سماجيات
راتوں كو جاگتی قوم
اسحاق بلال
رات کے دو بجے لاہور کی کسی بڑی سڑک پر نکل کر دیکھ لیجیے۔ چائے کے کھوکھے آباد ہیں، ریسٹورنٹس کے باہر گاڑیوں کی قطاریں ہیں، نوجوان سڑک کنارے بیٹھے قہقہے لگا رہے ہیں، کہیں برگر کھایا جا رہا ہے، کہیں کافی پی جا رہی ہے، کہیں دوستوں کی محفل ابھی شروع ہوئی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے رات کے دو نہیں، شام کے آٹھ بجے ہوں۔
پھر صبح سات بجے لاہور کے کسی بڑے ہسپتال کا رخ کر لیجیے۔وہاں بھی رش ہے۔کسی کا بلڈ پریشر قابو میں نہیں، کسی کی شوگر بڑھی ہوئی ہے، کسی کو سینے میں درد ہے، کسی کا وزن خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، کسی کو نیند نہیں آتی، کسی کو anxiety ہے، کسی کو سانس لینے میں دشواری ہے، کسی کا دل جواب دے رہا ہے۔ ایک مریض کے ساتھ تین لوگ آئے ہوئے ہیں، ایمرجنسی کے باہر کرسیاں بھری ہوئی ہیں اور لیبارٹری کے باہر قطار لگی ہوئی ہے۔
مجھے کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہمارے شہروں میں دو صنعتیں بڑی تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ایک کھانے کی صنعت۔دوسری علاج کی صنعت۔
ہم رات گئے تک پہلی صنعت کو وقت دیتے ہیں اور چند سال بعد دوسری صنعت کو۔یہ جملہ طنز ضرور ہے، لیکن مسئلہ طنز سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہے۔
لاہور میں ہسپتال، کلینک، لیبارٹریاں، cardiac centres اور diagnostic facilities بڑھ رہی ہیں۔ طبی سہولت کا بڑھنا یقیناً اچھی بات ہے، آبادی بھی بڑھ رہی ہے، تشخیص بہتر ہوئی ہے، لوگ پہلے کی نسبت علاج کے لیے زیادہ آتے ہیں، اس لیے ہر بھرے ہوئے ہسپتال کا سبب صرف ہمارا lifestyle نہیں۔ مگر ہمیں ایک دوسرا سوال بھی پوچھنا چاہیے:**آخر مریض اتنے زیادہ کیوں ہو رہے ہیں؟**
پاکستان کے بارے میں WHO کے 2025 کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 2021 میں تقریباً 52 فیصد اموات non-communicable diseases یعنی دل، شوگر، کینسر، پھیپھڑوں اور دوسری طویل المدت بیماریوں سے منسلک تھیں۔ یہ وہ بیماریاں ہیں جن میں خوراک، جسمانی سرگرمی، وزن، بلڈ پریشر، تمباکو، ماحول اور طرزِ زندگی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یعنی سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان کو مزید ہسپتال کتنے چاہئیں۔سوال یہ بھی ہے کہ **پاکستان کو مزید مریض بننے سے کیسے روکنا ہے؟**
ہم نے اپنی زندگی کی گھڑی الٹی کر دی ہے۔رات جاگنے کے لیے ہے، صبح سونے کے لیے ہے۔ ناشتہ دوپہر کو ہے، lunch شام کو ہے، dinner رات گیارہ بجے ہے اور چائے رات ایک بجے۔ نوجوان رات تین بجے موبائل بند کرتا ہے اور اگر کوئی اسے صبح سات بجے اٹھنے کا کہہ دے تو اسے اپنی آزادی پر حملہ محسوس ہوتا ہے۔مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ دیر سے اٹھ رہا ہے۔وہ سورج کی روشنی کھو رہا ہے، صبح کی خاموشی کھو رہا ہے، ورزش کا وقت کھو رہا ہے، فجر کے بعد کے وہ چند گھنٹے کھو رہا ہے جن میں انسانی ذہن نسبتاً تازہ ہوتا ہے۔ پھر یہی شخص دوپہر بارہ بجے آنکھیں ملتا ہوا office پہنچتا ہے اور شام چھ بجے کہتا ہے:“آج پتہ نہیں productivity کیوں نہیں بنی۔”کیسے بنے گی؟ہم جسم کو مشین سمجھ بیٹھے ہیں کہ اسے جب چاہیں بند کریں، جب چاہیں آن کر دیں۔انسانی جسم کے اندر ایک biological clock ہے۔ جدید تحقیق اسے circadian rhythm کہتی ہے۔ نیند صرف سات آٹھ گھنٹے پورے کر لینے کا نام نہیں؛ اس کا وقت، باقاعدگی، روشنی، کھانے کے اوقات اور دن رات کا rhythm بھی اہم ہے۔ American Heart Association نے 2025 میں واضح کیا کہ بےقاعدہ sleep timing اور circadian disruption موٹاپے، Type-2 diabetes، بلند فشارِ خون اور cardiovascular disease سے وابستہ پائے گئے ہیں۔ یہ تعلق association ہے، ہر رات دیر سے سونے والے کو اگلی صبح heart attack نہیں ہوتا، مگر مسلسل بےترتیب زندگی كی قيمت جسم كو لازماً ادا كرنی پڑتی ہے۔
