دين و دانش
گواہی ميں مساوات
ڈاكٹر ذيشان سرور
گواہى مىں مساوات
صنفى مساوات كے ضمن مىں عورت كى گواہى عصر حاضر كا اہم صنفى مسئلہ ہے۔ مفسرىن اور فقہاء سورة البقرة آىت ۲۲۸ كى بنىاد پر مرد اور عورت كى گواہى مىں تفرىق كرتے ہىں اور اس سلسلے مىں عدم مساوات كے قائل ہىں۔ وہىں عصرِ حاضر مىں اہل علم عورت كى گواہى كے سلسلے مىں نصوص كى تعبىر نو كرتے ہىں اور اس آىت كى مخصوص سماجى و قانونى سىاق و سباق سے متعلق تعبىر نو كرتے ہىں۔
قرآن پاك مىں مرد و عورت كى گواہى كا ذكر آٹھ مقامات پر ہوا ہے لىكن اىك مقام سورة البقرہ آىت ۲۸۲ مىں مرد و عورت كى گواہى مىں تفرىق كا ذكر ہے۔
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُبْ بَيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللَّهُ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلْ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنْ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنْ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا وَلَا تَسْأَمُوا أَنْ تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ ذَلِكُمْ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى أَلَّا تَرْتَابُوا إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمْ اللَّهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ۔([1])
ترجمہ: ’’اے لوگو! جو اىمان لائے ہو، جب كسى مقرر مدت كے لىے تم آپس مىں قرض كا لىن دىن كرو، تو اسے لكھ لىا كرو فرىقىن كے درمىان انصاف كے ساتھ اىك شخص دستاوىز تحرىر كرے جسے اللہ نے لكھنے پڑھنے كى قابلىت بخشى ہو، اسے لكھنے سے انكار نہ كرنا چاہىے وہ لكھے اور املا وہ شخص كرائے جس پر حق آتا ہے (ىعنى قرض لىنے والا) اور اسے اللہ، اپنے رب سے ڈرنا چاہىے كہ جو معاملہ طے ہوا ہو اس مىں كوئى كمى بىشى نہ كرے لىكن اگر قرض لىنے والا خود نادان ىا ضعىف ہوا، املا نہ كر سكتا ہو تو اس كا ولى انصاف كے ساتھ املاء كرائے پھر اپنے مردوں سے دو آدمىوں كى اس پر گواہى كرا لو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو اىك مرد اور دو عورتىں ہوں تاكہ اىك بھول جائے تو دوسرى اسے ىاد دلائے ىہ گواہ اىسے لوگوں مىں سے ہونے چاہئىں، جن كى گواہى تمہارے درمىان مقبول ہو، گواہوں كو جب گواہ بننے كے لىے كہا جائے، تو انہىں انكار نہ كرنا چاہىے معاملہ خواہ چھوٹا ہو ىا بڑا، مىعاد كے تعىن كے ساتھ اس كى دستاوىز لكھوا لىنے مىں تساہل نہ كرو، اللہ كے نزدىك ىہ طرىقہ تمہارے لىے زىادہ مبنى برانصاف ہے۔ اس سے شہادت قائم ہونے مىں زىادہ سہولت ہوتى ہے اور تمہارے شكو ك و شبہات مىں مبتلا ہونے كا امكان كم رہ جاتا ہے۔ ہاں جو تجارتى لىن دىن، دست بدست تم لوگ آپس مىں كرتے ہو، اس كو نہ لكھا جائے تو كوئى حرج نہىں، مگر تجارتى معاملے طے كرتے وقت گواہ كرلىا كرو كاتب اور گواہ كو ستاىا نہ جائے اىسا كرو گے، تو گناہ كا ارتكاب كرو گے اللہ كے غضب سے بچو وہ تم كو صحىح طرىق عمل كى تعلىم دىتا ہے اور اسے ہر چىز كا علم ہے۔‘‘
.1عورت كى گواہى سے متعلق فقہاء كى تعبىرات:
مذكورہ بالا آىت كى روشنى مىں قدىم مفسرىن اور فقہاء مرد و عورت كى گواہى كى تفرىق كے قائل ہىں كہ اىك مرد كى گواہى دو عورتوں كے برابر ہے۔ كىا عورت كى گواہى ہر معاملے مىں قابل قبول ہے ىا مرد كے برابر ہے ىا آدھى ہے اس حوالے سے قدىم فقہاء كے ہاں مختلف تعبىرات ہىں۔
فتح البارى مىں ابن حجر عسقلانى، ابن منذر كا قول نقل كرتے ہىں كہ آىت كرىمہ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنْ الشُّهَدَاءِ البقرہ آىت ۲۸۲ كے ظاہر كے پىش نظر علماء كا اجماع ہے كہ مردوں كے ساتھ عورتوں كى گواہى جائز ہے۔ جمہور نے اسے قرضوں مىں اموال كے ساتھ خاص قرار دىتے ہوئے كہا كہ حدود و قصاص مىں عورتوں كى گواہى جائز نہىں ہے۔ نكاح، طلاق، نسب اور ولاء كے بارے مىں اختلاف ہے۔ جمہور نے اسے ناجائز اور كوفىوں نے جائز قرار دىا ہے ۔اس بات پر تمام فقہاء كا اتفاق ہے كہ ان مسائل مىں تنہا عورتوں كى گواہى بھى قبول ہے جن پر مرد مطلع نہىں ہوتے مثلاً حىض، ولادت پىدائش كے وقت بچے كا رونا اور عورتوں كے عىوب البتہ رضاعت مىں اختلاف ہے۔([2])
علامہ ابن رشد بدایة المجتہد مىں عورتوں كى گواہى كے حوالے سے فقہاء كى مختلف تعبىرات بىان كرتے ہىں كہ جمہور كا مذہب ىہ ہے كہ حدود مىں عورتوں كى گواہى قبول نہىں ہے۔ اہل ظاہر نے كہا ہے كہ آىت كے ظاہر كے پىش نظر ہر چىز مىں عورتوں كى گواہى قبول ہے كہ ان كے ساتھ مرد بھى ہو اور عورتىں اىك سے زىادہ ہوں۔ امام ابو حنىفہ فرماتے ہىں كہ عورتوں كى گواہى اموال مىں قبول ہے نىز حدود كے سوا احكام ابدان مثلاً طلاق، رجعت، نكاح اور آزادى مىں بھى قبول ہے۔ اما م مالك كے نزدىك احكام بدن مىں كسى حكم كے بارے مىں قبول نہىں ہے۔ تنہا عورتوں كى گواہى ىعنى جب عورتىں ہى ہىں اور مرد نہ ہوں تو جمہور كے نزدىك ىہ ان حقوق ابدان كے بارے مىں قبول ہىں جن مىں غالباً مرد مطلع نہىں ہوتے۔ مثلاً ولادت، ولادت كے وقت بچے كا رونا اورعورتوں كے عىوب ، رضاعت كے سوا ان مىں سے كسى كے بارے مىں اختلاف نہىں ہے۔([3])
ابن حزم كے نزدىك تمام معاملات مىں عورت كى گواہى قابل قبول ہے اور اىك مرد كى گواہى دو عورتوں كے برابر ہے۔ البتہ رضاعت مىں مرد و عورت كى گواہى مساوى ہے۔ المحلىٰ ابن حزم مىں ہے كہ ىہ جائز نہىں كہ زنا مىں چار عادل مسلمان مردوں سے كم كى گواہى قبول كى جائے ىا ہر مرد كى بجائے دو عادل مسلمان عورتوں كى گواہى قبول كى جائے۔ اسى طرح تىن مردوں اور دو عورتوں ىا دو مردوں اور چار عورتوں ىا اىك مرد اور چھ ىا آٹھ عورتوں كى گواہى قبول كى جائے گى۔ حدود اور خون سے متعلق نىز قصاص، نكاح، طلاق، رجعت اموال اور تمام حقوق مىں صرف دو عادل مسلمان مردوں ىا اىك عورت اور دو عورتوں ىا چار عورتوں كى گواہى قبول كى جائے گى۔ حدد كے سوا ان تمام مسائل مىں اىك عادل مرد ىا دو عورتوں كى طالب كى قسم كے ساتھ گواہى قبول كى جائے گى۔ رضاعت مىں اىك عادل مرد ىا اىك ہى عادل مرد كى شہادت بھى قبول ہے۔([4])
ابن حزم سورة البقرہ كى آىت ۲۸۲ كے علاوہ حدىث سے بھى استدلال كرتے ہىں كہ دو عورتوں كى گواہى اىك مرد كے برابر ہے۔ عبداللہ بن عمرؓ سے رواىت ہے كہ رسول اللہ ﷺنے فرماىا ’’فشھادة امرأ تین تعدل شھادة رجل‘‘ ۔([5]) ترجمہ: دو عورتوں كى گواہى اىك مرد كى گواہى كے برابر ہے۔ ابن حزم اس حدىث سے استدلال كرتے ہىں كہ دو عورتوں كى گواہى اىك مرد كى گواہى كے برابر ہے۔ پس ىہ ضرورى ہے كہ جہاں اىك مرد كى گواہى قبول ہے وہاں دو عورتوں كى گواہى قبول كى جائے اسى طرح جىسے مردوں كى تعداد زىادہ ہوگى عورتوں كى تعداد بھى اسى حساب سے زىادہ ہوگى۔([6])
