سماجيات
مذہبی رواداری
محمد فہد حارث
مصر میں مینا نامی ایک عیسائی شخص گزشتہ بیس برس سے ایک مسلمان خاندان کا پڑوسی ہے۔ اسی خاندان کی ایک خاتون، جنہیں محلے میں اُم علی یا منیٰ کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک عرصے سے عمرہ کرنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ایک روز مینا حسبِ معمول سوشل میڈیا دیکھ رہا تھا کہ اتفاقاً معروف اسلامی داعی ڈاکٹر ایمن ابو عمر کا ایک لائیو پروگرام سامنے آگیا۔ پروگرام میں قرآن کریم سے متعلق سوال پوچھا جا رہا تھا اور درست جواب دینے والوں میں سے کسی خوش نصیب کو عمرے کا مفت سفر ملنا تھا۔ مینا نے دیکھا کہ اس کی پڑوسن اُم علی بھی مسلسل جوابات دے رہی ہیں۔ استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ وہ عمرہ جیتنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک ایسی خواہش جو مدت سے ان کے دل میں تھی۔
اب یہاں سے کہانی دلچسپ ہوجاتی ہے۔مینا عیسائی تھا، اسے خود عمرے پر جانا تھا نہ وہ جا سکتا تھا، لیکن اس نے سوچا کہ اگر میری پڑوسن نہیں جیت پاتی تو میں کیوں نہ اس کے لیے جیتنے کی کوشش کروں؟سو وہ بھی قرآن کریم سے متعلق اس اسلامی مقابلے میں کود پڑا۔
اس نے اُم علی سے کہا کہ تم بھی جواب دو، میں بھی تمہارے ساتھ جواب دیتا ہوں، قسمت نے تمہارا ساتھ نہ دیا تو شاید میرا دے دے۔پھر مینا نے محض رسمی طور پر ایک آدھ جواب دے کر جان نہیں چھڑائی بلکہ پوری جان لڑا دی۔ درست جواب کو کوئی پچاس ساٹھ مرتبہ کمنٹس میں لکھا تاکہ قرعے میں اس کے منتخب ہونے کے امکانات بڑھ جائیں۔اور قسمت واقعی مینا پر مہربان ہوگئی!عمرے کا انعام اس عیسائی شخص کے نام نکل آیا۔مگر حقیقت میں وہ انعام مینا نے اپنے لیے جیتا ہی کب تھا؟وہ تو پہلے لمحے سے اپنی مسلمان پڑوسن کے لیے اس مقابلے میں اترا تھا۔ چنانچہ عمرے کا سفر اُم علی کے نام ہوگیا۔
مینا نے جب اُم علی کو یہ خوش خبری سنائی تو اسے شاید اندازہ نہیں تھا کہ اس نے اس خاتون کو کیا دے دیا ہے۔ اس نے اپنے گھر کی بالکونی سے اُدھر دیکھا تو اُم علی خوشی سے رو رہی تھیں اور اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کر رہی تھیں۔مینا خود حیران تھا کہ عمرہ کسی انسان کے لیے اتنی بڑی خوشی بھی ہوسکتا ہے۔دوسری جانب اُم علی کہتی ہیں کہ وہ مدت سے اللہ سے دعا کرتی تھیں کہ انہیں اس وقت عمرہ نصیب ہوجائے جب وہ ابھی اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہیں، چل سکتی ہیں اور مناسک ادا کرنے کی جسمانی استطاعت رکھتی ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ میں خدا نے ان کی دعا قبول کی اور وسیلہ مینا کو بنا دیا۔
لیکن میرے نزدیک اس واقعے کا سب سے خوبصورت پہلو عمرے کا ٹکٹ نہیں بلکہ وہ بیس سالہ ہمسائیگی ہے جس نے ایک مسلمان عورت اور ایک عیسائی مرد کے درمیان مذہب تبدیل کیے بغیر رشتے کی نوعیت تبدیل کردی۔مینا کہتا ہے کہ اُم علی میرے لیے محض پڑوسن نہیں بلکہ میری بڑی بہن کی طرح ہیں، ان کے والد میرے والد اور ان کی والدہ میری والدہ جیسی ہیں۔یہ ایک جملہ دراصل پوری کہانی ہے۔
ہم عموماً مذہبی رواداری کو بڑے بڑے سیمیناروں، بین المذاہب کانفرنسوں اور بھاری بھرکم علمی اصطلاحات میں تلاش کرتے ہیں، حالانکہ کبھی کبھی رواداری کی سب سے خوبصورت تعریف دو گھروں کے درمیان موجود ایک دیوار کے آر پار مل جاتی ہے۔
مینا کو مسلمان ہونے کی ضرورت نہیں پڑی کہ وہ ایک مسلمان عورت کی مذہبی خواہش کا احترام کرسکے، اور اُم علی کو مسیحی ہونے کی ضرورت نہیں پڑی کہ وہ مینا کو اپنا بھائی سمجھ سکیں۔دونوں اپنے اپنے مذہب پر قائم رہے، مگر دونوں انسانیت کے ایک مشترک مقام پر آکر مل گئے۔یہی شاید رواداری کی سب سے خوبصورت صورت ہے۔
