ناياب خواتين

مصنف : ہارون الرشيد

سلسلہ : چھوٹے نام بڑے لوگ

شمارہ : جولائی 2026

چھوٹے نام بڑے لوگ

ناياب خواتين

ہارون الرشید 

اگر کوئی اس ناچیز سے پو چھے کہ اس طویل عمر میں کس کس پہ تم نے رشک کیا تو شاید ایک پوری کتاب لکھنا پڑے۔ مثلاً کچھ دیر پہلے نواب زادہ نصر اللہ خان کو یاد کیا اور دیر تک یاد کرتا رہا۔ وہ پہلا سیاست دان جس کا 1968ع میں انٹرویو کیا تھا۔ ان کی ضرب المثل شائستگی مگر سید ابوالاعلی' مودودی اور فیض احمد فیض بھی ایسے ہی شائستہ تھے۔ وہ لوگ جو راز کو پا لیتے ہیں۔

کچھ منفرد لوگ ہیں، ان میں چار خواتین اور ایک آدمی شامل ہیں۔

میری والدہ محترمہ۔ ان کے بارے میں بات شروع کروں تو ختم کیسے کروں گا۔ مال و دولت دنیا سے ایسی بے نیاز کہ الفاظ احاطہ نہیں کرتے اور عقل تھاہ نہیں پاتی۔

میری بی بی جان جیسی ایک اور خاتون۔ صرف ایک بار انہیں دیکھا۔ میری مرحومہ بہن کے گھر میں۔ وہ خاموش بیٹھی رہیں۔ بات کی تو آپا نے۔ ایک حسرت کے ساتھ۔ سنو! وہ کہتی ہیں: کوئی مجھے مدینے لے جائے۔کسی طرح بھی لے جائے، نوکرانی بنا کر ہی۔ ایسا نہیں کہ کرایہ مہیا نہ تھا۔ ایک ایک روپیہ جوڑ کر سامان سفر کا اہتمام کر رکھا تھا مگر یہ فیلڈ مارشل ایوب خان کا زمانہ تھا اور حج پہ جانے والوں کی تعداد مقرر تھی۔ عام آزادی تو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ملی۔ کبھی کبھی حیرت و حسرت کے ساتھ میں سوچتا ہوں۔ کاش تب علم ہوتا، کاش میں انہیں بتا سکتا کہ جس دل میں مصطفیٰ کی محبت کا چراغ روشن رہے، حج کے بغیر بھی ، حج کا ثواب اس نے پا لیا۔ کیا عجب ہے کہ وہ بھٹو کے اقتدارِ تک زندہ رہی ہوں۔ کیا عجب کہ رحمت پروردگار ٹوٹ ٹوٹ کر برس گئی ہو۔

دوسری خاتون سے ایک بس سٹاپ پہ سامنا ہوا۔ ایک معصوم چہرہ۔ حیرت انگیز حد تک چک نمبر 11 جنوبی کی اسی خاتون سے مشابہ۔ دفتر جانے میں تاخیر ہو گئی تھی۔ وحشت سی پیدا تھی۔ آہستہ روی سے چلتی ہوئی وہ میری طرف بڑھیں تو میں نے اس حماقت کا مظاہرہ کیا، جس کی شرمندگی کا بوجھ عمر بھر اُٹھائے پھروں گا۔ میں نے ان سے معذرت کی تو ایسی شیریں آواز میں جو چک نمبر 42 جنوبی کے بعد پہلی بار سنی، انہوں نے کہا: " نہیں بیٹا مجھے کوئی مدد درکار نہیں، صرف راستہ سمجھنا ہے"• چک نمبر 42 جنوبی میں، جہاں زندگی کے پہلے گیارہ برس بیتے، کم و بیش روانہ ہی یہ شیریں آواز سنائی دیتی۔ میری مرحومہ ماسی جی کی آواز۔ کوئی ماں سے بڑھ کر بھی محبت کر سکتا یے؟ ہاں وہ کر سکتی تھیں۔

تیسری خاتون سے میں کبھی نہیں ملا۔ صرف ایک جھلک سوشل میڈیا پر دیکھی لیکن عمر بھر یاد رہیں گی۔ مسجد نبوی کے صحن میں کسی نے ان سے پوچھا: آپ کہاں سے آئی ہیں؟ یہ سوال فطری تھا کہ افلاس اس کے پورے پیکر میں تھا۔ "میں ملتان کے ایک گاؤں سے آئی ہوں"، اس نے کہا۔ پھر پیہم استفسار پر پوری کہانی کہہ دی۔ میاں اس کے برسوں پہلےانتقال کر گئے تھے" پانچ بچے اللہ نے دئے لیکن ہر بار اپنی امانت واپس لے لی۔ تیرے میرے گھر میں برتن مانجھ کر ایک ایک پیسہ جمع کیا۔ ہمیشہ ایک ہی حسرت رہی کہ سرکار کی چوکھٹ دیکھوں۔ شکر ہے کہ مالک لے ہی آیا "۔ لباس اور تیوروں سے بہت آسودہ دکھائی دیتی خاتون نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور یہ کہا: " آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے، ہم کہاں ، آپ کہاں"۔ یہ تو انہوں نے زبان سے کہا اور چہرے پر یہ لکھا تھا " کاش ایسی والہانہ وابستگی ہمیں بھی مالک نے عطا کی ہوتی"۔

حرم پاک میں بھیڑ بہت تھی۔ خوش قسمتی سے طارق پیرزادہ ہمراہ تھے۔ ان کے مشورے پر آخری چھت کا قصد کیا کہ کچھ VIPs کے طفیل شرطوں پہ وحشت سوار تھی۔ یہاں سے کعبے پہ نظر نہ پڑتی تھی مگر نماز زیادہ سکون اور قرار سے ادا کی جا سکتی تھی۔نوافل پڑھے جا چکے تو دائیں بائیں نظر کی۔ دائیں ہاتھ ایک صاحب تشریف فرما تھے۔ پیکر خود سپردگی۔ سر نیوڑھائے بیٹھے تھے، چنانچہ چہرہ چھپا ہوا۔ بارہا اللہ تعالیٰ نے حجاز مقدس کی توفیق عطا کی۔ ہزاروں اور لاکھوں زائرین کو دیکھا۔ کچھ اہل علم اور صاحبان تقوى' کی زیارت بھی نصیب ہوئی مگر ایسا احوال کبھی نہ دیکھا۔ گردو و پیش سے یکسر بے خبر، سجدے کے بغیر بھی مستقل سجدے کی کیفیت۔ اپنے پروردگار سے سرگوشی کرتا ہوا آدم زاد۔ اس آدمی کو یاد کرتا ہوں تو معراج کی شب یاد آتی ہے" راتوں رات لے گیا وہ اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ"

قرآن کریم سورج کو چراغ کہتا ہے مگر اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو " دمکتا ہوا سورج " وہ رحمة للعالمین اور ختم المرسلین تھے۔ اللہ اور اس کے فرشتے عالی مرتبت پہ درود بھیجتے ہیں۔ اللہ نے اپنے دو نام آپ کو عطا کئے "رؤف اور رحیم" مگر معراج کی شب ان کا ذکر یوں ہے"میرا بندہ"۔ سبھی اللہ کے بندے ہیں مگر عبد دیگر ، عبدہ چیزے دگر

اقبال، اقبال ہی تھے، ہرچند ان سے فیض ہم نے نہیں اہل ایران نے پایا۔افتخار عارف سمجھاتے رہے مگر ان کا شعر آج سمجھ میں آیا۔

من اے میر امم از تو داد خواہم--مرا یاراں غزل خوانے شمردند