خولہ بنت ثعلبہ -- اللہ سے فریاد کرنے والوں کا مقامِ بلند

مصنف : حضرت مولانا ابولاعلیٰ مودودیؒ

سلسلہ : سیرت صحابیاتؓ

شمارہ : ستمبر 2026

سيرت صحابيات

خولہ بنت ثعلبہ

اللہ سے فریاد کرنے والوں کا مقامِ بلند

مولانا مودودیؒ

سورۂ مجادلہ کی ابتدائی آیات قبیلہ خزرج کی ایک خاتون صحابیہ خولہ بنتِ ثعلبہ رض کی خداوندِ کریم سے پکار کے جواب میں نازل ہوئی ہیں۔بڑی عمر میں خاوند کا ظہار کر لینا، اپنی ذات اور اپنی اولاد کے تحفظ کے احساس ِدل شکستگی سے ان کی اللہ سے فریاد آسمانوں پر سنی گئی اورافلاک سے نالوں کا جواب آیا۔اللہ نے پکار سنی توایک گم نام خاتون سیدنا عمر رض جیسے امیر المومنین اور دیگر صحابہ کے ہاں محترم بن گئی۔اس واقعے کے بعد کے بعض حالات سے عہد صحابہ رض کے بے تکلفانہ مزاج کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ایک عورت امیر المومنین کو راہ چلتے ہوئے ٹوک سکتی ہے۔ اس پس منظر کو بیان کرتے ہوئے مولانا مودودی رح لکھتے ہیں:"یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان صحابیہ کی فریاد کا بارگاہِ الہی میں مسموع ہونا اور فورا ہی ان کی وہاں سے فریاد رسی کے لیے فرمانِ مبارک نازل ہو جانا ایک ایسا واقعہ تھا جس کی وجہ سے صحابہ کرام رض میں ان کو خاص قدرومنزلت حاصل ہو گئی تھی۔ابنِ ابی حاتم اور بَیہَقی نے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر کچھ اصحاب کے ساتھ کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں ایک عورت ملی اور اس نے ان کو روکا۔آپ فورا رک گئے۔سرجھکا کر دیرتک اس کی بات سنتے رہےاور جب تک اس نے بات ختم نہ کر لی،آپ کھڑے رہے۔ساتھیوں میں سے ایک صاحب نے عرض کیا:امیر المومنین! آپ نے قریش کے سرداروں کو اس بڑھیا کے لیے اتنی دیر روکے رکھا۔فرمایا: جانتے بھی ہو، یہ کون ہے؟یہ خولہ بنتِ ثعلبہ ہے۔یہ وہ عورت ہے جس کی شکایت سات آسمانوں پر سنی گئی۔خدا کی قسم اگر یہ رات تک مجھے کھڑا رکھتی تو میں کھڑا رہتا، بس نمازوں کے اوقات پر اس سے معذرت کر دیتا۔ابن عبدالبر نے استیعاب میں قتادہ کی روایت نقل کی ہے کہ یہ خاتون راستے میں حضرت عمر کو ملیں تو آپ نے ان کو سلام کیا۔یہ سلام کا جواب دینے کے بعد کہنے لگیں:اوہو، اے عمر! ایک وقت تھا جب میں نے تم کو بازار عکاظ میں دیکھا تھا۔اس وقت تم عُمَیر کہلاتے تھے۔لاٹھی ہاتھ میں لیے بکریاں چَراتےپھرتے تھے۔پھر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ تم عمر کہلانے لگے۔پھر ایک وقت آیا کہ تم امیر المومنین کہلائے جانے لگے۔ذرا رعیت کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہواور یاد رکھو کہ جو اللہ کی وعید سے ڈرتا ہےاس کے لیے دور کا آدمی بھی قریبی رشتے دار کی طرح ہوتا ہےاور جو موت سے ڈرتاہے،اس کے حق میں اندیشہ ہے کہ وہ اس چیز کو کھو دے گا جسے بچانا چاہتا ہے۔اس پر جارود عبدی ،جو حضرت عمر کے ساتھ تھے، بولے:اے عورت!تو نے امیر المومنین کے ساتھ بہت زبان درازی کی۔حضرت عمر نے فرمایا:انھیں کہنے دو۔جانتے بھی ہو یہ کون ہیں؟ان کی بات تو سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی تھی، عمر کو تو بدرجۂ اولی سننی چاہیے۔تفہیم القرآن، 5: 340۔

نسبتوں كا احترام

عبدالودود

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک صاحبِ فضل خاتون کے سامنے اس عاجزی اور ہمہ تن گوش ہو کر کھڑے رہنا محض کسی عام ضعیفہ کی بات سننا نہیں تھا، بلکہ یہ تصوف اور سلوک کے ایک انتہائی بنیادی اصول یعنی "نسبتوں کی قدر و منزلت" کی ایک انتہائی قوی اور روشن دلیل ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت براہِ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی، اور ان کے مزاج میں یہ بات راسخ کر دی گئی تھی کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص قرب، فضل یا نسبت حاصل ہو جائے، اس کا احترام اور اس کی قدر کرنا دراصل بارگاہِ الٰہی کے فضل کی قدر کرنا ہے۔ جب حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر یہ خاتون رات تک بھی بات کرتی رہتیں تو میں کھڑا رہتا، تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام اور اہل بیت رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین، اولیاء کرام، سادات اور دیگر اصحابِ نسبت کی تعظیم و توقیر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کے اسوہ کا حصہ ہے، اور ان کی بات کو وزن دینا کوئی رسمی ادب نہیں بلکہ ایک ارفع اور اعلیٰ روحانی قدر ہے۔پھر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ میں صرف نمازوں کے اوقات پر ان سے معذرت کرتا اور باقی وقت ان کی بات سنتا رہتا، فرقِ مراتب اور ترجیحات کی دین داری کا ایک شاہکار نمونہ ہے۔ ایک طرف تو نسبت کا احترام اس حد تک ہے کہ پوری خلافت کے امور اور سرفروش صحابہ کا قافلہ روک دیا گیا، لیکن دوسری طرف جب خالقِ حقیقی کا اپنا حق یعنی نماز کا وقت آتا ہے تو وہاں ترجیح حقوق اللہ کو دی جاتی ہے۔ اس سے یہ واضح سبق ملتا ہے کہ نسبتوں اور فضائل کا احترام اپنی جگہ بالکل برحق اور واجب ہے، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ فرائضِ الٰہی یا حدودِ شریعت کو پسِ پشت ڈال دیا جائے۔ دین اسلام اسی توازن اور مراتب کی پہچان کا نام ہے کہ جہاں صاحبِ نسبت کی عزت بھی قائم رہے اور شریعتِ مطہرہ کا پاس بھی برقرار رہے۔

