رشتوں ميں توازن

مصنف : ابوبکر قدوسی

سلسلہ : سماجیات

شمارہ : فروری 2026

سماجيات

رشتوں ميں توازن

ابوبكر قدوسی

اگر آپ خاوند ہيں تو

تو گویا قدرت نے آپ کو بڑے منصب پر فائز کر دیا ہے اور آپ پر بیک وقت کئی ذمےداریاں عائد کر دی گئی ہیں اور آپ معاشرے کے توازن کو قائم رکھنے والے ہیں ۔ بیوی کی عزت اور حقوق کی حفاظت آپ کا فرض ہے ، اگر آپ کے والدین آپ کی بیوی سے نامناسب رویہ رکھتے ہیں تو ان کی عزت کو مکمل طور پر ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کو سمجھانا اور بیوی کی دلجوئی اور حفاظت آپ کا فرض ہے ۔ اگر بیوی اپنے ساس سسر کے ساتھ نامناسب سلوک کرتی ہے اور آپ اس کی محبت میں ڈوبے اپنے والدین کو نظر انداز کرتے ہیں تو گویا دوسری انتہاء پر ہیں اور خدا کے بھی مجرم ۔ آپ ایک اچھے حاکم نہیں ہیں کہ جو گھر کے ماحول کو اچھا توازن دے پائے ۔اور اگر آپ خود بیوی کو اذیت دیتے ہیں کہ لڑائی میں اس کے والدین کو گھسیٹ لاتے ہیں اور برا بھلا کہتے ہیں ، یا بیوی کو گالی دیتے ہیں تو گویا آپ کمزور شخصیت کے مالک ہیں کہ ، کمزور بندہ اپنے سے کمزور پر چڑھ دوڑتا ہے ۔ اور اگر آپ کی بیوی اگر کبھی خفا ہو جائے اور زیادتی بھی کر جائے تو اسے منانے میں بخل نہ کیجئے کہ اس سے زیادہ کوئی نہیں کہ جو آپ کے لیے قربانیاں کر پائے ۔

💝اگر آپ بیوی ہیں ۔

اگر آپ بیوی ہیں اور اپنے خاوند کی عزت نہیں کر پاتیں تو گویا آپ نے اس محبت کو کھو دیا کہ جو اس تعلق کی معراج ہے ۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کامیاب ترین عورت وہ ہوتی ہے کہ جس کے خاوند کی آواز اگر کبھی اونچی ہو جائے تو وہ اپنی آواز پست کر لے اور کچھ وقت کے لیے خاموشی اختیار کر جائے ۔ یقین کیجیے گا کہ وہی خاوند کچھ وقت بعد شرمندہ ہو کر گلے لگائے گا اور معذرت بھی کرے گا ۔ اس کے والدین کی عزت کیجیے اور اگر خدمت کریں تو اجر آپ کا منتظر ہے ۔ آج کل یہ جملے عام ہیں کہ خاوند کے والدین کی خدمت تو بہو پر فرض ہی نہیں ۔۔۔ لیکن ہر رشتہ ترازو میں رکھ کر نہیں تولا جاتا ، کچھ سودے آخرت کے فائدے کے بھی ہوتے ہیں ۔ اور یہاں یاد رکھیں کہ آپ کے والدین بھی بوڑھے ہیں اور آپ کی بھابھی بھی یہ مسائل جانتی  ہے ۔

اگر آپ بہو ہیں ؟

تو لازم ہے کہ اپنے ساس اور سسر کو والدین کی نگاہ سے دیکھیں ، اسی طرح ان کی عزت کریں اور اگر کبھی وہ بتقاضائے بشریت کبھی کوئی نامناسب جملہ کہہ دیں تو برداشت کر جائیں ۔ آپ کو اگر کبھی کسی روز فون پر اپنے والدین کی صحت بارے کوئی بری خبر ملتی ہے تو جیسے بے چین ہو جاتی ہیں ، ان کے دکھ و تکلیف پر بھی یونہی فکر مند ہوں ۔۔ کہ یہ سلوک آپ کے بڑھاپے میں آئنہ بن کر سامنے آئے گا ۔۔ان کی محبت کو تسلیم کیجیے اور شکر گزاری اختیار کرنا شروع کیجیے ۔ اس کا اظہار اور اقرار کریں' کہ شکر گزار کو مزید ملتا ہے ۔ ایک روز میری بہو کہنے لگیں کہ !" وہ اپنی دوستوں میں بیٹھی تھیں اور موضوع ساس اور سسر تھے اور باتیں  منفی رنگ  كی  تھیں ۔۔۔مجھے کہا گیا کہ آپ بھی بتاؤ ، میں نے کہا کہ میرے پاس تو منفی بات کوئی ہے ہی نہیں " ۔مجھے نہیں علم کہ ایسا سچ میں ہے کہ ہم میں کوئی ایسی کمزوری ہے کہ نہیں کہ جو تکلیف دہ حد تک پہنچی ہو ، لیکن میرا دل ضرور بڑا ہو گیا ۔

اگر آپ ساس اور سسر ہیں !

میری بیٹی کے سسر نے ایک روز مجھ سے پوچھا کہ : "آپ کی بیٹی خوش تو ہے نا ، اسے اپنے میاں [یعنی ان کے بیٹے سے ] کوئی مشکل یا شکایت تو نہیں ، اگر ایسا ہے تو مجھے لازم بتایئے گا " میں اس بڑے بندے کو دیکھتا رہ گیا ۔ ایک روز میں اپنے گھر کے اوپر والے پورشن پر گیا تو مسیب قدوسی لابی میں پڑے صوفے پر سوئے ہوئے تھے ، میں نیچے آیا تو ان کی والدہ سے کہا کہ ایسا کیوں ہوا ؟ پھر جب وہ جاگے تو پوچھا کہ آپ لابی میں کیوں سوئے تھے ۔۔کیا اپنی اہلیہ سے ناراض ہوئے ہیں ۔؟ وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ نہیں تو ، کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے آنکھ لگ گئی تو ادھر ہی پڑ کر سو گیا ۔

گھر کے سربراہ کے طور پر ، میرا فرض ہے کہ ایسے امور اور امکانات پر نگاہ رکھوں ۔

میں اپنی بہو اور مسیب قدوسی کی اہلیہ سے پوچھتا ہوں کہ آپ کو " مسیب قدوسی " سے کوئی شکایت تو نہیں ؟ اگر ہے تو آپ نے مجھے بتانا ہے ۔ مسیب کی والدہ سے ضرور کہتا ہوں کہ بہو کے ساتھ کبھی اس کے خاوند کی طرف سے نامناسب سلوک ہونے سے روکنا ہماری ذمے داری ہے ۔ اگر کبھی بیٹے اور بہو میں اختلاف ہو جائے تو بڑے لوگ ، اچھے لوگ بہو کے ساتھ ہوتے ہیں اور اس کی بات کو ہی بڑا کرتے ہیں ۔۔ جانتے ہیں کہ کیوں ؟

اس لیے کہ کمزور چڑیا اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر اس آشیانے پر آن بیٹھی ہے ، اس کی سو غلطیوں کو نظر انداز کیجیے پھر احتساب کی باری آئے ۔۔اور ہاں ! بہوؤں میں اپنی بیٹی کو دیکھنا سیکھیئے -