سماجيات
برصغیر کا مشترکہ خاندانی نظام:اسلامی نہیں۔۔ ثقافتی ہے۔۔
سليم زمان خان
برصغیر پاک و ہند میں رائج "جوائنٹ فیملی سسٹم" کو عموماً ایک مقدس مذہبی فریضہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اسلامی احکامات، سیرتِ طیبہ اور انسانی فطرت کا مطالعہ اس کے برعکس ایک زیادہ محفوظ اور پاکیزہ نظام کی نشاندہی کرتا ہے۔
1- مسکنِ شرعی: گھر کی اصل تعریف
گھر (مسکن) کا مطلب محض در و دیوار کا مجموعہ یا لوگوں کا ہجوم نہیں، بلکہ یہ اس "حصار" کا نام ہے جہاں ایک مرد اپنی زوجہ کے ساتھ مکمل خود مختاری اور پرائیویسی میں رہ سکے۔ اسلام کی رو سے گھر وہ ہے جہاں مرد کی اپنی "قوامیت" چلے اور جہاں اس کی بیوی کسی دوسرے کے دباؤ کے بغیر اپنا نظامِ زندگی ترتیب دے سکے۔ جس نظام میں فیصلے دوسروں کے ہاتھ میں ہوں اور پردے کی حدود پامال ہو رہی ہوں، وہ گھر نہیں بلکہ ایک سماجی قید خانہ ہے۔
2-اسوۂ رسول ﷺ اور دو مختلف نمونے
تاریخِ اسلام میں حضرت عثمان غنیؓ (صاحبِ ثروت) اور حضرت علیؓ (تہی دست) کی مثالیں موجود ہیں۔ حضرت علیؓ، جو نبی کریم ﷺ کے زیرِ سایہ پرورش پا رہے تھے اور معاشی طور پر تہی دست تھے، انہیں شادی کے وقت خاص طور پر علیحدہ گھر بسانے کا حکم دیا گیا۔ یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ علیحدہ گھر صرف امیروں کا استحقاق نہیں، بلکہ ہر شادی شدہ مرد کی اصولی ضرورت ہے۔ اگر غربت اکٹھے رہنے کا جواز ہوتی تو حضرت علیؓ سے بڑھ کر کوئی مستحق نہ تھا، مگر آپ ﷺ نے انہیں مستقل گھر دے کر مرد کی غیرت اور عورت کے حقِ مسکن کو تحفظ دیا۔
3- حضرت ام سلمہؓ: عورت کی خود مختاری اور سابقہ اولاد کا حق
ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ کا واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اسلام عورت کو شادی کے بعد اس کی پچھلی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کرتا۔ عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سابقہ اولاد کی کفالت کرے اور اپنے شوہر سے اس موضوع پر کھل کر بات کر کے اپنی خود مختاری برقرار رکھے۔ اسلام عورت کو ایک آزاد فرد کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے جو اپنے میکے یا سابقہ اولاد کی دیکھ بھال کے لیے آزاد اور صاحبِ اختیار ہے۔
4-نفسیاتی پہلو: حسد اور مقابلے کی فضا کا تدارک
اسلامی نظام میں ایک سے زائد بیویوں یا مختلف بہوؤں کے لیے علیحدہ رہائش کا انتظام محض پردے کی خاطر نہیں، بلکہ اس کے پیچھے گہری نفسیاتی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام میں خواتین کے درمیان ہر وقت ایک غیر اعلانیہ مقابلے کی فضا قائم رہتی ہے، جو اکثر حسد، بغض اور گھریلو سازشوں کو جنم دیتی ہے۔ علیحدہ گھروں کا نظام اس زہریلے ماحول کو ختم کر دیتا ہے، جس سے نہ صرف رشتوں میں دراڑیں نہیں پڑتیں بلکہ آپس میں محبت اور احترام کا وہ تعلق برقرار رہتا ہے جو ایک ہی کچن اور کثرتِ مداخلت کی وجہ سے ختم ہو جاتا ہے۔
5- خدمتِ والدین کا نبوی ماڈل: قربت اور ادغام میں فرق ۔۔۔
حدیثِ مبارکہ "أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِیکَ" (تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے) کا مقصد والدین کا مالی تحفظ ہے، نہ کہ بیٹے کی پرائیویسی اور اس کے آزادانہ گھرانے کو ختم کرنا۔ خدمت کا بہترین ماڈل "قربت" ہے نہ کہ "ادغام"۔ والدین اپنے گھر کے مالک اور بادشاہ ہوں، اولاد خدمت کے لیے وہاں حاضر ہو۔ اگر پانچ بیٹے ہوں، تو وہ والدین کے قریب رہیں۔ ہر بیٹا مالی اور جسمانی خدمت کرے، لیکن اپنی بیوی کو نامحرموں کے اختلاط سے بچا کر رکھے۔
6- "دیور موت ہے" اور اخلاقی فتنہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "الحمو الموت" (صحیح بخاری) یعنی "دیور تو موت ہے۔" جوائنٹ فیملی میں جب نامحرموں (دیور، جیٹھ) کے درمیان بے جا بے تکلفی بڑھتی ہے، تو وہاں لجاجت اور اخلاقی گندگی پیدا ہونے کا احتمال سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہی بے احتیاطی خاندانوں میں ایسی اخلاقی غلاظت کا باعث بنتی ہے جو نسلوں کے وقار اور ایمان کو خاک میں ملا دیتی ہے۔
7-دس سال کی عمر اور بستروں کی علیحدگی کا حکم
اسلام کی فہم و فراست دیکھئیے کہ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ جب بچے دس سال کے ہو جائیں تو ان کے بستر الگ کر دو (خواہ وہ سگے بہن بھائی ہی کیوں نہ ہوں)۔ جب سگے بہن بھائیوں کے لیے اتنی احتیاط برتنے کا حکم ہے، تو جوائنٹ فیملی میں جوان کزنز کا ایک ہی چھت تلے بے تکلف رہنا کس قدر بڑے اخلاقی بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے؟ نامحرموں کو ایک ہی نظامِ زندگی میں ٹھونسنا صریحاً فتنوں کو دعوت دینا ہے، جو آگے چل کر خاندان کی نسلوں اور تربیت کو تباہ کر دیتا ہے۔
حاصلِ کلام
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قولِ مبارک ہے:
"تمہاری زندگی کا سب سے بہترین حصہ وہ ہے جو تمہارے اپنے گھر (حریم) کی چاردیواری میں سکون سے گزرے۔"
ہمارا مقصد کسی رشتے کو توڑنا یا والدین کی نافرمانی کی ترغیب دینا ہرگز نہیں، بلکہ اس "نبوی طرزِ زندگی کے نمونے" کی واپسی ہے جس میں والدین کا ادب بادشاہوں جیسا ہو، مگر اولاد کی نجی زندگی اور حیا کی حدود بھی محفوظ رہیں۔ سچی سعادت مندی یہ نہیں کہ آپ والدین کے گھر میں بوجھ بن کر رہیں، بلکہ سعادت مندی یہ ہے کہ آپ اپنا آزاد اور پاکیزہ گھرانہ بسائیں اور پھر ایک فرمانبردار بیٹے کی طرح اپنے والدین کی دہلیز پر ان کی خدمت کے لیے حاضر ہوں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ہم اپنے خاندانوں کو اخلاقی گندگی سے بچا سکتے ہیں۔