سماجيات

سماجی تہذيب اور اقدار

آصف  محمود

سیاست ہمیں کھا گئی اور ہم کسی اور موضوع پر بات کرنے کے قابل نہیں رہے ورنہ بہت سے مقامات آہ و فغاں ہیں جو اس قوم کی توجہ چاہتے ہیں اور ان میں سے ایک ہمارا سماجی رویہ ہے ۔

کھانے کے آداب ہی کو لے لیں ۔ انتہائی سادہ ترین انداز کے ہمارے روایتی کھانے پینے سے شروع کر لیتے ہیں ۔ شادی بیاہ کی تقاریب میں تو ہم وحشیوں کی طرح کھاتے ہی ہیں ، ہمیں دوست احباب اور فیملی میں بیٹھ کر کھانے کی بھی تمیز نہیں ہے۔ بہت معمولی چیزیں ہیں مگر سیکھنے کی ضرورت ہے۔ لوگ اپنے منہ سے ہڈی نکالتے ہیں اور کسی دوسرے کے سامنے پڑی پلیٹ میں ڈال دیتے ہیں ۔ منہ سے پلیٹ کا سفر بھلے کتنا ہی طویل ہو ، کسی کو پرواہ نہیں ہوتی۔ حالانکہ یہ ہڈی اپنی پلیٹ میں بھی رکھی جا سکتی ہےا ور حسب ضرورت نئی پلیٹ بھی اٹھائی جا سکتی ہے۔ہمارے روایتی دستر خوان پر یہ رویہ عام ہے کہ ایک پلیٹ کو ہڈیوں کے لیے مختص کر لیا جاتا ہے اور اطراف کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ کس کس پر اپنے سامنے رکھے اس فضلے کو دیکھ کر کیا بیت رہی ہے۔ ٹیبل پر رائتہ رکھا ہو تو کوئی ایک صاحب اسی میں رکھی چمچ کو بھر کر منہ میٰں ڈال لیں گے اور اس بات سے بے نیاز ہوں گے کہ اب وہ سارا رائتہ کسی اور کے کام کا نہیں رہا۔ بعض لوگ تو ایسے موقع پر منہ پر اسی باؤل کے اوپر کر لیں گے کہ منہ سے کوئی قطرہ گرے تو سیدھا اسی میں جائے ۔کھاتے ہوئے منہ سے ایسی آوازیں نکلتی ہیں جیسے آرا مشین چلتی ہے۔

واش رومز کا حال بھی کہیں جا کر دیکھ لیجیے ، ہماری تہذیب اور سلیقے کی کل کہانی ڈائننگ ٹیبل سے واش روم تک اپنا آپ بیان کر رہی ہوتی ہے ۔

گفتگو کو دیکھ لیجیے ۔ اختلاف کے آداب ہی کسی نے نہیں سکھائے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ جہاں اختلاف ہوتا ہے بات تو تراخ تک جا پہنچتی ہے۔

دوستوں کی محفل لگی ہوتی ہے اور پھر جو پہلے اٹھتا ہے باقی اس کی غیبت میں مصروف ہو جاتے ہیں ،ا سلام آباد میں یہ لعنت اتنی عام ہے کہ محفلیں ہی چھوٹ گئی ہیں اور چند قریبی دوستووں تک محدود ہو چکا ہوں۔

ڈرائیونگ سینس نہیں ہے ۔ گاڑی کے پیچھے گاڑی لگا دیں گے۔ بلاوجہ ہارن دیتے رہیں گے۔ سڑک پر ہر دوسرا آدمی باؤلا ہوا پھرتا ہے جیسے اسے ابلیس نے چھو لیا ہو۔ ہر بندے کو جلدی ہےا ور ہر بندہ لڑنے مرنے پر تلا ہوا ہے۔

یہ تمیز نہیں کہ سر راہ تھوک نہ پھینکیں ۔ تھوک کو چھوڑ ہی دیں لوگ " کھگھار" پھینک دیتے ہیں اور بعض تو ایسے کمال کے لوگ ہیں کہ کھانے کی میز سے اٹھتے ہیں اور اتنے فاصلے پر جا کر یہ فریضہ انجام دیتے ہیں کہ کھانے کی میز تک آواز شاندار کوالٹی کے ساتھ پہنچے۔

احساس ذمہ داری کہیں نہیں ہے۔ سرکاری ملازمین تو کاٹنے کو دووڑتے ہیں ، رويے میں زہر اور آتش فشاں بھرے ہیں ۔ کس کس چیز کا رونا روئیں ۔ یہ ایک لمبی فہرست ہے۔ قدم قدم پر مقامات آہ و فغاں ہیں ۔ کیسا المیہ ہے کہ ان چیزوں کو کسی نے مخاطب ہی نہیں بنایا۔ کوئی سات سو پچھتر قسم کے انقلاب اس وقت مارکیٹ میں دستیاب ہیں ، تہذیب نفس کہیں دستیاب نہیں ہے ۔اس معاشرے کو صرف حكمران اچھے چاہیں خودا س نے بنیادی تمیز اور تہذیب بھی نہیں سیکھنی ۔ جو نسلیں برباد ہونا تھیں وہ تو ہو گئیں ۔ اب ایسا کیجیے کہ اگلی نسلوں کو بچا لیجیے ۔ سنجیدہ ماہرین کو بٹھائیں اور سماجیات کے نام سے نصاب متعارف کرائیں ۔ ایک ایسا نصاب بنائیں جو پہلی جماعت سے لے کر اعلی تعلیم تک ہر کورس کا حصہ ہو اور لازمی مضمون کے طور ہو۔

جو بچوں کو بتائے کہ خوشی منانے کا سلیقہ ہے اور غم کیسے بانٹنا ہے ، جو انہیں سکھائے کہ معاشرے میں رہنے کے آداب کیا ہیں اور انسانوں کی طرح کیسے جیا جاتا ہے ۔ جو انہیں بتائے کہ کب کہاں سوری کہنا ہے اور کب شکریے کے دو بول ضروری ہوتے ہیں ۔ جو انہیں بتائے کہ دوسرے کا احساس کیسے کرنا ہے اور جانور بننے سے خود کو کیسے بچانا ہے۔ جو انہیں شعور دے کہ دوسروں کے موبائل پر نظر نہیں ڈالنی اور لڑکیوں کو سڑک یا گلی بازار میں جاتے ہوئے کتے کی طرح نہیں گھورتے رہنا ۔ جس سے وہ جان سکیں کہ سیرو سیاحت کے لیے جانے کا مطلب نہیں کہ سرراہ اونچا میوزک لگا کر پاگل زومبیوں کی طرح مدہوشی کے عالم میں جھومنا شروع کر دیا جائے ۔ ایک ایسا نصاب جس کے مطالعے سے انہیں شعور آئے کہ سڑکوں ، ندیوں ، جھیلوں پہاڑوں پر کوڑا نہیں پھینکنا۔ سیاحتی مقامات کو غلاظت کا ڈھیر نہیں بنانا۔

شاید کبھی وہ وقت آ جائے کہ ایک ایسی نسل پروان چڑھے جسے سماجی تہذیب اور اقدار کا کوئی شعور ہو۔ جو ہمارے جیسی نہ ہو۔