شخصيات
چارلس ڈكنز
نامعلوم
جب چارلس ڈکنز کی عمر بارہ سال تھی، اُس کی دنیا بکھر گئی۔1824 کی ایک صبح، اُس کے والد جان ڈکنز کو صرف چالیس پاؤنڈ کے قرض کی وجہ سے Marshalsea Debtors’ Prison بھیج دیا گیا۔ راتوں رات ڈکنز کا گھر برباد ہوگیا-نہ پیسہ، نہ سکول، نہ آرام — بس بقا کی جنگ باقی رہ گئی۔وِکٹورین انگلینڈ میں جب کوئی باپ قرض نہ چکا سکے، تو اُس کے ساتھ پورا خاندان قید ہو جاتا تھا۔ چنانچہ چارلس کی ماں اور بہن بھائی قید خانے میں جا بسے، جبکہ بارہ سالہ چارلس کو محنت مزدوری پر بھیج دیا گیا۔وہ ٹیمز دریا کے کنارے وارن کے بلیکنگ فیکٹری میں نوکری کرنے لگا—ایک چوہوں سے بھرا ہوا گودام جہاں وہ روزانہ دس گھنٹے جوتوں کی پالش کی بوتلوں پر لیبل چپکاتا۔ ہفتے کے صرف چھ شلنگ ملتے۔کام نہایت گندا، بور اور ذلت آمیز تھا۔ جو لڑکا کتابوں اور تعلیم کے خواب دیکھتا تھا، وہ اب کھردرے مزدور بچوں کے درمیان بیٹھا رہتا، ہاتھ کالے اور کپڑے پالش کی بدبو سے بسے ہوئے۔بعد میں اُس نے لکھا کہ یہ "زندگی کا سب سے تکلیف دہ دور" تھا۔
اس شرمندگی اور ذلت نے اُس کا دل توڑ دیا، مگر یہی دکھ اُس کی شخصیت کی بنیاد بن گیا۔
ان ہی دنوں میں اُس نے غریبوں، مزدور بچوں اور بھولے بسے انسانوں کو قریب سے دیکھا۔اس نے سمجھا کہ غربت کوئی جرم نہیں، بلکہ ایک ایسی سزا ہے جو معاشرہ کمزوروں پر تھوپ دیتا ہے۔چند مہینوں بعد، ایک چھوٹی سی وراثت کے ملنے پر اُس کے والد رہا ہوگئے۔ماں چاہتی تھی کہ چارلس کام جاری رکھے تاکہ گھر کے اخراجات چلیں،مگر والد نے ضد کی کہ وہ دوبارہ اسکول جائے —اور یہی فیصلہ تاریخ بدل گیا۔چارلس واپس اسکول تو گیا، لیکن اُس کا دل ہمیشہ کے لیے بدل چکا تھا۔اس نے معاشرے کے خوبصورت نقاب کے پیچھے چھپی سفاک حقیقت دیکھ لی تھی۔یہی تجربہ اُس کے ناولوں میں زندہ رہا—
اولیور ٹوسٹ (1837): ایک یتیم بچے کی کہانی جو مزید کھانے کی جرأت کرتا ہے، مگر نظام اُسے سزا دیتا ہے۔
ڈیوڈ کاپر فیلڈ (1850): اُس کا خودنوشت سا ناول، جس میں ایک لڑکے کو فیکٹری میں کام پر لگا دیا جاتا ہے۔
لِٹل ڈورِٹ (1855): Marshalsea قید خانے پر مبنی کہانی، جہاں پورے خاندان قرض میں قید رہتے ہیں۔
گریٹ ایکسپیکٹیشنز (1861): ایک غریب لڑکے پِپ کی کہانی جو دولت اور طبقے کی چمک دمک میں اپنی اصل کو بھول بیٹھتا ہے—یہ وہی سوال ہے جو ڈکنز نے خود سے بارہا پوچھا:
کیا انسان کی قدر اس کے کردار سے ہوتی ہے یا اس کی جیب سے؟ہر صفحے پر اُس بارہ سالہ لڑکے کی بازگشت سنائی دیتی ہے—جو فیکٹری میں بیٹھا خود کو دنیا سے کٹا ہوا محسوس کرتا تھا۔بعد میں چارلس ڈکنز دنیا کا مشہور ترین ادیب بن گیا۔اُس کے ناول لاکھوں کی تعداد میں بکے، عوامی ریڈنگز کے ٹکٹ مہنگے داموں فروخت ہوئے،اور وہ شاہی طبقے کے ساتھ کھانے پر مدعو ہونے لگا۔مگر اُس نے کبھی بلیکنگ فیکٹری کو نہیں بھلایا—
نہ وہ چوہے، نہ وہ ذلت، نہ وہ احساس کہ وہ معاشرے کے لیے بوجھ ہے۔اُس نے ہمیشہ اُن لوگوں کے بارے میں لکھا جنہیں دنیا بھول جاتی ہے:یتیم، مزدور بچے، مقروض قیدی، غریب عورتیں۔اُس کے ناول محض کہانیاں نہیں تھے—وہ سماجی اصلاح کی تحریریں تھیں۔"اولیور ٹوسٹ" نے ورک ہاؤسز کے خلاف عوامی غصہ بھڑکایا،"اے کرسمس کیرل" نے لوگوں کو یاد دلایا کہ غریب سست نہیں بلکہ بے بس ہیں،اور "گریٹ ایکسپیکٹیشنز" نے انسان کے اندرونی طبقاتی زخم کو بے نقاب کیا۔اُس کی صحافت نے جھونپڑیوں، بیماریوں اور تعلیم کی کمی پر روشنی ڈالی۔چارلس ڈکنز نے اپنی شرمندگی کو ہمدردی میں،اپنے دکھ کو طاقت میں،اور اپنے زخموں کو روشنی میں بدل دیا۔وہ اُن کے لیے بولا جن کی کوئی آواز نہیں تھی۔اُس نے بچوں کو انسان مانا، مزدوروں کو عزت دی،
اور انگلینڈ کو اپنی بے حسی پر شرمندہ کیا۔اور یہ سب اُس بارہ سالہ بچے کی بدولت ہوا—
جو فیکٹری میں جوتوں کی پالش کے لیبل چپکاتا تھا،جبکہ اُس کا باپ قرض کے قید خانے میں سڑ رہا تھا۔وہ دکھ اُسے مٹا سکتا تھا،مگر اُس نے اُسی دکھ کو اپنی پہچان بنا لیا۔
چارلس ڈکنز 1870 میں 58 سال کی عمر میں وفات پا گیا۔پندرہ ناول، بے شمار کہانیاں اور وہ تحریریں چھوڑ گیا جنہوں نے قانون اور دل دونوں بدل دیے۔اُسے ویسٹ منسٹر ایبی میں دفن کیا گیا—جہاں صرف عظیم ترین لوگوں کو جگہ ملتی ہے۔
تھیمز کے کنارے کی اُس گرد آلود فیکٹری سےایک ایسی آواز اٹھی جو آج تک سنائی دیتی ہے—ایک ایسا شخص جس نے ثابت کیا کہ زندگی کا سب سے اندھیرا باب ہی اکثرمقصد کی روشنی بن جاتا ہے۔