CDC بھی بالغ افراد کے لیے عمومی طور پر کم از کم سات گھنٹے کی نیند اور مستقل sleep schedule کی اہمیت بیان کرتا ہے، جبکہ کم نیند کو بلند فشار خون، موٹاپے، diabetes اور heart disease کے زیادہ خطرے سے جوڑا گیا ہے۔
پھر اس کے ساتھ ہماری دوسری عادتیں ملا لیجیے۔رات گیارہ بجے بریانی، بارہ بجے burger، ایک بجے چائے، پھر گاڑی میں گھر، لفٹ سے اوپر، موبائل ہاتھ میں اور تین بجے نیند۔چلنا تقریباً ختم۔کھیلنا ختم۔صبح کی دھوپ ختم۔گھر کا کھانا کم۔screen time زیادہ۔stress زیادہ۔اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ تیس اور چالیس سال کے لوگ blood pressure، fatty liver، diabetes اور cardiac problems کی بات کیوں کر رہے ہیں۔
WHO کے مطابق جسمانی سرگرمی کی کمی دل کی بیماری، stroke اور diabetes سمیت کئی non-communicable diseases کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 31 فیصد بالغ مطلوبہ مقدار میں physical activity نہیں کرتے۔
لیکن اس مسئلے کا ایک پہلو اور بھی ہے جسے ہم عموماً health discussion میں بھول جاتے ہیں۔
**قومیں صرف بیماری سے نقصان نہیں اٹھاتیں، بےترتیبی سے بھی اٹھاتی ہیں۔**
میں دنیا کے پینتیس چالیس ممالک گھوم چکا ہوں۔ چین دیکھا، تائیوان دیکھا، سنگاپور دیکھا، امریکہ اور یورپ کے مختلف معاشرے دیکھے۔ وہاں بھی restaurants ہیں، وہاں بھی nightlife ہے، تائیوان کے night markets تو پوری دنیا میں مشہور ہیں اور نیویارک بھی مغرب کے بعد بند نہیں ہو جاتا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ترقی یافتہ دنیا رات ہوتے ہی سو جاتی ہے۔مگر ایک فرق میں نے بار بار محسوس کیا ہے۔
**ان کی economy کی گھڑی صبح سے چلتی ہے۔**
Factories، offices، schools، logistics، government systems، suppliers اور professional life دن کے شروع میں حرکت میں آ جاتے ہیں۔ رات کی تفریح، صبح کے نظام کو یرغمال نہیں بناتی۔ہم نے اس کے برعکس اپنی معیشت کا ایک بڑا حصہ دوپہر سے شروع کرنا قبول کر لیا ہے۔آپ لاہور، کراچی، راولپنڈی، گوجرانوالہ یا کسی بڑے شہر کے کئی بازاروں کو دیکھ لیجیے۔ صبح دس بجے shutters نیچے اور رات گیارہ بارہ بجے روشنیاں اوپر۔پھر ہم کہتے ہیں ہماری productivity کم کیوں ہے۔ایک پاکستانی exporter اگر دوپہر بارہ بجے office پہنچتا ہے تو چین کا آدھا business day گزر چکا ہوتا ہے۔ اگر وہ شام پانچ بجے کام شروع کرتا ہے تو یورپ اپنا دن ختم کرنے جا رہا ہوتا ہے۔ ہم global economy میں کام کرنا چاہتے ہیں مگر اپنی گھڑی local mehfil کے حساب سے رکھنا چاہتے ہیں۔دنیا صرف talent سے نہیں جیتی جاتی۔**دنیا discipline سے جیتی جاتی ہے۔**
نیند اور productivity کا تعلق صرف فلسفہ نہیں۔ RAND کی cross-country research میں کم نیند کو workplace productivity loss کے ساتھ جوڑا گیا، اور insufficient sleep کے معاشی نقصان کو اربوں ڈالر تک estimate کیا گیا۔مگر شاید ہمارے مسئلے کی جڑ science سے بھی پہلے ہمارے گھر میں ہے۔
مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے۔ ہمارے بہت سے پاکستانی گھروں میں رات نو بجے خبرنامہ آتا تھا۔ خبرنامہ ختم ہوتا، گھر کا ماحول تبدیل ہونا شروع ہو جاتا۔ بچے اپنے کمروں میں، بزرگ آرام کی تیاری میں، باہر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ عشاء کے بعد بغیر کسی مضبوط وجہ کے گھر سے باہر رہنا اچھی بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔اور صبح؟فجر کے وقت گھر میں حرکت شروع ہو جاتی تھی۔کوئی نماز پڑھ رہا ہے، کوئی قرآن، کوئی دودھ لینے جا رہا ہے، کوئی سکول کی تیاری کر رہا ہے، کوئی دفتر کے لیے نکل رہا ہے۔آج شاید ہمارے گھروں سے گھڑی نہیں گئی۔**گھر کا نظام گیا ہے۔**
