خودداری اور ہم

مصنف : رفعت ريحان قاضی

سلسلہ : سماجیات

شمارہ : جولائی 2026

سماجيات

خودداری اور ہم

رفعت ريحان قاضی

پروموشن ہوئی ہے !!۔۔ چلو کھانا کھلاؤ۔برتھ ڈے ہے۔۔ چلو ٹریٹ دو۔گاڑی لی ہے۔۔ تو پارٹی دو نا۔عمرہ کرنے جا رہے ہیں۔۔ اچھا میرے لیے عبایا لے آئیے گا۔واہ بھئی ! آپ نے آن لائن کپڑوں کا بزنس شروع کیا ہے۔ لاؤ ایک دو پیس پارسل بھیجو۔کھلونوں کا کام شروع کیا ہے۔۔ ارے منے کے لیے کوئی گفٹ تو بنتا ہے نا۔ اچھا۔۔! آپ ٹیچر ہیں۔ آپ نے بچوں کی booklet بنائی ہے۔۔ چلیں ایک دو کاپیز بھیج دیجیے گفٹ ۔میرے بچے کے لیے۔واہ آپ کی نئی بک چھپی ہے۔۔ مجھے تو لازمی گفٹ کرنا۔ مجھے کتابوں کا بہت شوق ہے۔ آپ کی آن لائن شاپ ہے۔۔ کوئی گفٹ شفٹ ہی بھيج ديں۔۔ اور اس طرح کے بہت سے روزمرہ کے مطالبے۔ حد ہے بھئی۔آخر کیوں؟؟ اصل ميں ہم مذاق اور اپنائیت کا رنگ دے کر لوگوں سے چيزيں مفت ہڑپ كرنا چاہتے ہيں۔ نہیں ہیں جیب میں پیسے، تو نہ لیں۔۔اپنی عزت نفس کا تو خیال کریں۔

خودداری تو کھو ہی دی ہے ہم نے۔ بچے نے ایک کتاب لینی چاہی۔۔ 500 کی تھی۔والدہ نے منع کر دیا۔آنٹی جاننے والی تھیں، انہوں نے بچے کا شوق دیکھتے ہوئے ایسے ہی گفٹ کر دی تب والدہ نے خوشی سے رکھ لی۔بچے نے خودداری سیکھی نا؟؟ جی ہاں!كوئی اپنی مرضی اور خوشی سے دے تو وہ گفٹ ہے نا كہ مانگا جائے اور اسے گفٹ كانام ديا جائے – يہ جگا ٹيكس ہے جو پيار كے نام پر ليا جاتا ہے-بچوں کو بھی یہی تربیت مل رہی ہے کہ ہر وقت ٹریٹ کے نام پر یا گفٹ کے نام پر مانگنا ہی ہے۔ اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں دوستوں سے ہر وقت کوئی دعوت، کوئی ہلہ گلہ چاہیے۔ کیوں کہ ماں باپ کو یہی کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ تحفہ بن مانگے خوشی سے دیا جاتا ہے۔ مانگ کر وہ خوشی نہیں رہتی۔دعوت اپنی خوشی اور آسانی دیکھ کر رکھی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ اللہ ہمیشہ دینے والے ہاتھ عطا کرے۔۔۔ اوپر والا ہاتھ نيچے والے ہاتھ سے يقيناً بہتر ہوتا ہے

خدارا۔۔!اب سب کے لیے حالات مشکل ہو رہے ہیں۔ اپنے بچوں کو ہمیں دوسرے کی خوشی میں خوش ہونا سکھانا چاہیے۔۔ خوشی کے موقع پر تحفہ دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور اپنی محبت دکھائیں۔ ہم سب کو اپنے بچوں کو ایک دوسرے کا حوصلہ اور طاقت بننا سکھانا ہے، نہ کہ ہر وقت ٹریٹ اور فری گفٹس مانگ کر دوسرے کو شرمندہ کرنا، دوسرے کی جیب اور طبیعت پر وزن ڈالنا اور خود کی خودداری و وقعت کو کم کرنا ہے۔

مانگتے ہوئے جو شرم محسوس ہوتی تھی اب تو وہ نظر ہی نہیں آتی۔تو عرض ہے کہ۔۔ بدلیں۔۔بری روایتوں کو۔۔بری عادتوں کو۔۔غیر ضروری ٹرینڈز کو۔۔ذاتی و معاشرتی حالات کو۔۔بچوں سے بات کریں۔انہیں بتائیں۔ کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح؟

کسی کے نہ جانے کیسے حالات ہوں؟ ہو سکتا ہے آپ اسے ٹریٹ کے نام پر کسی دقت و پریشانی میں ڈال رہے ہوں۔ اور یہ بھی سمجھائیں کہ مانگنا صرف اللہ سے ہے-لوگوں کے آگے سوال نہیں کرنا چاہے وہ گفٹ كے نام پر ہی ہو۔۔ خوددار بننا ہے۔ کسی مقابلے یا مسابقے میں کوئی انعام جیتا جائے تو حقیقی خوشی اندر تک، روح تک سرشار کر دیتی ہے۔