الآيات المنجيات

مصنف : ثناء اللہ حسين

سلسلہ : قرآنیات

شمارہ : اگست 2026

قرآنيات

الآيات المنجيات

ثناء اللہ حسين

امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں:"جو شخص اپنے غم اور پریشانی کا خاتمہ چاہتا ہے،

اسے چاہیے کہ یہ سات آیات پڑھیں جنہیں 'الآيات المنجيات' (نجات دلانے والی آیات) کہا جاتا ہے۔"اور کعب الاحبار نے فرمایا:"قرآن مجید میں سات ایسی آیات ہیں کہ ان کی تلاوت کے بعد مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں رہتی۔اگر آسمان بھی مجھ پر گر پڑے، تب بھی اللہ کے حکم سے میں نجات پا جاؤں گا۔"لہذا، ہر بلا اور مصیبت سے نجات کے لیے ان سات آیات کو صبح و شام پڑھا کریں۔

سات نجات دلانے والی آیات

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ1. سورہ التوبہ (آیت 51)

﴿قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾ترجمہ: آپ کہہ دیجیے کہ ہمیں کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، وہی ہمارا کارساز ہے، اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

2. سورہ یونس (آیت 107)

﴿وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۚ يُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾

ترجمہ: اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہارے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل عطا فرماتا ہے، اور وہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔

3. سورہ ھود (آیت 6)

﴿وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ﴾ترجمہ: اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو، اور وہ جانتا ہے کہ وہ کہاں رہتا ہے اور کہاں سونپا جاتا ہے۔ سب کچھ ایک واضح کتاب (لوحِ محفوظ) میں درج ہے۔

4. سورہ ھود (آیت 56)

﴿إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم ۚ مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا ۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾ترجمہ: یقیناً میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی پیشانی اس کے قبضے میں نہ ہو۔ بیشک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔

5. سورہ فاطر (آیت 2)

﴿مَّا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۖ وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾

ترجمہ: اللہ لوگوں کے لیے اپنی رحمت کا جو دروازہ بھی کھول دے، تو کوئی اسے بند کرنے والا نہیں، اور جسے وہ روک لے، تو اس کے بعد کوئی اسے بھیجنے والا نہیں۔ اور وہی سب پر غالب، حکمت والا ہے۔

6. سورہ العنکبوت (آیت 60)

﴿وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ترجمہ: اور کتنے ہی جاندار ایسے ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، اللہ ہی انہیں بھی رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی۔ اور وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

7. سورہ الزمر (آیت 38)

﴿وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۚ قُلْ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِي اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ ۚ قُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ ۖ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ﴾

ترجمہ: اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ 'اللہ نے'۔ آپ کہیے: بھلا یہ تو بتاؤ کہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا وہ اس کی تکلیف کو دور کر سکتی ہیں؟ یا اگر وہ مجھ پر کوئی رحمت کرنا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتی ہیں؟ آپ کہہ دیجیے: مجھے اللہ ہی کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہماری اور آپ کی طرف سے (ان نیک اعمال کو) قبول فرمائے، اور ہم سے، آپ سے اور سیدنا محمد ﷺ کی پوری امت سے تمام پریشانیاں دور فرمائے۔