قرآنيات
لا تقتلوا يوسف
محمد اكبر
حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے جب انہیں قتل کرنے کا مشورہ کیا تو انہی میں سے ایک نے کہا :لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ-یوسف کو قتل نہ کرو۔ (سورت یوسف: 10)
پھر ساتھ ہی ایک متبادل طریقہ بھی بتایا جس سے حضرت یوسف علیہ السلام کی جان بھی بچ گئی اور بظاہر ان کا مقصد بھی پورا ہوگیا کہ وہ والد سے دور چلے گئے۔ اس ایک جملے میں کئی اسباق ہیں لیکن ایک سبق بہت اہم ہے.
وہ یہ ہے کہ جب بھی ہماری جماعت، تحریک، حلقے ، طبقے ، گھر یا ادارے میں کوئی غلطی ہو رہی ہو تو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم اپنے لوگوں کی بہت ساری غلطیوں کو پی جاتے ہیں اور چپ سادھ کر بیٹھے رہتے ہیں جس سے نقصان ہوتا ہے۔ باہر کا کوئی شخص اگر ہمارے اصول، پالیسی یا رویے پراصلاح کی بات کرے تو وہ تنقید محسوس ہوتی ہے لیکن اگر وہی بات کوئی اپنا آدمی کہے تو ہم اسے خیر خواہی سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے قتل والے مشورہ کو رد کرنے والا باہر کا نہیں تھا، بلکہ انہی میں سے ایک تھا، اسی خاندان کا فرد تھا اور اسی میٹنگ کا حصہ تھا۔ اب جب اصلاح اندر سے آئی تو سب بھائیوں نے اسے قبول کر لیا۔
گروپ سائیکالوجی کے مطابق انسان اپنے گروہ کے ساتھ ایک ایموشنل اور نفسیاتی وابستگی رکھتا ہے۔ جب کوئی اپنا اصلاح کی بات کرتا ہے تو لوگ اس کی بات کو سنتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ شخص ہمارا ہے، ہمارا خیر خواہ ہے، ہماری بہتری چاہتا ہے۔ اور باہر کے حملوں سے بچنے کےلیے جو ڈیفنس میکانزم قائم کیا جاتا ہے، وہ اپنوں کے سامنے خود بخود ڈھیر ہو جاتا ہے۔اس لیے اللہ تعالی نے ہر نبی کو اس کی قوم میں بھیجا ، انہی کی زبان میں بھیجا اور ان کا بھائی کہا۔ تاکہ جب وہ بات کرے تو لوگ اس کی بات کو اہمیت دیں۔ اگر دوسری زبان کا کوئی بندہ ہدایت کی بات کرتا تو لوگ جھٹلا دیتے کیونکہ دوسروں کو جھٹلانا آسان ہوتا ہے، اپنوں کو مشکل۔
غلط اور صحیح کا پیمانہ یہ نہ بنائیں کہ اپنا آدمی غلطی کرے تو اس کے لیے عذر تلاشیں، اور مخالف وہی غلطی کرے تو اسے جرم قرار دیں۔ اپنے شخص کی زیادتی کو مجبوری کہیں اور مخالف کی اسی حرکت کو ظلم۔ اپنے ادارے میں بد انتظامی یا غلط حرکت ہو تو کہیں کہ کوئی بات نہیں، ہم سب انسان ہیں اور انسانوں سے غلطی ہو جاتی ہے لیکن دوسرے ادارے میں معمولی غلطی دیکھ کر پورے ادارے کو بدنام کردیں۔ یہ ناانصافی کی بات ہے۔
آج ہمیں سیاست، عدلیہ، بیوروکریسی ، فوج اور تعلیمی اداروں سے لے کر گھر کی چار دیواری تک ایسے افراد چاہیں جو اپنے ماحول میں اصلاح کی فکر کریں، غلط رویوں کو ٹھیک کریں، اپنی جماعت کے غلط فیصلوں پر سوال اٹھائیں، ادارے کی کمزوری کو دیانت کے ساتھ انتظامیہ کے سامنے رکھیں، اپنے بچوں کی کسی غلطی کو صرف اس وجہ سے درست نہ قرار دیں کہ وہ ہمارے بچے ہیں۔
اگر دس لوگوں میں سے کوئی ایک بھی " لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ " والا مشورہ دینے والا نہ ہو، سب اپنی موج مستی میں مست ہوں، ہر بات پر آمنا و صدقنا کہنے والے ہوں اور کسی ایک میں بھی سوال اٹھانے کی جرات نہ ہو تو تو پھر پورا سسٹم ہی کولیپس کر جاتا ہے۔ کیونکہ ایسے سسٹم میں ذہنی صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں، زرخیزی ختم ہو جاتی ہے اور لوگوں کی آراء تعصب پر مبنی ہو جاتی ہیں۔
آپ جس ماحول میں بھی ہیں، لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ کہنے والا کردار اپنائیں اور برائی کی شرح کو کم سے کم کریں۔