ىہاں امام ابن تىمىہ اور ان كے شاگرد امام ابن القىم كا نقطہ نظر انتہائى اہمىت كا حامل ہے جنہوں نے عورت كى گواہى كے معاملے مىں عام فقہى رائے سے سخت اختلاف كىا ہے۔ ان كے نزدىك اس آىت كا قضا اور عدالت كے معاملات سے كوئى تعلق نہىں اور اگر عورت پورے اعتماد سے گواہى دے تو اس كى گواہى كى بنىاد پر فىصلہ بھى ہو سكتا ہے اور آىت مىں عورت كى آدھى گواہى كا معاملہ تدبىرى ہے۔
امام ابن القىم لكھتے ہىں كہ اىك مرد كے مقابلے مىں دو عورتوں كو گواہ بنانے كى حكمت خود قرآن نے ىہ بىان فرمائى ہے كہ اگر ان مىں سے اىك بھول جائے تو دوسرى عورت اس كو ىاد دلا دے جو اس بات كى دلىل ہے كہ ىہ معاملے كے فرىقىن كے لىے محض اىك تدبىرى نوعىت كى ہداىت ہے ۔ اس كا عدالت اور قضا سے كوئى تعلق نہىں اور قاضى كے سامنے اگر اىك عورت بھى قابل اعتماد طرىقے سے گواہى دے تو قاضى اس كى بنىاد پر فىصلہ كرسكتا ہے۔([7])
امام ابن القىم اپنے استاد علامہ ابن تىمىہ كے حوالے سے مزىد لكھتے ہىں كہ حكم كى علت كى رو سے دو عورتوں كى گواہى كو مطلقاً اىك مرد كے مساوى قرار نہىں دىا جاسكتا، بلكہ اىك عورت كى گواہى كو دوسرى عورت كى گواہى سے مؤكد كرنے كا اہتمام انہى معاملات مىں مطلوب ہے جن مىں تجربہ اور ممانعت كى كمى كے باعث عورتوں كے بھول چوك ىا عدم ضبط كا شكار ہو جانے كا خدشہ ہو۔ ان كے علاوہ باقى امور مىں جہاں وہ اپنے مشاہدے اور تجربے كى بنىاد پر پورے اعتماد سے گواہى دے سكتى ہىں ان كى گواہى مردوں كے برابر ہى سمجھى جائے گى۔([8])
.2مفسرىن اور فقہاء كے نزدىك عورت كى نصف گواہى كى تو جىحات
مفسرىن اور فقہاء كے نزدىك قرآن كرىم نے عورت كى نصف گواہى كى علت سورة البقرہ آىت ۲۸۲ مىں بىان كى ہے:
أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى۔
ترجمہ: اىك بھول جائے تو دوسرى اس كو ىاد دلائے۔
امام ابو منصور ماترىدى عورت كى نصف كى وجہ بھول، غفلت اور ناقص عقل ہونا بىان كرتے ہىں:
’’ ولأ نھن جعلن على السھو والغفلة ونقصان العقل لقولہ صلى اللہ علیہ وسلم انھن ناقصات عقل و دین‘‘([9]) ترجمہ: اور اس لىے كہ عورتوں كو بھولنے ، غفلت اور عقل و دىن كى كمى پر پىدا كىا گىا ہے، جىسا كہ رسول اللہؐ نے فرماىا، بے شك عورتىں عقل اور دىن مىں ناقص ہىں۔
دوسرى جگہ امام ماترىدى استدلال كرتے ہىں كہ اللہ تعالىٰ نے گواہى كو مىراث مىں مرد و عورت كے حصوں كى طرح تقسىم كىا ہے كہ مرد كى گواہى دو عورتوں كے برابر ہے۔ ([10])
امام فخر الدىن رازى عورت كى نصف گواہى كى وجہ آىت سے استدلال كرتے ہوئے ىونانى طب كى روشنى مىں بىان كرتے ہىں كہ اگر ان مىں سے اىك بھول جائے تو دوسرى عورت اسے ىاد دلائے گى: ’’اس كا مطلب ىہ ہے كہ عورتوں كى فطرت مىں بھول ونسىان غالب ہوتا ہے كىونكہ ان كے جسمانى ڈھانچے مىں سردى اور ترى زىادہ ہوتى ہے۔ دو عورتوں كا اىك ساتھ ہونا اس بھول و نسىان كو ذہن سے مزىد دور كر دىتا ہے بہ نسبت اىك عورت كے بھولنے كے۔ اس طرح دو عورتىں اىك مرد كى جگہ لے لىتى ہىں تاكہ اگر اىك بھول جائے تو دوسرى عورت اسے ىاد دلائے اور ىہ ہى آىت كا مطلوبہ مطلب ہے‘‘۔([11])
دوسرى جگہ امام فخر الدىن عورت كى آدھى گواہى كو مردانہ برترى كے تناظر مىں دىكھتے ہىں۔
’’قلنا: ھا ھنا غرضان احدھما: حصول الاشھاد، وذلك لایاتى الا بتذكیر احدى المرأتین الثانیة والثانى: بیان تفضیل الرجل على المرأة‘‘([12])
ترجمہ:ہم كہتے ہىں كہ ىہاں دو مقاصد ہىں پہلا مقصد گواہى كا حصول اور وہ اس وقت تك حاصل نہىں ہوتا جب تك اىك عورت، دوسرى عورت كو ىاد نہ دلائے۔ دوسرا مقصد مردوں كى عورتوں پر برترى كو واضح كرنا۔
علامہ سرخسى كے نزدىك عورت كى ناقص گواہى كى وجہ عقل و دىن كا نقصان اور بھول اور نسىان كا غلبہ ہے۔
علامہ سرخسى فرماتے ہىں:’’اصل اصول ىہ ہے كہ عورتوں كى گواہى نہىں ہوتى كىونكہ وہ ناقص العقل اور دىن ہىں جىسا كہ رسول اللہ نے انہىں بىان كىا اور ىہ خاص ان كے عدم (گواہى نہ ہونے) كے شبہ كو ثابت كرتى ہے۔ پھر عورتوں مىں بھول اور نسىان كا غلبہ ہوتا ہے اور ان مىں جلد دھوكہ كھانے اور خواہش كى طرف مائل ہونے كا رجحان زىادہ ہوتا ہے‘‘۔([13])
امام ابوزہرہ آىت كى ذىل مىں عورت كى نصف گواہى كى علت ’’ضلال‘‘ كى تعبىر كرتے ہوئے كہتے ہىں:
’’عورت اپنى مضبوط جذباتى كىفىت اور حادثات سے شدىد متاثر ہونے كى وجہ سے بعض اوقات اىسى چىزوں كا گمان كرتى ہے جو حقىقت مىں موجود نہىں ہوتىں اور ىہى ضلال ہے۔ ىہ اىسى ىادداشت ہے جس مىں حقىقى واقعات كا فقدان ہوتا ہے ىا اىسا گمان جو حقىقت پر مبنى نہىں ہوتا۔ اس قسم كا بھول و نسىان زىادہ تر عورتوں اور بچوں مىں پاىا جاتا ہے كىونكہ حادثات ذہنوں پر اس طرح اثر كرتے ہىں كہ وہ اىسى اشىاء كا تصور كرتے ہىں جو حقىقى طور پر موجود نہىں ہوتىں۔ اسى وجہ سے عورت كے ساتھ اىك اور عورت كا ہونا ضرورى ہے تاكہ وہ آپس مىں حق كو ىاد دلائىں۔([14])
علامہ رشىد رضا عورت كى آدھى گواہى كى علت كے حوالے سے مفسرىن كے تصورات مثلاً عورت كا ناقص العقل ہونا اور صاحب نسىان ہونے كو رد كرتے ہىں اور اپنے استاد مفتى عبدہ كے حوالے سے لكھتے ہىں:’’صحىح وجہ ىہ ہے كہ عورت كا كام مالى معاملات اور اس قسم كے دىگر امور مىں مشغول ہونا نہىں ہے اس لىے ان معاملات مىں عورت كى يادداشت كمزور ہوتى ہے تاہم گھرىلو امور مىں جو اس كى ذمہ دارى ہوتے ہيں اس كى ىادداشت مرد سے مضبوط ہوتى ہے اس كا مطلب ىہ ہے كہ انسانى فطرت مىں مرد و عورت دونوں كے لىے ىہ بات شامل ہے كہ جن امور مىں ان كى دلچسپى زىادہ ہو اور جن مىں وہ زىادہ مشغول ہوں ان كى ىادداشت ان امور كے بارے مىں مضبوط ہوتى ہے۔([15])
.3گواہى مىں مساوات سے متعلق عصرى تعبىرات
ماضى قرىب اور عصر حاضر كے كئى اىسے اہل علم ہىں جنہوں نے عورت كى گواہى كے حوالے سے نصوص كى از سر نو تعبىر و تشرىح كر كے رواىتى فقہاء اور مفسرىن كى آراء سے اختلاف كىا۔ ان مىں كچھ اہل علم نے عورت كى آدھى گواہى كو صرف مالى معاملات تك محدود كىا اور باقى تمام معاملات مىں مرد و عورت كى گواہى كو مساوى قرار دىا۔ جبكہ كچھ اہل علم نے عورت كى گواہى كو عرف كى تبدىلى اور علت سے متعلق قرار دىا كہ عصر حاضر مىں تعلىم عام ہونے كى وجہ سے مرد و عورت كى گواہى مساو ى ہو چكى ہے۔ ان مفكرىن مىں پاك و ہند، اہل عرب ،معاصر شىعہ مفكرىن اور فىمنسٹ مفكر شامل ہىں۔
3.1پاك و ہند كے اہل علم كى عصرى تعبىرات
پاك و ہند كے اكثر اہل علم عورت كى نصف گواہى سے متعلق جمہور مفسرىن اور فقہاء كے مواقف ہىں۔ اہل حدىث عالم حافظ صلاح الدىن ىوسف سورة البقرة آىت ۲۸۲ كى تفسىر مىں لكھتے ہىں:
’’علاوہ ازىں قرآن كى اس آىت سے معلوم ہوا كہ دو عورتوں كى گواہى اىك مرد كے برابر ہے نىز مرد كے بغىر صرف اكىلى عورت كى گواہى بھى جائز نہىں سوائے ان معاملات كے جن پر عورت كے علاوہ كوئى اور مطلع نہىں ہوسكتا‘‘۔([16])
مولانا عبدالماجد درىا بادى بھى عورت كى نصف گواہى كا موقف اختىار كرتے ہىں:
’’ىہودى قانون مىں گواہى صرف مردوں كى معتبر ہے اور عورتوں كى شہادت سرے سے قابل تسلىم نہىں۔ اسلام نے اسے ىہ حق دىا ہے لىكن ساتھ ہى اپنے علم كامل اور تحقىق كى بناء پر عورت كى گواہى كا مرتبہ مرد كے مقابلہ مىں نصف مانا ہے‘‘۔([17])
پاك و ہند كے اكثر اہل علم كے برخلاف اہل علم كى اىك تعدا د نے عورت كى گواہى كے حوالے سے جمہور سے اختلاف كىا اور اس حوالے سے سورة البقرة آىت ۲۸۲ كى نصوص كى نظرثانى كى۔ ان اہل علم مىں بعض كا موقف ہے كہ عورت كى آدھى گواہى صرف مالى معاملات تك محدود ہے باقى تمام معاملات مىں مرد و عورت كى گواہى مساوى شمار ہوگى۔برصغىر ميں حقوق نسواں كے اولين علمبردار مولوى ممتاز على نے خواتىن كے حقوق پر اىك جامع كتاب لكھى جس مىں انہوں نے عورت كى آدھى گواہى كے مسئلے كی تعبىر نو كى۔
مولوى ممتاز على كے مطابق جس آىت كى رو سے اىك مرد كى گواہى دو عورتوں كى گواہى كے مساوى قرار دى گئى ہے وہ آىت تمسك قرضہ سے تعلق ركھتى ہے۔ ظاہر ہے كہ تحرىر تمسكات و دستاوىزات حساب كتاب عدالت مىں ىا محكمہ قضاة اىسے معاملات ہىں جو عام طور پر عورتوں كے لىے غىر معمولى قسم كے كام ہىں اور بوجہ تعلىم و تجربہ كى كمى اور عدم واقفىت عورتىں ان معاملات كو عرصہ دراز تك ىاد نہىں ركھ سكتىں اس كے مقابلے مىں مرد ان معاملات سے بخوبى واقف ہوتے ہىں۔ لہذا وہ ان معاملات كو بخوبى ىاد ركھ سكتے ہىں۔ اس وجہ سے اىك عورت كے بجائے دو عورتوں كو گواہى كے لىے ضرورى ٹھہراىا گىا تاكہ اىك عورت معاملہ بھول جائے تو دوسرى اس كو ىاد دلائے اور ىہى آىت مىں مذكورہ حكم كى علت ہے۔([18])
مولوى ممتاز كے مطابق تمسك قرضہ كے علاوہ دىگر معاملات مىں جو عورتوں كے فہم كے لىے غىر معمولى نہىں ہىں۔ مثلاً معاملات نكاح، طلاق، حدود قصاص وغىرہ مىں جہاں كہىں قرآن مجىد مىں گواہى كے باب مىں احكام آئے ہے، وہاں اس قسم كى تفرىق نہىں كى گئى۔([19])
غرض مولوى ممتاز على كے نزدىك قرض كے معاملات كے علاوہ دىگر تمام معاملات مىں مرد و عورت كى گواہى مساوى ہے۔ مولوى ممتاز على اىك مرد كى گواہى كى جگہ دو عورتوں كى گواہى كے حوالے سے اىك اور انوكھى تعبىر پىش كرتے ہىں كہ اس حوالے سے ىہ بھى ظن غالب ہے كہ اىك مرد كى گواہى كى بجائے دو عورتوں كى گواہى شاىد اس وجہ سے ٹھہرائى گئى ہے كہ عورتىں بعض اوقات اپنى جسمانى معذورىوں كے سبب عدالت مىں حاضرى كے قابل نہىں ہوتىں۔ اىسى حالت مىں دو عورتوں كے ہونے كاىہ فائدہ ہے كہ اىك كے معذور ہونے پر دوسرى عورت گواہى دے سكتى ہے۔ مولوى ممتاز كے مطابق عورتوں كو اس قسم كا حق حاصل ہونا ىعنى اپنى گواہى دوسرے سے دلوا دىنا بھى اس معاملہ كا اىك اىسا پہلو ہے جس سے فى الجملہ عورتوں كے حقوق كى برترى مردوں پر ثابت ہوتى ہے۔([20])
مولانا عمر احمد عثمانى كے نزدىك ىہ آىت قرض كے لىن دىن سے متعلق ہے باقى تمام مواقع پر گواہى كے لىے قرآن كرىم ميں كہىں ىہ پابندى نہىں لگائى كہ اگر دو مرد گواہ نہ ملىں تو اىك مرد اور عورتوں كو گواہ بناىا جائے بلكہ حكم دىا ہے كہ دو معتبر گواہ بنا لو، معتبر گواہ جىسے مردوں سے ہو سكتے ہىں اىسے ہى عورتوں سے بھى ہو سكتے ہىں۔ ىہاں عمر احمد عثمانى اصول فقہ كى روشنى مىں تعبىر پىش كرتے ہىں كہ اصول مىں ىہ بات طے شدہ ہے كہ مطلق آىات ہمىشہ اپنے اطلاق پر قائم رہتى ہىں۔ ان كے اطلاق كو مقىد آىات سے مقىد نہىں كىا جاسكتا۔ لہذا آىت مىں ىہ تفصىل كہ اگر دو مرد گواہ نہ ملىں تو اىك مرد اور دو عورتوں كو گواہ بناىا جائے صرف قرض كے لىن دىن كى دستاوىز كے ساتھ مخصوص ہوگى۔ باقى معاملات مىں مطلق حكم اپنے اطلاق پر قائم رہے گا كہ دو معتبر آدمىوں كو گواہ بناىا جائے۔ وہ دو معتبر آدمى مرد بھى ہو سكتے ہىں اور عورتىں بھى ہو سكتى ہىں۔([21])
غرض مولانا عمر احمد عثمانى كے نزدىك صرف قرض اورلىن دىن كى دستاوىز كے سلسلے مىں مرد و عورت كى گواہى مىں مساوات نہىں باقى تمام معاملات، حدود و قصاص، نكاح ، طلاق كے معاملات مىں مرد و عورت كى گواہى مىں مساوات ہے۔
مولانا عمر احمد عثمانى قرض كے لىن دىن كى دستاوىز مىں عورت كى آدھى گواہى كى وجہ ىہ بىان كرتے ہىں كہ عام طور پر عورتوں كا دائرہ كار گھريلوہوتا ہے اور ان كا ذہن مالى لىن دىن اور قرض و ادھار كے معاملات مىں مردوں كى طرح نہىں چل سكتا۔ وہ تفصىلات كے بىان مىں الجھ سكتى ہىں۔ اس الجھاؤ اور اضطراب كو قرآن نے ان تضل احدھما فتد كر احدھما الاخرى سے تعبىر كىا ہے كہ اگر عورت اپنے بىان مىں الجھ جائے تو دوسرى عورت اسے ىادد لائے۔([22])
ىہاں عمر احمد عثمانى مفسرىن سے اختلاف كر كے تضل كے معانى بھول و نسىان كے بجائے الجھاؤ اور اضطراب سے كرتے ہىں۔
ڈاكٹر محمد شكىل اوج كا موقف مولانا عمر احمد عثمانى سے قرىب تر ہے۔ ان كے مطابق قرض اور لىن دىن كے معاملات مىں اىك مرد كى گواہى دو عورتوں كے برابر ہے اور ىہ حكم صرف اسى آىت تك محدود ہے اسے ہر جگہ مستقل قانون كى صورت مىں نافذ نہىں كىا جاسكتا۔([23]) ان كے مطابق پورے قرآن مىں فقط صرف ىہى مقام ہے جہاں عورتوں كى گواہى كو اس طرح بىان كىا گىا ہے۔ بقىہ مقامات پر اس طرح كى كسى قىد ىا شرط كے بغىر گواہوں كا تذكرہ ملتا ہے۔([24])
غرض ڈاكٹر محمد شكىل اوج كے نزدىك صرف قرض كے معاملات مىں مرد و عورت كى گواہى مىں تفرىق ہے باقى تمام معاملات مىں تفرىق نہىں۔
ڈاكٹر محمد شكىل اوج آىت مىں مذكور عورت كى آدھى گواہى كى وجہ ىہ بىان كرتے ہىں كہ مذكورہ آىت كا تعلق قرض سے ہے ىعنى وہ صورت جبكہ آج معاملہ كىا جائے اور آئندہ اس كى ادائىگى ہو اىسے معاملات مىں انصاف پسندى كے بعد اہمىت ىادداشت كى ہوتى ہے اور حىاتىاتى طور پر عورت كى ىادداشت مرد سے كم ہو تو ىہ عىن مطابق حقىقت ہے كہ اىك مرد كى جگہ دو عورتىں گواہ بنائى جائىں۔ گوىا عورت اور مرد مىں گواہى كا فرق ضرورت كى بناء پر ہے نہ كہ فضىلت كى بناء پر ۔([25])
پاك و ہند كے كچھ اہل علم كے نزدىك اس آىت كا عدالتى مقدمات سے كوئى تعلق نہىں ہے اور تمام معاملات عورت كى گواہى اصلاً مرد كے مساوى ہے صرف قرض كے معاملات مىں، اگر عورت ان معاملات سے ناواقف ہے تو ابہام سے بچاؤ كے لىے دوسرى عورت اسے سہارا دے گى۔
جاوىد احمد غامدى اپنى تفسىر البىان مىں مرد و عورت كى گواہى كى تشرىح و تعبىر كے حوالے سے درج ذىل رائے دىتے ہىں:
’’اس آىت مىں گواہى كا جو ضابطہ بىان ہوا ہے ، اس كے بارے مىں دو باتىں واضح رہنى چاہىں: اىك ىہ كہ واقعاتى شہادت كے ساتھ اس ضابطے كا كوئى تعلق نہىں ہے۔ ىہ صرف دستاوىزى شہادت سے متعلق ہے۔ ہر شخص جانتا ہے كہ دستاوىزى شہادت كے لىے گواہ كا انتخاب ہم كرتے ہىں اور واقعاتى شہادت مىں گواہ كا موقع پر موجود ہونا اىك اتفاقى معاملہ ہوتا ہے۔ ہم اگر كوئى دستاوىز لكھتے ہىں ىا كسى معاملے مىں كوئى اقرار كرتے ہىں تو ہمىں اختىار ہے كہ اس پر جسے چاہىں گواہ بنائىں۔ لىكن زنا، چورى، قتل، ڈاكہ اور اس طرح كے دوسرے جرائم مىں جو شخص بھى موقع پر موجود ہوتا ہے۔ وہى گواہ قرار پاتا ہے۔ چنانچہ شہادت كى ان دونوں صورتوں كا فرق اس قدر واضح ہے كہ ان مىں سے اىك كو دوسرى كے لىے قىاس كا مبنى نہىں بناىا جاسكتا۔ دوسرى ىہ كہ آىت كے موقع و محل اور اسلوب بىان مىں اس بات كى كوئى گنجائش نہىں ہے كہ اسے قانون و عدالت سے متعلق قرار دىا جائے۔ اس مىں عدالت كو مخاطب كر كے ىہ بات نہىں كہى گئى كہ اس طرح كا كوئى مقدمہ اگر پىش كىا جائے تو مدعى سے اس نصاب كے مطابق گواہ طلب كرو۔ اس كے مخاطب ادھار كا لىن دىن كرنے والے ہىں اور اس مىں انہىں ىہ ہداىت كى گئى ہے كہ وہ اگر اىك خاص مدت كے لىے اس طرح كا كوئى معاملہ كرىں تو اس كى دستاوىز لكھ لىں اور نزاع اور نقصان سے بچنے كے لىے ان گواہوں كا انتخاب كرىں جو پسندىدہ اخلاق كے حامل، ثقہ، معتبر اور اىمان دار بھى ہوں اور اپنے حالات و مشاغل كے لحاظ سے اس ذمہ دارى كو بہتر طرىقے پر پورا بھى كر سكتے ہوں ۔ ىہى وجہ ہے كہ اس مىں اصلاً مردوں ہى كو گواہ بنانے اور دو مرد نہ ہوں تو اىك مرد كے ساتھ دو عورتوں كو گواہ بنانے كى ہداىت كى گئى ہے تاكہ گھر مىں رہنے والى ىہ بى بى اگر عدالت كے ماحول مىں كسى گھبراہٹ مىں مبتلا ہو تو گواہى كو ابہام و اضطراب سے بچانے كے لىے اىك دوسرى بى بى اس كے لىے سہارا بن جائے۔ اس كے ىہ معنى ظاہر ہے كہ نہىں ہو سكتے كہ عدالت مىں مقدمہ اسى وقت ثابت ہوگا، جب كم سے كم دو مرد ىا اىك مرد اور عورتىں اس كے بارے مىں گواہى دىنے كے لىے آئىں۔ ىہ اىك معاشرتى ہداىت ہے جس كى پابندى اگر لوگ كرىں گے تو ان كے لىے ىہ نزاعات سے حفاظت كا باعث بنے گى۔ لوگوں كو اپنى صلاح و فلاح كے لىے اس كا اہتمام كرنا چاہىے، لىكن مقدمات كا فىصلہ كرنے كے لىے ىہ كوئى نصاب شہادت نہىں ہے جس كى پابندى عدالت كے لىے ضرورى ہے‘‘۔([26])
غرض جاوىد احمد غامدى كے نزدىك آىت كا مقدمات سے كوئى تعلق نہىں ہے اور تمام عدالتى مقدمات مىں مرد وعورت كى گواہى مساوى ہے اور آىت قرض اور لىن دىن سے متعلق معاشرتى ہداىت ہے۔ ىہاں غامدى صاحب عورت مىں نسىان كے تصور كو رد كرتے ہوئے ابہام كى اصلاح استعمال كرتے ہىں اور گھرىلو عورت مراد لىتے ہىں جس كا عام مالى لىن دىن سے تعلق نہىں ہوتا۔ غامدى صاحب كے نزدىك مرد كى طرح عورت كى اصلاً اىك گواہى ہے اور دوسرى عورت اس كو ابہام كى صورت مىں سہارا دے گى۔
جاوىد احمد غامدى كے موقف كو ان كے شاگرد ڈاكٹر محمد فاروق خان مزىد آگے بڑھاتے ہىں كہ اس آىت كے ضمن مىں دو اہم پہلو ہىں: اىك ىہ كہ آ ىت سرے سے عدالت كو مخاطب ہى نہىں كرتى۔ اگر ىہ آىت عدالت كو مخاطب كرتى تو اس كے الفاظ ىوں ہوتے ’’اے اىمان والو! جب تمہارے پاس قرض كا كوئى مقدمہ لاىا جائے تو‘‘ ىہ آىت صرف اىك معاشرتى ہداىت بىان كرتى ہے تاكہ لوگوں كى زندگى تنازعات سے محفوظ رہے۔ باقى رہى عدالت كى بات تو اگر عدالت كے پاس قرض كا كوئى تنازعہ لاىا جائے تو وہ اپنى تحقىق و تسلى كے لىے دستاوىزات كى چھان بىن كرے گى، موقع كے گواہوں كے بىانات بھى لے گى، حالات و واقعات كو بھى دىكھے گى اور سچائى تك پہنچنے كى كوشش كرے گى تاكہ حق دار كو اس كا حق ملے۔ دوسرا اہم پہلو ىہ ہے كہ ىہ آىت صرف دستاوىزى شہادت سے متعلق ہے۔ كوئى واقعہ ىا كوئى جرم كسى سے پوچھ كر نہىں ہوتا۔ ممكن ہے اس وقت وہاں مرد ہوں، عورتىں ہوں، وىڈىو كىمرہ ہو ىا صرف آثار و قرائن مثلاً فنگر پرنٹس ىا خون كے دھبے ہوں۔ لہذا كسى بھى واقعہ ىا جرم سے متعلق عدالتى كارروائى مىں ان سب چىزوں سے مدد لىنى پڑے گى گوىا عدالتى گواہى سے اس آىت كا كوئى تعلق نہىں۔ ([27])
ڈاكٹر محمد فاروق خان اس تصور كى نفى كرتے ہىں كہ عورت كى آدھى گواہى كى وجہ اس كى عقل اور فہم و شعور كى كمزورى ہے۔ ان كے مطابق جدىد ترىن سائنسى اور نفسىاتى تحقىقات كى رو سے ىہ بات ثابت ہے كہ مردوں اور عورتوں كى عقل اور ان كا فہم برابر ہے۔
ڈاكٹر محمد فاروق خان كے نزدىك مذكورہ آىت مىں دراصل وہ گھرىلو غىر تعلىم ىافتہ اور تجارتى معاملات سے نابلد خواتىن مراد ہىں جن كا كسى كاروبارى معاملے كو ىاد ركھنے مىں الجھ جانا ممكن ہے۔ ڈاكٹر محمد فاروق خان كے مطابق ىہ آىت واضح طور پر بتا رہى ہے كہ ىہ ہداىت اس معاشرے سے متعلق ہے جہاں مردوں مىں بھى تعلىم كم تھى۔ اس آىت كا ىہ ٹكڑا كہ اپنے پسندىدہ لوگوں مىں سے گواہ بنا لىا كرو، عورتوں كے معاملے مىں ىہ واضح كرتا ہے كہ كسى دستاوىز پر ان كى گواہى لىنے كى ضرورت پىش آ جائے تو اپنى گھرىلو عورتوں سے ىہ گواہى لى جائے، اس لىے كہ پسندىدہ اور قرىبى خواتىن ىہى ہو سكتى ہىں گوىا ىہ بات ظاہر ہے كہ ىہاں عورتو ں سے مراد گھرىلو غىر تعلىم ىافتہ عورتىں ہىں۔ ظاہر ہے كہ اىسى خواتىن كا قرض كے معاملات مىں الجھن مىں پڑ جانا بعىد از قىاس نہىں۔([28])
غرض ڈاكٹر محمد فاروق خان كے نزدىك آىت مىں دو عورتوں كى گواہى سے مراد گھرىلو كم علم عورتىں مراد ہىں اور اگر خواتىن قرض اور كاروبارى معاملات سے بھرپور واقف ہىں تو ان كى گواہى مكمل طور پر مرد كے مساوى ہے۔
كچھ معاصر اہل علم كے نزدىك مذكورہ آىت مىں عورت كى آدھى گواہى كا كوئى تصور نہىں ہے اور عورت كو ىہ سہولت دى گئى ہے كہ وہ كسى وجہ سے دوسرى عورت سے مشورہ كر لے ىا اس كى جگہ دوسرى عورت گواہى دے دے۔
اہل حدىث عالم مولانا عبدالكرىم اثرى كا موقف ہے كہ عورت كى آدھى گواہى كا ذكرقرآن پاك مىں نہىں ہے۔ سورة البقرة كى آىت ۲۸۲ مىں قرض و ادھار كى لىن دىن كے معاملات كا ذكر ہے اور ادھار لىن دىن كے معاملات طوىل وقت كے لىے ہوتے ہىں اور عورتوں كے حالات مردوں سے مختلف ہوتے ہىں اس لىے اگر عورتوں كو گواہ بناىا جائے تو دو عورتوں كو مقرر كرنا ضرورى ہے كہ اىك نسوانى حالات كے پىش نظر گواہى نہ دے سكے تو دوسرى عورت اس جگہ گواہى د ے دے۔ مولانا اثرى كے نزدىك اس آىت سے عورت كى آدھى گواہى كا تصور نہىں ملتا بلكہ عورت كے نسوانى عوارضات كا تصور اجاگر ہوتا ہے كہ اگر اىك عورت اپنے عارضہ كے پىش نظر گواہى كے لىے حاضر نہىں ہو سكتى تو دوسرى عورت گواہى كے لىے حاضر ہو جائے تاكہ معاملہ جلد حل ہو جائے اور گواہى كى وجہ سے دىر نہ ہو۔([29])
