موسيقی اورمولوی

مصنف : محمد مدثر

سلسلہ : دین و دانش

شمارہ : جولائی 2026

دين و دانش

موسيقی اورمولوی

محمد مدثر

مولوی صاحب: گانا بجانا اور آلاتِ موسیقی حرام ہیں۔

سائل: مولوی صاحب! احادیث میں تو ذکر ملتا ہے کہ ایک شادی کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے خود گانے اور دف بجانے کی تلقین کی۔ (صحیح البخاری: 5162، سنن ابن ماجہ: 1900)

مولوی صاحب: ہاں، شادی کے موقع پر گانا جائز ہے۔ اس کے علاوہ گانا بجانا اور آلاتِ موسیقی حرام ہیں۔

سائل: لیکن احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ عید کے دن بھی رسول اللہ ﷺ نے گانا سنا، جب کچھ بچیاں آپ کے گھر میں دف بجا رہی تھیں۔ (صحیح مسلم: 2063، صحیح البخاری: 2906)

مولوی صاحب: جی ہاں، شادی اور عید کے موقع پر گانا جائز ہے۔ اس کے علاوہ گانا بجانا اور آلاتِ موسیقی حرام ہیں۔

سائل: شادی اور عید کے علاوہ عام دنوں میں بھی ایک لونڈی نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے گایا تھا، بلکہ وہ لونڈی گانے کے لیے اپنے قبیلے میں مشہور تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے خود اسے بلا کر سیدہ عائشہؓ سے فرمایا کہ تم اس کا گانا سنو۔ (سنن الکبریٰ للنسائی: 8911)

اسی طرح احادیث میں یہ بھی ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حبشہ کے لوگوں کا رقص بھی دیکھا اور ان کا گانا بھی سنا۔ (مسند احمد: 12568)

مولوی صاحب: جی ہاں، شادی، عید، لونڈیوں اور غلاموں کا گانا جائز ہے۔ وہ حبشہ کے لوگ بھی غلام تھے، ان کا گانا بھی جائز ہے۔ اس کے علاوہ گانا بجانا اور آلاتِ موسیقی حرام ہیں۔

سائل: مولوی صاحب! آپ بار بار آلاتِ موسیقی کو حرام کہہ رہے ہیں، جبکہ احادیث میں تو گانے کے ساتھ عربوں کے معروف آلۂ موسیقی "دف" بجانے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ (صحیح البخاری: 5162، مسند احمد: 21915)

مولوی صاحب: جی ہاں، شادی اور عید کے موقع پر اور لونڈیوں کا گانا جائز ہے۔ دف بھی جائز ہے۔ اس کے علاوہ گانا بجانا اور آلاتِ موسیقی حرام ہیں۔

سائل: مولوی صاحب! ایک حدیث میں تہبند کا ذکر ہے کہ جو تکبر سے اپنا تہبند لٹکائے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔ میں تو تہبند پہنتا ہی نہیں، اس لیے میرے لیے یہ حکم نہیں ہونا چاہیے؟ (سنن ابوداؤد: 4093)

مولوی صاحب: نہیں نہیں، حدیث میں اگر تہبند کا ذکر آیا ہے تو اس پر قیاس کیا جائے گا۔ شلوار، پینٹ، ٹراؤزر، شیروانی وغیرہ سب اسی حکم میں داخل ہیں۔ آپ کچھ بھی پہنیں، وہ اس میں شامل ہوگا، چاہے اس کا ذکر حدیث میں آیا ہو یا نہ آیا ہو۔

سائل: تو اسی طرح اگر ہم قیاس کر لیں کہ جب اتنے مواقع پر رسول اللہ ﷺ نے گانا سنا ہے، بلکہ ایک شادی پر جب پتا چلا کہ گانے بجانے کا اہتمام نہیں کیا گیا تو آپ ﷺ نے خود گانے کی تلقین بھی فرمائی، اور اسی طرح عربوں میں جو عموماً موسیقی کا آلہ "دف" استعمال ہوتا تھا، اسے بھی آپ ﷺ نے سنا اور اس کی اجازت دی تو پھر باقی مواقع پر بھی گانا جائز ہوگا اور دیگر آلاتِ موسیقی بھی جائز ہوں گے۔

مولوی صاحب: استغفراللہ! یہ قیاس نہیں ہو سکتا۔

سائل: کیوں؟

مولوی صاحب: کیونکہ بعض دوسری روایات میں موسیقی کی ممانعت بھی آئی ہے۔

سائل: جب ایک ہی مسئلے میں مختلف نوعیت کی روایات ہوں تو عقل کا تقاضا ہوتا ہے کہ ان میں تطبیق کی جائے، جیسے شاعری کے معاملے میں کی جاتی ہے۔ تمام علما شاعری کو جائز مانتے ہیں، حالانکہ بعض احادیث میں شاعری کی سخت مذمت بھی آئی ہے۔ یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھر لے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اسے شعر سے بھرے"۔ (صحیح البخاری: 6154، صحیح مسلم: 5894)

اسی طرح صحابہ کرام بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک شاعر شعر پڑھتا ہوا گزرا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "شیطان کو روکو"۔ (صحیح مسلم: 5895)

اس شدید مذمت کے باوجود علما کہتے ہیں کہ شاعری جائز ہے اور جن احادیث میں شاعری کی مذمت ہے، ان سے مراد غلط قسم کی شاعری ہے۔

تو یہی بات موسیقی کے بارے میں کیوں نہیں کہی جا سکتی کہ موسیقی اصلاً جائز ہے اور رسول اللہ ﷺ نے خود متعدد مواقع پر اسے سنا ہے اور جن روایات میں اس کی مذمت ہے، ان سے مراد وہ موسیقی ہے جو انسان کو فحاشی یا خدا کی راہ سے غفلت کی طرف لے جائے۔

(اور یہاں قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ موسیقی کی حرمت پر جتنی روایات نقل کی جاتی ہیں، وہ سب کمزور درجے کی ہیں۔ حتیٰ کہ اس حوالے سے جو ایک روایت صحیح بخاری میں آتی ہے، اس پر بھی بعض محدثین نے کلام کیا ہے۔ گویا اس درجے کی کوئی مضبوط نص موجود نہیں جو کسی جائز چیز کو حرام قرار دینے کے قابل ہو۔)

مولوی صاحب: نہیں نہیں، امت کا اجماع ہے کہ موسیقی شریعت میں حرام ہے۔ یہاں شاعری والا قیاس اور تطبیق نہیں ہو سکتی۔

سائل: مولوی صاحب! اجماع کیسے ہوگیا، جبکہ تاریخ میں بڑے بڑے علماء اس کے جواز کے قائل رہے ہیں، جیسے امام ابن حزم، امام غزالی، ابو بکر ابن العربی، ابن طاہر المقدسی، عبدالغنی النابلسی، عز الدین بن عبدالسلام، سعید بن المسیب، عطاء بن ابی رباح، محمد بن شهاب الزہری، عامر الشعبی، اور قاضی شریح وغیرہ۔

اس کے علاوہ اہلِ مدینہ کے بارے میں امام شوکانی اور امام ذہبی نے نقل کیا ہے کہ وہ اس کے جواز کے قائل تھے۔ اور امام احمد بن حنبل کے استاذ، مدینہ و بغداد کے قاضی و محدث ابراہیم بن سعد الزہری کا واقعہ بھی مشہور ہے کہ بعض عراقیوں کی طرف سے ان پر اعتراض کیا گیا کہ آپ گانا کیوں سنتے ہیں تو انہوں نے قسم کھائی کہ اب میں حدیث بیان کرنے سے پہلے گانا سناؤں گا اور ایک عرصے تک ان کا یہی معمول رہا۔

اس سب کو نظر انداز کر کے اور خاص طور پر رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو پسِ پشت ڈال کر، اپنی پسند کی چند آرا کو "اجماعِ امت" بنا دینا کہاں کا انصاف ہے؟

مولوی صاحب: دیکھیں، آپ خطرناک سوالات کر رہے ہیں۔

سائل: اچھا ایک اور سوال...

مولوی صاحب: جی؟

سائل: جب حدیث میں صرف تہبند کا لفظ آئے تو آپ پوری کپڑوں کی الماری کو اس میں داخل کر لیتے ہیں، لیکن جب حدیث میں دف موجود ہو تو باقی آلات کو اس سے خارج کر دیتے ہیں۔ یہ کون سا اصول ہے؟

مولوی صاحب: تم منکرِ حدیث ہو، نفس کی پیروی کر رہے ہو، حرام کو حلال بنانے کی کوشش کر رہے ہو 😡

سائل: نائس مولوی صاحب! ابھی بھی ہم ہی منکرِ حدیث ہیں۔ 😒