سچی کہانی


مضامین

کتے نے شکریہ ادا کیا (وقاص عبید)             "یہ ایک واقعی ناقابل فرامو ش واقعہ ہے یہ تقریباً 15-20 سال پرانا واقعہ ہے جس کا میں چشم دید گواہ ہوں بلکہ بذات خود ملوث رہا ہوں۔ آپ بھی پڑھئے اور ...


            ڈیڑھ سال قبل میری بڑی بہن وفات پاگئیں وہ لاولد تھیں اور ان کے شوہر بھی وفات پاچکے تھے۔ انہوں نے دارالامان سے ایک لاوارث بچی کسی کے ذریعے کئی سال پہلے لی تاکہ ان کی تنہائی دور ہوجائ...


             امرتسر شہر کے مشہور قصبے ہوشیار نگر کو جاتے ہوئے راستے میں سکھ زمینداروں کا ایک گاؤں کھاپڑکھیڑی پڑتا ہے۔ اس گاؤں میں ایک سکھ زمیندار کرم سنگھ کافی زرعی زمین کا مالک تھا۔ اس ن...


             میں شرالہ جانے والی بس میں کھڑکی سے سر ٹکائے بیٹھا باہر تیزی سے بھاگتے مناظر کو خالی خالی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ماضی کے سارے واقعات کسی فلم کی اسکرین کی طرح میرے ذہن کے پر دے...


            گزشتہ سات سال سے لاپتا اور مبینہ طور پر ‘خفیہ ایجنسیوں’ کی تحویل میں ہونے والے علی اصغر بنگلزئی کی بارہ سالہ بچی زرینہ بی بی سے میں نے جوں ہی اس کے والد کے بارے میں پوچھا تو اس کی ...


            یہ 1964کا واقعہ ہے۔ ایک دن میری طبیعت اچانک خراب ہوگئی، صبح سو کر اٹھا تو گردن میں ہلکا ہلکا درد محسوس ہوا۔ اُن دنوں ، میں چار ماہ کی چھٹی پر اپنے گاؤں ماہیا ضلع سیالکوٹ آیا ہوا تھ...


چینی انجینر کو پنا ہ دینے کی سزا دین کے غلط تصور کی کوکھ سے جنم لینے والی المنا ک کہانیاں محمد رسول اللہ کے دین کے بجائے کسی خاص فقہ اور مکتب فکر کا دین نافذ کرنے کی کوشش کے نتیجے میں ایسی ہی المناک کہانیاں جنم لیتی ہیں۔    &nbsp...


محترم مدیر!  السلام علیکم!             عمر بیس برس، تین بھائیوں کی اکلوتی بہن، چند ماہ پیشتر بی اے کا امتحان دیا ہے۔ یہ ہے میرا مختصر تعارف جس میں بظاہر دلچسپی کی کوئی بات نہیں لیکن انک...


            وزیر آباد اور مسجد وزیر خان کا نام کسی پاکستانی کے لیے اجنبی نہیں۔ لیکن اس شہر اور مسجد کو بسانے اور بنانے والے نواب وزیر خان کے حالات سے شاید بہت کم لوگ آگاہ ہوں گے۔   ...


ہمارے معاشرے میں ظالمانہ روپ رکھنے والی عورت کی جو مشفقانہ صورت مصنف نے دکھائی ہے، وہ آپ کی آنکھیں کھول دے گی میری والدہ کی وفات کے چھ سال بعد والدصاحب نے دوسری شادی کی۔ میری سوتیلی والدہ کا تعلق ضلع شیخوپورہ کے ایک معزز جٹ زمیندار خاندان سے تھا۔...


            میری ماں ا س طبقے سے تعلق رکھتی تھی جہاں اولاد کانام ماں سے چلتا ہے۔ میری ماں کے میرے سوا کوئی اولاد نہ تھی اس کا شمار لکھنؤ کی مشہور طوائفوں میں ہوتا تھا۔ میں اس کی اکلوتی اولاد ت...


مذہبی جنون کے ہاتھوں انسانی ، اخلاقی اور حقیقی دینی اقدار کی پامالی کی المناک داستان انگنا کہار میر تفضل حسین کی کھڑکی کے پاس جو چماروں کا چھتہ ہے اس کے قریب ہی دو تین بوسید ہ سی دکانیں اللہ بخشے ، دادا ابا مرحوم کی ملکیت تھیں۔ انہی دکانوں میں ا...