مولانا عبدالكرىم اثرى كے نزدىك كتاب و سنت سے اىك مثال بھی اس بات كى پىش نہىں كى جاسكتى كہ اىك مرد كے ساتھ دو عورتوں كى الگ الگ گواہى لى گئى ہو بلكہ قرآن كرىم مىں مرد و عورت كے قضىہ مىں اىك دوسرے كے مقابلہ مىں برابر برابر شہادت دىنے كا واضح الفاظ مىں ذكر موجود ہے جس كى وضاحت سورة النور كى آىت ۶ سے ۹ تك ميں كی گئى ہے اور دونوں كى گواہى مىں كوئى فرق نہىں ركھا گىا۔([30])
ڈاكٹر طاہر القادرى كے نزدىك ىہ تصور غلط ہے كہ اسلام نے عورت كى گواہى كو نصف قرار دىا ہے۔ ان كے نزدىك قرآن مجىد كى جس آىت كرىمہ سے ىہ تصور اخذ كىا جاتا ہے اسے سىاق و سباق كے ساتھ غور كرىں تو معلوم ہوتا ہے كہ اس آىت مىں عورت كو ىہ رعاىت دى گئى ہے كہ گواہى دىتے وقت دوسرى عورت سے مشورہ كر سكتى ہے۔ ڈاكٹر طاہر القادرى مزىد رائے دىتے ہىں كہ قاعدہ ىہ ہے كہ مرد اگر عدالت مىں گواہى كے دوران كسى سے مشورہ طلب كرے تو اس كى گواہى مسترد كر دى جاتى ہے كہ وہ بھول رہا ہے جب كہ عورت كو ىہ حق حاصل ہے كہ وہ گواہى كے دوران اگر اپنى ساتھى عورت سے مشورہ كرنا چاہے تو كرسكتى ہے۔ عدالت اس كى گواہى محض اس بناء پر رد نہىں كرسكتى كہ وہ دوسرى عورت سے مشورہ كىوں كر رہى ہے۔([31])
پاك و ہند كے كچھ اہل علم گواہى سے متعلق سورة البقرة كى آىت كو تارىخى سىاق و سباق مىں دىكھتے ہىں كہ ىہ آىت اس دور مىں عورت كى كاروبار اور معاملات مىں عدم شمولىت كا بىان كرتى ہے اور اب وہ حالات نہىں رہے لہذا عورت كى گواہى مساوى ہوگى۔
علامہ غلام احمد پروىز كے نزدىك دو عورتوں كى گواہى سے متعلق قرآن مجىد نے خود ہى بات واضح كر دى ہے كہ اگر عورت بھول جائے ىا كنفىوز ہو جائے تو دوسرى عورت اسے ىاد دلا دے اس سے ىہ دو باتىں واضح ہوتى ہىں۔
(۱) ىہ كہ اس زمانے مىں عورتوں كى حالت اىسى تھى كہ وہ جہالت كى وجہ سے اىك طرف اپنا معاملہ بھى وضاحت سے بىان نہىں كر سكتى تھىں اور چونكہ انہىں اجتماعى امور مىں حصہ لىنے كے مواقع نہىں دئىے جاتے تھے اس لىے عدالت كے سامنے ان كا پرىشان ہو جانا كچھ مستعبد نہىں تھا۔
(۲) دوسرى عورت كى ضرورت اس وقت لاحق ہوتى تھى جب پہلى عورت كچھ بھول جائے ىا اسے الجھاؤ پىدا ہو جائے اگر پہلى عورت كى حالت اىسى نہ ہو تو پھر نہ دوسرى عورت دخل دے سكتى ہے نہ اس كى گواہى كى ضرورت پڑتى ہے۔ اس سے واضح ہے كہ اىك مرد كے عوض دو عورتىں بطور گواہ پىش نہىں ہوتى تھىں بلكہ گواہى اىك ہى كافى سمجھى جاتى تھى بشرطىكہ وہ عدالت مىں آ كر گھبرا نہ جائے۔([32])
غلام احمد پروىز كے نزدىك عورت كو محض عورت ہونے كى وجہ سے مردوں كے مقابلے مىں ناقص الاعتبار قرار نہىں دىا گىا صرف عورت كى اس مخصوص حالت كو ملحوظ ركھا گىا ہے اگر وہ حالات نہ رہىں تو اىك عورت كى گواہى اىك مرد كى گواہى كے برابر تسلىم كى جائے گى۔([33])
3.2عالم عرب كے اصلاح پسند مفكرىن كى تعبىرات
عالم عرب كے اصلاح پسند مفكرىن نے بھى عورت كى گواہى سے متعلق عصرى تعبىرات پىش كى ہىں۔ اس حوالے سے انہوں نے جمہور كے موقف اور معاصر عرب اہل علم كى اكثرىت سے اختلاف كىا ہے۔ ان مىں كچھ اہل علم اس آىت كو تارىخى سىاق و سباق كے تناظر مىں تعبىر كرتے ہىں۔ مراكش كے عابد الجابرى سورة البقرة آىت ۲۸۲ مىں اىك مرد اور عورتوں كى گواہى كی وجہ پر بحث كرتے ہوئے دلىل دىتے ہىں كہ دو عورتوں كو اىك مرد كے بدلے مىں گواہى دىنے كى وجہ ىہ ہے كہ عورت كے بھول جانے ىا غلطى كرنے كا امكان ہو سكتا ہے لىكن ىہ عورت كى فطرى صلاحىتوں كا حصہ نہىں ہے بلكہ اس وقت كے سماجى اور تعلىمى حالات كى وجہ سے تھا۔ ىہاں الجابرى ىہ سوال اٹھاتے ہىں كہ چونكہ حالات بدل چكے ہىں تو جب علت ختم ہو جائے تو چىزىں اپنى اصل حالت مىں واپس آ جاتى ہىں كے اصول كا اطلاق كىا جائے جس كا مطلب مرد و عورت كى گواہى مىں مساوات ہے ىا پھرآىت كے لفظى مطلب كو برقرار ركھا جائے؟([34])
مصر كے ڈاكٹر زىد ابو نصر كا موقف ہے كہ كلاسىكى علماء سورة البقرة كى آىت ۲۸۲ كو اىك تشرىعى سىاق و سباق مىں دىكھتے ہىں لىكن زىد ابو نصر اس آىت كو اىك قانونى شرعى معىار كے طور پر نہىں دىكھتے جو ىہ جواز فراہم كرتى ہے كہ عورت كى فطرت مردوں سے كمتر ہے بلكہ ىہ آىت صرف اىك مخصوص وقت، عرف اور حالات مىں عورت كى عارضى كمى كا ذكر كرتى ہے۔([35])
كچھ معاصر اہل عرب علماء اس آىت كا اطلاق صرف قرض اور تجارت تك كے معاملات تك محدود ركھتے ہىں اور باقى معاملات مىں مرد و عورت كى گواہى مساوى قرار دىتے ہىں۔ سلىم البنسھاوى كے نزدىك مرد و عورت كے درمىان گواہى مىں فرق صرف قرض اور تجارت كے معاملات مىں ہے۔ اس كى وجہ ىہ ہے كہ عورتوں كى طبىعت كاروبارى امور كو جلد بھول جاتى ہے جو اگرچہ كم ہى واقع ہوتا ہے باقى تمام معاملات كے حوالےسے قرآنى نصوص مىں مرد اور عورت كى گواہى ميں كوئی فرق نہىں ہے۔([36])
تاہم كچھ معاصر عرب اہل علم كے نزدىك اگر خواتىن مالىاتى معاملات مىں مہارت حاصل كرتى ہىں تو ان كى گواہى مساوى قرار پائے گى۔ مصر كے عالم محمد عمارہ كے مطابق مرد اور عورت كى گواہى كے معاملے مىں الشھادة (گواہى) اور الاشھادة (گواہى دىنے ) كو باہم مخلوط كر دىا گىا ہے الشھادة كا مطلب ثبوت كا وہ ذرىعہ ہے جسے جج انصاف كا فىصلہ كرنے كے لىے گواہ كى گواہى كى بنىاد پر سن سكتا ہے۔ الزام عائد كرنے كے لىے ىہ ضرورى نہىں كہ گواہ مرد ہو ىا عورت بلكہ جج كو قائل كرنے كے لىے معىارى ثبوت فراہم كرنا ضرورى ہے، چاہے گواہ كى صنف ىا گواہوں كى تعداد كچھ بھى ہو۔([37])
محمد عمارہ كے مطابق سورة البقرة كى آىت ۲۸۲ قرض دہندہ كو اس كے قرض كى ىاددھانى كے لىے گواہى دىنے كى بات كرتى ہے نہ كہ قاضى كے ذرىعہ دو فرىقوں كے تنازعہ كى سماعت مىں لے جانے والى گواہى كى۔ ىہ آىت اىك خاص قرض دہندہ كى طرف اشارہ كرتى ہے۔([38])
محمد عمارہ كے مطابق الاشھاد كا مطلب قرض كے معاملات مىں گواہى دىنا ہے۔ اسے دو مرد ىا اىك مرد اور دو عورتوں كے ذرىعے پورا كىا جانا چاہىے۔ محمد عمارہ كے مطابق ىہ شرط جدىد تجارت مىں ضرورى نہىں ہے۔ محمد عمارہ كے مطابق ىہ تعبىرات امام ابن تىمىہ، امام ابن القىم، محمد عبدہ اور محمود شلتوت كے ہاں بھى موجود ہىں۔([39])
محمد عمارہ علامہ ابن تىمىہ كا حوالہ دىتے ہوئے سورة البقرہ آىت ۲۸۲ كى تفسىر كرتے ہوئے موقف اختىار كرتے ہىں كہ دو عورتىں اىك مرد كا متبادل ہىں تاكہ اگر عورت بھول جائے تو دوسرى عورت اسے ىاد دلا سكے۔ ىہ خواتىن كا عمومى روىہ نہىں ہے اور ہر گواہى مىں ضرورى نہىں ہے بلكہ ىہ مہارت اور ہنر سے متعلق ہے اور تجربے كے ساتھ اس مىں ترقى اور تبدىلى ہو سكتى ہے۔ لہذا اگر كسى عورت كو مخصوص گواہى مىں مہارت حاصل ہے، تو عورت كى گواہى ہمىشہ مرد كى گواہى كے نصف نہىں ہوتى۔([40])
