سيرت صحابيات

✦ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا و عفا عنہا

حنظلہ خليق

(تاریخ عرب کی ایک جذباتی اور دانا خاتون جس کی بہادری اور غیرت ضرب المثل تھی)

«خِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ»

...ہند بنت عتبہ عبشمیہ، قریشیہ اور کنانیہ تھیں۔ آپ اموی خلیفہ امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔ کسی قبائلی اور گھریلو جھگڑے کے بعد ہند کی اپنے پہلے خاوند فاکہ بن مغیرہ سے علیحدگی ہوگئی۔ ہند نہایت دوراندیش، پختہ رائے اور عقل و دانش کی مالک خاتون تھیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے والد سے کہا:«يَا أَبَتِ، إِنَّكَ زَوَّجْتَنِي مِنْ هَذَا الرَّجُلِ وَلَمْ تُؤَامِرْنِي فِي نَفْسِي، فَعَرَضَ لِي مَا عَرَضَ، فَلَا تُزَوِّجْنِي مِنْ أَحَدٍ حَتَّى تَعْرِضَ عَلَيَّ أَمْرَهُ، وَتُبَيِّنَ لِي خِصَالَهُ».’’ابا جان! آپ نے میری مرضی معلوم کیے بغیر میری شادی اس شخص سے کردی تھی، جس کے ساتھ وہ معاملہ پیش آیا جو پیش آنا تھا۔ اب آپ میری مرضی معلوم کیے بغیر کسی سے میری شادی نہ کیجیے گا، بلکہ پہلے اس شخص کے بارے میں مجھے بتائیے، اس کی عادتوں اور خصلتوں سے آگاہ کیجیے، تاکہ میں خود اپنے لیے فیصلہ کرسکوں۔‘‘

اس زمانے میں قریش کے دو بڑے سرداروں نے ہند سے نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ ان میں سہیل بن عمرو اور ابوسفیان بن حرب شامل تھے۔ ہند کے والد ان کے پاس آئے اور کہا:«أَتَاكِ سُهَيْلٌ وَابْنُ حَرْبٍ وَفِيهِمَا-رِضًى لَكِ يَا هِنْدُ الْهُنُودِ مُقَنَّعُ»

تمہارے لیے سہیل بھی آیا ہے اور ابنِ حرب بھی،اے ہندِ ! دونوں تمہارے لیے پسندیدہ انتخاب ہیں۔

ہند نے اپنے والد سے کہا کہ دونوں کے اوصاف تفصیل سے بیان کریں، تاکہ وہ اپنے مزاج اور طبیعت کے زیادہ موافق شخص کا انتخاب کرسکیں۔والد نے پہلے سہیل بن عمرو کا ذکر کیا اور کہا:«أَمَّا أَحَدُهُمَا فَفِي سَطَةٍ مِنَ الْعَشِيرَةِ وَثَرْوَةٍ مِنَ الْعَيْشِ، إِنْ تَابَعْتِهِ تَابَعَكِ، وَإِنْ مِلْتِ عَنْهُ حَطَّ عَلَيْكِ، تَحْكُمِينَ عَلَيْهِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ. وَأَمَّا الْآخَرُ فَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ، مَنْظُورٌ إِلَيْهِ، فِي الْحَسَبِ وَالْحَسِيبِ وَالرَّأْيِ الْأَرِيبِ، مَدْرَهُ أُرُومَتِهِ، وَعِزُّ عَشِيرَتِهِ، شَدِيدُ الْغَيْرَةِ، كَثِيرُ الطِّيَرَةِ، لَا يَنَامُ عَلَى ضَعَةٍ، وَلَا يَرْفَعُ عَصَاهُ عَنْ أَهْلِهِ».

’’ان میں سے ایک اپنے خاندان میں درمیانی مرتبے کا مالک اور معاشی اعتبار سے آسودہ ہے۔ اگر تم اس کے ساتھ چل کر رہو گی تو وہ بھی تمہارا ساتھ دے گا، لیکن اگر تم اس سے منہ موڑ لو تو وہ تم پر غالب آنے کی کوشش کرے گا۔ تم اس کے گھر والوں اور مال و دولت پر حکم چلا سکتی ہو۔

رہا دوسرا شخص، تو وہ خوش حال ہے، لوگوں کی نگاہوں میں عزت رکھتا ہے، بلند نسب، معزز خاندان اور پختہ رائے کا مالک ہے۔ وہ اپنے خاندان کی جڑوں کو مضبوط رکھنے والا اور اپنے قبیلے کی عزت کا محافظ ہے۔ غیرت میں بہت سخت اور بدشگونی لینے میں جلد باز ہے۔ اپنی عزت میں ذرا سی کمی بھی برداشت نہیں کرتا اور اپنے گھر والوں پر سے اپنی گرفت ڈھیلی نہیں ہونے دیتا۔‘‘

یہ سن کر ہند نے ایک ایسی بات کہی جو مشہور ہوگئی اور آج تک نقل کی جاتی ہے:

«الضَّعِيفُ مِضْيَاعٌ لِلْحُرَّةِ».’’کمزور آدمی کسی آزاد اور باوقار عورت کو تباہ کردیتا ہے۔‘‘اس جملے سے ان کی مراد سہیل بن عمرو تھے۔

پھر انہوں نے کہا:«فَاطْوِ ذِكْرَ هَذَا عَنِّي وَلَا تُسَمِّهِ لِي، أَمَّا الْآخَرُ فَبَعْلُ الْفَتَاةِ الْخَرِيدَةِ، الْحُرَّةِ الْعَفِيفَةِ، وَإِنِّي لَلَّتِي لَا أُرِيبُ لَهُ عَشِيرَتَهُ فَتُغَيِّرَهُ، وَلَا أُصِيبُهُ بِذُعْرٍ فَتُضِيرَهُ، وَإِنِّي لَأَخْلَاقِ مِثْلِ هَذَا لَمُوَافِقَةٌ، فَزَوِّجْنِيهِ».

