سیدہ امامہ بنت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہا​

مصنف : سليم زمان خان

سلسلہ : سیرت صحابیاتؓ

شمارہ : اپريل 2026

سيرت صحابيات

سیدہ امامہ بنت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہا​

"آپ کریمﷺ کی نواسی پاک "

سليم زمان خان

سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابو العاص بن ربیع کی بڑی صاحبزادی تھیں ۔ یہ خالص ہاشمی اور قریشی گھرانہ تھا جہاں اخلاق کی اعلیٰ مثالیں موجود تھیں ۔ جس بچی کی والدہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہوں اور والد ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ جیسے نہایت شریف النفس انسان ہوں جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو العاص نے ہم سے جو بھی بات کی سچی کی، جو وعدہ کیا اسے پورا کیا ۔ جس کی نانی ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہوں اور نانا امام الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں ، اس سے زیادہ اعلیٰ نسب کس کا ہو سکتا ہے؟ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی گود میں پلنے والی سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا نہایت لاڈلی تھیں ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بہت پیار کرتے تھے۔سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں ہوتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھایا ہوا ہوتا تھا ، آپ رضی اللہ عنہا ابھی بچی تھیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سوار ہوتی تھیں ۔ اسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو انھیں اتار دیتے اور جب قیام کرتے تو انہیں اٹھا لیتے۔

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عقیق کا قیمتی ہار تحفے میں آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے اہل وعیال میں سے جو مجھے سب سے محبوب ہے، یہ ہار میں اسے دوں گا۔ عورتوں نے کہہ دیا : یہ ہار بھی ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) لے جائے گی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو بلایا اور وہ ہار ان کے گلے میں ڈال دیا۔

شاہ حبشہ نجاشی نے ایک نہایت خوبصورت انگوٹھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجی جس میں بہت قیمتی نگینہ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کے ہاتھ میں وہ انگوٹھی پہنا دی۔

سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا نے اپنے نانا محترم سے بہت محبت اور پیار حاصل کیا ۔ سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا نے(۸) ہجری میں اپنی والدہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی جدائی کا صدمہ برداشت کیااور (۱۲) ہجری میں ان کے شفیق و مہربان والد محترم سیدنا ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

واضح رہے کہ سیدنا ابو العاص رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے پہلے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو ، جو ان کے قریبی رشتہ دار تھے، سیدہ امامہ رضی اللہ عنہ کی کفالت کے متعلق وصیت بھی فرمائی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چند ماہ بعد سیدہ فاطمہ الزہراء بھی وفات پا گئیں۔ بعض روایات کے مطابق انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی تھی کہ وہ ان کے بعد امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کر لیں۔

سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے ابو العاص رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق سیدنا امامہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔

میاں بیوی مثالی محبت اور پیار تھا ۔ شادی کے بعد سیدہ امامہ رضی اللہ عنھا کے آنگن میں ایک خوبصورت پھول کھلا جن کا نام محمد رکھا گیا جو بعد میں محمد الاوسط کے لقب سے مشہور ہوئے-بعض سیرت نگاروں کے مطابق سیدہ امامہ رضی اللہ عنھا کے ہاں کوئی والاد نہیں ہوئی – امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کا نکاح مغیرہ بن نوفل رضی اللہ عنہ سے ہوا اور ایک بیٹا پیدا ہوا جس کی وجہ سے ان کی کنیت ام یحیی مشہور ہوئی – انہی کے عقد میں آپ کی وفات ہوگئی-( سلام اللہ علیہا، رضی اللہ عنھا (