ڈاكٹر طہٰ جابر العلوانى كے مطابق سورة البقرة كى آىت ۲۸۲ مالىاتى لىن دىن كے مخصوص سىاق و سباق سے متعلق ہے جس مىں تارىخى طور پر خواتىن كى شمولىت كم رہى ہے۔ اس لىے قرآن مجىد اس حقىقت كا لحاظ كرتے ہوئے مالىاتى قرض كے معاملات مىں دو عورتوں كى گواہى طلب كرتا ہے تاكہ لىن دىن مىں درستگى اور غلطى كے امكانات كو كم كىا جاسكے۔ آىت مىں ىہ وضاحت كى گئى ہے كہ اگر اىك عورت بھول جائے تو دوسرى اسے ىاد دلا سكے اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ اس وقت كے معاشرتى حالات مىں خواتىن كو مالى معاملات مىں وہ تجربہ اور علم حاصل نہىں تھا جو مردوں كو ہوتا تھا۔ تاہم اس كا مطلب ىہ نہىں كہ عورتوں كى ذہنى ىا جسمانى صلاحىت مردوں سے كم ہے بلكہ ىہ اس كے معاشرتى تناظر كا عكاس ہے جب خواتىن كو معاشرتى اور معاشى معاملات مىں شمولىت كے كم مواقع فراہم كىے جاتے تھے۔([41])
ڈاكٹر طہٰ جابر العلوانى اس بات پر زور دىتے ہىں كہ اس آىت كا مقصد گواہى كے نظام كو بہتر بنانا اور غلط فہمىوں سے بچنا ہے نہ كہ مردوں اور عورتوں كى صلاحىتوں مىں فرق كو اجاگر كرنا۔ قرآن نے اس آىت كے ذرىعے اس بات كى بنىاد ركھى كہ عورتىں بھى معاشرتى معاملات مىں حصہ لے سكتى ہىں اور انہىں گواہ بنانا اس بات كى علامت ہے كہ قرآن نے خواتىن كو معاشرتى امور مىں شمولىت كے قابل سمجھا۔([42])
3.3معاصر شىعہ علما ء كى تعبىرات
مرد و عورت كى مساوى گواہى كے حوالے سے معاصر شىعہ اہل علم كے ہاں مختلف تعبىرا ت ہىں۔ كچھ معاصر شىعہ اہل علم رواىتى نقطہ نظر ركھتے ہىں۔ سورة البقرة آىت ۲۸۲ كى بنىاد پر بعض معاصر شىعہ فقہاء كا موقف ہے كہ جب عدالت مىں دو مرد گواہى دے رہے ہوں تو وہ اپنى بات آزادانہ طور پر بىان كرسكتے ہىں لىكن جب اىك مرد اور دو عورتىں گواہ ہوں تو دونوں عورتوں كو اىك ساتھ پىش ہونا چاہىے اور ان كى گواہى كو اىك كے طور پر شمار كىا جائے۔ آىت اللہ مكارم شىرازى كا موقف ہے كہ اىسے معاملے مىں دونوں عورتوں كو اكٹھے حاضر ہونا چاہىے اور اگر اىك كو دوسرى كى گواہى مىں كوئى غلطى نظر آئے تو وہ اسے درست كر سكے-ان كے مطابق چونكہ عورتىں اپنى شدىد جذباتىت كے زىر اثر آ سكتى ہىں اور بھولنے ىا دىگر وجوہات كى وجہ سے صحىح گواہى دىنے كا راستہ نہىں اپناتىں اس لىے اىك عورت دوسرى كو درست كر سكتى ہے۔([43])
آىت اللہ گرامى بھى ىہى موقف پىش كرتے ہىں كہ مردوں اور عورتوں كے درمىان اىك حىاتىاتى فرق ہے ىعنى عورتوں كا بھولنے اور جذباتى ہونے كا رجحان ہے ۔([44])
آىت اللہ گرامى كے نزدىك قرآن مجىد مىں گواہى سے متعلق حكم ابدى اور ناقابل تبدىل ہے اور ہر زمانے اور ہر مقام كے لىے ہے۔ ان كے مطابق سورة البقرة آىت ۲۸۲ كے پہلے حصہ مىں ىہ الفاظ استعمال ہوئے ہىں۔ ’’ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ‘‘ قرآن كا ىہ اسلوب اس بات كى تصدىق كرتا ہے كہ ىہ آىت كسى خاص وقت اور مقام تك محدود نہىں ہے۔([45])
آىت اللہ ىوسف صانعى، آىت اللہ مكارم شىرازی اور گرامى كى آراء سے اختلاف ركھتے ہىں۔ ان كے مطابق قدىم فقہاء كا اجماع كسى حكم كى توثىق كے لىے بنىاد نہىں ہونا چاہىے اور ان كے مطابق شىعہ مكتب فكر مىں اجتہاد كا دروازہ بند نہىں ہے۔ آىت اللہ ىوسف صانعى بحث كرتے ہىں كہ سورة البقرة آىت ۲۸۲ كا نزول تجارتى معاملات كے حوالے سے ہوا تھا اور اس كا تعلق اس زمانے سے تھا، جب عورتىں مالى امور سے واقف نہىں تھىں۔ ىوسف صانعى نزول قرآن كے سىاق و سباق كو بىان كرتے ہوئے بتاتے ہىں كہ چونكہ اس وقت عورتىں قرض اور تجارتى معاہدوں جىسے مالى معاملات سے واقف نہىں تھىں اس لىے عورت مالى تفصىلات ىاد نہ ركھ پاتىں اور اىك دوسرى عورت كو وہاں ہونا چاہىے تھا تاكہ وہ اسے ىاد دلا سكے۔ لہذا ىوسف صانعى كے مطابق سورة البقرة آىت ۲۸۲ كا ىہ حكم صرف قرآن كے نزول كے وقت سے متعلق تھا جب عورتىں عموماً قرض اور تجارتى معاہدوں جىسے مالى معاملات سے آگاہ نہىں تھىں۔ اس كا مطلب ىہ ہے كہ قرآن مىں عورتوں كی كسى ’’فطرى‘‘ بھولنے كى صلاحىت كا ذكر نہىں ہے۔([46])
اپنے اس خىال كى بنىاد پر كہ دىنى احكام كو عصر حاضر سے ہم آہنگ ہونا چاہىے آىت اللہ صانعى ىہ موقف اختىار كرتے ہىں كہ ىہ قرآنى حكم دور حاضر مىں لاگو نہىں ہوتا۔
’’ىہ حكم پچھلے زمانوں كے لىے تھا جب وہ عورتىں مسلسل جہالت اورخود فراموشى كا شكار تھىں اور علم و فنون سىكھنے سے محروم تھىں اور وہ خود كو معاشرے مىں كسى كردار كا حامل نہىں سمجھتى تھىں۔ تاہم موجودہ دور مىں جب خواتىن مختلف علوم كے حصول مىں مصروف عمل ہىں اور مختلف شعبہ جات اور علوم سے باخبر ہىں اور ان كے ذہن كشادہ ہىں۔ وہ تنقىدى خىالات اور نظرىات كى حامل ہىں اور ان مىں سے بہت سى سائنسدان اور محققىن ہىں تو ىہ نہىں كہا جاسكتا كہ دو عورتوں كى گواہى اىك مرد كے برابر ہے۔‘‘([47])
آىت اللہ ىوسف صانعى اىك انٹروىو مىں مزىد اپنے موقف پر روشنى ڈالتے ہىں كہ سورة البقرة آىت ۲۸۲ مردوں اور عورتوں كى گواہى كے بارے مىں كوئى عمومى حكم نہىں دىتى جو ہر زمانے اور ہر حالت مىں نافذ كىا جانا چاہىے ىوسف صانعى كے مطابق گواہى دىنے كا معىار ’’علم اور آگاہى‘‘ ہے اور اس بناء پر جب مرد اور عورتىں برابر علم ركھتے ہىں تو مرد و عورت كى گواہى بھى برابر ہو سكتى ہے۔([48])
آىت اللہ ىوسف صانعى كى طرح آىت اللہ محسن كدىوار بھى مرد و عورت كى مساوى گواہى كے قائل ہىں۔ ان كا موقف ىہ ہے كہ مذكورہ آىت مىں دو عورتوں كى گواہى كى جو وجہ بىان كى گئى ہے وہ موجودہ دور سے غىر متعلق ہے۔ كىونكہ آىت كے نزول كے وقت اكثر خواتىن مالى معاملات مىں شامل نہىں تھىں۔ اس لىے دو عورتوں كى گواہى كو اىك عورت كے بھولنے كى تلافى كے لىے ضرورى سمجھا گىا۔ موجودہ دور مىں جب زىادہ تر خواتىن تعلىم ىافتہ ہىں اس وجہ سے دو عورتوں كى گواہى كى علت اور اثر ختم ہو چكا ہے لہذا موجودہ دور مىں اس آىت سے مرد و عورت كى گواہى كى عدم مساوات پر استنباط ممكن نہىں عورت كى گواہى وہى ہے جو مرد كى گواہى ہے۔([49])
آىت اللہ احمد قابل بھى تمام معاملات مىں مرد و عورت كى مساوى گواہى كے قائل ہىں۔([50])
3.4فىمنسٹ مفكرىن كى عصرى تعبىرات
فىمنسٹ مفكرىن صنفى مساوات كے قائل ہىں اور موجودہ دور مىں كئى فىمنسٹ مفكرىن نے اپنے صنفى اصول تعبىر وضع كىے اور ان كا دىنى نصوص كى تفہىم و تعبىر پر اطلاق كىا ۔ فىمنسٹ مفكرىن كا موقف ہے كہ دىنى نصوص مىں مرد و عورت كے حقوق كے حوالے سے كوئى تفرىق نہىں ہے اور ىہى معاملہ مرد و عورت كى مساوى گواہى كا ہے۔