’’اب اس شخص کا ذکر میرے سامنے نہ کیجیے اور نہ ہی اس کا نام لیجیے۔ رہا دوسرا شخص، تو وہ ایسی نوجوان عورت کا شوہر بننے کے لائق ہے جو تنہا، پاک دامن اور باعزت ہو۔ میں ایسی عورت ہوں جو اس کے خاندان کو کسی عار میں مبتلا نہیں کروں گی کہ وہ اس کی غیرت کو بھڑکائے، نہ اسے کسی ایسی پریشانی میں ڈالوں گی جو اس کے لیے نقصان کا باعث بنے۔ میں ایسے اوصاف رکھنے والے شخص کے مزاج سے پوری طرح مناسبت رکھتی ہوں۔ لہٰذا میری شادی اسی سے کردیجیے۔‘‘چنانچہ ہند کی شادی ابوسفیان بن حرب سے کردی گئی۔

ہند کو جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ غیر معمولی شخصیت کی مالک تھیں۔ ان کی خودداری اور بلند ہمتی ایسی تھی کہ بڑے بڑے مرد بھی ان کے سامنے دب جاتے تھے۔ وہ شریف النسب، پختہ رائے اور مضبوط ارادے کی خاتون تھیں۔ تاہم، اسلام کے ابتدائی دور میں وہ اس کے سخت ترین مخالفین میں شامل تھیں۔ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو اذیت پہنچانے کے لیے مشرکین کو ابھارنے میں پیش پیش رہتی تھیں۔ اسلام دشمنی میں ہونے والے کسی اجتماع یا مہم کو انہوں نے شاذ ہی چھوڑا ہو۔

غزوۂ بدر میں ان کے والد عتبہ بن ربیعہ، چچا شیبہ بن ربیعہ اور بھائی ولید بن عتبہ قتل ہوگئے۔ ہند نے ان کے مرثیے کہے اور اپنے غم و اندوہ کا اظہار کیا۔ اپنے والد کے بارے میں ان کے اشعار یہ ہیں:

«أَعَيْنَيَّ جُودَا بِدَمْعٍ سَرْبِ--عَلَى خَيْرِ خِنْدِفَ لَمْ يَنْقَلِبِ

تَدَاعَى لَهُ رَهْطُهُ غُدْوَةً--بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ»

اے میری آنکھو! بہہ پڑو، آنسوؤں کی روانی تھمنے نہ پائے،خندف کے بہترین سردار پر، جو لوٹ کر نہ آسکا۔صبح سویرے اس کے رشتے دار اس پر ٹوٹ پڑے،بنو ہاشم اور بنو مطلب کے لوگ۔

اپنے عزیزوں کے قتل کے بعد ہند نے بدلہ لینے کی قسم کھائی۔اس زمانے میں وحشی، جبیر بن مطعم کا غلام تھا۔ جبیر نے اسے اپنے چچا طعیمہ بن عدی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے پر آمادہ کیا تھا، کیونکہ طعیمہ بدر میں قتل ہوئے تھے۔ چنانچہ وحشی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی تاک میں رہنے لگا۔ اس روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ کے چچا کو قتل کرنے کے لیے وحشی کو آمادہ کرنے والا جبیر بن مطعم تھا، ہند نہیں۔

پھر غزوۂ احد کا دن آیا۔ جنگ اپنے عروج پر تھی اور ہند لشکر کے پیچھے کھڑی ہوکر یہ اشعار پڑھ رہی تھیں:

«نَحْنُ بَنَاتُ طَارِقٍ--نَمْشِي عَلَى النَّمَارِقِ

وَالدُّرُّ فِي الْمَخَانِقِ--وَالْمِسْكُ فِي الْمَنَاطِقِ

إِنْ تُقْبِلُوا نُعَانِقْ--وَنَفْرُشِ النَّمَارِقِ

وَإِنْ تُدْبِرُوا نُفَارِقْ--فِرَاقَ غَيْرِ وَامِقِ»

ہم ہیں طارق کی بیٹیاں،قالینوں پر چلنے والیاں۔

ہمارے گلوں میں موتیوں کے ہار،اور ہماری کمر میں مشک کی خوشبو۔

اگر تم آگے بڑھو گے تو ہم تمہیں گلے لگائیں گی،اور تمہارے لیے نرم بچھونے بچھائیں گی۔

لیکن اگر تم جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگو گے،تو ہم بھی تم سے جدا ہوجائیں گی، ایسی جدائی کہ پھر محبت باقی نہ رہے گی۔

جب وحشی نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو نیزہ مارا اور وہ شہید ہوگئے، تو جنگ میں مسلمانوں کو وقتی پسپائی ہوئی۔ ہند مسلمانوں کے مقتولین کو دیکھنے کے لیے نکلیں۔ ان کے ساتھ عورتوں کا ایک گروہ بھی تھا۔ اس موقع پر انہوں نے مقتولین کے جسموں کی بے حرمتی کی؛ پیٹ چاک کیے، آنکھیں نکالیں، ناک کاٹیں اور کان کاٹے۔پھر انہوں نے ناکوں اور کانوں سے ایک ہار اور بالیاں بنائیں، جنہیں پہن لیا۔ اپنے سونے کے ہار اور بالیاں وحشی کو دیتے ہوئے کہا:«هُمَا لَكَ يَا أَبَا دُسَمَةَ، هُمَا لَكَ، احْتَفِظْ بِهِمَا فَإِنَّهُمَا ثَمِينُ».

’’یہ دونوں چیزیں تمہارے لیے ہیں، اے ابودسامہ! یہ تمہاری ہیں۔ انہیں سنبھال کر رکھنا، یہ بہت قیمتی ہیں۔‘‘

جب بھی وہ وحشی کے پاس سے گزرتیں تو کہتیں:«إِيهِ أَبَا دُسَمَةَ، اشْفِ وَاشْتَفِ!»

’’شاباش، اے ابودسامہ! خوب وار کرو اور میرے دل کی آگ بجھاؤ!‘‘

مقتولین کے پیٹ چاک کرنے کے بعد وہ ایک بلند چٹان پر چڑھیں اور بلند آواز سے یہ اشعار پڑھے:

«نَحْنُ جَزَيْنَاكُمْ بِيَوْمِ بَدْرٍ--وَالْحَرْبُ بَعْدَ الْحَرْبِ ذَاتُ سُعْرِ

مَا كَانَ عَنْ عُتْبَةَ لِي مِنْ صَبْرٍ--وَلَا أَخِي وَعَمِّهِ بَكْرِي

شَفَيْتُ نَفْسِي وَقَضَيْتُ نَذْرِي--شَفَيْتَ وَحْشِيُّ غَلِيلَ صَدْرِي

فَكُشِفَ وَحْشِيٌّ عَلَيَّ عُمْرِي--حَتَّى تَرِمَّ أَعْظُمِي فِي قَبْرِي»

ہم نے تمہیں بدر کے دن کا بدلہ دے دیا،اور جنگ کے بعد جنگ کی آگ مزید بھڑکتی ہے۔عتبہ کے معاملے میں میرے لیے صبر کہاں تھا؟نہ میرے بھائی پر، نہ میرے چچا پر، نہ میرے جوان عزیز پر۔میں نے اپنے دل کو سکون دیا اور اپنی قسم پوری کردی،اے وحشی! تو نے میرے سینے کی آگ بجھا دی۔وحشی! میری عمر بھر کی خوشی کا سبب تو ہی رہے گا،جب تک میری ہڈیاں قبر میں بوسیدہ نہ ہوجائیں۔

ہند نے ایک اور موقع پر یہ اشعار بھی کہے:

«شَفَيْتُ مِنْ حَمْزَةَ نَفْسِي بِأُحُدٍ--حِينَ بَقَرْتُ بَطْنَهُ عَنِ الْكَبِدِ

أَذْهَبَ عَنِّي ذَاكَ مَا كُنْتُ أَجِدُ--مِنْ لَذْعَةِ الْحُزْنِ الشَّدِيدِ الْمُتَعَمَّدِ

وَالْحَرْبُ تَعْلُوكُمْ بِشَؤْبُوبِ بَرْدٍ--نُقْدِمُ إِقْدَامًا عَلَيْكُمْ كَالْأُسْدِ»

احد کے دن حمزہ سے بدلہ لے کرمیں نے اپنے دل کو شفا دے دی، جب اس کا پیٹ چاک کیا۔اس کی کلیجی کے بارے میں جو کچھ میرے دل میں تھا،اس سے مجھے نجات ملی، جو غم کی شدید چبھن بن کر مجھے ستاتا تھا۔جنگ تم پر سرد آندھیوں کی طرح چھا رہی ہے،اور ہم تم پر شیروں کی طرح حملہ آور ہوتے ہیں۔

جب وہ جنگ سے واپس ہوئیں تو یہ اشعار کہے:

«رَجَعْتُ وَفِي نَفْسِي بَلَابِلُ جَمَّةٌ--وَقَدْ فَاتَنِي بَعْضُ الَّذِي كَانَ مَطْلَبِي

مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ--بَنِي هَاشِمٍ مِنْهُمْ، وَمِنْ أَهْلِ يَثْرِبِ

وَلَكِنَّنِي قَدْ نِلْتُ شَيْئًا وَلَمْ يَكُنْ--كَمَا كُنْتُ أَرْجُو فِي مَسِيرِي وَمَرْكَبِي»

میں واپس آئی ہوں، مگر میرا دل بے شمار اندیشوں سے بھرا ہے،اور میری بعض خواہشیں پوری نہ ہوسکیں۔بدر میں مارے جانے والے قریش اور دوسرے لوگوں میں سے،

بنو ہاشم اور اہلِ یثرب کے کچھ لوگوں سے بدلہ لینا باقی رہ گیا۔تاہم، میں نے کچھ حاصل کرلیا، اگرچہ وہویسا نہ تھا جیسا میں اپنے سفر اور کوشش کا نتیجہ چاہتی تھی۔

ان تمام واقعات کے باوجود، سیدہ زینب بنت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہند کا ایک مختلف رویہ بھی نقل کیا جاتا ہے۔

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا مکہ میں اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع کے ساتھ تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے کسی شخص کو بھیجا کہ وہ انہیں مدینہ لے آئے۔ یہ واقعہ غزوۂ بدر کے بعد کا ہے۔ اس وقت ہند اپنے والد، بھائی اور چچا کے قتل کا غم لیے ہوئے تھیں اور قریش کی مجلسوں میں جاکر انتقام کی آگ بھڑکاتی اور جنگ کے جذبات کو ہوا دیتی تھیں۔اسی دوران راستے میں ان کی ملاقات سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ ہند کو معلوم ہوچکا تھا کہ وہ اپنے والد کے پاس جانے کے لیے مکہ سے نکلنے کی تیاری کررہی ہیں۔ ہند نے ان سے کہا:«يَا بِنْتَ مُحَمَّدٍ، بَلَغَنِي أَنَّكِ تُرِيدِينَ اللُّحُوقَ بِأَبِيكِ، أَيْ ابْنَةَ عَمِّي، إِنْ كَانَتْ لَكِ حَاجَةٌ بِمَتَاعٍ مِمَّا يُعِينُكِ فِي سَفَرِكِ، أَوْ بِمَالٍ تَبْلُغِينَ بِهِ إِلَى أَبِيكِ، فَعِنْدِي حَاجَتُكِ، لَا تَسْتَحِي مِنِّي، فَإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ بَيْنَ النِّسَاءِ مَا يَكُونُ بَيْنَ الرِّجَالِ».

