جمع و تدوين قرآن

مصنف : عمار الحريری

سلسلہ : قرآنیات

شمارہ : جولائی 2026

قرآنيات

جمع و تدوين قرآن

ڈاکٹر عمار الحریری

بہت سے احباب نے اس بات پر اعتراض کیا کہ میں نے قرآنی آیات سے یہ استدلال کیوں کیا کہ قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ ہی میں جمع، محفوظ اور صحفِ مطہرہ میں مدوَّن تھا۔ میرا استدلال ان آیات پر مبنی ہے جن میں قرآن کو "کتاب" کہا گیا ہے، اور کتاب لازماً لکھی ہوئی چیز کو کہتے ہیں۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس حقیقت کی طرف اشارہ ملتا ہے، جنہیں میں اپنے مختلف مضامین میں بیان کر چکا ہوں۔ لیکن بعض حضرات قرآن کے بجائے کسی خارجی روایت کو بنیاد بنانا چاہتے ہیں، مثلاً زید بن ثابتؓ کے ذریعے حضرت ابوبکرؓ کے دور میں قرآن جمع کیے جانے کی مشہور روایت۔

لیکن ان روایات سے پہلے ایک بنیادی سوال پر غور ضروری ہے:کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو پورا قرآن پہنچانے اور دین کو مکمل کرنے کا حکم دے، پھر اسی قرآن کے ذریعے جن و انس کو چیلنج کرے کہ اس جیسی کوئی کتاب لا کر دکھائیں، لیکن اس کے باوجود قرآن مکمل اور مرتب شکل میں موجود نہ ہو بلکہ صرف مختلف لوگوں کے سینوں میں منتشر محفوظ ہو؟ کچھ آیات ایک صحابی کے پاس ہوں، کچھ دوسرے کے پاس، اور رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد یہ اندیشہ پیدا ہو جائے کہ شاید قرآن کا کوئی حصہ ضائع ہو جائے، جس کے بعد زید بن ثابتؓ کو تنہا یہ ذمہ داری سونپی جائے کہ وہ ہڈیوں، پتوں، چمڑے کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن جمع کریں؟

صحیح بخاری کی روایت میں زید بن ثابتؓ کے الفاظ ہیں:"میں قرآن کی تلاش میں نکلا اور اسے چمڑے کے ٹکڑوں، ہڈیوں، کھجور کی شاخوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا، یہاں تک کہ سورۂ توبہ کی دو آیات مجھے خزیمہ انصاریؓ کے پاس ملیں جو کسی اور کے پاس نہ تھیں۔"

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا واقعی رسول اللہ ﷺ نے قرآن کو اسی انداز میں چھوڑا تھا؟ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب کی حفاظت کا یہی طریقہ اختیار فرمایا تھا؟

روایتی ذہن نے اس روایت کو قبول کر لیا اور یہ تسلیم کر لیا کہ زید بن ثابتؓ نے بعد میں قرآن کو اس طریقے سے جمع کیا، لیکن اس بدیہی حقیقت کو نظر انداز کر دیا کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ دنیا سے رخصت ہوں اور قرآن مکمل، مرتب اور مدون شکل میں امت کے پاس موجود نہ ہو۔ کیونکہ جس کتاب کے ذریعے پوری انسانیت کو چیلنج کیا گیا ہو، اس کا مکمل اور محفوظ صورت میں موجود ہونا ناگزیر تھا۔تاہم، انہی روایات کو بنیاد ماننے والوں کے سامنے انہی کی کتب سے چند روایات پیش کی جاتی ہیں، جو اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ قرآن رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہی لکھا اور جمع کیا جا چکا تھا۔ میں ان روایات کو بطورِ دلیلِ الزامی ذکر کر رہا ہوں، ضروری نہیں کہ ان کی تمام تفصیلات کو قبول بھی کرتا ہوں۔

1۔ نبی ﷺ کے زمانے میں قرآن جمع کرنے والے صحابہ

صحیح بخاری میں قتادہؒ روایت کرتے ہیں:"میں نے انس بن مالکؓ سے پوچھا: نبی ﷺ کے عہد میں قرآن کس نے جمع کیا تھا؟انہوں نے جواب دیا:'چار افراد نے، اور سب انصار میں سے تھے: اُبی بن کعبؓ، معاذ بن جبلؓ، زید بن ثابتؓ اور ابو زیدؓ۔'"