وہ بزرگ بھی کم ہوتے گئے جن کی موجودگی میں گھر کا ایک rhythm ہوتا تھا۔ والدین خود رات دو بجے Netflix یا موبائل پر ہوں تو بچے کو دس بجے کون سلائے گا؟ باپ صبح دس بجے اٹھے تو بیٹے کو فجر کے بعد پڑھنے کی نصیحت کتنی مؤثر ہوگی؟ہم نے بچوں کو lectures بہت دیے ہیں۔routine بہت کم دی ہے۔اسلام نے بھی دن اور رات کو محض astronomical phenomena کے طور پر بیان نہیں کیا۔ سورۃ النبأ میں فرمایا گیا کہ اللہ نے نیند کو آرام، رات کو پردہ اور دن کو معاش کا وقت بنایا-اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی doctor، security guard، factory worker یا emergency staff رات کو کام نہ کرے۔ دنیا میں ضروری night shifts ہمیشہ رہیں گی۔ مسئلہ مجبوری کی رات نہیں۔مسئلہ **بلا ضرورت رات کو دن بنا دینا** ہے۔اور یہ تبدیلی صرف حکومت نہیں کر سکتی۔ریاست commercial timings بہتر بنا سکتی ہے، public awareness چلا سکتی ہے، parks، walking spaces اور public transport بہتر کر سکتی ہے، schools میں health education بڑھا سکتی ہے اور ایسی policies بنا سکتی ہے جن سے کاروباری زندگی زیادہ منظم ہو۔ لیکن اگر حکومت رات دس بجے بازار بند کرے اور ہم shutters کے پیچھے بیٹھ کر رات دو بجے تک گپیں لگاتے رہیں تو قانون ہماری biological clock درست نہیں کر سکتا۔اصل انقلاب گھر سے شروع ہوگا۔ہمیں اپنے گھروں میں دوبارہ وقت کو عزت دينا ہو گی-بچوں کے لیے bedtime ہو۔ بڑوں کے لیے بھی ہو۔ dinner جلد ہو۔ موبائل رات گئے تک بستر کا ساتھی نہ ہو۔ صبح فجر کے بعد دوبارہ تین گھنٹے سونے کو achievement نہ سمجھا جائے۔ نوجوان صبح کی exercise، walk، reading اور deep work کو اپنی زندگی میں جگہ دیں۔کاروباری لوگ اپنے offices جلد کھولیں۔دکاندار سوچیں کہ رات بارہ بجے تک دکان کھلی رکھنے سے جو اضافی sale آ رہی ہے، کیا وہ واقعی اس پورے ecosystem کی قیمت ادا کرتی ہے جس میں ملازم رات ایک بجے گھر پہنچتا ہے، بچے سو چکے ہوتے ہیں، صبح دس بجے اٹھتا ہے اور اگلا دن پھر آدھا ضائع ہو جاتا ہے؟
ہمیں اپنے شہروں کو entertainment سے محروم نہیں کرنا۔ہمیں صرف entertainment کو **زندگی کا مرکز** بننے سے روکنا ہے۔چائے بری نہیں۔
دوست بری چیز نہیں۔restaurant بھی مسئلہ نہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ اگر پوری قوم کا بہترین وقت کھانے، بیٹھنے، scrolling اور گپ شپ میں چلا جائے اور کمزور ترین وقت علم، کاروبار، صحت اور تخلیق کو ملے تو پھر قوم کی سمت بدل جاتی ہے۔ہم ہسپتال ضرور بنائیں۔بہترین بنائیں۔دنیا کے بہترین doctors پیدا کریں۔Cardiac centres بھی بنائیں، cancer hospitals بھی، rehabilitation centres بھی۔مگر ایک مہذب قوم صرف یہ نہیں پوچھتی کہ بیمار ہونے کے بعد کہاں جانا ہے۔وہ یہ بھی پوچھتی ہے:**ہم اتنے بیمار ہو کیوں رہے ہیں؟**شاید لاہور کو ایک اور hospital سے پہلے ایک نئی صبح کی ضرورت ہے۔ایسی صبح جس میں باپ بچے کے ساتھ فجر کے بعد walk کرے، نوجوان سات بجے کتاب یا laptop کھولے، دکاندار نو بجے shutter اٹھائے، factory وقت پر چلے، office گیارہ بجے نہیں بلکہ صبح زندہ ہو اور رات دوبارہ سکون کا نام بن جائے۔کیونکہ قوموں کی صحت صرف ICU میں محفوظ نہیں کی جاتی۔وہ ان کے گھروں، باورچی خانوں، کھیل کے میدانوں، نماز کے اوقات، سونے کے کمروں اور صبح اٹھنے کی عادتوں میں محفوظ کی جاتی ہے۔اور شاید ہمیں اپنے بڑھتے ہوئے ہسپتالوں کے سامنے کھڑے ہو کر ایک دن یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے:**ہمیں مزید beds چاہیے ہیں… یا اپنے بچوں کو ایسی زندگی دینا ہے کہ انہیں ان beds کی ضرورت ہی کم پڑے؟-