امىنہ ودود كا موقف ہے كہ مالى لىن دىن سے متعلق سورة البقرة كى آىت ۲۸۲ مىں موجود پابندى كا اطلاق دىگر معاملات پر نہىں ہوتا۔ مالى معاملات مىں دو عورتوں اور اىك مرد كى شرط عمومى اصول نہىں ہے كہ خواتىن كى شركت كو دوسرے معاملات مىں بھى محدود كر دىا جائے۔ اس كا مطلب ىہ ہے كہ ىہ پابندى ہر قسم كى گواہى پر لاگو نہىں ہوتى۔ مختلف معاملات مىں مرد و عورت كى گواہى كے درمىان فرق كرنے كى ضرورت نہىں ہے لہذا جو كوئى بھى قابل اعتماد سمجھا جائے وہ گواہ بننے كا مستحق ہے۔([51])
اس حوالے سے امىنہ ودود ڈاكٹر فضل الرحمٰن كا موقف پىش كرتى ہىں جو اس آىت كے الفاظ كو مستقبل كے ہر معاملے پر لاگو كرنے كى مخالفت كرتے ہىں اور وہ اس طرح وضاحت كرتے ہىں۔
“Since the testimony of a woman being considered to less value than of a man was dependent upon her weaker power of memory concerning financial matters, when women become coversant with such matters with which there is not only nothing wrong but which is for the betterment of Society their evidence can equal that of men.”([52])
ترجمہ: ’’ چونكہ عورت كى گواہى كو مرد كى گواہى سے كم سمجھا گىا تھا، اس كى وجہ مالى معاملات مىں اس كى كمزور ىادداشت تھى، جب عورتىں ان معاملات مىں ماہر ہو جائىں گى، جس مىں نہ صرف كوئى خرابى نہيں بلكہ ىہ معاشرے كى بہترى كے لىے بھى ہے، تو ان كى گواہى مردوں كے برابر ہو سكتى ہے۔‘‘
ڈاكٹر فضل الرحمٰن كے موقف كى روشنى مىں امىنہ ودود اپنے خىالات كا اظہار كرتى ہىں كہ وحى كے وقت سماجى پابندىوں كے باوجود ىعنى خواتىن كى ناتجربہ كارى اور ان پر دباؤ، خواتىن كو بہرحال اىك ممكنہ گواہ كے طور پر تسلىم كىا گىا تھا۔ اس وقت كى شدىد سماجى ، مالى اور تجرباتى پابندىوں كے باوجود قرآن نے خواتىن كى صلاحىتوں كو تسلىم كىا ۔ اس جدىد دور مىں عورتوں كى صلاحىتوں كے اس انقلابى اعتراف كو عورت كى معاشرتى اور اخلاقى نظام مىں زىادہ جگہ دىنے كى ترغىب كى ضرورت ہے اور معاشرے مىں عورتوں اور دىگر افراد كا استحصال ختم كرنا چاہىے۔ اىسا معاشرتى نظام صرف مردوں اور عورتوں دونوں كے لىے علم اور تجربے كى حوصلہ افزائى كے ذرىعے حاصل كىا جاسكتا ہے۔([53])
مراكش كى فىمنسٹ مفكر ڈاكٹر اسماء المرابط كے مطابق سورة البقرة كى آىت ۲۸۲ جس مىں بظاہر مرد و عورت كى گواہى كى عدم مساوات كا ذكر ہے، دراصل تصدىق كے بارے مىں ہے نہ كہ گواہى كے بارے مىں اور اس ہداىت كا كوئى قانونى اطلاق نہىں ہے۔ گواہى وہ ہوتى ہے جو جج كے سامنے پىش كى جاتى ہے جو دعوؤں كى سچائى كا فىصلہ كرتا ہے جبكہ تصدىق كا تعلق دو لوگوں كے درمىان ہونے والے معاملے سے ہوتا ہے۔([54])
اسماء المرابط كا موقف ہے كہ ىہ آىت دراصل ان معاملات مىں جنہىں عام طور پر مردوں كا مىدان سمجھا جاتا ہے خواتىن كى شركت كى حماىت كرتى ہے جىسے كہ تجارتى امور كا انتظام۔([55])
وہ قرآن كى سورة النور كى آىات ۷۶-۸ كا حوالہ دىتى ہىں جہاں عورت كى گواہى مكمل طور پر مرد كى گواہى كے برابر ہے۔ حالانكہ ان آىات مىں بىوى كى گواہى درحقىقت شوہر كى گواہى پر فوقىت ركھتى ہے۔ مزىد احادىث كى نقل و رواىت مىں جو گواہى كى اىك قسم ہے مرد وعورت كى گواہى كو ىكساں طور پر قبول كىا جاتا ہے۔([56])
فىمنسٹ مفكر لىنا اىلف على بھى مرد و عورت كى گواہى مىں مطلقاً مساوات كى قائل ہىں۔ ان كے مطابق قرآن مجىد مرد و عورت كى مساوات پر زور دىتا ہے اور ىہ تصور كہ عورت كى گواہى كم اہمىت ركھتى ہے فقہاء اور مفسرىن كى غلط تعبىرات كا نتىجہ ہے۔([57])
اىلف على كے مطابق قرآن مىں پانچ مخصوص معاملات كا ذكر ہے جن مىں گواہى كى ضرورت ہوتى ہے۔ مالى معاملات، ىتىموں كى جائىداد، زنا، لعان اور طلاق۔ ان مىں سے صرف مالى معاملات مىں صنف كى بنىاد پر فرق كىا گىا ہے، جہاں دو عورتوں كى گواہى اىك مرد كى جگہ لى جاسكتى ہے۔ ىہ استثنىٰ اس وقت كى مخصوص صورتحال سے متعلق ہے جب عورتىں مالى معاملات مىں بہت كم شراكت دار تھىں۔ جبكہ دوسرے تمام معاملات مىں صنف كى بنىاد پر كوئى فرق نہىں كىا گىا۔ درحقىقت بعض صورتوں مىں عورت كى گواہى مرد سے زىادہ اہم ہو سكتى ہے۔ جىسے لعان كے مسئلے مىں اگر شوہر اپنى بىوى پر الزام لگائے اور ثبوت فراہم نہ كرے تو بىوى كى گواہى شوہر كے الزامات كو باطل كر سكتى ہے۔ مزىد برآں زنا اور طلاق جىسے معاملات مىں بھى مرد اور عورت كى گواہى مىں كوئى تفرىق نہىں كى گئى۔([58]) غرض اىلف على كے نزدىك مرد و عورت كى گواہى مكمل برابر ہے۔
ملائىشىاء كى حقوق نسواں كى تنظىم سسٹران اسلام بھى گواہى مىں مرد و عورت كى مساوات كى علمبردار ہے۔ سسٹر ان اسلام كے مطابق سورة البقرة كى آىت ۲۸۲ كو صرف اس دور كے سماجى ،تارىخى، سىاق و سباق تك محدود ركھنا چاہىے كىونكہ اس آىت كے نزول كے وقت خواتىن عام طور پر كاروبار اور مالىات مىں كم تجربہ كار تھىں۔ جدىد دور مىں جب خواتىن اچھى تعلىم ىافتہ اور مالىات كے مىدان مىں سرگرم عمل ہىں تو لہذا اس حكم كى ازسر نو تعبىر و تشرىح كى جانى چاہىے۔ اس حكم كى بنىادى قدر انصاف كو نافذ كرنا مقصود ہے۔ جب خواتىن كى تعلىمى سطح اور مہارتىں مردوں كے مساوى ہىں تو مرد اور عورت كى گواہى كو مساوى كرنے كے لىے دىگر وجوہات كى ضرورت نہىں ہے۔([59])
خلاصہ بحث
مفسرىن اور فقہاء كے مطابق سورة البقرة آىت ۲۸۲ كے مطابق عورت كى گواہى مرد سے آدھى ہے۔ اس حوالے سے مفسرىن كا موقف ہے كہ عورت كى نصف گواہى كى علت بھول و نسىان اور عقل و ىادداشت مىں كمى ہے۔ بعض مفسرىن عورت كى نصف گواہى كو مردانہ برترى سے تعبىر كرتے ہىں۔ فقہاء كى اكثرىت كے نزدىك حدود و قصاص مىں عورت كى گواہى قابل قبول نہىں ہے بلكہ مالى معاملات مىں اىك مرد كے ساتھ دو عورتوں كى گواہى قابل قبول ہے۔ جبكہ ابن حزم كے نزدىك ہر معاملے مىں اىك مرد كے برابر دو عورتوں كى گواہى قابل قبول ہے۔ جبكہ امام تىمىہ اور ابن القىم عورت كى گواہى كے حوالے سے فقہاء كى آراء سے اختلاف ركھتے ہىں۔ ان كے نزدىك اس آىت كا حكم تدبىرى نوعىت كا ہے اور اس كا عدالت و قضا سے كوئى تعلق نہىں ہے۔ اگر عورت قابل اعتماد طرىقے سے گواہى دے تو قاضى اس كى بنىاد پر فىصلہ كرسكتا ہے۔ امام ابن تىمىہ / ابن القىم كے مطابق عورت كى گواہى مطلقاً آدھى نہىں اور جن معاملات مىں عورت كو بھول چوك اور تجربہ كى كمى نہ ہو، ان مىں اس كى گواہى مردوں كے مساوى قرار دى جائے۔
