اسلام کی پہلی مارکیٹ کمشنر

مصنف : سليم زمان خان

سلسلہ : سیرت صحابیاتؓ

شمارہ : مئی 2026

سيرت صحابيات

اسلام کی پہلی مارکیٹ کمشنر

سليم زمان خان

آج کے دور میں جسے ہم مارکیٹ کمشنر "Market Commissioner"،یا پرائس کنٹرول مجسٹریٹ "Price Control Magistrate" کہتے ہیں، اسلام نے یہ اہم ترین عہدہ چودہ سو سال پہلے ایک عظیم خاتون کو سونپ کر عورت کی معاشرتی برابری کی مثال قائم کی تھی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ تاریخِ اسلام میں مارکیٹ کی نگرانی، قیمتوں کے تعین اور معاشی نظم و ضبط (Price Control) کی ذمہ داری سنبھالنے والی پہلی خاتون کون تھیں؟ یہ جلیل القدر صحابیہ حضرت شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا تھیں، جن کی بصیرت اور دیانت پر خلیفہِ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس قدر بھروسا کیا کہ انہیں مدینہ کی مارکیٹ کا نگران (محتسبہ) مقرر فرمایا۔

آپ رضی اللہ عنہا کا اصل نام "لیلیٰ" تھا، مگر اپنی دانائی اور علاج و معالجے میں مہارت کی وجہ سے آپ "شفاء" کے لقب سے مشہور ہوئیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کا تعلق قبیلہ بنو عدی سے تھا، جو قریش کا ایک معزز قبیلہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا کی شادی ابو خثمہ بن حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، جن سے آپ کے صاحبزادے سلیمان بن ابی خثمہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہا ان چند خواتین میں سے تھیں جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں ہی لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا، اسی علمی فضیلت کی بنا پر آپ کو معاشرے میں نہایت بلند مقام حاصل تھا۔

نبی کریمﷺ حضرت شفاء رضی اللہ عنہا سے بے حد محبت اور شفقت فرماتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہا "نملہ" کے دم کی ماہر تھیں (یہ ایک جلدی بیماری تھی جس میں جسم پر چھوٹے چھوٹے دانے یا چھالے نکل آتے تھے اور یہ مکہ و مدینہ میں کافی تکلیف دہ سمجھے جاتے تھے)۔

رسول کریمﷺ نے ایک بار آپ رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ کیا تم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہ دم سکھا سکتی ہو؟ اور ساتھ ہی یہ بھی ارشاد فرمایا کہ "جس طرح تم نے حفصہ (رضی اللہ عنہا) کو لکھنا سکھایا ہے، اسی طرح انہیں نملہ کا دم بھی سکھا دو"۔

نبی کریمﷺ اکثر شفقت فرماتے ہوئے حضرت شفاء رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور وہاں دوپہر کا آرام (قیلولہ) فرماتے تھے۔ حضرت شفاء رضی اللہ عنہا نے آقاﷺ کی راحت کے لیے ایک خاص بستر اور تہبند مخصوص کر رکھا تھا، جو صرف آپ ﷺ کے استعمال میں آتا تھا۔ یہ بستر اور کپڑا ان کے خاندان میں برکت کے طور پر طویل عرصے تک محفوظ رہا۔

جب حضرت شفاء رضی اللہ عنہا نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی، تو نبی کریمﷺ نے ان کی علمی فضیلت اور اسلام کے لیے خدمات کے پیشِ نظر انہیں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے قریب ایک مکان عطا فرمایا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ نبی کریمﷺ خواتین کی سماجی اور رہائشی خود مختاری کو کتنی اہمیت دیتے تھے۔

حضرت شفاء رضی اللہ عنہا کی سب سے نمایاں پہچان ان کی انتظامی اور معاشی بصیرت ہے۔ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، تو انہوں نے حضرت شفاء رضی اللہ عنہا کی دیانت، عقلِ سلیم اور سخت گیری کو بھانپتے ہوئے انہیں اہم ذمہ داریاں سونپیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کے فرائض میں درج ذیل امور شامل تھے:

* مارکیٹ انسپکٹر (محتسبہ): حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں مدینہ کی مارکیٹ (بازار) کے نظام کی نگرانی پر مامور کیا۔

* قیمتوں کا تعین اور کنٹرول: وہ بازار میں اشیاء کی قیمتوں پر نظر رکھتی تھیں تاکہ ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کے ذریعے عوام کا استحصال نہ ہو۔

* جوڈیشل اور مجسٹریٹ کی ذمہ داریاں: انہیں تجارتی معاملات میں فیصلے کرنے اور ناپ تول میں کمی بیشی کرنے والوں کو سزا دینے کا اختیار حاصل تھا۔ وہ ایک "مجسٹریٹ" کے طور پر بازار کے معاملات کو نظم و ضبط کے دائرے میں رکھتی تھیں۔

حضرت شفاء رضی اللہ عنہا کی جرأت کا ایک واقعہ تاریخ میں بہت مشہور ہے۔ ایک بار بازار کے معائنے کے دوران حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کسی تاجر پر سختی کی، تو حضرت شفاء رضی اللہ عنہا نے وہیں سب کے سامنے امیر المؤمنین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: "اے عمر! میں نے تمہیں تب دیکھا تھا جب تم 'عمیر' (چھوٹے عمر) کہلاتے تھے اور عکاظ کے بازار میں بکریاں چرایا کرتے تھے، پھر تم 'عمر' بنے اور اب 'امیر المؤمنین' ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور رعایا کے معاملے میں نرمی اختیار کرو"۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کمالِ ظرف کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف یہ نصیحت سنی بلکہ لوگوں سے فرمایا کہ "انہیں کہنے دو، یہ شفاء (رضی اللہ عنہا) ہیں جن کی بات نبی کریمﷺ بھی سنا کرتے تھے"۔ یہ واقعہ ایمان کی اس تازگی کو ظاہر کرتا ہے جہاں ایک عورت وقت کے طاقتور ترین خلیفہ کو حق بات کہنے کی مکمل آزادی رکھتی تھی۔

حضرت شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا سے مروی احادیث کی تعداد 12 ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا کے شاگردوں میں آپ کے صاحبزادے سلیمان بن ابی خثمہ رضی اللہ عنہ، آپ کے پوتے ابو سلمہ، اور جلیل القدر تابعی اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ شامل ہیں۔

آپ رضی اللہ عنہا کی وفات 20 ہجری کے لگ بھگ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہی دورِ خلافت میں ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہا کی زندگی علم، معاشی نظم و ضبط اور حق گوئی کا وہ نمونہ ہے جو تاریخِ اسلام میں ہمیشہ منور رہے گا۔