اس روایت کی شرح کرتے ہوئے ابن حجرؒ نے جمع سے مراد کتابت لی ہے۔ ان کے مطابق ان حضرات نے قرآن کو لکھ بھی لیا تھا اور حفظ بھی کر لیا تھا، جبکہ دوسرے صحابہ ممکن ہے صرف حافظ ہوں۔

2۔ دوسری روایت

صحیح بخاری ہی میں انس بن مالکؓ سے روایت ہے:"نبی ﷺ کا وصال ہوا تو قرآن صرف چار افراد نے جمع کیا ہوا تھا: ابو الدرداءؓ، معاذ بن جبلؓ، زید بن ثابتؓ اور ابو زیدؓ۔"

اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن رسول اللہ ﷺ کی حیات ہی میں مکمل صورت میں جمع ہو چکا تھا۔

3۔ زید بن ثابتؓ بطورِ کاتبِ وحی

صحیح بخاری میں براء بن عازبؓ سے روایت ہے:جب آیت:"لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ..."نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے فرمایا:"زید کو بلاؤ، اور وہ تختی، دوات اور ہڈی لے آئے۔"پھر فرمایا:"لکھو: لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ..."

یہ روایت واضح کرتی ہے کہ وحی نازل ہوتے ہی اسے لکھ لیا جاتا تھا اور زید بن ثابتؓ باقاعدہ کاتبِ وحی تھے۔

4۔ حضرت عثمانؓ کا اقدام: جمع نہیں بلکہ نقلِ مصاحف

صحیح بخاری کی مشہور روایت کے مطابق حضرت حذیفہؓ نے مختلف علاقوں کے مسلمانوں کے درمیان قراءت کے اختلافات دیکھ کر حضرت عثمانؓ کو متوجہ کیا۔ اس پر حضرت عثمانؓ نے حضرت حفصہؓ سے فرمایا:"وہ صحیفے ہمارے پاس بھیج دیں تاکہ ہم ان سے مصاحف تیار کر لیں، پھر آپ کو واپس کر دیں گے۔"

چنانچہ حضرت حفصہؓ نے وہ صحیفے بھیج دیے اور حضرت عثمانؓ نے زید بن ثابتؓ اور دیگر صحابہ کی ایک جماعت کو حکم دیا کہ ان سے مصاحف نقل کر لیں۔یہ روایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اصل صحیفے پہلے سے موجود تھے، اور حضرت عثمانؓ کا کام نئی جمع و تدوین نہیں بلکہ معیاری نسخوں کی تیاری تھا۔

5۔ حضرت عائشہؓ کے پاس موجود مصحف

صحیح بخاری میں یوسف بن ماہک بیان کرتے ہیں کہ ایک عراقی شخص حضرت عائشہؓ کے پاس آیا اور عرض کیا:"اے ام المؤمنین! اپنا مصحف مجھے دکھائیے۔"حضرت عائشہؓ نے اپنا مصحف نکالا اور اس کے سامنے سورتوں کی آیات ترتیب وار بیان کیں۔

یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ ام المؤمنین کے پاس ایک معروف اور مرتب مصحف موجود تھا جس کی طرف لوگ رجوع کرتے تھے۔

اختتامی کلمات

مرحوم ڈاکٹر طہٰ جابر العلوانی نے اہلِ حدیث کے ہاں سند کی غیر معمولی اہمیت کے پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے ایک قابلِ غور نکتہ بیان کیا ہے:

"اسناد کے منہج کو جو غیر معمولی اعتماد حاصل ہوا، اس کی بنیاد اس تصور پر تھی کہ قرآن کی قطعیت نسل در نسل متواتر نقل کے ذریعے ثابت ہوئی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن اپنی داخلی ساخت، اپنے نظم اور اپنی حفاظت کے نظام کے ذریعے محفوظ ہے۔ اس پر ناقلین کی تعداد کم ہو یا زیادہ، اس کی عصمت، قطیعت اور حفاظت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔"