دين و دانش
خدا کی مدد کا ضابطہ کیا ہے؟ تبلیغ کے کام کے مخاطب کون لوگ ہیں؟
حافظ محمد صفوان
میں 1991ء تا 1996ء میں مولانا محمد احمد انصاری صاحب کے دولت کدے پر اپنے والد پروفیسر عابد صدیق صاحب کے ساتھ کئی بار حاضر ہوا۔ 1992ء میں جب میں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں پڑھتا تھا تو تبلیغ والے دوستوں نے کئی سوالات کیے۔ میں نے یہ سوالات جمع کرکے کل 60 سوالات مولانا کے نام ایک خط میں لکھ کر اُن سے جواب مانگے تو اُنھوں نے جوابی خط میں فرمایا کہ کسی وقت گھر پہ آکر اُنھیں ملوں۔ آج جس ملاقات کا ذکر کر رہا ہوں یہ اِسی سلسلے میں تھی۔
اِن سوالات میں ایک اہم سوال یہ تھا کہ یونیورسٹی میں اسلامی جمعیتِ طلبہ والے لوگ ہماری بات نہیں سنتے بلکہ ہم پر بہت اعتراضات کرتے ہیں۔ مثلًا ہمیں جہاد نہ کرنے کا طعنہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب مدنی دور چل رہا ہے جس میں جہاد فرض ہے جب کہ ہم تبلیغ والے کہتے ہیں کہ ابھی مکی دور چل رہا ہے اور اصلاح کا کام صرف دعوت سے ہوگا۔
مولانا نے فرمایا کہ یہ اعتراض کرنے والے یعنی اسلامی جمعیتِ طلبہ کے کتنے لڑکے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ تقریبًا ایک سو۔ پھر دریافت کیا کہ جمعیت والوں کے علاوہ اور کون کون سی مذہبی جماعتوں کے لڑکے ہیں اور کتنے کتنے ہیں۔ عرض کیا کہ انجمنِ طلبہ اسلام کے بھی تقریبًا ایک سو لڑکے ہیں اور امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بھی کم و بیش اِتنے ہی ہیں۔ پھر پوچھا کہ آپ کے بیانات میں کتنے لڑکے شریک ہوتے ہیں۔ عرض کیا کہ تینوں ہوسٹلوں میں ملا جلا کر ساٹھ ستر۔ دریافت کیا کہ تینوں ہوسٹلوں میں طلبہ کی کل تعداد کتنی ہے۔ میں نے اندازے سے بتایا کہ 1000۔ مولانا نے فرمایا کہ معلوم ہوا کہ 300 لڑکے مختلف جماعتوں کے ساتھ ہیں جب کہ 700 لڑکے کسی بھی جماعت کے ساتھ نہیں ہیں اور آپ کے گشتوں میں آپ کی دعوت کے منتظر ہیں۔ آپ نے باقی طلبہ میں کام کرلیا ہے جو اِن مذہبی جماعتوں والے لڑکوں میں کام کرنا ضروری ہوگیا ہے؟
مولانا نے فرمایا کہ تبلیغ کا کام خدا کے آخری نبی کی تشکیل کی وجہ سے ہر امتی کے ذمے ہے لیکن اِس کام کے اولین مخاطب وہ لوگ ہیں جو کسی مذہبی نظام سے مربوط نہیں ہیں یعنی کسی صاحبِ علم کے حلقہ میں اٹھتے بيٹھتے نہیں، یا کسی پیر سے بیعت و اصلاح کا سلسلہ نہیں رکھتے۔ اگر کسی نظام سے جڑے ہوئے لوگوں میں تبلیغ کا کام کیا جائے تو اِس سے انتشار پیدا ہوتا ہے اور لوگ کام سے دور ہوجاتے ہیں۔ ہمیں اِن سب دینی جماعتوں والوں کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اِن میں سے ہر ایک کی محنت سے کچھ نہ کچھ لوگ اللہ رسول كا نام لے رہے ہیں۔ بس آپ لوگ یونیورسٹی میں صرف اُن لڑکوں میں تبلیغ کا کام کریں جو کسی بھی مذہبی جماعت کے ساتھ نہیں ہیں۔ باقی جماعتوں کے لڑکوں میں اُن کے اپنے ذہن کے لوگوں کو کام کرنے دیں۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ مولانا محمد احمد صاحب کی اُس دن کی بات نے میرا ذہن ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔ اُس دن کے بعد سے میں مذہبی جماعتوں میں مخاصمت اور مسابقت کے بجائے ہر جماعت کے کارکن کو اپنے اپنے ذہن کے لوگوں میں ایمان و عمل کی دعوت دیتے دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔ اُس دن کے بعد سے میرے دل میں ہر مذہبی جماعت کے کارکن کی قدر ہے کیونکہ جو لوگ ہم سے دین کی بات نہیں سن رہے وہ چلیے کسی اور سے تو سن رہے ہیں۔ میرا میدانِ محنت عام لوگ ہیں اور میں کسی مذہبی جماعت کے لوگوں کو نہیں توڑتا اور نہ اُنھیں اپنے والا اسلام لانے كی دعوت دیتا ہوں۔
اِس طویل گفتگو کے بعد حضرت مولانا نے جہاد والے سوال کا جواب دیا اور فرمایا کہ تبلیغ والے مکی اور مدنی دور کی بات صرف سمجھانے کے لیے کہتے ہیں ورنہ ایسی کوئی بات یا تقسیم نہیں ہے۔ خدا کی مدد کا ایک حتمی ضابطہ ہے اور یہ مدد اِس ضابطے کے بغیر نہیں اتر سکتی۔ یہ ضابطہ انتم الاعلون اِن کنتم مومنین ہے۔ خدا نے قیامت تک کے لیے طے فرما دیا ہے کہ آسمانی مدد صرف اُن مسلمانوں کے لیے اتاری جائے گی جو کامل مومنین ہے۔ جب تک یہ شرط پوری نہیں ہوگی، مسلمان خواہ تعداد میں کتنے ہی ہوجائیں اور خواہ کتنے ہی اسباب جمع کرلیں یہ ہمیشہ ناکام ہوں گے۔ خدا کی سنت تبدیل نہیں ہوگی۔