’’اے محمد کی بیٹی! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اپنے والد کے پاس جانے کا ارادہ رکھتی ہو۔ اے میری چچا زاد بہن! اگر تمہیں سفر کے لیے کسی سامان کی ضرورت ہو، یا ایسے مال کی حاجت ہو جس سے تم اپنے والد تک پہنچ سکو، تو بلا جھجھک مجھ سے کہو۔ میرے پاس تمہاری ضرورت پوری کرنے کا سامان موجود ہے۔ مجھ سے شرمانا نہیں، کیونکہ عورتوں کے درمیان وہ معاملات نہیں ہونے چاہییں جو مردوں کے درمیان ہوتے ہیں۔‘‘

ایک روایت میں آتا ہے کہ جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا مکہ سے روانہ ہوئیں تو قریش کے کچھ مرد انہیں واپس لانے کے لیے ان کے پیچھے گئے۔ اس کوشش میں وہ اپنی سواری سے گر پڑیں۔ جب ہند کو اس واقعے کی خبر پہنچی تو وہ تیزی سے باہر نکلیں اور اپنی قوم سے کہا:«أَيْنَ كَانَتْ شَجَاعَتُكُمْ يَوْمَ بَدْرٍ؟»’’بدر کے دن تمہاری بہادری کہاں چلی گئی تھی؟‘‘

ہند کے بیٹے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے دل میں جب اسلام کی محبت پیدا ہوئی تو انہوں نے اپنی والدہ کو اپنے اسلام کے بارے میں بتایا۔ ہند نے کہا:

«إِيَّاكَ أَنْ تُخَالِفَ أَبَاكَ، وَأَنْ تَقْطَعَ أَمْرًا دُونَهُ فَيَقْطَعَ عَنْكَ الْقُوتَ».

’’خبردار! اپنے والد کی مخالفت نہ کرنا اور ان سے الگ ہوکر کوئی فیصلہ نہ کرنا، ورنہ وہ تمہاری روزی بند کردیں گے۔‘‘

چنانچہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنا اسلام پوشیدہ رکھا۔ہند اپنے کفر پر قائم رہیں، یہاں تک کہ فتح مکہ کا دن آگیا۔ ان کے شوہر ابوسفیان مسلمان ہوکر لوگوں کے درمیان نکلے اور پکار کر کہا:«يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، هَذَا مُحَمَّدٌ قَدْ جَاءَكُمْ بِمَا لَا قِبَلَ لَكُمْ بِهِ، فَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ».’’اے قریش کے لوگو! محمد تمہارے پاس آچکے ہیں اور اب تم میں ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے، وہ امان میں ہے۔‘‘

یہ سن کر ہند بنت عتبہ ان کی طرف لپکیں، ان کی مونچھیں پکڑ لیں اور کہا:«اقْتُلُوا الْحَمِيتَ الدَّسِمَ الْأَحْمَسَ!»’’اس موٹے، چربی بھرے، سخت جان آدمی کو قتل کردو!‘‘

یہاں ان کا اشارہ اپنے شوہر کی طرف تھا اور ان کے الفاظ میں غصے اور تحقیر کا رنگ نمایاں تھا۔

ابوسفیان نے لوگوں سے کہا:«لَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذِهِ مِنْ أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَكُمْ بِمَا لَا قِبَلَ لَكُمْ بِهِ، مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ’’یہ عورت تمہیں تمہارے انجام سے دھوکے میں نہ ڈال دے۔ محمد تمہارے پاس ایسی قوت لے کر آئے ہیں جس کا تم مقابلہ نہیں کرسکتے۔ جو میرے گھر میں داخل ہوگا، وہ امان میں ہے۔‘‘

لوگوں نے کہا:«قَبَّحَكَ اللَّهُ! وَمَا تُغْنِي دَارُكَ؟»’’اللہ تمہیں رسوا کرے! تمہارا گھر کتنے لوگوں کو پناہ دے سکتا ہے؟‘‘

انہوں نے کہا:«وَمَنْ أَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِنٌ».

’’اور جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے، وہ بھی امان میں ہے، اور جو مسجد میں داخل ہوجائے، وہ بھی امان میں ہے۔‘‘

«الْإِسْلَامُ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ»’’اسلام اپنے سے پہلے کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘

کہا جاتا ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے ہند کے خون کو بھی مباح قرار دیا تھا۔ جب وہ اپنے گھر واپس آئیں اور شوہر سے گفتگو ہوئی تو وہ ابوسفیان کی باتوں کا انکار کرتی رہیں اور اپنے بتوں سے بھی باتیں کرتی رہیں۔ پھر رفتہ رفتہ ان کا دل اسلام کی طرف مائل ہوگیا، کفر کی تاریکی چھٹ گئی اور دل پر چھایا ہوا پردہ دور ہونے لگا۔

انہوں نے اپنے شوہر سے کہا:«إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُبَايِعَ مُحَمَّدًا».’’میں محمد ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ابوسفیان نے کہا:«رَأَيْتُكِ تُكَذِّبِينَ هَذَا الْحَدِيثَ أَمْسِ!»

’’کل تک تو تم اس بات کو جھٹلا رہی تھیں!‘‘ہند نے جواب دیا:

«وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ اللَّهَ عُبِدَ حَقَّ عِبَادَتِهِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ قَبْلَ اللَّيْلَةِ، وَاللَّهِ إِنْ بَاتُوا إِلَّا مُصَلِّينَ».

’’اللہ کی قسم! اس رات سے پہلے میں نے اس مسجد میں اللہ کی ایسی عبادت ہوتے نہیں دیکھی تھی، جیسی آج دیکھی ہے۔ اللہ کی قسم! یہ لوگ رات بھر عبادت ہی کرتے رہے ہیں۔‘‘ابوسفیان نے کہا:«فَإِنَّكِ قَدْ فَعَلْتِ مَا فَعَلْتِ، فَاذْهَبِي بِرَجُلٍ مِنْ قَوْمِكِ مَعَكِ».

’’تم نے جو کچھ کیا، وہ کیا۔ اب اپنی قوم کے کسی آدمی کو ساتھ لے جاؤ۔‘‘

فتح مکہ کے دن جب رسول اللہ ﷺ مردوں سے بیعت لے چکے تو عورتوں سے بیعت لی۔ ان عورتوں میں ہند بنت عتبہ بھی شامل تھیں۔ انہوں نے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس بات پر بیعت لی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔

ہند اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ایک روایت بھی پڑھی ہے، اگرچہ مجھے اس کے صحیح ہونے کا یقین نہیں۔

ہند نے کہا:«وَكَيْفَ نَطْمَعُ أَنْ يَقْبَلَ مِنَّا مَا لَمْ يَقْبَلْهُ مِنَ الرِّجَالِ؟»’’ہم کیسے امید کرسکتی ہیں کہ آپ ہم سے وہ عہد قبول فرمائیں گے جو مردوں سے قبول نہیں فرمایا؟‘‘

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«وَلَا يَسْرِقْنَ».’’اور چوری نہ کرو۔‘‘ہند نے کہا:

«وَاللَّهِ إِنِّي لَأُصِيبُ الْهَنَةَ مِنْ مَالِ أَبِي سُفْيَانَ لَا يَدْرِي، أَيَحِلُّ لِي ذَلِكَ؟»’’اللہ کی قسم! میں ابوسفیان کے مال میں سے کبھی کچھ لے لیتی ہوں، اور انہیں اس کا علم نہیں ہوتا۔ کیا یہ میرے لیے جائز ہے؟‘‘ابوسفیان نے کہا:«مَا أَصَبْتِ مِنْ شَيْءٍ فِيمَا مَضَى وَفِيمَا غَبَرَ هُوَ لَكِ حَلَالٌ».’’جو کچھ تم نے پہلے لیا ہے اور آئندہ لو گی، وہ تمہارے لیے حلال ہے۔‘‘

رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور انہیں پہچان لیا۔ فرمایا:«وَإِنَّكِ لَهِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ؟»

’’کیا تم ہند بنت عتبہ ہو؟‘‘انہوں نے کہا:«نَعَمْ، فَاعْفُ عَمَّا قَدْ سَلَفَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، عَفَا اللَّهُ عَنْكَ».’’جی ہاں! اے اللہ کے نبی! جو کچھ پہلے ہوچکا، اسے معاف فرما دیجیے۔ اللہ آپ کو معاف فرمائے۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«وَلَا يَزْنِينَ».’’اور زنا نہ کرو۔‘‘ہند نے کہا:«وَهَلْ تَزْنِي الْحُرَّةُ؟»’’کیا کوئی آزاد اور باعزت عورت بھی زنا کرسکتی ہے؟‘‘پھر جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ».’’اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔‘‘تو ہند نے کہا:

«رَبَّيْنَاهُمْ صِغَارًا، وَقَتَلْتُمُوهُمْ كِبَارًا».’’ہم نے انہیں بچپن میں پالا پوسا، اور جب وہ بڑے ہوگئے تو تم نے انہیں قتل کردیا!‘‘ان کے بیٹے حنظلہ بن ابی سفیان بدر کے دن قتل ہوئے تھے۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اتنا ہنسے کہ پیٹھ کے بل گر پڑے، جبکہ رسول اللہ ﷺ بھی مسکرائے۔

پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ».

’’اور نہ کوئی ایسا بہتان باندھو جسے تم اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ لو۔‘‘

ہند نے کہا:«وَاللَّهِ إِنَّ الْبُهْتَانَ لَأَمْرٌ قَبِيحٌ، وَمَا تَأْمُرُنَا إِلَّا بِالرُّشْدِ وَمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ».

’’اللہ کی قسم! بہتان تو نہایت بری بات ہے۔ آپ ہمیں جو کچھ کرنے کا حکم دیتے ہیں، وہ بھلائی اور اچھے اخلاق ہی کی تعلیم ہے۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ».’’اور کسی نیک کام میں تمہاری نافرمانی نہ کریں۔‘‘ہند نے کہا:«وَاللَّهِ مَا جَلَسْنَا مَجْلِسَنَا هَذَا وَفِي أَنْفُسِنَا أَنْ نَعْصِيَكَ فِي شَيْءٍ».

’’اللہ کی قسم! ہم اس مجلس میں اس ارادے سے نہیں بیٹھی ہیں کہ کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی کریں۔‘‘

صحیح بخاری میں عروہ کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا:

«يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا أَهْلَ خِبَائِكَ، وَمَا أَصْبَحَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَعِزُّوا أَهْلَ خِبَائِكَ».

’’یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا جس کے بارے میں مجھے یہ زیادہ پسند ہو کہ وہ آپ کے گھرانے سے ذلت و رسوائی کا شکار ہو۔ لیکن آج روئے زمین پر کوئی گھرانہ ایسا نہیں جس کے بارے میں مجھے یہ زیادہ پسند ہو کہ وہ آپ کے گھرانے سے بڑھ کر عزت پائے۔‘‘

روایت کے بقیہ حصے میں بھی ان کے اسلام لانے اور بیعت کرنے کا ذکر آتا ہے۔

اسلام قبول کرنے اور بیعت کرنے کے بعد ہند اپنے گھر واپس آئیں۔ وہاں ایک بت رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے کلہاڑی اٹھائی اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے لگیں۔ بت کے ٹکڑے کرتے ہوئے کہتی جاتی تھیں:«كُنْتُ مِنْكَ فِي غُرُورٍ».’’میں تو تیرے دھوکے میں پڑی ہوئی تھی!‘‘

ہند کی زندگی کا یہ مرحلہ ان کی شخصیت میں آنے والی تبدیلی کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک طرف وہ تھیں جنہوں نے اسلام کے خلاف سخت دشمنی کی، اور دوسری طرف اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی زندگی کا نیا دور شروع ہوا۔ شرک کی ذلت سے نکل کر توحید و ایمان کی عزت نصیب ہوئی۔

جنگِ یرموک میں بھی ان کی شرکت کا ذکر ملتا ہے۔ وہ مسلمانوں کے لشکر میں شامل تھیں اور اپنے شوہر کے ساتھ مجاہدین کو جنگ پر ابھارتی تھیں۔ اس موقع پر ان سے یہ الفاظ منقول ہیں:

«عَضِّدُوا الْغُلْفَانَ بِسُيُوفِكُمْ».--’’اپنی تلواروں سے دشمنوں کی قوت توڑ دو!‘‘

اسلام کے بعد ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کی زندگی، جہاد اور معرکۂ یرموک میں ان کا کردار

فتح مکہ کے دن ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا تو ان کی زندگی کا ایک بالکل نیا باب شروع ہوا۔ وہ خاتون جو کبھی اسلام کی سخت ترین مخالف تھیں، اب اسی دین کی وفادار بن گئیں جس کے خلاف انہوں نے برسوں جدوجہد کی تھی۔ ان کی زندگی میں یہ تبدیلی محض زبان سے اسلام قبول کرلینے تک محدود نہ رہی، بلکہ ان کے بعد کے حالات میں بھی اس کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنے سابقہ طرزِ عمل سے نکل کر مسلمانوں کی جماعت کا حصہ بنیں اور بعد کے زمانے میں اسلامی لشکروں کے ساتھ شام کے معرکوں میں ان کی شرکت کا ذکر ملتا ہے۔

شام کی طرف روانگی اور رومیوں کے خلاف معرکوں میں شرکت

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد جب عہدِ خلافتِ راشدہ میں شام کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کے اپنے شوہر ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام جانے اور مسلمانوں کے لشکر میں شریک ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ تاریخی روایات میں ان کی شرکت کا نمایاں ترین واقعہ معرکۂ یرموک ہے، جو رومی سلطنت اور مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کن جنگوں میں شمار ہوتا ہے۔اس معرکے میں مسلمانوں کے ساتھ خواتین بھی موجود تھیں۔ ان کا کام زخمیوں کی دیکھ بھال، پانی پلانے اور لشکر کے حوصلے بلند رکھنے سے متعلق تھا، لیکن جب جنگ کا دباؤ بڑھا اور بعض مقامات پر مسلمان پیچھے ہٹنے لگے تو خواتین نے بھی ان کی واپسی اور ثابت قدمی کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔

ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بھی یہی بیان کیا جاتا ہے کہ وہ دوسری خواتین کے ساتھ لشکر کے عقب میں موجود تھیں۔ ان کے ہاتھ میں خیمے کی لکڑی یا ستون ہوتا، جس کے ذریعے وہ بھاگنے والے سپاہیوں کو روکتیں اور انہیں میدانِ جنگ کی طرف واپس جانے پر آمادہ کرتیں۔ ان کی آواز میں وہی پرانا عزم اور وہی سختی تھی، البتہ اب اس کا رخ اسلام کے مخالفین کی طرف تھا۔

اُحد کے اشعار، یرموک میں ایک نئے مقصد کے ساتھ

غزوۂ احد میں ہند نے مشرکین کے لشکر کو ابھارنے کے لیے جو اشعار پڑھے تھے، ان میں فخر، جنگی جوش اور فتح کی امید نمایاں تھی۔ ان کا مشہور شعر تھا:

«نَحْنُ بَنَاتُ طَارِقٍ--نَمْشِي عَلَى النَّمَارِقِ

وَالدُّرُّ فِي الْمَخَانِقِ--وَالْمِسْكُ فِي الْمَنَاطِقِ

إِنْ تُقْبِلُوا نُعَانِقْ--وَنَفْرُشِ النَّمَارِقِ

وَإِنْ تُدْبِرُوا نُفَارِقْ--فِرَاقَ غَيْرِ وَامِقِ»

’’ہم طارق کی بیٹیاں ہیں، نرم قالینوں پر چلنے والیاں۔ ہمارے گلوں میں موتیوں کے ہار ہیں اور ہماری کمروں میں مشک کی خوشبو۔ اگر تم آگے بڑھو گے تو ہم تمہیں گلے لگائیں گی اور تمہارے لیے نرم بچھونے بچھائیں گی، لیکن اگر تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے تو ہم تم سے جدا ہوجائیں گی، ایسی جدائی جس میں محبت باقی نہیں رہے گی۔‘‘

یرموک کے موقع پر بھی ان کے اسی طرح کے اشعار پڑھنے کا ذکر تاریخی روایات میں ملتا ہے۔ فرق یہ تھا کہ احد میں وہ ان اشعار کے ذریعے مسلمانوں کے مخالف لشکر کا حوصلہ بڑھا رہی تھیں، جبکہ یرموک میں ان کی آواز مسلمانوں کو ثابت قدم رکھنے اور رومی لشکر کے مقابلے میں ڈٹے رہنے کے لیے بلند ہوتی تھی۔

جب جنگ کے کسی مرحلے میں مسلمان پسپا ہونے لگتے تو خواتین انہیں ملامت کرتیں، ان کے سامنے ان کے گھر والوں کی حفاظت کا سوال اٹھاتیں اور انہیں واپس لڑنے پر ابھارتیں۔ اس موقع پر ہند سے منسوب ایک ندا یہ ہے:

«عَضِّدُوا الْغُلْفَانَ بِسُيُوفِكُمْ، يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ!»’’اے مسلمانوں کے گروہ! اپنی تلواروں سے دشمنوں کی قوت توڑ دو!‘‘یہاں «الْغُلْفَانَ» سے مراد رومی دشمن تھے۔ اس ندا میں ہند کی جنگی طبیعت اور ان کا پُرعزم مزاج جھلکتا ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں کو پسپائی سے روکنے اور دشمن کے سامنے ڈٹے رہنے کی تلقین کرتی تھیں۔

یرموک کے معرکے میں خواتین کا کردار محض تماشائیوں کا نہیں تھا۔ تاریخی بیانات کے مطابق، جب بعض سپاہی پیچھے ہٹتے تو خواتین ان کے سامنے کھڑی ہوجاتیں، انہیں واپس جانے پر آمادہ کرتیں اور اپنے خیموں اور اہل و عیال کی حفاظت کا احساس دلاتیں۔ بعض روایات میں خواتین کے ہاتھوں میں لکڑیوں اور خیموں کے ستونوں کا ذکر بھی ملتا ہے، جن سے وہ بھاگنے والوں کو روکتی تھیں۔

ہند کی اس شرکت میں ان کی شخصیت کا وہی پہلو نمایاں تھا جو پہلے ان کی زندگی میں بھی موجود تھا: مضبوط ارادہ، سخت لہجہ، بے باکی اور لوگوں کو اپنے الفاظ سے متاثر کرنے کی صلاحیت۔ تاہم، اب یہ اوصاف ایک نئے مقصد کے لیے استعمال ہورہے تھے۔

ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی آنکھ کا زخمی ہونا اور ہند کا ردِعمل

معرکۂ یرموک سے متعلق ہند اور ان کے شوہر ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک اور واقعہ بھی مشہور ہے۔ روایت کے مطابق، جنگ کے دوران رومیوں کے تیروں کی بوچھاڑ اور لڑائی کی شدت کے باعث ابوسفیان کی سواری پیچھے کی طرف مڑنے لگی۔ ہند نے یہ دیکھا تو خیمے کی ایک لکڑی یا ستون سے ان کے گھوڑے کو روکا اور انہیں واپس لڑائی کی طرف متوجہ کیا۔ان سے منسوب الفاظ ہیں:«أَيْنَ تَذْهَبُ يَا صَخْرُ؟ ارْجِعْ إِلَى الْقِتَالِ، وَاجْتَهِدْ حَتَّى تُكَفِّرَ عَمَّا سَلَفَ مِنْكَ!»’’اے صخر! تم کہاں جارہے ہو؟ جنگ کی طرف واپس لوٹو اور پوری کوشش سے لڑو، یہاں تک کہ اپنے سابقہ اعمال کی تلافی کرسکو!‘‘

یہاں صخر، ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا نام تھا۔ ہند کے الفاظ میں ان کے ماضی کی طرف اشارہ بھی تھا، کیونکہ اسلام قبول کرنے سے پہلے ابوسفیان بھی مسلمانوں کے مخالف لشکر کی قیادت کرنے والوں میں شامل تھے۔

اسی جنگ کے بارے میں بعض تاریخی بیانات میں آتا ہے کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی ایک آنکھ تیر لگنے سے ضائع ہوگئی۔ اس واقعے کو بعض بعد کی تحریروں میں ہند کے ساتھ منسوب واقعے کے تسلسل میں بیان کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس تفصیل کے تمام اجزا کو یکساں درجے کی صحت کے ساتھ ثابت نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ان کی آنکھ احد میں ضائع ہوئی تھی؛ مشہور بیان اسے یرموک کے معرکے سے متعلق کرتا ہے۔

ہند کی جانب سے اس موقع پر ابوسفیان کو واپس لڑنے پر ابھارنے کا واقعہ ان کی جرأت اور ثابت قدمی کی ایک نمایاں مثال کے طور پر نقل کیا جاتا ہے۔ اس میں ایک عجیب تاریخی تبدیلی بھی دکھائی دیتی ہے: جو دونوں میاں بیوی کبھی اسلام کے مقابلے میں کھڑے تھے، وہ اب اسی دین کے دفاع میں رومی فوج کے خلاف میدان میں موجود تھے۔

یرموک کے بعد شام میں قیام اور اسلامی فتوحات

یرموک کی فتح کے بعد شام میں مسلمانوں کی پیش قدمی جاری رہی۔ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بعض تاریخی تحریروں میں ذکر ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ شام کے محاذوں سے وابستہ رہیں۔ تاہم، ان کی ہر مہم، ہر مقام اور ہر جنگ میں شرکت کی تفصیلات یکساں طور پر محفوظ نہیں ہیں۔ اس لیے ان کی زندگی کے اس دور کے بارے میں وہی بات یقین سے کہی جاسکتی ہے جس کی تائید تاریخی روایات سے ہوتی ہے۔

ان کے بیٹے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما بھی بعد کے زمانے میں شام کے انتظامی اور عسکری معاملات سے وابستہ ہوئے۔ جب ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان کو دمشق کی ذمہ داری سونپی تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ کام کرنے لگے۔ اس موقع پر ابوسفیان نے ہند سے اپنے بیٹے معاویہ کے بارے میں گفتگو کی۔ اس واقعے سے متعلق ایک قول ہند کی طرف منسوب کیا جاتا ہے:

«إِنِ اضْطَرَبَ حَبْلُ الْعَرَبِ، فَسَتَعْلَمِينَ أَيْنَ يَقَعُ ابْنُكِ مِمَّا يَكُونُ فِيهِ ابْنِي».