بدقسمتی سے آج کے دور میں ایک خاص قسم کی سطحی اور خشک فکر نے جنم لے لیا ہے، جس میں کچھ لوگ اپنے آپ کو اکابرین کی تقلید اور روایاتِ اسلاف سے بالاتر سمجھتے ہوئے شریعت کے ایسے فہم کے مدعی بن بیٹھے ہیں جو روحِ دین سے خالی ہے۔ یہ طبقہ نجات کو محض انسان کے اپنے ظاہری اعمال تک محدود سمجھتا ہے اور یہ سجھاتا ہے کہ اگر کسی پر اللہ تعالی کا خاص فضل یا نسبت ہے تو اس کی قدر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ چنانچہ جب بھی کسی اللہ والے، اہل بیت، سادات یا صاحبِ نسبت بزرگ کا احترام کرنے اور ان کے آگے عاجزی اختیار کرنے کی بات کی جائے، تو فورا بدعت، حد سے بڑھنے اور گمراہی کے فتؤے داغ دیے جاتے ہیں۔ حالانکہ فاروقِ اعظمؓ کا ایک صاحبِ نسبت خاتون کے سامنے اس طرح ہمہ تن گوش کھڑے رہنا اس فکر کا عملی رد ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ اہل اللہ کی قدر کرنا شرک یا بدعت نہیں بلکہ عینِ روحِ اسلام ہے۔

اس واقعے میں صحابہ کرام اور ان خاتون کے درمیان جو بے تکلفانہ گفتگو اور نصیحت کا انداز نظر آتا ہے، اس کی اصل بنیاد کوئی دنیوی رشتہ، عمومی بے تکلفی یا بے باکی نہیں تھی بلکہ ان کے قلوب میں موجزن خشیتِ الٰہی اور تقویٰ تھا۔ جیسا کہ ان خاتون نے خود فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور وعید سے ڈرتا ہے، اس کے لیے دور کا اجنبی شخص بھی ایک قریبی اور ہمدرد رشتہ دار کی طرح بن جاتا ہے۔ صحابہ کرام کی یہی بے تکلفی اور حق گوئی ان کی اعلیٰ روحانی تربیت اور صحبتِ نبویؐ کا نتیجہ تھی، جس نے ان کے دلوں سے مخلوق کا ڈر نکال کر صرف خالق کی خشیت قائم کر دی تھی، اور اسی تقویٰ نے ان کے باہمی تعلقات کو اتنی شفافیت اور خلوص عطا کر دیا تھا کہ ایک عام خاتون وقت کے امیر المومنین کو کھڑے راستے پر نصیحت کر سکتی تھی۔

جہاں یہ سچ ہے کہ اللہ تعالی کا فضل اور نسبتیں بہت بلند مقام رکھتی ہیں، وہاں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انسانی اعمال ان نسبتوں کو مزید مضبوط اور پائیدار بناتے ہیں۔ صحابہ کرام جہاں فضلِ الٰہی پر تکیہ رکھتے تھے، وہاں اپنے عمل سے بھی اس کو جلابخشتے تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وبارک وسلم سے جب ایک صحابی نے جنت میں آپؐ کی رفقت اور قربت کا سوال کیا، تو آپؐ نے فرما یا: "سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو۔" اس فرمان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نسبت اور فضل کی قدر کے ساتھ ساتھ انسان کا اپنا عمل اور مجاہدہ بھی انتہائی ضروری ہے، تاکہ وہ اس نسبت کا حق ادا کر سکے اور اپنے مقام کو بلند تر بنا سکے۔

آخری بات یہ ہے کہ اللہ رب العزت کی ذات تو روزِ اول سے ہر پکارنے والے کی فریاد سنتی ہے اور اس کا کرم ہر لمحہ عام ہے۔ باری تعالیٰ کا اپنا ارشادِ گرامی ہے کہ جو بھی مجھے پکارے گا میں اس کی دعا قبول کروں گا اور جو میری حمد و ثنا بیان کرے گا میں اسے سنوں گا۔ اصل فرق یا کمی اللہ تعالیٰ کے سننے یا اس کی رحمت میں نہیں ہے، بلکہ ہماری اپنی نیتوں، ایمان کی کمزوری اور یقین کے فقدان میں ہے۔ جب انسان کا یقین حضرت خولہ بنتِ ثعلبہ رضی اللہ عنہا جیسا مضبوط اور سچا ہو جاتا ہے، تو پھر افلاک سے اس کے نالوں کا جواب آتا ہے اور زمین والے بھی اس کی بات پر کان دھرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں-