قرآنيات
قرآن ميں علماء سے كيا مراد ہے
رعايت اللہ فاروقی
زیر نظر تحرير تین طرح کے افراد کے لئے زیادہ کار آمد ہوسکتی ہے-٭ علماء دین
٭ دینی مدارس کے طلبہ٭ عصری علوم والے وہ افراد، قرآن مجید کو سیکھنا سمجھنا جن کی ترجیحات میں شامل ہے-
سوال یہ ہے کہ قرآن مجید جب عالم یا علماء کی بات کرتا ہے تو اس کی مراد کیا ہوتی ہے ؟کیا اس کی مراد صرف بسم اللہ کی ترکیب سیکھنے کے لئے کبیروالا جانے والے ہوتے ہیں ؟یا پھر ہر طرح کا علم رکھنے والے ؟عالم کو سمجھنے سے قبل یہ سمجھنا ضروری ہے کہ علم کیا ہے ؟ اور کیا وحی بھی علم ہی ہے ؟وحی الہی علم ہے یا نہیں ؟ اس سوال کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ علم سے مراد کیا لیا جا رہا ہے ؟اگر علم سے مراد "ادراک حقیقت" ہے تو پھر تو وحی کو علم کہا جاسکتا ہے کیونکہ وہ حقیقت کا ادراک سب سے اعلی درجے میں کراتی ہے-لیکن اگر علم سے مراد "انسانی ذہن کی معرفت" ہے تو پھر وحی اپنے اولین مرحلے میں کلام اللہ ہے-جب یہ اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوئی تو اس مرحلے پر یہ آپ ﷺ کا علم بن گئی اور جب امت کے پاس پہنچی تو منبع علم کا درجہ اختیار کر گئی-یعنی وحی الہی اور علم دو الگ چیزیں ہوگئیں-چنانچہ بعض مسلم فلاسفہ نے سیدھا سیدھا یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وحی علم نہیں بلکہ علم کا مصدر ہے-مگر سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ خود قرآن مجید اس ضمن میں کیا کہتا ہے ؟اللہ سبحانہ و تعالی سورہ عنکبوت میں قرآن مجید کا تعارف یوں کرواتے ہیں"بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَؕ"(عنکبوت آیت 49)ترجمہ: بلکہ وہ (یعنی قرآن مجید) روشن نشانیاں ہیں جو ان لوگوں کے سینوں میں ہیں جنہیں علم دیا گیا-
امید ہے آپ نے نوٹ کر لیا ہوگا کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنی وحی اور علم کو دو الگ چیزوں کے طور پر ذکر فرمایا-یعنی "یہ میری آیات ہیں" سے وحی الہی بیان کی جا رہی ہے۔ اور یہ آیات ہیں کہاں ؟ تو بتا دیا کہ اہل علم کے ہاں ملیں گی ان کے سینوں میں محفوظ ہیں-اب یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ اہل علم غزالی جیسا ہی کیوں نہ ہو، ان کی پوری کائنات علم بھی "آیت" نہیں، علم ہے-یعنی اس آیت میں اللہ سبحانہ و تعالی نے نہایت نفیس اشارے سے یہ بھی واضح کردیا کہ غیر عالم کے ہاں تو آپ کو قرآن تب نظر آئے گا جب اس نے باپ کی بخشش کے لئے مدرسے کے طلبہ سے قرآن خوانی کروانی ہو گی-مستقل بنیاد پر قرآن مجید آپ کو اہل علم کے ہاں ہی ملے گا-
وحی اور علم کے فرق پر دوسری آیت ہے-"وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا"-(طه آیت 114)
ترجمہ: اور کہئے، میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما-اگر آپ آیت کے اس ٹکڑے کا سیاق و سباق دیکھیں گے تو وحی الہی کا ذکر چل رہا ہے-اور اللہ سبحانہ و تعالی اپنے محبوب ﷺ سے فرما رہے ہیں کہ وحی کے سلسلے میں جلد بازی مت کیا کیجئے، بس یہ کہئے کہ میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما-
اب اللہ کے رسول ﷺ کسی مدرسے یا یونیورسٹی کے طالب علم تو نہ تھے کہ وہ امتیوں والے علوم میں اضافے کی دعافرماتے۔ ہم پچھلی سطور میں واضح کرچکے کہ جب وحی الہی اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوجاتی تو ان کا علم بن جاتی، سو یہ قرآنی دعاء جب اللہ کے رسول ﷺ فرماتے تو اس سے وحی الہی کی صورت عطا ہونے والے علم میں اضافہ مراد ہوتا -لیکن جب یہی دعا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے لے کر قرب قیامت تک کا آخری مسلمان بھی مانگے گا تو یہ تصور بھی جہل ہوگا کہ وہ اپنے اوپر وحی کا نزول مانگ رہا ہے، بلکہ یہاں وحی کی جگہ وہ علم مراد ہوگا جس کے حصول کی ہم سب کوشش کرتے ہیں
اب یہاں ایک نہایت نفیس تحفہ لیتے جایئے جو ہم نے احمد جاوید صاحب سے سیکھا ہے۔ ہم انہیں استاد محترم اس لئے نہیں لکھ رہے تاکہ ان کے شاگردوں کی دل آزاری نہ ہو اور وہ اس عظیم آدمی کو عمر کے اس آخری حصے میں شیعہ سنی پنگوں میں الجھا کر ان کا وقت برباد کرتے رہیں۔ لیکن ان کے شاگردوں سے ہماری اتنی درخواست ضرور ہے کہ جس دن جاوید صاحب اس کٹے سے بچھرا پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو ہمیں اطلاع ضرور کیجئے گا کیونکہ اس بچھڑے کی پیدائش کا یہ امت 1300 سال سے انتظار کر رہی ہے-
آیئے احمد جاوید صاحب کے نہایت نفیس نکتے کی جانب-"انسانی علم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ناقص ہے"جاوید صاحب اتنا کہہ کر اس امید پر خاموش ہوگئے کہ ان کے جلیل القدر چغل خور شاگرد ان سے تفصیل پوچھیں گے تو وہ اسے کھولیں گے-مگر ان کے شاگردوں کو تو پوڈ کاسٹ کرنے جانا تھا سو بات ادھوری رہ گئی-لیکن اسے کھولنا نہایت ضروری ہے کیونکہ احمد صاحب کی زبان سے جب یہ جملہ ہم نے پہلی بار ایک ویڈیو میں سنا تو نیم درازی سے اچھل کر بیٹھ گئے اور اس سے بھی تسکین نہ ہوئی تو گھر کی باؤنڈری کے اندر چہل قدمی کرتے ہوئے اس پر غور شروع کیا-سو ہم اپنا حاصل غور عرض کرنے جا رہے ہیں مگر اس صراحت کے ساتھ کہ اللہ علیم ہے کہ جاوید صاحب سے ہماری نسبت وہ بھی نہیں جو ذرے کو ماہتاب سے ہوتی ہے، سو اگر جاوید صاحب کو کچھ غلط لگے تو ہمیں بلا کر دس جوتے مار لیں-لاہور کے لکشمی کراچی کے ریگل چوک میں مار لیں مگر اپنے شاگردوں کے سامنے نہیں، کیونکہ ان کی ہم صورت تک دیکھنے کو تیار نہیں-ہمارے نزدیک احمد جاوید صاحب کے اس شاندار جملے کی تفصیل یہ ہے کہ اگر انسانی علم کامل ہوتا تو انسانیت جمود کا شکار ہوجاتی، ارتقاء کا لفظ تک ڈکشنری میں موجود نہ ہوتا، اور انسانیت نفسیاتی مریض بن کر قیامت سے قبل ہی فنا کے گھاٹ اتر جاتی-سو یہ جو انسان اور اس کا علم ارتقائی منازل طے کر رہا ہے اس کی سب سے کلیدی وجہ یہ ہے کہ انسانی علم ناقص ہے
یوں نیوٹن کے بعد آئین سٹائین اور غزالی کے بعد اقبال کو آنا پڑتا ہےجس سے انسانی گھماگھمی کا و کشاکشی کا عمل ہمہ وقت جاری رہتا ہے-
اب آپ وحی اور علم کا سب سے بڑا فرق دیکھئے !جو علم کی سب سے بڑی خوبی ہے یعنی نقص، وہ وحی کے لئے اتنے بڑے عیب کا درجہ رکھتی ہے کہ اس كادعوی ہی کلمہ کفر ہے
اب آجایئے اس سوال کی جانب کہ قرآن مجید عالم سے کیا مراد لیتا ہے ؟
اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہونے والی پہلی وحی یاد ہے ؟اس پہلی وحی کی یہ دو آیات دیکھئےالَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ (4) عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْﭤ(5)ترجمہ: جس نے قلم کے ذریعے سکھایا۔ انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا-سو یہاں سے دو چیزیں واضح ہوگئیں
پہلی یہ کہ جس بھی علم میں قلم اور کتاب کا عمل دخل موجود ہے وہ علم ہی نہیں بلکہ اللہ کا سکھایا ہوا علم ہے-لہذا فی الحقیقت اللہ والوں کا علم اور غیر اللہ والوں کا علم نام کی کوئی شئی وجود نہیں رکھتی-نیوٹن اور آئین سٹائن کا علم بھی اللہ کا دیا ہوا علم تھا-دوسری چیز یہ کہ اللہ سبحانہ و تعالی کے نزدیک ہر وہ چیز علم ہے جو انسان نہیں جانتا تھا اور پھر جان گیا-
ذرا غور کیجئے !علم بالقلم فرمایا مگر یہ لیبل نہیں لگایا کہ کیا ؟کیا سکھایا ؟ جب کہہ دیا کہ قلم سے سکھایا تو اب عقل استعمال کیجئے ناکہ قلم کہاں کہاں تک پہنچ رکھتا ہے-پھر سب سے اہم یہ کہ اگر ہم فقط دینی علوم ہی مراد لے لیں تو پھر پانچویں آیت پر سوال کھڑا ہوجائے گا کہ کیا بس دینی علوم ہی تھے جو انسان نہیں جانتا تھا ؟ اور باقی علوم کے لحاظ سے انسان فل سائنسدان تھا اور مریخ پر چہل قدمی کر رہا تھا ؟اب اس کا یہ مطلب بھی نہ نکال بیٹھئے گا کہ ہم خدا نخواستہ "علماء دین" کو اہل علم کی کٹیگری سے باہر کر رہے ہیں-ہم بس وہ گمراہ کن غلطی واضح کر رہے ہیں جس سے ہمارے زمانے کے علماء دین کی اکثریت نے قرآن مجید کی علم اور علماء والی آیات کے جملہ حقوق اپنے نام محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے-اور ایسا کرکے ایک طرح سے تحریف بالمعنی کا ارتکاب کیا ہے-اگلی آیات کی جانب آیئے
"وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا"(بقرہ، آیت 31)ترجمہ: اور آدم کو نام سکھائے سب کے سب
یہاں سکھا اللہ سبحانہ و تعالی رہے ہیں، سیکھ آدم علیہ السلام رہے ہیں، اور سکھایا اشیاء کا علم جا رہا ہے-چنانچہ یہ جو آج سائنسدان اچانک کچھ نیا دریافت کرکے چونک اٹھتا ہے یہ اسی علم الاسماء کا اظہار ہوتا ہے-آدم علیہ السلام کی پشت سے صرف اولاد آدم کے جینز نہیں بلکہ علم الاسماء کے جینز بھی نسل درنسل چلے آرہے ہیں-یہاں یہ بھی سمجھ لیجئے اشیاء کے اس علم کو علم الاسماء اس لئے کہا جاتا ہے کہ جوں ہی انسان کوئی نئی چیز کائنات میں دریافت کرتا ہے یا خود ایجاد کر لیتا ہے تو سب سے پہلے اس کا نام رکھتا ہے-کیونکہ نام کے بغیر اس کا علم وجود میں آسکتا ہے اور نہ ہی ایک قدم چل سکتا ہے-مثلا کمپیوٹر کا پروسیسر ہی لے لیجئے، آپ اسے بے نام کردیں اس کا پورا علم تاریکی میں ڈوب جائے گا-اب قبل اس کے جس بانس سے ہم نے مولوی صاحب کو اتارا ہے، اسی پر سائنسدان چڑھ کر قبضہ کرلے، سورہ رحمن کی ابتدائی آیات دیکھئے"الرَّحْمٰنُ﴿۱﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ﴿۲﴾ خَلَقَ الْإِنْسَانَ﴿۳﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ﴿٤﴾"یہاں اللہ سبحانہ و تعالی نے یہ صراحت فرما دی کہ صرف حضرت آدم علیہ السلام والا علم الاشیاء ہی نہیں بلکہ یہ قرآن مجید اور بیان بھی ہم نے ہی سکھایا ہے
یعنی مولوی صاحب اور سائنسدان صاحب دونوں ہی بانس پر رحم فرمائیں-اب آجایئے اس آیت کی جانب جسے ہمارے علماء صرف اپنی ذات بابرکات پر چسپاں کرکے سامع کو گویا اپنے سامنے سجدہ ریز کرنے کی کوشش کرتے ہیں-"اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ"(فاطر، آیت 28)ترجمہ: بیشک اللہ کے بندوں میں سے اس سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں-اب علماء دین کے ہاں چل یہ رہا ہے کہ ہمیشہ آیت کا بس یہ اتنا سا ہی ٹکڑا پیش کرکے سامع کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے-
یاد ہے اس موضوع پر ایک پچھلی پوسٹ میں ہم ذکر کرچکے کہ آیت کا سیاق و سباق دیکھنا ضروری ہوتا ہے ؟آیئے یہ آیت بھی پوری دیکھتے ہیں اور اس سے پچھلی بھی
"اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخۡتَلِفًا اَلۡوَانُهَاؕ وَمِنَ الۡجِبَالِ جُدَدٌۢ بِيۡضٌ وَّحُمۡرٌ مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُهَا وَغَرَابِيۡبُ سُوۡدٌ (٢٧) وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالۡاَنۡعَامِ مُخۡتَلِفٌ اَ لۡوَانُهٗ كَذٰلِكَ ؕ اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ غَفُوۡرٌ (٢٨)(فاطر، آیت 27، 28)
ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس کے ذریعے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کیے، اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ رنگ کی مختلف دھاریاں ہیں، اور کچھ نہایت سیاہ (پہاڑ) بھی ہیں۔ اور اسی طرح انسانوں، چلنے پھرنے والے جانوروں اور مویشیوں میں بھی مختلف رنگ ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔ بے شک اللہ بہت غالب، بہت بخشنے والا ہے۔
کیا آیت 27 میں اور آیت 28 کے ابتدائی حصے میں وفاق المدارس اور اس کا نصاب زیر بحث ہے ؟ہم عرض کرتے ہیں یہ آیات کیا کہہ رہی ہیں-
یاد ہے دو چار روز قبل والی ہماری وہ پوسٹ جس میں ہم مجاز سے حقیقت تک جانے کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ اللہ سبحانہ و تعالی زمین پر پھیلی اپنی مخلوقات کی جانب بار بار متوجہ کرکے غور کی دعوت دیتے ہیں۔ اور اس کے ذریعے اپنے بندے کو عرفان یعنی اپنی ذات تک پہنچاتے ہیں ؟یہ لفظ بلفظ وہی موضوع چل رہا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالی فرما رہے ہیں کہ ان مجاز مخلوقات پر غور کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غور کرنے والا علم سے مالامال ہوکر اللہ سبحانہ و تعالی کی خشیت تک پہنچ جاتا ہے-خدا کو حاضر ناظر جان کر بتایئے جن چیزوں کا ذکر اللہ سبحانہ و تعالی نے ان آیات میں فرمایا، ان پر غور کون کرتا ہے ؟
خلاصہ یہ کہ قرآن مجید جب عالم یا علماء کا ذکر کرتا ہے تو اس سے صرف وفاق المدارس کے فضلاء مراد نہیں ہوتے-تمام علوم سے جڑی شخصیات ہوتی ہیں-لہذا احتیاط کیجئے !
علماء کرام ! آپ بھی ان میں سے ہیں، لیکن آپ ہی ان میں سے نہیں !اگر قرآن مجید سے اس طرح کے کھلواڑ جائز ہوتے تو ہم سورہ فاطر کی آیت کے اس ٹکڑے "اور کچھ نہایت سیاہ (پہاڑ) بھی ہیں" کی بنیاد پر دعوی کر دیتے کہ ہمارے ضلع تور غر کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ کیونکہ تور غر کا اردو ترجمہ ہے "سیاہ پہاڑ" اور اس ضلع کا یہ نام اسی لئے پڑا ہے کہ یہ جس پہاڑ کی دونوں جانب آباد ہے وہ مکمل سیاہ ہے۔ یقین نہ آئے تو گوگل ارتھ کی مدد سے دیکھ لیجئے !