عورت كى گواہى كے حوالے سے معاصر تعبىرات مختلف ہىں بعض عصرى تعبىرات كے مطابق آىت مىں ذكر كردہ صرف مالى معاملات و قرض كى لىن دىن كے معاملات مىں عورت كى گواہى آدھى شمار ہوگى اور باقى تمام معاملات مىں مرد و عورت كى گواہى مىں مساوات ہے۔ بعض عصرى تعبىرات كے مطابق آىت مىں حكم علت پر مبنى ہے لہذا اگر خواتىن مالى معاملات مىں مہارت تامہ ركھتى ہىں تو حكم كى نوعىت بدلنے پر دىگر معاملات كى طرح مالى لىن دىن كے معاملات مىں عورت كى گواہى مساوى شمار ہو گى۔ بعض معاصر تعبىرات كےمطابق سورة البقرة كى آىت مىں عورت كو دوسرى عورت سے مشورہ كرنے كى سہولت دى گئى ہے ىا دوسرى عورت اس كى جگہ گواہى دے لہذا اس آىت سے نصف گواہى كا كوئى تصور نہىں نكلتا۔
قدىم مفسرىن و فقہاء اور معاصر تعبىرات كى تعبىرات كے تجزىہ سے معلوم ہوتا ہے كہ عورت كى گواہى كے حوالے سے سورة البقرة آىت ۲۸۲ علت پر مبنى ہے اور فقہاء كے ہاں بھى عورت كى مطلقاً نصف گواہى كے حوالے سے اتفاق نہىں ہے۔ جبكہ معاصر اہل علم نے حالات و ظروف اور سماجى تبدىلى كے تناظر مىں عورت كى گواہى ميں مساوات پىش كى ہے۔ موجودہ دور تعلىم اور علوم مىں مہارت كى وجہ خواتىن مالى اور عدالتى معاملات مىں ماہر ہو چكى ہىں اور عصر حاضر مىں مالى اور عدالتى معاملات دستاوىز بندى كا معاملہ ڈىجىٹل ہونے كى وجہ سے قدىم زمانے كے دستاوىز بندى سے كافى مختلف ہو چكا ہے۔ لہذا علت كے ختم ہونے پر حكم كى نوعىت بدل جائے گى۔ لہذا معاصر تعبىرات كى روشنى مىں مرد و عورت كى گواہى مساوى شمار ہوگى۔ تاہم جن معاملات مىں خواتىن تعلىم كى كمى كى وجہ سے اہل نہىں ہىں ان مىں ان تعبىرات كى روشنى مىں سہولت ہے كہ وہ گواہى مىں كسى دوسرى خاتون سے مدد لىں۔
[1] - البقرة282:2
[2] - العسقلانى، ابو الفضل احمد بن على بن حجر، فتح البارى شرح صحىح بخارى، ج 5، ص 266
[3] - ابن رشد الحفىد، ابو الولىد محمد بن احمد القرطبى، بداىة المجتہد و نہاىة المقتصد، كتاب الاقضىة، ج 4، ص 248
[4] - ابن حزم الاندلسى، ابو حمد على بن احمد الظاہرى، المحلى بالاثار، ج 8، ص 476
[5] - القشرى، مسلم بن الحجاج، المسند الصحىح المختد بنقل العدل عن العدل الى رسول اللہ، كتاب الاىمان، باب بىان نقصان الاىمان بنقص الطاعات و بىان اطلاق لفظ الكفر على غىرالكفر، رقم الحدىث 79، ج 1، ص 86
[6] - ابن حزم الاندلسى، ابو حمد على بن احمد الظاہرى، المحلى بالاثار
[7] - ابن القىم الجوزىة، محمد بن ابى بكر، اعلام الموقعىن عن رب العالمىن
[8] - ابن القىم الجوزىة، محمد بن ابى بكر، الطرىق الحكمىہ،
[9] - الماترىدى، ابو منصور، محمد بن محمد، تاوىالت اھل السنة، ج 2، ص 282
[10] - اىضاً ، ج 2، ص 284
[11] - الرازى، فخر الدىن، مفاتىح الغىب، ج 7، ص 95
[12] - اىضاً ، ج 7 ص 95
[13] - السرخسى، شمس الائمة محمد بن احمد، المبسوط، ج 16، ص 142
[14] - ابو زھرہ، محمد بن احمد بن مصطفىٰ ، زھرة التفاسىر، ج 2، ص 1072
[15] - رشىد رضا، تفسىر المنار، ج 3، ص 104
[16] - صلاح الدىن ىوسف، حافظ، احسن البىان
[17] - درىا بادى، عبدالماجد، مولانا، تفسىر ماجدى
[18] - سىد ممتاز على مولوى ، حقوق نسواں ص18-19
[19] - اىضاً ص 19
[20] - اىضاً، ص 20
[21] - عثمانى، عمر احمد، مولانا، فقہ القرآن، ج 6، ص 130
[22] - اىضاً، ج 3، ص 96
[23] - اوج، محمد شكىل، ڈاكٹر، نسائىات: چند فكرى و نظرى مباحث، ص 240
[24] - اىضاً ، ص 229
[25] - اوج، محمد شكىل، ڈاكٹر، نسائىات : چند فكرى و نظرى مباحث، ص 230-231
[26] - غامدى، جاوىد احمد، البىان، ج 1، ص 305-306
[27] - محمد فاروق خان، ڈاكٹر، قرآن مجىد، آسان ترىن ترجمہ و تفسىر، ص 131-132
[28] - اىضاً، ص 131
[29] - اثرى، عبدالكرىم، مولانا، سوال اٹھتا ہے، ص 16-17
[30] - اىضاً ص 17
[31] - محمد طاہر القادرى، ڈاكٹر، فكرى مسائل كا اسلامى حل: اسلام كىا كہتا ہے؟ ص
[32] - پروىز، غلام احمد، قرآنى قوانىن، ص 40-41
[33] - اىضاً ص 41
[34] -
[35] -
[36] - سلىم البھناوى ، مكانة المراة بىن الاسلام والقوانىن العالمىة ص 211-210
[37] - محمد عمارہ، تحرىر الاسلامى للمراة، ص 71
[38] - اىضاً ص 72
[39] - اىضاً ص 73
[40] - اىضاً ص 78
[41] - Al-Alwani, T. J. (2005). Issues in contemporary Islamic thought (M. Said Ramadan, Ed.). (pp.163) International Institute of Islamic Thought.
[42] - Ibid, pp.170
[43] - Makarem Shirazi, N. (n.d.-a). Sūrah al-Baqarah, Āyah 282 [Interpretation of Q 2:282]. In Tafsīr Nemūneh (Vol. 2). Retrieved August 17, 2025, from https://makarem.ir/compilation/reader.aspx?pid=61894&lid=0&mid=26589
[44] - Gramami, M. A. (2014, December 28). Shahadat-e-zanan dar Qurʾan be tor-e-kulli nadide gerefte nashode-ast [Women’s testimony in the Qur’an is not altogether disregarded]. Khabaronline. Retrieved [10-05-2025], from https://www.khabaronline.ir/news/329610/...
[45] - Gramami, M. A. (2014, December 28). Shahādat-e-zan dar Qurʾān be tor-e kullī nādīde gerefte nashode-ast [Women’s testimony in the Qurʾān is not entirely disregarded]. Khabaronline. Retrieved [10-05-2025], from https://www.khabaronline.ir/news/329610/شهادت-زن-در-قرآن-به-طور-کلی-نادیده-گرفته-نشده-است
[46] - Akbar, A. (2021). Ayatollah Yusuf Sanei’s contribution to the discourse of women’s rights. Religions, 12(7), 535. https://doi.org/10.3390/rel12070535
[47] - Ibid
[48] - Ibid
[49] - Kadivar, M. (2013, May 12). Tasāwī shahādat-e zan va mard [Equality of testimony between women and men]. Mohsen Kadivar (Personal Website). Retrieved [10-02-2025], from https://kadivar.com/10720/
[50] - Jahanbakhsh, F. (2020). Rational Shari’ah: Ahmad Qabel’s reformist approach. Religions, 11(12), Article 665. https://doi.org/10.3390/rel11120665
[51] - Wadud, A. (1999). Qur’an and woman: Rereading the sacred text from a woman’s perspective (pp.86) Oxford University Press.
[52] - Ibid, pp.85
[53] - Ibid, pp.86
[54] - Lamrabet, A. (2016). Women in the Qur’an: An emancipatory reading (pp.145) (M. Francois-Cerrah, Trans.). Square View.
[55] - Ibid, pp.145
[56] - Ibid, pp.146
[57] - El-Ali, L. (2022). No Truth Without Beauty: God, the Qur’an, and Women’s Rights (Sustainable Development Goals Series). (pp. 235-236) Springer (Palgrave Macmillan)
[58] - Ibid, pp. 238-240
[59] - Ghazali, N. M. (2020). An analysis of Sisters in Islam’s (SIS) misinterpretation of the gender equality in the Quran. Journal of Ma’alim al-Quran wa al-Sunnah, 16(2), 31–47.