چھوٹے نام بڑے لوگ
وہ اندھی تھی، مگر اپنے شوہر کو دیکھ سکتی تھی
ڈاكٹر محمد عثمان خان
اسلام آباد کے ایک ایف ایم ریڈیو پر میرا صحت کا پروگرام ہوا کرتا تھا۔ پروگرام کے آخر میں میرا فون نمبر بھی دیا جاتا، اس لیے شہروں اور دور دراز دیہات سے لوگوں کی کالیں آتی رہتی تھیں۔ کوئی اپنی بیماری بتاتا، کوئی کسی عزیز کے لیے مشورہ مانگتا اور کبھی کوئی ایسی آواز آ جاتی جو برسوں بعد بھی یاد رہ جاتی ہے۔ایک دن ایسی ہی ایک کال آئی۔
دوسری طرف ایک پختہ، ٹھہری ہوئی دیہاتی آواز تھی۔“ڈاکٹر صاحب، میں ایک گاؤں سے بول رہا ہوں۔ آپ کا پروگرام باقاعدگی سے سنتا ہوں۔ ہماری شادی کو کئی سال ہوگئے ہیں لیکن اولاد نہیں ہوئی۔ ڈاکٹروں کو دکھا دکھا کر تھک گئے ہیں۔ آپ باہر سے پڑھ کر آئے ہیں، سوچا شاید آپ کوئی مشورہ دے سکیں۔میں نے اگلے دن کا وقت دے دیا۔اگلی دوپہر کلینک کی سیڑھیوں پر قدموں کی دھیمی آہٹ سنائی دی۔دروازہ کھلا تو ایک پکی عمر کا شخص اندر آیا۔ ہلکی سی بے ترتیب داڑھی، سادہ لباس اور چہرے پر دیہات کی دھوپ کا رنگ۔ اس نے ایک نوجوان عورت کا ہاتھ تھام رکھا تھا اور بڑی احتیاط سے اسے سیڑھیاں چڑھا کر میرے کمرے تک لایا تھا۔تب مجھے معلوم ہوا کہ وہ عورت دیکھ نہیں سکتی۔اس نے پہلے اپنی بیوی کو کرسی تک پہنچایا، اس کا ہاتھ کرسی کے بازو تک لے گیا اور پھر خود اس کے پاس بیٹھ گیا۔اس چھوٹے سے عمل میں بھی ایک ایسی مانوس احتیاط تھی جو شاید چند دنوں میں نہیں آتی؛ برسوں ساتھ چلتے چلتے انسان کے ہاتھوں میں اترتی ہے۔
وہ شخص بظاہر ایک عام دیہاتی تھا، مگر بات شروع ہوئی تو انداز مختلف نکلا۔ ہمارے دیہات میں بعض ایسے لوگ مل جاتے ہیں جنہوں نے فلسفے کی کوئی کتاب نہیں پڑھی ہوتی، لیکن زندگی انہیں گفتگو کا ایسا سلیقہ دے دیتی ہے کہ ان کی معمولی سی بات بھی دیر تک ذہن میں رہتی ہے۔اس نے اولاد نہ ہونے کا مسئلہ بیان کرنا شروع کیا۔میں نے کہا:“رپورٹیں بھی دیکھیں گے، علاج کی بات بھی کریں گے۔ لیکن پہلے ایک بات بتائیں… آپ دونوں کی شادی کیسے ہوئی؟”وہ مسکرایا۔پھر اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔یوں لگا جیسے اتفاقاً میں نے اس کی زندگی کی سب سے پسندیدہ کہانی کا دروازہ کھول دیا ہو۔کہنے لگا:
“ڈاکٹر صاحب، کسی نے مجھے بتایا تھا کہ ایک لڑکی ہے، نابینا ہے، اس لیے اس کی شادی نہیں ہو رہی۔ میں نے سوچا اللہ کی رضا کے لیے اس کی شادی کرانے کی کوشش کرتا ہوں۔”پھر وہ لوگوں کے پاس جانے لگا۔کسی دوست سے بات کرتا، کسی جاننے والے سے۔ کہتا، اچھی لڑکی ہے، شادی کرلو، اجر ہوگا۔لوگ بات سنتے، لیکن جب معلوم ہوتا کہ لڑکی دیکھ نہیں سکتی تو پیچھے ہٹ جاتے۔وہ کوشش کرتا رہا۔مگر کہیں سے ہاں نہ ہوئی۔
پھر ایک دن کسی نے الٹا اسی سے پوچھ لیا:تم دوسروں کو تو کہتے پھرتے ہو کہ اس لڑکی سے شادی کرلو… تم خود کیوں نہیں کر لیتے؟”یہ جملہ سناتے ہوئے وہ ہنس پڑا۔
“ڈاکٹر صاحب، بس پھر میرے سوچنے کا وقت شروع ہوگیا۔ میں نے سوچا، بات تو ٹھیک ہے۔ جس رشتے کو میں دوسروں کے لیے اچھا سمجھتا ہوں، اسے اپنے لیے کیوں نہیں؟”
اور پھر اس نے خود ہی رشتہ پیش کردیا۔شادی ہوگئی۔یہاں پہنچ کر اس کے لہجے میں فخر سا اتر آیا۔جیسے اب وہ اپنی بیوی کا تعارف نہیں، اپنی زندگی کی کسی کامیابی کا ذکر کر رہا ہو۔
