں بچوں کی ذہنی نشو و نما خاک ہو گی؟ انور مسعود نے ہمیں زمین پر واپس لانے کی جد و جہد کی ہے۔ یہ ایک ''وَن مین‘‘ تحریک تھی جو انہوں نے تن تنہا چلائی۔ پوری دنیا میں لوگوں کو پنجابی سے از سر نو روشناس کرایا! اردو میں بھی‘ کیا سنجیدہ اور کیا مزاحیہ‘ ان کی شاعری کمال کی ہے! وہ پاکستان کا اثاثہ ہیں! قیمتی اثاثہ!