سماجيات

رشتے

واصف علی واصف

ہمارا وجود زندگی میں ہی غیر موجود ہونا شروع ہو جاتا ہے-ہمارے تذکرے زبانوں سے اتر جاتے ہیں-: ہماری یاد دل سے دور ہو جاتی ہے- : ہم تنہائی کے صحرا میں پہنچ جاتے ہیں- اپنوں کے پاس اپنوں کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں ہوتا-: ہماری محبت ہماری آزمائش بن جاتی ہےاور : رشتے دم توڑنا شروع ہو جاتے ہیں-: کچھ رشتے ہمیں چهوڑ دیتے ہیں، کچھ کو ہم چهوڑ دیتے ہیں، : کچھ ہمیں بهول جاتے ہیں اور کچھ کو ہم -: وہ جن کے بغیر گزارا نہیں ہوتا تها، ان کے ساتھ گزرا مشکل ہو جاتا ہے - : جب تک ہم والدین کے گهر میں رہتے ہیں، ہم خوش رہتے ہیں اور جب شومئی قسمت اسی مکان میں ماں باپ ہمارے گهر میں رہنے لگیں تو ہم اچها محسوس نہیں کرتے -

: ہماری ضرورتیں پوری کرنے والے والدین جب ہم سے اپنی ”ضرورت کا ذکر“ کرتے ہیں: تو ہم ””رشتوں کی اذیت کی باتیں ““ کرتے ہیں -: ہم اس عنایت کو بهول جاتے ہیں جو ہم پر بچپن میں ہوئی. اسی طرح باقی رشتے آہستہ آہستہ دم توڑ دیتے ہیں -:: اس طرح ہم آہستہ آہستہ سے بیگانوں میں جا پہنچتے ہیں - : ہمارے ساتھ قافلہ چل رہا تها- ایک ہجوم تها اپنوں کا، اپنے لگتوں کا- چلتے چلتے ہجوم بدل جاتا ہے-: چہرے تبدیل ہو جاتے ہیں-: ہجوم قائم رہتا ہے لیکن افراد بدل جاتے ہیں اور اس ہجوم میں ہمارے ماضی کی کوئی گمراہی نہیں ہوتی-: سب اجنبی ہوتے ہیں- سب، سب سے بے خبر- ہمارے ہی قافلے میں ہمارا کوئی نہیں ہوتا - : رشتے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں- دل پتهر ہو چکا ہوتا ہے-

: نہ کوئی یاد ستاتی ہے، نہ کوئی غم رلاتا ہے- ہونا اور نہ ہونا برابر سا لگتا ہے. :: باہمی احترام ختم ہونے سے کهچاؤ پیدا ہو گیا ہے-اور ” ڈپریشن کی وبا “ پهیل چکی ہے - : آج جگہ جگہ کلینک کهل رہے ہیں - یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کا باطن مریض ہو چکا ہے -

_____ محبت دل کی صحت اور بے مروتی بیماری - ____:: رشتوں سے آزاد ہو کر انسان ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کا غلام ہو گیا ہے۔(کتاب: حرف حرف حقیقت ۔۔۔۔ مضمون : رشتے)