رواداری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے عقائد سے دستبردار ہوجائے، تمام مذاہب کو ایک قرار دے یا اپنے مذہبی تشخص کو تحلیل کردے۔ رواداری تو شاید اس سے کہیں سادہ چیز ہے، میں اپنے عقیدے پر قائم رہوں، آپ اپنے عقیدے پر قائم رہیں، لیکن آپ کی خوشی مجھے خوش کرے، آپ کا دکھ مجھے بے چین کرے اور آپ کی مقدس خواہش کا احترام میرے دل میں موجود رہے۔اور اگر بات ہمسائے کی ہو تو اسلام نے تو اس تعلق کو محض سماجی اخلاقیات تک محدود بھی نہیں رکھا۔
قرآن کریم نے عبادتِ الٰہی، والدین، قرابت داروں اور محتاجوں کے حقوق بیان کرتے ہوئے "وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ" یعنی قریبی اور اجنبی ہمسائے دونوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمسائے کے حق کی شدت کو یوں بیان فرمایا کہ جبریل علیہ السلام مسلسل ہمسائے کے متعلق تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو گمان ہونے لگا کہ شاید ہمسائے کو وراثت میں بھی حصہ دار بنا دیا جائے گا۔
اور یہاں مصر کے کسی محلے میں ایک عیسائی شخص نے شاید کسی فقہی کتاب میں حقوق الجار کا باب پڑھے بغیر عملاً اس باب کی ایک خوبصورت مثال قائم کردی۔
یہ واقعہ ایک اور اعتبار سے بھی قابلِ غور ہے۔ہمارے برصغیری معاشروں میں مذہبی اختلاف کو اکثر لازماً مذہبی دشمنی میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ ہمیں یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ اگر میں دوسرے مذہب کے کسی شخص کے حسنِ سلوک کی تعریف کردوں تو شاید میرے اپنے عقیدے میں کوئی کمی واقع ہوجائے گی۔ حالانکہ عدل یہ ہے کہ برائی جہاں ہو اسے برائی کہا جائے اور خوبی جہاں نظر آئے اسے خوبی تسلیم کرنے کا ظرف بھی رکھا جائے۔مینا کا عقیدہ اس کا اپنا ہے، اُم علی کا عقیدہ ان کا اپنا مگر ایک بوڑھی ہوتی عورت کی خواہش تھی کہ جسم ساتھ چھوڑنے سے پہلے خانۂ کعبہ دیکھ لے، اور اس کے مسیحی پڑوسی نے سوچا کہ میں اس کی یہ خواہش پوری کرنے کا سبب کیوں نہ بن جاؤں؟بس اتنی سی بات ہے۔اور شاید اسی "اتنی سی بات" کی آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مینا نے اُم علی کو کوئی ایسا تحفہ نہیں دیا جس کی اہمیت خود اس کی نگاہ میں بہت زیادہ ہو۔ اس نے انہیں وہ چیز دلانے کی کوشش کی جس کی اہمیت اُم علی کی نگاہ میں بہت زیادہ تھی۔یہ فرق بہت معمولی دکھائی دیتا ہے مگر محبت اور احترام کی پوری نفسیات اسی میں پوشیدہ ہے۔کسی انسان سے حقیقی محبت شاید یہ نہیں کہ آپ اسے وہ دیں جو آپ قیمتی سمجھتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ اس چیز کی قدر کریں جو اس کے لیے قیمتی ہے۔
مینا کے لیے عمرہ مذہبی فریضہ نہیں تھا، لیکن اسے معلوم تھا کہ اس کی پڑوسن کے لیے یہ زندگی کی بڑی آرزو ہے۔ چنانچہ اس نے اُس آرزو کا احترام کیا۔
اور پھر ایک دن مصر کے ایک گھر کی بالکونی میں ایک مسیحی کھڑا تھا، سامنے والے گھر میں ایک مسلمان عورت آنسو پونچھ رہی تھی، اور دونوں کے درمیان مذہبی اختلاف اپنی پوری جگہ موجود ہونے کے باوجود انسانیت کہیں زیادہ نمایاں تھی۔
مذہبی ہم آہنگی پر شاید اس سے خوبصورت لیکچر دینا مشکل ہے لیکن افسوس کہ برصغیری معاشرے میں اس کا فقدان ہی فقدان ہے جبکہ عرب معاشرے آئے روز ایسی شاندار مثالوں سے بھرے رہتے ہیں لیکن پھر بھی ہماری نرگسیت کا عالم یہ ہے کہ عرب برے اور ہم بڑے بھلے مسلمان ہیں-جبکہ یقین جانئے کہ اخلاقی طور پر مسلمانیت کے اظہار میں عرب غیر مسلم برصغیری مسلمانوں سے بڑھ کر "مسلمان" ہیں -