سورہ العادیات

مصنف : محمد صديق سيد

سلسلہ : قرآنیات

شمارہ : جولائی 2026

قرآنيات

سورہ العادیات

محمد صديق سيد

کیا آپ نے کبھی کسی گھوڑے کو پوری رفتار سے دوڑتے دیکھا ہے؟سانس پھولا ہوا، نتھنے پھیلے ہوئے، سینہ اوپر نیچے ہوتا ہوالیکن قدم رک نہیں رہے۔

یہ محض ایک جانور کی دوڑ نہیں،یہ وفاداری کی فزکس ہے۔قرآن کی مختصر مگر دھماکہ خیز سورت، سورۂ العادیات، اسی منظر سے شروع ہوتی ہے۔

یہ کوئی نرم تمہید نہیں، کوئی تدریجی تعارف نہیںیہ براہِ راست ایک “ہائی اسپیڈ سین” ہے۔جنگ کا شور… اور اخلاق کا کورٹ روم

اللہ فرماتا ہے:وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا-قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں۔

لفظ “ضبحًا” صرف سانس لینے کی آواز نہیںیہ سینے کی گہرائی سے نکلنے والی وہ بھاری، دباؤ والی دھمک ہےجو اس وقت پیدا ہوتی ہے-جب جسم اپنی حد سے آگے جا چکا ہو۔

یہ “Full Capacity Output” ہے۔گھوڑا جانتا ہے کہ سامنے نیزے ہیں، تلواریں ہیں، موت ہےمگر وہ رک نہیں رہا۔کیوں؟کیونکہ اس کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا مالک

اسے ایڑ لگا رہا ہے۔یہ ہے Loyalty Protocol:--حکم ملے تو جان بھی حاضر۔

توانائی کی ٹکر… اور چنگاریوں کا علم

پھر قرآن منظر کو اور تیز کرتا ہے:فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا-پھر وہ جو (سموں سے) چنگاریاں نکالتے ہیں۔یہ کوئی شاعرانہ مبالغہ نہیں۔یہ کائنیٹک انرجی کا تھرمل انرجی میں بدلنا ہے۔

رفتار، رگڑ، ٹکراؤاور زمین سے آگ نکلتی ہے۔گھوڑا صرف دوڑ نہیں رہا،

وہ اپنی طاقت کو نچوڑ رہا ہے۔یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ وفاداری آدھی رفتار سے نہیں ہوتی۔

یا تو پوری شدت سے،یا پھر نہیں۔

سرپرائز اٹیک… اور اطاعت کی انتہا-فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا--صبح کے دھندلکے میں چھاپہ۔

رات بھر سفر کے بعد،جب جسم آرام مانگ رہا ہو،اسی وقت حملہ۔یہ ہے Obedience Beyond Comfort Zone۔

گھوڑا یہ نہیں کہتا:“میں تھک گیا ہوں”“کل کر لیں گے”“آج موسم ٹھیک نہیں

وہ بس دوڑتا ہے۔

گرد و غبار… اور نفسیاتی دباؤ---َأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا-گرد کا بادل۔دشمن کے حواس باختہ۔

Modern Warfare میں اسے کہتے ہیں:Disorientation Strategy

گھوڑے صرف جسمانی طاقت نہیں دکھاتے،وہ ماحول بدل دیتے ہیں۔وفاداری جب حرکت میں آتی ہے-تو فضا کا رنگ بدل جاتا ہے۔

اور پھر دل میں گھس جانافَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا-لشکر کے بیچ میں داخل ہونا۔یہ سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔چاروں طرف دشمن۔واپسی کا راستہ بند۔پھر بھی وہ گھوڑا پیچھے نہیں ہٹتا۔کیوں؟کیونکہ مالک کا حکم آگے ہے،اور موت پیچھے رہ گئی۔

اب کیمرہ گھوڑے سے ہٹتا ہے… اور انسان پر آ جاتا ہے-یہ پانچ آیات محض جانوروں کی تعریف نہیں تھیں۔یہ ایک اخلاقی مقدمہ تھا۔

اب فیصلہ سنایا جاتا ہے:إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ-بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔لفظ “کنودیہ عربی کا نفسیاتی شاہکار لفظ ہے۔کنود وہ ہے جو:• ایک تکلیف کو یاد رکھےہزار نعمتیں بھول جائے-یہ Cognitive Bias ہے—Negativity Bias۔انسان کہتا ہے:“میرے پاس کیا نہیں ہےوہ یہ نہیں گنتا:“میرے پاس کیا کچھ ہےگھوڑا تھوڑی سی گھاس کے بدلے جان دے رہا ہے،اور انسان بے شمار نعمتوں کے بدلے شکایت کر رہا ہے۔یہ ہے اخلاقی تضاد۔

انسان خود گواہ ہے-وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ-وہ خود جانتا ہے۔ضمیر ایک خاموش عدالت ہے۔لاشعور سب کچھ ریکارڈ کرتا ہے۔Self Awareness موجود ہےمگر Self Reform نہیں۔

اصل بیماری: مال کی محبت-وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ-“خیر” یہاں مال ہے۔انسان نے دولت کو ہی “Ultimate Good” بنا لیا۔وہ بھی ہانپ رہا ہےلیکن اللہ کے لیے نہیں،مال کے لیے۔گھوڑا مالک کے لیے دوڑتا ہے،انسان مارکیٹ کے لیے۔گھوڑا وفادار ہے،انسان سرمایہ پرست۔

پھر آتا ہے قیامت کا فرانزک آڈٹ-إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِوَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ

دو مرحلے:1. جسم باہر نکالے جائیں گے۔2. دل کے راز بھی نکالے جائیں گے۔

یہ صرف Resurrection نہیںیہ Forensic Exposure ہے۔

Hidden Intentions Recovery.

تم نے نماز کیوں پڑھی؟صدقہ کیوں دیا؟خاموش کیوں رہے؟غصہ کیوں کیا؟

فائلیں ڈیلیٹ نہیں ہوں گی—Recover ہوں گی۔

آخری ضرب-إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ-“خبیر” — اندر کی خبر رکھنے والا۔

وہ صرف عمل نہیں دیکھے گا،نیت بھی دیکھے گا۔Surface نہیں،Core۔

العادیات ہمیں ایک سادہ مگر لرزا دینے والا سوال دیتی ہے:اگر ایک گھوڑا معمولی مالک کے لیےاپنی جان خطرے میں ڈال سکتا ہےتو کیا انسان اپنے رب کے لیے

اپنا غرور نہیں چھوڑ سکتا؟کیا ہم اتنی وفاداری بھی نہیں دکھا سکتے-جتنی ایک جانور دکھاتا ہے؟آخری جھنجھوڑ-ہم سب دوڑ رہے ہیں۔سوال یہ نہیں کہ ہم ہانپ رہے ہیں یا نہیں۔

سوال یہ ہے:ہم کس کے لیے ہانپ رہے ہیں؟اگر ہماری دوڑ مال کے لیے ہے،تو ہم کنود ہیں۔اگر ہماری دوڑ مالک کے لیے ہے،تو ہم وفادار ہیں۔اور جس دن سینوں کے راز کھل گئےوہاں کوئی بہانہ قبول نہیں ہوگا۔پس گھوڑے سے سبق سیکھو۔مالک کو پہچانو۔

اور وفاداری کی دوڑ شروع کرو-اس سے پہلے کہ قبروں کا دروازہ کھل جائے۔