“ڈاکٹر صاحب، یہ لکڑیوں کا چولہا جلاتی ہے، سالن بناتی ہے، روٹیاں پکاتی ہے، میرے کپڑے دھوتی ہے، میرا خیال رکھتی ہے۔ آج تک اس کے سالن میں نہ نمک کم ہوا، نہ مرچ زیادہ۔ ایسا کھانا بناتی ہے کہ کئی آنکھوں والیاں بھی نہ بنا سکیں۔”وہ تعریف کرتا جاتا اور اس کے برابر بیٹھی عورت خاموشی سے مسکراتی جاتی۔پھر پہلی مرتبہ وہ بولی۔آواز نرم تھی، مگر لہجے میں یقین تھا۔“ڈاکٹر صاحب، یہ کہیں چل رہے ہوں اور کئی لوگ میرے سامنے سے گزریں، میں صرف قدموں کی آواز سے بتا سکتی ہوں کہ میرے میاں جا رہے ہیں۔”میں خاموش ہوگیا۔وہ ذرا رکی، پھر بولی:“اور اگر میں کمرے میں بیٹھی ہوں اور یہ بغیر بتائے، بغیر آواز کیے اندر آجائیں… تب بھی مجھے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ آگئے ہیں۔”
میں نے بے اختیار پوچھا:“کیسے؟”وہ مسکرائی۔اس سوال کا شاید کوئی جواب نہیں تھا۔
یا شاید تھا، مگر لفظوں میں نہیں تھا۔شاید قدموں کی کوئی مانوس آہٹ تھی۔شاید سانس کا کوئی پہچانا ہوا احساس۔شاید موجودگی کی کوئی ایسی خوشبو جسے ناک سے زیادہ دل پہچانتا ہے۔یا شاید وہ چیز تھی جسے سائنس کے پیمانوں میں ناپنا مشکل ہے اور انسان نے سہولت کے لیے اس کا نام محبت رکھ دیا ہے۔وہ اپنے شوہر کو دیکھ نہیں سکتی تھی، لیکن اس کے قدم پہچانتی تھی۔وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی، لیکن اس کی موجودگی محسوس کر لیتی تھی۔اور وہ شخص؟وہ اس عورت کی چھوٹی چھوٹی صلاحیتیں اس فخر سے بیان کر رہا تھا جیسے دنیا اسے ایک کمی کے ساتھ دیکھتی رہی ہو اور وہ دنیا کو بتانا چاہتا ہو:تم نے اسے دیکھا ہی کہاں ہے۔میں ان کی میڈیکل رپورٹس دیکھنے بیٹھا تھا، مگر اس روز میرے سامنے ایک اور ہی رپورٹ کھل گئی تھی—انسانی رشتے کی رپورٹ۔
طبی مسئلے کے بارے میں جو مشورہ میرے بس میں تھا، میں نے دے دیا۔ملاقات ختم ہوئی۔دونوں اٹھے۔اس شخص نے پھر اپنی بیوی کا ہاتھ تھاما۔ وہی ہاتھ جسے پکڑ کر وہ اسے سیڑھیاں چڑھا کر میرے پاس لایا تھا۔اور اسے بڑی احتیاط سے ساتھ لے کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔یوں جیسے ہاتھ نہیں، کوئی امانت تھام رکھی ہو۔میں انہیں جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔اس ملاقات کو برسوں گزر گئے، مگر کبھی کبھی وہ دونوں آج بھی یاد آ جاتے ہیں۔خاص طور پر اس عورت کا ایک جملہ:“یہ بغیر آواز کیے بھی کمرے میں آجائیں تو مجھے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ آگئے ہیں۔”اور تب میں سوچتا ہوں کہ آنکھوں کا سلامت ہونا اور کسی انسان کو واقعی دیکھ لینا شاید ایک ہی بات نہیں۔کتنے لوگ ہیں جن کی آنکھیں بالکل سلامت ہیں، مگر برسوں ساتھ رہنے والے انسان کی خاموشی نہیں پڑھ سکتے، اس کی تھکن نہیں دیکھ سکتے، اس کا دکھ محسوس نہیں کرسکتے، حتیٰ کہ اس کی محبت بھی پہچان نہیں پاتے۔اور وہ عورت…دنیا اسے نابینا کہتی تھی۔مگر اپنے شوہر کے قدموں کی آہٹ سے لے کر اس کی خاموش موجودگی تک سب پہچان لیتی تھی۔وہ دیکھ نہیں سکتی تھی…مگر شاید اپنے شوہر کو ہم سب سے بہتر دیکھتی تھی--
