قرآنيات
ظالم كی سزا كے چار مراحل
ثناء اللہ حسين
بہت سے لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ظالم کے لیے اللہ کی سزا ظلم کے فوراً بعد ہی آ جاتی ہے، حالانکہ یہ سوچ درست نہیں ہے۔ درحقیقت ظالم چار مراحل سے گزرتا ہے جنہیں اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے:
پہلا مرحلہ: مہلت اور ڈھیل (الإمهال والإملاء)
اس مرحلے میں اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے تاکہ شاید وہ توبہ کر لے یا اپنے کیے سے باز آ جائے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے:{وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ}"اور میں انہیں مہلت دیتا ہوں، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔"
دوسرا مرحلہ: استدراج یعنی رفتہ رفتہ پکڑنا (الاستدراج)
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا اس پر تنگ کر دی جائے، بلکہ اس کے برعکس اس پر دنیا کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اس کا مرتبہ بڑھا دیا جاتا ہے، اسے ہر طرح کی لذتیں میسر ہوتی ہیں اور اللہ اسے اس کی طلب اور امید سے بڑھ کر عطا فرماتا ہے۔ (عربی لفظ 'درج' بلندی کی طرف چڑھنے کو کہتے ہیں جبکہ 'درک' نیچے گرنے کو)۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:{سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ}"ہم انہیں اس طرح (تباہی کی طرف) کھینچ لائیں گے کہ انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔"
تیسرا مرحلہ: گناہوں کا خوشنما لگنا (التزيين)
اس مرحلے میں ظالم کا دل مردہ ہو جاتا ہے، اسے اپنے برے اعمال بھی اچھے لگنے لگتے ہیں بلکہ وہ انہیں اپنا فرض سمجھ کر کرنے لگتا ہے۔ اس کے دل میں نيكی کی کوئی رمق باقی نہیں رہتی جو اسے اس کے افعال پر ملامت کرے۔ جیسا کہ فرمایا:{وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ}"اور شیطان نے ان کے (بد) اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے۔"
چوتھا مرحلہ: گرفت اور پکڑ (الأخذ)
یہ وہ آخری مرحلہ ہے جہاں اللہ کی طرف سے ظالم پر سزا نازل ہوتی ہے اور یہ سزا نہایت سخت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:{وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ}"اور تیرے رب کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے جبکہ وہ ظلم کر رہی ہوتی ہیں۔ بیشک اس کی پکڑ بڑی دردناک اور سخت ہے۔"
ان چاروں مراحل کو اچھی طرح یاد رکھیں اور اللہ کے نظام کو سمجھیں۔یہودیوں پر جب اللہ تعالٰی کی طرف سے پکڑ آئے گئی تو دنیا حیران ہو جائے گئی۔۔۔اب فلسطینی بہت مظلوم ہیں-