’’اگر عرب کے حالات میں اضطراب پیدا ہوا تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہارا بیٹا میرے بیٹے کے مقابلے میں کہاں کھڑا ہوگا۔‘‘( یزید بن ابی سفیان ہند کے بطن سے نہ تھے)

اس قول کے الفاظ اور واقعے کی تفصیلات مختلف نقلوں میں مختلف ہوسکتی ہیں، لیکن یہ روایت ہند کی اپنے بیٹے کے مستقبل کے بارے میں بلند توقعات اور ان کی پختہ رائے کی عکاسی کرتی ہے۔

ہند اپنے بیٹے معاویہ کے بارے میں پہلے بھی مضبوط رائے رکھتی تھیں۔ جب وہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں مسلمان ہوئے تھے تو ہند نے انہیں اپنے والد کی مخالفت سے روکا تھا، لیکن بعد کے حالات میں ان کے بیٹے کا نام شام کی سیاست اور انتظام میں نمایاں ہوتا گیا۔ ہند کی زندگی کے آخری دور میں اس تبدیلی کو بھی ایک تاریخی پس منظر کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کی وفات

ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے سال کے بارے میں تاریخی روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اہلِ سیر نے لکھا ہے کہ ان کا انتقال حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں ہوا۔ بعض روایات میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان کی وفات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابوقحافہ کے انتقال کے دن ہوئی۔ دوسری طرف بعض اہلِ علم نے ان کی وفات حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہد تک مؤخر کی ہے۔ابن عبدالبر سے منقول ایک قول کے مطابق، ہند کا انتقال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد کچھ ہی عرصے میں ہوا اور اسی دن ہوا جس دن ابوقحافہ کا انتقال ہوا۔ لیکن دوسری تاریخی نقلوں میں ان کی زندگی کا زمانہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت تک پہنچتا ہے۔ اس لیے ان کی وفات کے کسی ایک سال کو قطعی طور پر متعین کرنا مشکل ہے۔

حافظ ابن کثیر نے البدایۃ والنہایۃ میں ان کی وفات کے بارے میں لکھا ہے:

«يُقَالُ: مَاتَتْ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ، وَقِيلَ: تُوُفِّيَتْ قَبْلَ ذَلِكَ كَمَا تَقَدَّمَ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ».

’’کہا جاتا ہے کہ ان کا انتقال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہوا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا انتقال اس سے پہلے ہوگیا تھا، جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔‘‘اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم مؤرخین کے ہاں بھی ان کی وفات کے وقت کے بارے میں اختلاف موجود تھا۔

جنازہ اور تدفین کے بارے میں کیا معلوم ہے؟

ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کے جنازے، نمازِ جنازہ پڑھانے والے شخص، تدفین کے مقام یا قبر کی جگہ کے بارے میں کوئی ایسی متعین اور مضبوط روایت سامنے نہیں آتی جس کی بنیاد پر ان تفصیلات کو یقین کے ساتھ بیان کیا جاسکے۔ اس لیے ان کے جنازے اور تدفین کے بارے میں کسی مخصوص مقام، تاریخ یا امام کا نام بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔

قدیم کتبِ تراجم میں ان کی وفات اور ان کے خاندان کے حالات کا ذکر موجود ہے، لیکن جنازے اور تدفین کی تفصیلات محفوظ نہ ہونے کے باعث ان کے بارے میں خاموشی ہی علمی احتیاط کا تقاضا ہے۔

ایک زندگی کے دو مختلف رخ

ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں ایک غیر معمولی تبدیلی نظر آتی ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں وہ قریش کی ایک بااثر، خوددار اور سخت مزاج خاتون تھیں۔ غزوۂ بدر میں اپنے قریبی رشتے داروں کے قتل نے ان کے دل میں انتقام کی آگ بھڑکائی، اور غزوۂ احد میں ان کی شرکت اسی جذبے کے زیرِ اثر تھی۔ لیکن فتح مکہ کے دن اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی زندگی کا رخ بدل گیا۔

ان کے ماضی کے تمام واقعات اپنی جگہ، مگر بعد کے زمانے میں ان کی جانب سے اسلام قبول کرنا، بیعت کرنا اور مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ شام کے معرکوں میں شریک ہونا ان کی زندگی کا ایک الگ باب ہے۔ یرموک کے بارے میں نقل ہونے والی روایات میں ان کی جرأت، بلند آواز، سخت لہجے اور جنگ کے دوران مسلمانوں کو واپس میدان کی طرف بلانے کا ذکر اسی نئے دور کی علامت ہے۔

ان کی شخصیت کا ایک پہلو ان کی شاعری بھی تھی۔ وہ اپنے جذبات کو اشعار میں ڈھالنے اور اپنے الفاظ سے دوسروں کے حوصلے بلند کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ احد میں یہی صلاحیت اسلام کے مخالف لشکر کے لیے استعمال ہوئی، جبکہ یرموک کے بارے میں منقول روایات میں یہی انداز مسلمانوں کے دفاع اور ثابت قدمی کے لیے سامنے آتا ہے۔یہی ان کی زندگی کا سب سے نمایاں تاریخی پہلو ہے: ایک ایسی عورت جس کی زندگی میں شدید مخالفت، انتقام، خودداری اور جنگی جوش کے واقعات بھی ملتے ہیں، اور پھر اسلام قبول کرنے کے بعد اس کے کردار میں ایک نئی سمت بھی دکھائی دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہو، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ہمیں تاریخ کے واقعات کو دیانت داری کے ساتھ سمجھنے اور بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

https://www.facebook.com/hanzlah.6236/posts/pfbid02KDJpksqgfaGRfoKmfcojtuEztQgRkVtbhFeBWfWHn78Zfj3tjrKYn4mJ6mhFX5Xl

 

بشکریہ : https://www.facebook.com/hanzlah.6236/posts/pfbid02KDJpksqgfaGRfoKmfcojtuEztQgRkVtbhFeBWfWHn78Zfj3tjrKYn4mJ6mhFX5Xl